محمد فضولی بغدادی کی نظر میں غزلِ خوب کی خصوصیات

محمد فضولی بغدادی اپنے ایک تُرکی قطعے میں غزل کے بارے میں فرماتے ہیں:

(قطعه)
اۏلدور غزل که فیضی اۏنون عام اۏلوب مُدام
آرایشِ مجالسِ اهلِ قبول اۏلا
وِردِ زبانِ اهلِ صفا و سُرور اۏلوب
مضمونو ذوق‌بخش و سریعُ‌الحُصول اۏلا
اۏندان نه سُود کیم اۏلا مُبهم عبارتی
هر یئرده اِستِماعین ائدنلر ملول اۏلا
(محمد فضولی بغدادی)

غزل وہ ہے کہ جس کا فیض ہمیشہ عام ہو اور جو مجالسِ اہلِ قبول کی آرائش ہو۔
[جو ہمیشہ] اہلِ صفا و سُرور کا وِرد زباں ہو اور جس کا مضمون ذوق بخش اور سریع الحصول (آسان فہم) ہو۔
اُس [غزل] سے کیا فائدہ کہ جس کی عبارت مُبہم ہو اور ہر جگہ اُس کو سننے والے ملول ہو جائیں؟

Oldur ğəzəl ki, feyzi onun am olub müdam,
Arayişi-məcalisi-əhli-qəbul ola.
Virdi-zəbani-əhli-səfavü sürur olub,
Məzmunu zövqbəxşü səri’ül-hüsul ola.
Ondan nə sud kim, ola mübhəm ibarəti,
Hər yerdə istima’in edənlər məlul ola.

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s