تاریخِ وفاتِ مرزا اسدالله خان غالب دهلوی – منیر شکوه‌آبادی

آن غالبِ دهلوی کلیمِ دوران!
سلطانِ سخن غلامِ آلِ یٰسین
در نظمِ زبانِ فارسی نامیِ دهر
در نثر به مسندِ افاداتِ مکین
برداشته رَخت ازین سرای فانی
یا رب برسانیش به فردوسِ برین
دنیاست سیه به دیدهٔ اهلِ سخن
در برجِ لحد چو رفت آن مِهرِ مبین
تاریخ وفاتِ او چنین گفت منیر
آه افصحِ عصر و حیف ثانیِ حزین
۱۲۸۵ه

(منیر شکوه‌آبادی)

ترجمہ:
وہ غالبِ دہلوی، وہ کلیمِ دوراں؛ سلطانِ سخن، غلامِ آلِ محمد؛ نظمِ زبانِ فارسی میں مشہورِ زمانہ؛ نثر میں ارشاداتِ ‘مکین’ کی مسند پر؛ اُس نے اِس سرائے فانی سے رختِ سفر باندھ لیا ہے؛ یا رب! اُسے فردوسِ بریں میں پہنچا دینا؛ وہ مِہرِ مبیں جب سے برجِ لحد میں گیا ہے، اہلِ سخن کے دیدوں میں دنیا سیاہ ہے؛ ‘منیر’ نے اُس کی تاریخِ وفات یوں کہی: ‘آہ افصحِ عصر و حیف ثانیِ حزین!’

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s