لافت از عشقِ حُسین است و سرت بر گردن است – عُثمانی کُرد شاعر شیخ رضا طالبانی

لافت از عشقِ حُسین است و سرت بر گردن است
عشق‌بازی سر به میدانِ وفا افکندن است
گر هواخواهِ حُسینی، تَرکِ سر کن چون حُسین
شرطِ این میدان به خونِ خویش بازی کردن است
از حریمِ کعبه کم‌تر نیست دشتِ کربلا
صد شرف دارد بر آن وادی که گویند ایمن است
ایمن و ای من فدایِ خاکِ پاکی کاندرو
نورِ چشمِ مُصطفیٰ و مُرتضیٰ را مسکن است
زَهرهٔ زهرا، نِگینِ خاتَمِ خیرُالوریٰ
نُطفهٔ پاکِ جنابِ حیدرِ خیبرکَن است
سُنّی‌ام سُنّی ولیکن حُبِّ آلِ مُصطفیٰ
دین و آیینِ من و آباء و اجدادِ من است
شیعه و سُنّی ندانم، دوستم با هر که او
دوست باشد، دُشمنم آن را که با او دُشمن است
(شیخ رضا طالبانی)

ترجمہ:
تمہیں عشقِ حُسین کا دعویٰ ہے [لیکن] تمہارا سر گردن پر ہے۔۔۔ [حالانکہ] عشق بازی تو میدانِ وفا میں [خود کا] سر گِرانے [کا نام] ہے۔
اگر تم طرف دارِ حُسین ہو تو حُسین کی مانند تَرکِ سر کر دو۔۔۔ اِس میدان کی شرط اپنے خون کے ساتھ بازی کرنا ہے۔
دشتِ کربلا حریمِ کعبہ سے کمتر نہیں ہے۔۔۔ یہ اُس وادی پر صد شرَف و برتری رکھتی ہے جس کو وادیِ ایمَن کہا جاتا ہے۔
وادیِ ایمَن اور مَیں اُس خاکِ پاک پر فدا ہوں کہ جس کے اندر مُصطفیٰ و مُرتضیٰ کے نورِ چشم کا مسکن ہے۔
[حضرتِ حُسین] فاطمہ زَہرا کے جگر، رسولِ خیرُ الوریٰ کی انگُشتری کے نگین اور جنابِ حیدرِ خیبرشِکن کے نُطفۂ پاک ہیں۔
میں سُنّی ہوں، سُنّی۔۔۔ لیکن آلِ مُصطفیٰ کی محبّت میرا اور میرے آباء و اجداد کا دین و کیش ہے۔
میں شیعہ و سُنّی نہیں جانتا۔۔۔ میں ہر اُس شخص کا دوست ہوں جو [حضرتِ حُسین کا] دوست ہے، اور اُس شخص کا دُشمن ہوں جو اُن کا دُشمن ہے۔

× وادیِ ایمَن = اُس مُقدّس وادی کا نام جہاں حضرتِ موسیٰ کو نبوّت عطا ہوئی تھی۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s