استعمار کا بزرگ ترین ستم

مقتدرۂ قومی زبان کے سابق رئیس اور معروف شاعر افتخار عارف کی فرہنگستانِ زبان و ادبِ فارسی کی شوریٰ میں کی گئی تقریر سے ایک اقتباس:
"یکی از بزرگ‌ترین ستم‌های استعمار این بود که استعمار انگلیس در سال ۱۸۳۵ میلادی زبان فارسی را به‌حیث زبان رسمی الغاء نمود و به‌جای آن زبان انگلیسی را اجرا کرد. یواش‌یواش رواج زبان فارسی نه تنها در امور دولتی کاهش یافت، بلکه در جامعه نیز فعالیت‌های آن بسیار کم شد. پس از استقلال، هنوز فعالیت‌های استعمار انگلیس ادامه دارند. حیثیت و مقام زبان انگلیسی مسلّم است اما تحمیل آن درعوض زبان ملّی خود شاید کار بسیار احمقانه است.”
ماخذ
تاریخ: ۱۱ جنوری ۲۰۱۱ء
"استعمار کا ایک بزرگ ترین ستم یہ تھا کہ برطانوی استعمار نے سال ۱۸۳۵ء میں زبانِ فارسی کو رسمی زبان کی حیثیت سے منسوخ کر کے اُس کی جگہ پر انگریزی زبان کو نافذ کر دیا۔ آہستہ آہستہ فارسی زبان کا رواج نہ صرف سرکاری امور میں قلیل ہو گیا، بلکہ معاشرے میں بھی اُس کی فعّالیتیں بہت کم ہو گئی۔ استقلال کے بعد بھی ہنوز برطانوی استعماری سرگرمیاں جاری ہیں۔ انگریزی زبان کی حیثیت و مقام مسلّم ہے لیکن اپنی ملّی زبان کے عوض میں اُس کی تحمیل شاید بسیار احمقانہ کام ہے۔”

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s