ہم نے رسی پر گندم پھیلایا ہوا ہے!

روی طناب گندم پهن کرده‌ایم!
یکی از همسایه‌ها به درِ خانهٔ ملا آمده طناب برای پهن کردنِ رخت امانت می‌خواهد.
ملا برای آوردنِ طناب داخلِ خانه می‌شود و بعد از مدتی معطلی آمده می‌گوید: فُلانی ببخشید، روی طناب گندم پهن کرده‌ایم.
همسایه با تعجب می‌پرسد: جانم، این چه حرفی است، مگر روی طناب هم می‌توان گندم پهن کرد؟
ملا جواب می‌دهد: چطور ‌نمی‌توان کرد؟ وقتی نخواهی بدهی، ارزن هم پهن می‌توان کرد.
کتاب: لطیفه‌های ملّا نصرالدین
مؤلف: محمد علی فرزانه
سالِ اشاعتِ اول: ۱۳۷۴هش/۲۰۰۵ء

ہم نے رسی پر گندم پھیلایا ہوا ہے!
ایک ہمسایہ ملا [نصرالدین] کے گھر کے دروازے پر آ کر لباس پھیلانے کے لیے امانتاً رسی مانگتا ہے۔
ملا رسی لانے کے لیے گھر میں داخل ہوتا ہے اور کچھ مدت تاخیر کے بعد آ کر کہتا ہے: اے فلاں، معاف کیجیے، ہم نے رسی پر گندم پھیلایا ہوا ہے۔
ہمسایہ تعجب کے ساتھ پوچھتا ہے: میری جان، یہ کیسی بات ہے، مگر کیا رسی پر بھی گندم پھیلایا جا سکتا ہے؟
ملا جواب دیتا ہے: کیسے نہیں پھیلایا جا سکتا؟ جب نہ دینا چاہو تو باجرا بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s