تبِ زردِ خزان

ایرانی شاعرہ فروغ فرّخزاد کی نظم ‘گُذَران’ سے ایک اقتباس:

"آن‌چنان آلوده‌ست
عشقِ غم‌ناکم با بیمِ زوال
که همه زندگی‌ام می‌لرزد
چون ترا می‌نگرم
مثلِ این است که از پنجره‌ای
تک‌درختم را، سرشار از برگ،
در تبِ زردِ خزان می‌نگرم
مثلِ این است که تصویری را
رویِ جریان‌هایِ مغشوشِ آبِ روان می‌نگرم”
(فروغ فرخزاد)

اِس طرح آلودہ ہے
میرا غم ناک عشق خوفِ زوال کے ساتھ
کہ میری کُل زندگی لرزتی ہے
جب میں تمہیں دیکھتی ہوں
تو ایسا لگتا ہے کہ کسی دریچے سے
اپنے تنہا درخت کو، پتّوں سے سرشار،
خزاں کی تبِ زرد میں دیکھ رہی ہوں
ایسا لگتا ہے کہ کسی تصویر کو
بہتے پانی کے آشفتہ بہاؤ پر دیکھ رہی ہوں
× تبِ زرد = زرد بُخار

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s