مناسب اصطلاحات کے استعمال کے لیے زبان دانی اور زحمت کَشی لازم ہیں

"پیدا کردن کلمات مناسب برای اندیشه‌ها و مفاهیم نو کار آسانی نیست، این کار [نیاز به] مطالعهٔ فراوان و آشنایی صحیح با ریزه‌کاری‌ها و ویژگی‌های زبان دارد که بی رنج و زحمت میسر نمی‌گردد. حال اگر نویسنده‌ای آزاد باشد که هر وقت به کلمه‌ای نیاز داشت به جای زحمت و رنج در زبان خود آن را به آسانی از هر زبانی که خواست بگیرد و به کار بندد گذشته از اینکه کلمات و اصطلاحات تازه‌ای در زبان به وجود نخواهد آمد چه بسا که کلمات موجود هم کم کم از دایرهٔ استعمال خارج می‌شوند و جای خود را به کلمات بیگانه می‌دهند و بدین سان قدرت تولید زبان به تدریج کاهش می‌یابد.”

یادداشت‌هایی دربارهٔ زبان فارسی از نظر رابطهٔ آن با زبان عربی
دکتر محمد محمدی
۱۳۵۳هش/۱۹۷۴ء

"نئے افکار اور مفاہیم کے لیے مناسب الفاظ ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں ہے، یہ کام زبان کی باریک بینیوں اور خصوصیتوں کے گہرے مطالعے اور صحیح آشنائی کا متقاضی ہے جو مشقت و زحمت کے بغیر میسر نہیں ہوتی۔ اب اگر کوئی مصنف آزاد ہو کہ اُسے جب بھی کسی لفظ کی حاجت ہو وہ اپنی زبان میں زحمت کَشی کی بجائے اُس لفظ کو جس زبان سے بھی چاہے آسانی سے لے لے اور استعمال کر لے تو نہ صرف یہ کہ کوئی جدید الفاظ و اصطلاحات زبان میں اختراع نہیں ہوں گی بلکہ ممکن ہے کہ موجود الفاظ بھی آہستہ آہستہ دائرۂ استعمال سے خارج ہو کر بیگانہ الفاظ کو اپنی جگہ سونپ دیں گے اور اِس طرح زبان کی قدرتِ تولید تدریجاً کم ہوتی جائے گی۔”

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s