تاریخِ رحلتِ حضرتِ استادی مرزا دبیر صاحب طاب ثراه – منیر شکوه‌آبادی

آوخ آوخ کآسمان بنشاند علم و فضل را
در عزای آفتابِ کشورِ دانش دبیر
آنکه حاضر در افادت‌گاهِ طبعش روز و شب
بود همچون طفلِ ابجدخوان دبیرِ چرخِ پیر
رفت در خلدِ برین و بی بهارِ طبعِ او
شد گلستانِ معانی زرد مانندِ زریر
الحق او خلّاقِ مضمون بود چون او دیگری
آسمان هرگز نخواهد دید در دوران نظیر
بی‌قدومش بزمِ ماتم، بی‌نگاهش مرثیه
گوییا مصر است بی‌یوسف، فلک بی‌ماه و تیر
گفت تاریخِ وفاتش را منیرِ اشک‌بار
عقل بی‌دل، سدره بی‌جبریل، منبر بی‌دبیر
۱۲۹۲ه

(منیر شکوه‌آبادی)

ترجمہ:
دریغ دریغ! کہ آسمان نے علم و فضل کو کشورِ دانش کے آفتاب ‘دبیر’ کی عزا میں بٹھا دیا۔
وہ کہ جس کی افادت گاہِ طبع میں دبیرِ چرخِ پیر طفلِ ابجد خواں کی طرح روز و شب حاضر رہتا تھا۔
وہ خلدِ بریں میں چلا گیا اور اُس کی طبع کی بہار کے بغیر گلستانِ معانی زریر کی مانند زرد ہو گیا۔
الحق! وہ خلّاقِ مضمون تھا، اور آسمان زمانے میں اُس جیسی کوئی دیگر نظیر ہرگز نہ دیکھے گا۔
اُس کے قدوم کے بغیر بزمِ ماتم، اور اُس کی نگاہ کے بغیر مرثیہ ایسے ہیں گویا مصر بے یوسف ہو، اور فلک بے ماہ و عُطارِد۔
منیرِ اشک بار نے اُس کی تاریخِ وفات کہی: ‘عقل بے دل، سدرہ بے جبریل، منبر بے دبیر’۔

× دبیرِ چرخ = عُطارِد
× زریر = ایک زرد گیاہ کا نام؛ یرقان
× تیر = عُطارِد

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s