اعتراف

عموماً‌ لوگ سب سے زیادہ اپنی مادری زبان سے محبت کرتے ہیں، لیکن میں اپنی مادری زبان کی بجائے زبانِ فارسی سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ میری تمام روحانی، ادبی، شناختی، ثقافتی اور تمدنی تمنّائیں اور ضروریات ہر زبان سے بیشتر فارسی ہی کے توسط سے پوری ہوتی ہیں۔ اسی لیے میں اِس شہد سے شیریں زبان کو عزیز از جان رکھتا ہوں اور اس کی ترویج کے لیے شب و روز کوشاں ہوں۔ اگر صاف صاف کہوں تو اردو میری مادری زبان صرف ایک حادثۂ ولادت کے باعث ہے، ورنہ میں تو اپنی حقیقی قلبی زبان فارسی کو تصور کرتا ہوں اور میرے اختیار میں ہوتا تو میں کسی فارسی گو خانوادے میں پیدا ہونا اپنے لیے منتخب کرتا اور اِسے باعثِ صد افتخار و نازش جانتا۔
"طرزِ گفتارِ دری شیرین‌تر است”
(علامہ اقبال)

پس نوشت: مجھے کلاسیکی اردو اور کلاسیکی ترکی فقط اس لیے عزیز ہیں کہ یہ دو زبانیں براہِ راست فارسی زبان و ادب کی پروردہ زبانیں ہیں اور اپنے عالمِ طفولیت سے زمانۂ شباب تک یہ دو زبانیں اپنی رضاعی مادر فارسی کے زیرِ سایہ نشو و نما پاتی اور اپنی رہنمائی کے لیے ہمیشہ فارسی کی جانب نگاہ کرتی رہی ہیں۔ جبکہ عربی زبان مجھے اس لیے عزیز ہے کہ فارسی زبان و ادب کے ساتھ اس کا ہزار سالہ قریبی تعلق ہے اور عربی کی واقفیت سے فارسی دانی کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ مسلّم حقیقت ہے کہ فارسی پر عربی سے بیشتر کوئی اور زبان اثر انداز نہیں ہوئی ہے، بلکہ فارسیِ دری کی بنیاد ہی عربی کے زیرِ اثر رکھی گئی تھی۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s