شناختی کارڈ – محمود درویش

فلسطینی شاعر محمود درویش کی مشہور نظم بطاقة هوية (شناختی کارڈ) کا اردو ترجمہ پیشِ خدمت ہے:

شناختی کارڈ

درج کرو!
میں عرب ہوں
میرا شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار ہے
میرے آٹھ بچے ہیں
اور نواں بچہ موسمِ گرما کے بعد دنیا میں آ جائے گا
پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو!
میں عرب ہوں
اور یارانِ محنت کش کے ہمراہ پتھر کی کان میں کام کرتا ہوں
میرے آٹھ بچے ہیں
میں اُن کے لیے
نان اور ملبوسات اور کاپیاں
پتھروں سے باہر نکالتا ہوں۔۔۔
میں تمہاری چوکھٹ سے خیرات نہیں مانگتا
نہ خود کو تمہارے آستانوں پر حقیر ہی بناتا ہوں
پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو!
میں عرب ہوں
میرا صرف نام ہے
کوئی لقب نہیں
میں ایک ایسی سرزمین میں صابر ہوں
جہاں ہر کوئی وفورِ غضب میں زندگی بسر کرتا ہے
پیدائشِ زمانہ سے قبل
ادوار کے شروع ہونے سے قبل
سرو اور زیتون سے قبل
اور گھاس کے اگنے سے قبل
میری جڑیں اس زمین میں پنجہ گاڑ چکی تھیں

میرے باپ کا تعلق ہل چلانے والے خاندان سے ہے
کسی نجیب خاندان سے نہیں
میرا دادا کسان تھا
بے حسب و بے نسب!
قبل اس کے کہ وہ مجھے کتاب پڑھنا سکھائے
اُس نے مجھے سورج کا طلوع ہونا سکھایا
میرا گھر پہرے دار کی کوٹھری کے مانند ہے
شاخوں اور سرکنڈوں سے بنا ہوا
پس کیا تم میری حیثیت سے راضی ہو؟
میرا صرف نام ہے
کوئی لقب نہیں

درج کرو!
میں عرب ہوں
بالوں کا رنگ: کوئلے کی طرح سیاہ
آنکھوں کا رنگ: بھورا
اور میری شناختی علامات:
میرے سر پر عربی رومال اور اُس پر سیاہ حلقہ ہے
جو کہ محکم پتھر کی مانند ہے
اور لمس کرنے والے کے ہاتھ کو چھیل ڈالتا ہے
میری پسندیدہ ترین غذائیں
روغنِ زیتون اور پھلیاں ہیں
میرا پتا:
میں ایک دور و دراز اور فراموش شدہ گاؤں سے ہوں
جس کی سڑکیں بے نام ہیں
اور جس کے تمام رجال مزرعات اور پتھر کی کانوں میں کام کرتے ہیں
پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو!
میں عرب ہوں
اور تم نے میرے اجداد کے باغات چرا لیے ہیں
اور وہ زمین بھی
جہاں میں اپنے تمام بچوں کے ہمراہ کاشت کاری کیا کرتا تھا
تم نے میرے لیے اور میرے تمام پوتوں کے لیے
کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا ہے
سوائے ان پتھروں کے۔۔۔
تو کیا تمہاری حکومت
– جیسا کہ کہا گیا ہے –
ان پتھروں کو بھی چھین لے گی؟

لہٰذا
درج کرو
صفحۂ اول پر سب سے اوپر:
میں لوگوں سے نفرت نہیں کرتا
نہ کسی پر تجاوز ہی کرتا ہوں
لیکن۔۔۔
جب مجھے بھوک لگے گی
تو غاصب کا گوشت کچا چبا جاؤں گا
خبردار رہو۔۔۔
خبردار رہو۔۔۔
میری بھوک سے
اور میرے غصے سے!

(محمود درویش)
۱۹۶۴ء

Advertisements

One Comment on “شناختی کارڈ – محمود درویش”

  1. zubairmirza نے کہا:

    لاجواب – جاری رکھیں کہ ایسا کلام تو نایاب ہے اور کم کم پڑھنے کو ملتاہے

    پسند کریں


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s