باز آشفته‌ام از کاکُلِ عنبربویی – خلیفۂ عثمانی سلطان سلیمان قانونی ‘مُحِبّی’

باز آشفته‌ام از کاکُلِ عنبربویی
بسته شد جان و دلم در گِرهِ ابرویی
از که پُرسم خبرش یا ز که جویم چه کنم
دلِ آواره که گم ساخته‌ام در کویی
آه از این دل که شد آشفتهٔ زلفِ سیه‌ای
داد از این دیده که آموخته شد با رُویی
او به صد لطف درونِ دلِ من جِلوه‌کُنان
منِ دیوانه نظر می‌کنم از هر سویی
خَلق گویند دلِ زارِ مُحِبّی که رُبود
راست گویم که فسون‌هایِ لبِ دل‌جویی
(سلطان سلیمان قانونی ‘مُحِبّی’)

ترجمہ:
میں دوبارہ کسی کاکُلِ عنبر بُو کے باعث آشفتہ ہوں؛ میری جان و دل ایک ابرو کی گِرہ میں بندھ گئے ہیں۔
جو دلِ آوارہ میں نے کسی کوچے میں گُم کر دیا ہے، اُس کی خبر کس سے پوچھوں؟ یا کس سے تلاش کروں؟ کیا کروں؟
آہ یہ دل جو کسی زلفِ سیاہ کا آشفتہ ہو گیا ہے!؛ فریاد اِس چشم سے جو کسی چہرے کی خُو گرفتہ ہو گئی ہے!
وہ بصد لُطف میرے دل کے اندر جلوہ کُناں ہیں؛ [جبکہ] میں دیوانہ ہر جانب سے نگاہ کر رہا ہوں۔
خَلق کہتی ہے کہ ‘مُحِبّی’ کا دلِ زار کس نے چُرایا ہے؟ راست کہتا ہوں کہ ایک لبِ دل جُو کے افسُونوں نے۔

مأخذ: تذکرۂ گلشنِ شعراء، احدی بغدادی (تُرکی)

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s