نوائی اور جامی کے مابین دوستی اور ہمکاری

نوائی کی جامی کے ساتھ دوستی و رفاقت انسانوں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ نوائی جامی سے ستائیس سال چھوٹے تھے اور اُنہوں نے جامی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ ان استاد اور شاگرد نے مل کر ہرات میں جو ادبی مکتب تشکیل دیا تھا، وہاں ان دو ملّتوں [یعنی تاجک اور ازبک ملّتوں] سے تعلق رکھنے والے لوگ تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔
عبدالرحمٰن جامی کی ترغیب و تشویق ہی سے نوائی نے اپنی عظیم تالیفات کو ترکی-ازبکی زبان میں انشا کیا تھا۔ نوائی کی تخلیقی کامیابیوں پر جامی بہت شاد و مسرور ہوئے تھے، اور اُنہوں نے اپنی داستان ‘خردنامۂ اسکندری’ کے انجام میں اس بارے میں کمالِ احترام کے ساتھ یہ کہا تھا:
سخن را، که از رونق افتاده بود
به کنجِ هوان رخت بنهاده بود
تو دادی دگرباره این آبروی
کشیده به میدانِ این گفتگوی
صفایاب از نورِ رای تو شد
نوایی ز لطفِ نوای تو شد
علی شیر نوائی اپنی ہر نئی انشا کردہ تالیف کو اپنے استاد جامی کی نظروں سے گذارتے تھے اور اُن کے سود بخش مشوروں کی مدد سے اپنی تالیفات کی تکمیل کرتے تھے۔ اسی طرح نوائی بھی جامی کی تصنیفات کے مسودوں کا مطالعہ کرتے تھے اور بعض اوقات وہ اپنے استادِ قدرداں کے سامنے اُن تصنیفات کے بارے میں اپنے خیالات اور افکار کا اظہار کرتے تھے۔ اُن دونوں کے درمیان باہمی مناسبت نہ صرف بطور استاد و شاگرد خوب تھی، بلکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے نزدیکی اور باوفا دوست بھی تھے۔ نوائی اُن اولین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے استاد کی نگارشات کا ترکی-ازبکی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ مثلاً، [جامی کی کتابوں] ‘نفحات الانس’ اور ‘شواہد النبوۃ’ کے [ترکی] تراجم اُن کے قلم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ترجمہ کرتے وقت نوائی نے جامی کی فصیح زبان اور لطف آمیز کلام کا بخوبی خیال رکھا ہے۔
علی شیر نوائی نے عبدالرحمٰن جامی کی وفات کے بعد ۱۴۹۳ء-۱۴۹۴ء کے درمیان ‘خمسۃ المتحیرین’ کی انشا کی جسے اُنہوں نے اپنے استادِ بزرگوار کی خاطرات کے نام معنون کیا۔
‘خمسۃ المتحیرین’ ازبکی زبان میں لکھی گئی ہے اور یہ کتاب دیباچے، مقدمے، تین مقالوں، تین فصلوں اور خاتمے پر مشتمل ہے۔ اس تصنیف کے اساسی موضوعوں میں عبدالرحمٰن جامی کی زندگی اور جامی و نوائی کے درمیان روابط کا بیان، وفاتِ جامی پر مرثیہ، جامی کے بارے میں نوائی کی یادداشتیں، دونوں کے درمیان باہمی مراسلتیں اور اسی طرح کی دیگر چیزیں شامل ہیں۔
نوائی نے ‘خمسۃ المتحیرین’ کے مقدمے میں جامی کی خاکساری، دانشمندی، صحبت آرائی اور دیگر خصالِ حمیدہ کے بارے میں یہ لکھا ہے: "جو لوگ اُن جناب [جامی] کے آوازۂ کمالات کو سن کر اور دور و دراز راہوں کو طے کر کے، اُن کی صحبتِ مبارک میں آتے تھے، وہ لوگ اُن کی نہایت عاجزی و فروتنی کے باعث اُن کو اُن کے اصحاب کے درمیان مطلقاً نہیں پہچان پاتے تھے؛ نشست و برخاست، گفت و شنود، اور خوراک و پوشاک میں اُن جناب اور دیگر تمام ہم نشینوں کے درمیان کوئی تفاوت نہیں تھا۔ جب تک کوئی شخص ظاہری و معنوی علوم کا کوئی مسئلہ درمیان میں نہیں لاتا تھا، اُن لوگوں کے لیے کھرے اور کھوٹے کے درمیان تشخیص کرنے کا طریقہ نامعلوم رہتا تھا۔ لیکن کسی مسئلے بر بات چھڑنے کے بعد، اُن کی مہارت اور تمام علوم سے آگاہی اس مرتبے پر ہوتی، کہ وہ ہرگز کوئی کتاب دیکھنے کی حاجت محسوس نہیں کرتے تھے۔”
علی شیر نوائی کئی سالوں تک حسین بایقرا کے دربار میں وزیر رہے تھے۔ اس پوری مدت میں اُنہوں نے عوام کے لیے بہت نیک کام کیے۔ نوائی اپنے ہر ریاستی کام میں جامی سے صلاح و مشورہ کرتے تھے۔ بالآخر، حاسدوں کی سازشوں اور شاہ کے بے خردانہ کاموں کے باعث نوائی دل برداشتہ ہو گئے اور انہوں نے دربار کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن، جس وقت اُنہوں نے جامی سے مشورہ کیا تو جامی نے اس فیصلے پر رضایت ظاہر نہیں کی کیونکہ وہ آسائشِ خلق اور آبادیِ ملک کے لیے ایسے خردمند اور نیک اندیش وزیروں کی موجودگی کو لازمی سمجھتے تھے۔ نوائی لکھتے ہیں: "یہ فقیر جن دنوں بادشاہ کی مصاحبت و ملازمت میں تھا، میں اُن جناب سے (یعنی جامی سے) اُس کام سے اپنی خلاصی کے کے لیے مدد کی التماس کیا کرتا تھا، لیکن وہ جناب ہر طرح کی باتوں سے مجھے تسلی دے کر مطمئن کر لیتے تھے۔”
جامی کوئی سیاسی شخصیت نہیں تھے، لیکن وہ ملک و رعیت کی اوضاع کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ اکثر موقعوں پر جامی اور نوائی کے سیاسی خیالات ایک ہی ہوتے تھے۔ وہ دونوں اپنی تصنیفات میں صلح و آسائش کی تلقین کرتے تھے اور صلح و صلاح کو زندگی میں عملی شکل دینے کے لیے وہ ہر راہ اور واسطے سے سعی و کوشش فرماتے تھے۔ مثلاً، ایک بار حسین بایقرا نے کُندوز پر قبضے کے لیے افغانستان پر لشکر کشی کر دی۔ یقیناً اس جنگ میں عامۂ محنت کش کے خانہ خراب اور مملکت کے ویران ہونے کا اندیشہ تھا، لہٰذا جامی اور نوائی نے شاہ کے اس کام کی مخالفت کی۔ اس بارے میں نوائی یہ لکھتے ہیں: "بادشاہ کا کندوز کی طرف لشکر کشی کرنا اُن جناب (جامی‌) اور کسی بھی شخص کی پسند کے موافق نہ تھا۔ اُن جناب نے فقیر (نوائی) سے کہہ دیا تھا کہ جب تک تم سے ہو سکے، بادشاہ کو اس سفر سے باز رکھو، اور اگر یہ ممکن نہ ہو اور یہ سفر مقرر ہو جائے تو مجھے لازمی لکھ کر بھیجنا۔”
‘خمسۃ المتحیرین’ میں ۲۸ سے زیادہ مکاتیب شامل ہیں جن میں سے ۱۵ جامی کے جبکہ بقیہ ۱۳ نوائی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مکتوبوں کے اندر وہ رباعیاں، قطعے اور اشعار بھی لائے گئے ہیں جو ایک دوسرے کے جواب میں کہے گئے تھے۔ یہ مکاتیب ان دو اشخاصِ بزرگ اور مردانِ خردمند کی دوستی و رفاقت کا برجستہ نمونہ ہیں۔ مذکورہ تصنیف تربیتی نقطۂ نظر سے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
پس، تاجک اور ازبک ملّتوں کے ان دو فرزندانِ برومند کی دوستی و ہمکاری نے ان دو ملّتوں کے درمیان روابط کو مستحکم کرنے میں بہت ہی موزوں حصہ ڈالا ہے۔ اور آج بھی ان دو ملّتوں کے درمیان دوستی و ہمکاری مسلسل وسعت پا کر مستحکم تر ہوتی جا رہی ہے۔

(وزارتِ معارفِ تاجکستان کی شائع کردہ نصابی کتاب ‘ادبیاتِ تاجک: کتابِ درسی برائے صنفِ نہم’ سے اقتباس اور ترجمہ)

"مولانا جامی کے پیروؤں کے درمیان اُن کے شاگردِ باوفا علی شیر نوائی خاص مقام کے حامل تھے اور اُن کا شمار تالیفاتِ جامی کے اولین ترجمانوں میں ہوتا تھا۔
جامی اور نوائی کا باہمی تعلق پیر و مرید، استاد و شاگرد اور دو برادروں کے مابین رہنے والی دوستی اور صمیمیت کا ایک برجستہ نمونہ تھا جو ہر قسم کی غرَض سے پاک تھا۔ جامی نے اپنی مثنوی ‘لیلیٰ و مجنون’ میں اپنے شاگرد نوائی کی دوستی و رفاقت کو اس طرح قلمبند کیا ہے:
خاصہ، کہ بہ باغِ آشنائی
بر شاخِ وفا بوَد نوائی
خود علی شیر نوائی نے بھی اپنے استادِ بزرگوار اور برادرِ جانی عبدالرحمٰن جامی کی وفات پر ایک ایسا جاں سوز مرثیہ لکھا تھا جس کی مولانا حسین واعظ کاشفی کی زبان سے قرائت نے سب کو گریہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ مرثیۂ مذکور، بلاشبہہ، ادبیاتِ فارسی میں شاعری کے بہترین نمونوں میں سے ایک ہے۔
نیز، نوائی نے اپنے استاد اور دوستِ بزرگوار کی پاک روح کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی لکھا تھا:
تو برفتی و دلِ خلقِ جہان زار بماند
تا قیامت بہ فراقِ تو گرفتار بماند
مولانا عبدالرحمٰن جامی اور امیر علی شیر نوائی کی صادقانہ دوستی، کہ جس کا احساس ان دو مذکورہ بالا مصرعوں میں بخوبی ہو جاتا ہے، تاجک اور ازبک ملّتوں کی دوستی کا برجستہ اور عبرت آموز نمونہ ہے۔”

(صدرِ تاجکستان امام علی رحمان)
۴ اکتوبر، ۲۰۱۴ء

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s