گمشده – شفیقه یارقین

(گمشده)
آیینه را به دست گرفتم
تا حُسنِ خویش را به تماشا بنشینم
اما به جایِ عکسِ جمالِ من
در آینه، جمالِ تو پیدا بود
آنگاه ای عزیز،
دانستم این حقیقتِ شیرین را
کآنقدر در تو حل شده‌ام،
کاینسان
از خویشتن تهی شده و تو شده‌ام
آری!
(شفیقه یارقین)

(گمشدہ)
میں نے ہاتھ میں آئینہ اٹھایا
تاکہ اپنے حُسن کے تماشے میں مشغول ہو سکوں
لیکن میرے جمال کے عکس کی بجائے
آئینے میں تمہارا جمال ظاہر تھا
اُس وقت، اے عزیز،
میں جان گئی اِس شیریں حقیقت کو
کہ اِس قدر تم میں حل ہو چکی ہوں،
کہ اِس طرح
اپنے آپ سے تہی ہو کر ‘تم’ ہو چکی ہوں
ہاں!
(شفیقہ یارقین)

× شفیقہ یارقین افغانستان کی ازبک نژاد ذواللسانین شاعرہ اور محققہ ہیں۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s