ای زبانِ فارسی

ای زبانِ فارسی، ‌ای دُرِّ دریای دَری
ای تو میراثِ نیاکان، ‌ای زبانِ مادری
(اے زبانِ فارسی، اے دریا کے موتی جیسی دَری زبان، اے تو اجداد کی میراث، اے ہماری مادری زبان!)

در تو پیدا فرِّ ما، فرهنگِ ما، آیینِ ما
از تو برپا، رایتِ دانایی و دانشوری
(تجھ سے ہماری شان و شوکت، ہماری ثقافت اور ہماری دینی و قومی روایات ظاہر ہیں اور تجھ ہی سے دانائی و دانشوری کا پرچم بلند ہے۔)

کابل و تهران و تبریز و بخارا و خُجند
جمله ملکِ توست تا بلخ و نشابور و هری
(کابل، تہران، تبریز، بخارا، خجند سے لے کر بلخ، نیشاپور اور ہرات تک سب شہر ہی تمہارے تصرف میں ہیں۔)

جاودان زی ای زبانِ دانش و فرزانگی
تا به گیتی نور بخشد آفتابِ خاوری
(اے حکمت و دانش کی زبان! جاوداں زندہ رہو تاکہ مشرق سے طلوع ہونے والا تمہارا آفتابِ وجود سارے جہاں کو منور اور بہرہ مند کرتا رہے۔)

فارسی را پاس می‌داریم زیرا گفته‌اند
قدرِ زر زرگر شناسد، قدرِ گوهر گوهری
(ہم زبانِ فارسی کی پاس داری و احترام کرتے ہیں کیونکہ یہ بات زباں زد ہے کہ زر کی قدر زرگر اور گوہر کی قدر گوہری ہی پہچانتا ہے۔)

(غلام‌علی حدّاد عادل)

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s