ای ساربان آهسته رو کآرامِ جانم می‌رود – سعدی شیرازی (فارسی + اردو ترجمہ)

ای ساربان آهسته رو کآرامِ جانم می‌رود
وآن دل که با خود داشتم با دل‌سِتانم می‌رود
من مانده‌ام مهجور از او، بی‌چاره و رنجور از او
گویی که نیشی دور از او در استخوانم می‌رود
گفتم: به نیرنگ و فسون پنهان کنم ریشِ درون
پنهان نمی‌مانَد که خون بر آستانم می‌رود
محمل بِدار ای ساروان، تُندی مکن با کاروان
کز عشقِ آن سروِ روان، گویی روانم می‌رود
او می‌رود دامن‌کَشان، من زهرِ تنهایی چشان
دیگر مپُرس از من نشان، کز دل نشانم می‌رود
برگشت یارِ سرکشم، بگذاشت عیشِ ناخوشم
چون مِجمَری پُرآتشم، کز سر دُخانم می‌رود
با آن همه بیدادِ او وین عهدِ بی‌بنیادِ او
در سینه دارم یادِ او، یا بر زبانم می‌رود
باز آی و بر چشمم نشین، ای ‌دل‌سِتانِ نازنین
کآشوب و فریاد از زمین بر آسمانم می‌رود
شب تا سحر می‌‌نغْنوم، واندرزِ کس می‌نشْنوم
وین ره نه قاصد می‌روم، کز کف عِنانم می‌رود
گفتم بگریم تا اِبِل چون خر فرو مانَد به گِل
وین نیز نتْوانم که دل با کاروانم می‌رود
صبر از وصالِ یارِ من، برگشتن از دل‌دارِ من
گرچه نباشد کارِ من، هم کار از آنم می‌رود
در رفتنِ جان از بدن گویند هر نوعی سخن
من خود به چشمِ خویشتن دیدم که جانم می‌رود
سعدی فغان از دستِ ما لایق نبود ای بی‌وفا
طاقت نمی‌آرم جفا، کار از فغانم می‌رود
(سعدی شیرازی)

ترجمہ:
اے ساربان! آہستہ چلو کہ میرا آرامِ جاں جا رہا ہے؛ اور جو دل میں اپنے پاس رکھتا تھا، وہ میرے دلبر کے ہمراہ جا رہا ہے۔
میں اُس سے دور ہو گیا ہوں، بے چارہ اور غم زدہ ہو گیا ہوں۔ گویا اُس سے دور ہونے پر ایک نیش میرے اُستُخواں میں جا رہا ہے۔
میں نے کہا تھا کہ حیلہ و جادو سے [اپنے] زخمِ دروں کو چھپاؤں گا۔ [لیکن یہ زخم] پنہاں نہیں رہے گا کہ میرے اشکِ خونیں آستاں پر جاری ہیں۔
اے ساربان! محمل کو روک دو اور کاروان کے ساتھ جلدی مت کرو، کہ اُس سروِ رواں کے عشق کے سبب گویا [بدن سے] میری جان [نکلی] جا رہی ہے۔ (معشوق کو استعارتاً ‘سروِ رواں’ کہا گیا ہے۔)
وہ [ناز کے ساتھ] دامن کھینچتے ہوئے جا رہا ہے، [اور] میں زہرِ تنہائی چکھ رہا ہوں۔۔۔ اِس کے بعد اب میرا نشان مت پوچھنا، کہ میرے دل کا نشان [مٹتا] جا رہا ہے۔
میرا یارِ سرکش لوٹ گیا، [اور] میرے لیے زندگیِ ناخوش چھوڑ گیا۔۔۔ میں ایک پُرآتش آتشداں کی مانند ہوں کہ میرے سر سے دُود بلند ہو رہا ہے (یعنی میں بے قرار ہوں)۔
اُس کے اُن تمام ظلم و ستم اور اُس کے اِس عہدِ بے بنیاد کے باوجود میرے سینہ میں اُس کی یاد رہتی ہے، یا پھر میری زبان پر [اُس کا نام] جاری رہتا ہے۔
اے دلبرِ نازنیں! واپس آ جاؤ اور میری چشم پر بیٹھ جاؤ۔۔۔ کہ [تمہاری جدائی میں] میری بانگ و فریاد زمین سے آسمان تک بلند ہو رہی ہے۔
میں شب سے سَحَر تک نہیں سوتا اور کسی کی نصیحت نہیں سنتا؛ اور یہ راہ مَیں قصداً نہیں چل رہا، بلکہ میرے کف سے لگام جا رہی ہے۔ (یعنی میں اپنے دست سے اختیار گنوا چکا ہوں اور بے اختیار راہ طے کر رہا ہوں۔)
میں نے کہا کہ [اِس قدر] روؤں کہ شُتُر خر کی طرح گِل میں پھنس جائے؛ لیکن میں یہ بھی نہیں کر سکتا کیونکہ کاروان کے ساتھ میرا دل (یا محبوب) جا رہا ہے۔
اپنے یار کے وصال کے لیے صبر کرنا اور اپنے دلدار سے لوٹ جانا اگرچہ میرا کام (یا میرا طرزِ عمل) نہیں ہے، لیکن میرے کام اِسی طریقے سے تکمیل پائیں گے۔ (یعنی میری مشکلوں کی راہِ حل یہی ہے۔)
بدن سے جان کے نکلنے کے بارے میں طرح طرح کے سُخن کہے جاتے ہیں، [لیکن] میں نے خود اپنی چشم سے اپنی جان کو جاتے دیکھا ہے۔ (مصرعِ دوم میں ‘جان’ استعارتاً معشوق کے لیے استعمال ہوا ہے۔)
اے سعدیِ بے وفا! ہماری طرف سے فغاں مناسب نہ تھی۔۔۔ [لیکن میں کیا کروں] کہ میں طاقتِ جفا نہیں رکھتا، اور نالہ و فغاں [ہی] سے میرے کام درست ہوتے ہیں۔

× نیش = ڈنک؛ اُستخواں = ہڈی؛ دُود = دھواں؛ شُتُر = اونٹ؛ گِل = کیچڑ
× بیتِ دوم کا ترجمہ دوستِ گرامی محمد ریحان قریشی نے کیا ہے۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s