نوائی و جامی

نوائی
تیموری دور کا کوئی علمی و ادبی تذکرہ علی شیر نوائی اور مولانا جامی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا جو بلاشک و شبہ اس دور کی عظیم ترین علمی و ادبی شخصیتیں ہیں اور جنہوں نے عالمی شہرت حاصل کی۔ ان دونوں کا حسین بائیقرا کے دور سے تعلق ہے۔ علی شیر نوائی ہرات میں ۸۴۴ھ میں پیدا ہوئے اور وہیں ۱۲ جمادی الثانی ۹۰۶ھ کو وفات پائی۔ ان کی زندگی کا کچھ حصہ سمرقند اور استرآباد میں بھی گذرا جہاں وہ کئی سال حسین بائیقرا کے زمانے میں والی رہے تھے۔ زمانۂ طالب علمی میں وہ حسین بائیقرا کے ہم جماعت رہے تھے۔ بائیقرا نے بادشاہ بننے کے بعد اپنی اس دوستی کو آخر تک برقرار رکھا۔ علی شیر نوائی ایک مدت تک حسین بائیقرا کے مُہر بردار بھی رہے، لیکن بعض حاسدوں کی سازشوں کو دیکھ کر خود ہی اس عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ علی شیر نہ صرف ترکی زبان کے ایک عظیم شاعر اور ادیب تھے بلکہ وہ اپنے زمانے میں عالموں، شاعروں، ادیبوں اور فن کاروں کے سرپرست بھی تھے۔ وہ ۲۹ کتابوں کے مصنف تھے جو زیادہ تر چغتائی ترکی میں ہیں۔ ان کی تصانیف میں محاکمۃ اللغتین یعنی دو زبانوں کے درمیان محاکمہ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ترکی زبان ایک ادبی زبان کی حیثیت سے فارسی سے کسی طرح کمتر نہیں۔ ان کی ایک اور کتاب مجالس النفائس اپنے زمانے کے شاعروں کا تذکرہ ہے۔ علی شیر نوائی ترکی میں نوائی تخلص کرتے تھے اور ان کا شمار ترکی کے عظیم ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ چغتائی ترکی کے وہ بلا شک و شبہ سب سے بڑے شاعر تھے۔ انہوں نے ترکی زبان میں چار دیوان اور پانچ مثنویاں مرتب کیں۔ مصنف ہونے کے علاوہ نوائی مصور، نغمہ ساز اور موسیقار بھی تھے۔
نوائی صرف ایک امیر تھے لیکن وہ عالموں اور شاعروں اور فن کاروں کی سرپرستی میں بادشاہِ وقت سے بھی کچھ آگے تھے۔ اس زمانے کے تقریباً تمام باکمال لوگ ان سے وابستہ تھے۔ وہ تیموری دور کے سب سے بڑے فارسی شاعر اور بزرگ جامی کے دوست اور سرپرست تھے اور جامی نے اپنی کئی کتابیں نوائی کے نام معنون کیں۔ مشہور مؤرخ میرخواند اور خواندمیر کی ان کے دربار میں تربیت ہوئی۔ مصوروں میں بہزاد اور شاہ مظفر اور موسیقاروں میں گل محمد، شیخی نامی، اور حسین عودی کی انہوں نے سرپرستی کی۔ یہ سب اپنے زمانے کے ممتاز ترین فن کار تھے۔
رفاہِ عام اور فلاح و بہبود کے کاموں سے نوائی کو خاص دلچسپی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں خراسان میں تین سو ستر مسجدیں، مدرسے، سرائے، شفاخانے اور خانقاہیں یا تو تعمیر کرائیں یا ان کی تجدید کی۔ صرف ہرات میں انہوں نے بارہ عظیم الشان عمارتیں تعمیر کیں جن میں جامعِ قدسیہ، مدرسۂ اخلاصیہ اور ایک شفاخانہ شامل ہیں۔

جامی
حسین بائیقرا کے زمانے کی دوسری عظیم ادبی شخصیت عبدالرحمٰن جامی (۸۱۷ھ تا ۸۹۸ھ) کی ہے۔ جامی بہت بڑے مصنف اور شاعر تھے۔ انہوں نے ایک سَو کے قریب کتابیں لکھیں۔ ایران میں وہ فارسی کے آخری بڑے شاعر تھے، اس کے بعد فارسی کے بڑے شاعر ایران میں نہیں بلکہ برِ صغیرِ پاکستان و ہند میں ہوئے، لیکن وہ بھی جامی کے مقام تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کی شاعری نے ایران اور ترکی کے شاعروں پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کی کتاب ‘نفحات الانس’، جس میں اولیاء اللہ کے حالات لکھے گئے ہیں، بڑی مقبول کتاب ہے۔ ان کی ایک اور اہم کتاب ‘بہارستان’ ہے جو سعدی کی گلستان کے طرز پر لکھی گئی ہے۔

(ثروت صولت کی کتاب ‘ملتِ اسلامیہ کی مختصر تاریخ: حصۂ دوم’ سے مقتبس)

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s