ای فیض‌رسانِ عرب و تُرک و عجم – محمد فضولی بغدادی کی ایک تُرکی رباعی

ای فیض‌رسانِ عرب و تُرک و عجم
قېلدېن عربی افصحِ اهلِ عالَم
ائتدین فُصَحایِ عجمی عیسیٰ‌دم
بن تُرک‌زبان‌دان التفات ائیله‌مه کم
(محمد فضولی بغدادی)

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
Еy fеyzrəsani-ərəbü türkü əcəm
Qıldın ərəbi əfsəhi-əhli-aləm
Еtdin füsəhayi-əcəmi Isadəm
Bən türkzəbandan iltifat еyləmə kəm

ترجمہ:
اے عرب و تُرک و عجم کو فیض پہنچانے والے [خدا]! تم نے عرب کو افصحِ عالَمِین بنایا؛ تم نے فُصَحائے عجم کو عیسیٰ نَفَس کیا؛ [پس] مجھ تُرک زبان سے [اپنی] اِلتِفات و توجہ کم مت کرنا۔
× تُرک زبان = وہ شخص جس کی زبان تُرکی ہو

× یہ رباعی محمد فضولی بغدادی کی کتاب ‘حدیقۃ السُعَداء’ کے دیباچے سے مأخوذ ہے۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s