گفتی بگو که در چه خیالی و حال چیست؟ – هلالی جغتایی

گفتی بگو که در چه خیالی و حال چیست؟
ما را خیالِ توست تو را در خیال چیست؟
جانم به لب رسید چه پُرسی ز حالِ من؟
چون قوتِ جواب ندارم سوال چیست؟
بی‌ذوق را ز لذتِ تیغت چه آگهی؟
از حلقِ تشنه پُرس که آبِ زُلال چیست؟
گفتم همیشه فکرِ وصالِ تو می‌کنم
در خنده شد که این همه فکرِ مُحال چیست؟
دردا که عمر در شبِ هجران گذشت و من
آگه نَیَم هنوز که روزِ وصال چیست؟
چون حل نمی‌شود به سخن مشکلاتِ عشق
در حیرتم که فایدهٔ قیل و قال چیست؟
ای دم به دم به خونِ هلالی کشیده تیغ
مسکین چه کرد؟ موجبِ چندین ملال چیست؟
(هلالی جغتایی)

ترجمہ:
تم نے کہا کہ: کہو کس خیال میں ہو اور حال کیا ہے؟؛ ہمیں تو تمہارا خیال ہے، تمہارے خیال میں کیا ہے؟
میری جان لب تک پہنچ گئی، میرا حال کیا پوچھتے ہو؟؛ جب میں قوتِ جواب ہی نہیں رکھتا تو سوال کیا ہے؟
بے ذوق کو تمہاری تیغ کی لذت سے کیا آگہی؟۔۔۔ تشنہ حلق سے پوچھو کہ آبِ زُلال کیا ہے؟
میں نے کہا کہ: میں ہمیشہ تمہارے وصال کی فکر کرتا ہوں؛ وہ ہنسے لگا کہ: یہ سب فکرِ مُحال کیا ہے؟
افسوس کہ (میری) عمر شبِ ہجراں میں گذر گئی اور میں ہنوز آگاہ نہیں ہوں کہ روزِ وصال کیا ہے؟
جب سخن سے عشق کی مشکلات حل نہیں ہوتیں تو میں حیرت میں ہوں کہ قیل و قال کا فائدہ کیا ہے؟
اے ہر دم ‘ہلالی’ کے خون کی غرَض سے تیغ کھینچنے والے! (اُس) مسکین نے کیا کیا ہے؟ اِس قدر بیزاری کا موجب کیا ہے؟

× آبِ زُلال = آبِ صاف و شیرین و خوشگوار

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s