لغت کو ‘قاموس’ کہنے کی وجہ

سوال: قاموس کون سا لفظ ہے اور اُس کا مطلب کیا ہے اور لغت کی کتاب کو قاموس کس لیے کہا جاتا ہے؟

جواب: قاموس عربی لفظ ہے مادۂ قمس سے جس کا مطلب ہوتا ہے پانی میں جانا اور غوطہ کھانا۔ اور قاموس کے معنی ہیں سمندر کا وسط، پُرآب سمندر یا سمندر میں وہ جگہ جہاں توقف کیا جا سکتا ہو۔ لغت کی کتاب کو جو قاموس کہا جاتا ہے وہ اس سبب سے ہے کہ ایران کے معروف عالم فیروزآبادی نے، کہ جن کا خاندان فیروزآباد سے تھا اور وہ خود کازرون میں متولد ہوئے تھے اور حافظ کے ہم عصر تھے، عربی لغت کی ایک بہت اہم کتاب لکھی جو اس موضوع کی معروف ترین کتاب بن گئی۔ اُنہوں نے اس کتاب کا نام قاموس اللغۃ یعنی بحرِ لغت رکھا تھا اور یہ کتاب اتنی رواج پا گئی کہ ہر لغت کی کتاب کو بھی قاموس کہا گیا ہے۔

(سعید نفیسی کی کتاب ‘در مکتبِ استاد’ سے اقتباس اور ترجمہ)

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s