محمد امین صدیقی: ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ خطے میں باہمی روابط کو گہرا کرنے کا باعث بنے گا

افغانستان کے عمومی قونصل محمد امین صدیقی نے مشہد میں ہونے والے ‘بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ اس طرح کے مؤتمرو‌ں کو منطقے کے ممالک کے مابین ثقافتی روابط میں گہرائی لانے کا سبب سمجھتے ہیں۔
علاوہ بریں، محمد امین صدیقی نے علی شیر نوائی کی تاریخی شخصیت کا شمار اس تمدنی قلمرو کے مفاخرِ علم و ادب میں کیا اور کہا کہ وہ اس پورے خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے تیموری دور کو اس ثقافتی قلمرو کے ساکنوں کے لیے مختلف پہلوؤں سے بہت گراں بہا پکارا۔
اُن کے مطابق، تیموری دور میں اس خطۂ ارض کے لوگوں کی ثقافتی میراث نے – کہ جو دینی لحاظ سے اسلام پر مبنی اور لسانی و ہنری لحاظ سے فارسی پر مبنی تھی – اپنی بقا و پائداری کی قوت کو ظاہر کیا تھا۔
صدیقی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اس ثقافتی بیداری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ اس منطقے کے ایک دیرینہ و سابقہ دار اور علم و ادب کی مالامال تاریخ کے حامل شہر ہرات میں رو نما ہوئی تھی جو اُس زمانے میں خراسانِ بزرگ کا ایک شہر تھا اور اب افغانستان کی قلمرو کا حصہ ہے۔”
اُنہوں نے اضافہ کیا: "تیموریوں کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کو ہرات کے نام سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق کی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ فن، ادب اور علم ہمیشہ اُسی جگہ کمال کو پہنچتے ہیں جہاں ایک طرف تو دانا اور ثقافت پرور سیاسی حکام بر سرِ کار ہوں اور دوسری طرف وہاں معاشرتی لحاظ سے لوگوں کے رُشد کے لیے سازگار پس منظر اور حالات وجود میں آ چکے ہوں، اور اُس عصر کے ہرات میں یہ دونوں عوامل موجود تھے۔”
مشہد میں افغانستان کے عمومی قونصل نے امیر علی شیر نوائی کو خاندانِ تیموری کا مہذب اور دانشمند وزیر پکارا اور کہا کہ وہ اپنی کثیر بُعدی شخصیت کے وسیلے سے ادبی نگارشات کی تخلیق کے میدان میں، نیز اہلِ دانش و ادب کی حمایت اور اُن کی تخلیقات کی اشاعت میں بہت فعال رہے تھے۔
صدیقی نے نوائی کے مولانا عبدالرحمٰن جامی اور اُس دور کے دیگر تمام استادانِ علم و ہنر کے ساتھ روابط کو اُس زمانے کی رفیع الشان تہذیبی اقبال مندی کی مثال سمجھا۔
اِن افغان عہدے دار نے مزید ثقافتی روابط قائم کرنے کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ” اس ثقافتی وطن کے ہم باشندوں کے درمیان ارتباط کی سطح ہرگز اُن مشترکات کے درجے پر نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہیں۔”
اُنہوں نے اظہار کیا: "ہماری ثقافتی سرگرمیوں نے اختصاصی اور جغرافیائی سرحدوں پر مبنی شکل اختیار کر لی ہے اور اب اکثر موقعوں پر ہمارے مفاخرِ علم و ادب پر صرف سرحدوں کے اندر ہی توجہ ہوتی ہے۔”
صدیقی نے ایران میں منعقد ہونے والے ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ کو ایک خوش آئند اور مبارک واقعہ جانا اور اسے منطقے کے ممالک کے درمیان روابط کی تعمیق کا بنیاد ساز کہا۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے اس طرح کے برناموں (پروگراموں) کے تسلسل کی خواہش کی اور اس بات کی امید ظاہر کی کہ اہلِ ادب و ہنر و دانش کی معیت میں ایسے ہی برنامے جلد ہی افغانستان میں بھی منعقد ہوں گے۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز آج صبح سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی میں ہوا ہے اور اس میں ایرانی عہدے داروں اور ادیبوں کے ہمراہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

مؤتمر = کانفرنس

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s