ایران میں تُرکان

اردو محفل پر اِن روز ایک دوست ‘ارسلان بای’ کے مُستعاری نام سے آنے لگے ہیں، جن کا تعلق دیارِ آذربائجان کے قلب شہرِ تبریز سے ہے، اور جن کی مادری زبان تُرکی ہے۔ اُنہوں نے ایران میں تُرکوں/تُرکی گویوں کی وضعیت کے بارے میں تُرکی میں یہ مُراسلہ لکھا تھا، جس کو اردو ترجمے کے ساتھ اپنے تارنِگار پر شریک کر رہا ہوں:

"ایران دا یاشایان بیر تورک اولاراق سؤیله‌ییرم، قاجار خانلیغی دؤنمی ایرانین یوزه قیرخی تورک ایدی لکن پهلوی شاهلیغی دؤنمیندن باشلایاراق ایران دا تورکلره قارشی نفرت حسّی تبلیغ اولونوب تورکلری تحقیر ائتمه یاییلدی، بو تحقیر و نفرت اثرینده تورکلرین بیر قسمی اؤز کیملیکلرینی دانیب اؤزلرینه فارس دئدیلر، بونون اوچون تورکلرین جمعیتی آزالدی (آسیمیلاسیون)
بو گون ایران دا یوزه قیرخ جمعیتین آتاسی یا آناسیندان بیری تورک دور لکن اؤزون تورک بیلن اؤزونه تورک دئین تقریب ایله یوزه اوتوز دور، بو گون ایران دا پهلوی دؤنمی کیمی تورکلری تحقیر ائتمه تاسفله دوام ائدیر، خصوصا ایران دا سوسیال دموکرات دوشونجه‌سینه باغلی اولان حزبلر (اصلاح طلبلر) طرفیندن بو تحقیرلر داها گوجلو دور، بونون ندنی ده اونلارین دوشونجه‌لرینین اروپادا کؤکلنمه‌سی دیر، بیلدیگینیز کیمی مسلمان تورک عسگرلرین صلیبی ساواشلاردا اروپالی‌لارا غلبه ائتمه‌سی اروپالی‌لاردا تورکلردن بیر تاریخی نفرت یارالدیب دیر، اصلاح طلب‌لر چوخ آغیر شکل ده «یورو سنتریک» دوشونجه‌لری وار دیر و سیاسی باخیشلارینی اروپا فلسفه‌چی‌لریندن آلیب‌لار، بعلاوه بعضی‌لر تاریخ ده ایرانین (باستانی آنلاییش ایله، ساسانی‌لر، هخامنشی‌لری نظرده آلاراق) گوجلنمه‌سینی دایاندیران عاملی، تورکلر بیلیرلر (بیلدیگینیز کیمی سامانی لر و باشقا دولتلر تورکلر (قاراخانلی‌لار) یوروشو ایله سقوط ائدیبلر)

ایران دا تورکلر یاشایان بؤلگه‌لر: آذربایجان شرقی، آذربایجان غربی، اردبیل، زنجان، همدان (شمال قسمینده)، کردستان (شمال و شرق قسمینده بیجار و قروه)، کرمانشاه (شرق قسمینده سونقور)، خوزستان (شمال قسمینده آغاجاری)، اراک (داغینیق شکلده خلجلر و آذربایجان تورکلری)، قزوین، تهران (تقریب ایله یوزه اوتوز بئش تورک دور)، گیلان (غرب قسمینده آستارا و باشقا یئرلر) مازندران (شرق قسمینده گلوگاه)، گلستان (تورکمنلر، قزل باشلار و آذربایجان دان کؤچن تورکلر)، خراسان شمالی (شمال و مرکز قسمینده)، سمنان (شمال قسمینده آز جمعیت ایله)، کرج (تقریب ایله یوزه قیرخ تورک دور)، اصفهان و فارس و کهگلویه بویر احمد (قشقایی تورکلری داغینیق شکلده)، کرمان (پیچاقچی و افشار ایل‌لری داغینیق شکلده)، قم (خلج تورکلری داغینیق شکلده و آذربایجان دان کؤچن تورکلر)
باشقا بؤلگه‌لرده داها مهاجرت ائدیب یاشایان تورکلر واردیر.”

تُرکی سے ترجمہ:
"ایران میں رہنے والے ایک تُرک کے طور پر کہہ رہا ہوں: قاجاری سلطنت کے دور میں ایران کا چالیس فیصد تُرک تھا، لیکن پہلوی شہنشاہی کے زمانے سے ایران میں تُرکوں کے خلاف احساسِ نفرت کی تبلیغ اور تُرکوں کی تحقیر کی اشاعت کا آغاز ہوا۔ اِس تحقیر و نفرت کے اثر میں تُرکوں کے ایک حصّے نے خود کی شناخت کا اِنکار کر کے خود کو فارس کہا، لہٰذا تُرکوں کی آبادی کم ہو گئی (ضم سازی)
اِس وقت ایران میں چالیس فیصد آبادی کے مادر و پدر میں سے کوئی ایک تُرک ہے، لیکن خود کو تُرک جاننے اور خود کو تُرک کہنے والے تقریباً تیس فیصد ہیں۔ مُتأسفانہ، اِس وقت ایران میں پہلوی دور کی طرح تُرکوں کی تحقیر کُنی جاری ہے۔ خصوصاً ایران میں مُعاشرتی جمہوریت خواہ (سوشل ڈیموکریٹ) فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتوں (اصلاح طلَبوں) کی جانب سے یہ تحقیریں زیادہ شدّت کے ساتھ کی جاتی ہیں، اِس کا سبب یہ ہے کہ اُن کے تفکُّرات یورپ سے مأخوذ ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ صلیبی جنگوں میں مُسلمان تُرک افواج کے یورپیوں پر غلبہ پانے نے یورپیوں میں تُرکوں کی نسبت ایک تاریخی نفرت پیدا کر دی تھی۔ اصلاح طلَبوں میں شدید نوع کے یورپ محور (یورو سینٹرک) تفکُّرات موجود ہیں، اور اُنہوں نے اپنے سیاسی نُقطہ ہائے نظر کو یورپی فلسفیوں سے اخذ کیا ہے۔ علاوہ بریں، بعض افراد تاریخ میں ایران (اگر عہدِ قدیم کے مفہوم کے مطابق ساسانیوں اور ہخامنَشیوں کو مدِ نظر رکھا جائے) کی قوّت یابی کو روکنے کا عامِل تُرکوں کو جانتے ہیں (جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سامانیوں اور دیگر سلطنتوں نے تُرکوں (قاراخانیوں) کے حملے کے باعث سُقوط کیا تھا۔)

ایران میں تُرک نشیں خطّے: مشرقی آذربائجان، مغربی آذربائجان، اردَبیل، زنجان، ہمَدان (شمالی حصّے میں)، کُردستان (شمالی و مشرقی حصّے میں بیجار و قروہ)، کِرمانشاہ (مشرقی حصّے میں سونقوز)، خوزستان (شمالی حصّے میں آغاجاری)، اراک (پراگندہ شکل میں خلَج اور آذربائجانی تُرک)، قزوین، تہران (تقریباً پینتیس فیصد تُرک ہے)، گیلان (مغربی حصّے میں آستارا اور دیگر جگہیں)، مازَندران (مشرقی حصّے میں گلوگاہ)، گُلستان (تُرکمَنان، قِزِلباشان، اور آذربائجان سے کوچ کردہ تُرکان)، شمالی خُراسان (شمالی اور مرکزی حصّے میں)، سمنان (شمالی حصّے میں اقلیت)، کرَج (تقریباً چالیس فیصد تُرک)، اصفہان و فارس و کُہگیلُویہ و بویَر احمد (قشقائی تُرکان پراگندہ شکل میں)، کِرمان (پیچاقچی اور افشار قبائل پراگندہ شکل میں)، قُم (خلَجی تُرکان پراگندہ شکل میں اور آذربائجان سے کوچ کردہ تُرکان)۔
دیگر خِطّوں میں بھی مُہاجرت کر کے زندگی بسر کرنے والے تُرکان موجود ہیں۔”

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s