فارسی اور دیگر سلطنتی زبانیں

دنیا میں جتنی بھی قدیم سلطنتی زبانیں گذری اور ایک وسیع قطعۂ زمین میں رائج رہی ہیں اُن کا اِس برتر مقام پر نائل ہونے کا سبب عموماً یہ رہا ہے کہ وہ زبانیں بولنے والے ایک خاص موقع پر عظیم سیاسی قوت سے بہرہ مند رہے ہیں۔ عربی اگر جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر عراق سے مراکش تک پھیلی ہے تو اِس کا بنیادی سبب دورِ خلافتِ راشدہ اور اموی و عباسی دور کی فتوحات ہیں۔ اگر اسکندر دنیا فتح کرنے نہ نکلتا تو یونانی زبان و ثقافت بھی اِتنی رائج نہ ہوتی۔ اگر رومیوں کی عظیم الشان سلطنت قائم نہ ہوتی تو شاید لاطینی بھی ایک علاقائی زبان ہی رہتی، کبھی یورپی برِ اعظم کی مشترک علمی و تمدنی زبان اور کیتھولک مسیحیت کی عباداتی زبان نہ بنتی۔ سنسکرت اور چینی زبانیں بھی سنسکرت گویوں اور چینی گویوں کی سیاسی قوت کی وجہ سے وسیع و عریض منطقوں پر بالادست رہیں۔ جدید دور میں بھی جتنی نوآبادیاتی زبانیں مثلاً انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، روسی وغیرہ ہیں اُنہوں نے بھی اپنی اپنی سیاسی حاکمیت کے باعث ممالکِ مستعمرہ پر غلبہ پایا ہے۔ امّا و صد امّا، بلقان سے بنگال اور دکن سے وولگا تک کے علاقوں میں صدیوں تک غالب رہنے والی فارسی زبان کو فارسی بولنے والوں نے نہیں، بلکہ ایک دیگر قوم یعنی ترکوں نے اپنی زبان کے طور پر اپنا کر اطراف و اکناف میں پھیلایا ہے۔ اگر سامانیوں سے قطعِ نظر کر لیا جائے تو دس صدیوں تک یہ تُرک سلطنتیں ہی تھیں جنہوں نے اِس زبان کی مسلسل ترویج و گُستَرِش کی تھی اور اِسے اپنی اپنی قلمروؤں میں واحد رسمی و درباری زبان کے طور پر نافذ کر رکھا تھا اور وہی سلطنتیں فارسی زبان و ثقافت کی برترین حامی تھیں۔ اگر تُرکوں کی شمشیر نہ ہوتی تو آج خود ایران کے بھی ایک کثیر حصے میں فارسیِ دری کا وجود نہ ہوتا، کیونکہ تُرک سلجوقی سلطنت ہی اِس نئی ادبی زبان کے ماوراءالنہر و خراسان سے ایران میں آنے اور وہاں رائج ہونے کا باعث بنی تھی۔ القصّہ، سلطنتی زبانوں کی فہرست میں فارسی اِس لحاظ سے منفرد ہے کہ اِس کے سیاسی پشت و پناہ وہ تھے جو خود ابتداءً فارسی نہیں بولتے تھے۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s