من ‌نمی‌میرم – لائق شیرعلی

[من ‌نمی‌میرم]

تا نگیرم خون‌بهای جملهٔ قربانیان را،
تا نبخشم عمرِ آزادی همه زندانیان را،
تا نیابم راهِ دل‌های تمامِ زندگان را،
تا نبردارم به دوشم دوش‌بارِ این زمان را،
من ‌نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا نشویم داغِ دل‌ها را به خونابِ دلم،
تا نیابم من ز دنیا دُرِّ نایابِ دلم،
تا نکابم صبح را از چشمِ بی‌خوابِ دلم،
تا نگویم داستانِ تازهٔ بابِ دلم،
من ‌نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا نیاراید جوانی‌ام جهانِ پیر را،
تا نبندم با سرودم پیشِ راهِ تیر را،
تا نگیرم با قلم پیشِ دمِ شمشیر را،
تا نبنویسم ز نو من نامهٔ تقدیر را،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا نسازم هیکلی بر یادگارِ مادرم،
تا نگردم همسرِ بامِ جهانِ کشورم،
تا نگردد مطلعِ عمرِ ابد بام و درم،
نشکند تا تشنگیِ تشنه را شعرِ ترم،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا دمی، که آفتاب از شرق بنماید طلوع،
تا دمی، که رودها از کوهسار آید فرو،
تا دمی، که زندگی باشد به راهِ آرزو،
تا دمی، که شعرِ حافظ باشد و جام و سبو،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا ندانم، که پس از من خوانده شعرم را کسی
خواب می‌بیند مرا، می‌پرسد این آواز کیست؟
تا ندانم زندگی را بعدِ من ره تا کجاست،
تا ندانم صاحبِ دنیا پس از من باز کیست،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

با دو چشمِ نورپالا،
با دو دستِ رزق‌پیما،
با دلِ دردآشنا و با سرِ پرشور و سودا،
تا قلم را پل نسازم در میانِ ساحلِ
امروز و فردا،
من نخواهم مرد عاجز،
من نخواهم مرد هرگز!

(لائق شیرعلی)
۱۹۶۸ء

========

[میں نہیں مروں گا]

جب تک میں تمام فداکاروں کا خوں بہا نہ لے لوں،
جب تک میں تمام زندانیوں کو ایک آزاد عمر نہ بخش دوں،
جب میں میں تمام زندوں کے دلوں کی راہ نہ پا لوں،
جب تک میں اس زمانے کا بارِ دوش اپنے شانوں پر نہ اٹھا لوں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک میں دلوں کے داغ کو اپنے دل کے خوناب سے نہ دھو لوں،
جب تک میں دنیا سے اپنے دل کا نایاب دُر حاصل نہ کر لوں،
جب تک میں صبح کو اپنے دل کی بے خواب چشم سے شق نہ کر لوں،
جب تک میں اپنے دل کے باب کی تازہ داستان نہ کہہ لوں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک میری جوانی جہانِ پیر کو آراستہ نہ کر لے،
جب تک میں اپنے سُرودوں سے تیر کی راہ نہ روک لوں،
جب تک میں قلم سے شمشیر کی دھار کُند نہ کر لوں،
جب تک میں از سرِ نو نامۂ تقدیر نہ لکھ لوں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک میں اپنی مادر کی یادگار پر ایک مجسمہ نہ بنا لوں،
جب تک میں اپنے ملک کے بامِ جہاں کے برابر نہ ہو جاؤں،
جب تک میرے بام و در ابدی عمر کے مطالع نہ بن جائیں،
جب تک میرے تر اشعار پیاسے کی پیاس نہ بجھا دیں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

اُس لحظے تک کہ مشرق سے آفتاب طلوع ہوتا رہے،
اُس لحظے تک کہ کوہسار سے دریا نیچے اترتے رہیں،
اُس لحظے تک کہ زندگی آرزو کی راہ پر گامزن رہے،
اُس لحظے تک کہ حافظ کے اشعار اور جام و سبو رہیں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک یہ نہ جان لوں کہ میرے بعد کوئی شخص میرے اشعار پڑھ کر
مجھے خواب میں دیکھے گا، اور پوچھے گا کہ یہ صدا کون سی ہے؟
جب تک یہ نہ جان لوں کہ میرے بعد زندگی کی راہ کہاں تک ہے،
جب تک یہ نہ جان لوں کہ میرے بعد صاحبِ دنیا دوبارہ کون ہے،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

دو نُورپالا آنکھوں کے ساتھ،
دو رزق پیما ہاتھوں کے ساتھ،
درد آشنا دل اور پُرتلاطم و جُنوں سر کے ساتھ،
جب تک کہ میں قلم کو پُل نہ بنا لوں
امروز و فردا کے ساحلوں کے درمیان،
میں عاجز نہیں مروں گا،
میں ہرگز نہیں مروں گا!

(لائق شیرعلی)
۱۹۶۸ء

* بامِ جہاں = تاجکستانی صوبے بدخشاں اور وہاں موجود کوہ ہائے پامیر کا لقب
* مطالِع = مطلع (یعنی طلوع ہونے کی جگہ) کی جمع
* نُورپالا = نور کو صاف کرنے والا
* رزق پیما = رزق کی پیمائش کرنے والا

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s