حضرتِ یوسف کے تین پیراہن اور رودکی

حضرتِ یوسف (ع) کی داستان میں تین پیراہنوں کا ذکر آیا ہے: وہ پیراہن کہ جسے اُن کے برادران خون آلود کر کے والد کے نزدیک لائے تھے کہ یوسف کو گُرگ نے چیر پھاڑ ڈالا ہے؛ وہ پیراہن کہ جو زلیخا کے ہاتھوں پُشت سے چاک ہوا تھا؛ اور وہ پیراہن کہ جو چشمِ یعقوب (ع) کی نابینائی ختم ہونے کا سبب بنا۔ رُودکی سمرقندی نے ایک قطعے میں حضرت یوسف کے تین پیراہنوں کی جانب خوبصورتی سے اشارہ کیا ہے:

نگارینا، شنیدستم که گاهِ محنت و راحت
سه پیراهن سَلَب بوده‌ست یوسف را به عمر اندر
یکی از کَید شد پُرخون، دوم شد چاک از تهمت
سوم یعقوب را از بوش روشن گشت چشمِ تر
رُخم مانَد بدان اول، دلم مانَد بدان ثانی
نصیبِ من شود در وصل آن پیراهنِ دیگر؟
(رودکی سمرقندی)

اے محبوب! میں نے سنا ہے کہ رنج و راحت کے موقعوں پر تین پیراہن یوسف کی زندگی میں اُن کا لباس رہے تھے۔ ایک تو مکر و فریب سے خون سے پُر ہو گیا تھا، دوسرا تہمت کی وجہ سے چاک ہو گیا تھا، اور تیسرا وہ تھا کہ جس کی بو سے یعقوب کی چشمِ تر روشن ہوئی تھی۔۔۔ میرا پُرخون چہرہ پہلے پیراہن کی مانند ہے، جبکہ میرا دلِ چاک اُس دوسرے پیراہن کی مانند ہے۔۔۔ اب کیا وہ تیسرا پیراہن مجھے وصل کے موقع پر کبھی نصیب ہو گا؟

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s