جواں سالہ پِسر کی وفات پر مرثیہ – فردوسی طوسی

مرا سال بِگْذشت بر شست و پنج
نه نیکو بُوَد گر بِیازم به گنج
مگر بهره برگیرم از پندِ خویش
براندیشم از مرگِ فرزندِ خویش
مرا بود نوبت بِرفت آن جوان
ز دردش منم چون تنی بی‌روان
شِتابم همی تا مگر یابمش
چو یابم به پیغاره بِشْتابمش
که نوبت مرا بود بی کامِ من
چرا رفتی و بُردی آرامِ من
ز بدها تو بودی مرا دست‌گیر
چرا چاره جُستی ز همراهِ پیر
مگر هم‌رهانِ جوان یافتی
که از پیشِ من تیز بِشْتافتی
جوان را چو شد سال بر سی و هفت
نه بر آرزو یافت گیتی، بِرفت
همی بود همواره با من دُرُشت
برآشُفت و یک‌باره بِنْمود پُشت
بِرفت و غم و رنجش ایدر بِمانْد
دل و دیدهٔ من به خون درنِشانْد
کُنون او سویِ روشنایی رسید
پدر را همی جای خواهد گُزید
بر آمد چُنین روزگاری دراز
کزان هم‌رهان کس نگشتند باز
همانا مرا چشم دارد همی
ز دیر آمدن خشم دارد همی
وُرا سال سی بُد، مرا شست و هفت
نپُرسید ازین پیر و تنها بِرفت
وی اندر شِتاب و من اندر دِرنگ
ز کردارها تا چه آید به چنگ
روانِ تو دارنده روشن کُناد
خِرد پیشِ جانِ تو جوشن کُناد
همی خواهم از دادگر کردگار
ز روزی‌دِهِ آشکار و نِهان
که یکسر بِبخشد گناهِ وُرا
درخشان کند تیره‌گاهِ وُرا
(فردوسی طوسی)

ترجمہ:
میری عمر پینسٹھ سال سے زیادہ ہو گئی ہے۔۔۔ اب مناسب نہیں ہے کہ میں خزانے (یعنی دنیاوی چیزوں) کی جانب دست بڑھاؤں۔۔۔ مجھے اپنی نصیحت سے بہرہ اُٹھانا چاہیے اور اپنے فرزند کی موت کے بارے میں تفکُّر کرنا چاہیے۔۔۔ باری میری تھی، لیکن چلا وہ جوان گیا۔۔۔ اُس کے درد سے میں تنِ بے جاں کی طرح [ہو گیا] ہوں۔۔۔۔ میں جلدی کر رہا ہوں تاکہ شاید اُس کو پا سکوں، اور جب پا جاؤں تو فوراً اُس کو سرزنش کروں۔۔۔ کہ باری تو میری تھی، میری خواہش کے بغیر تم کیسے چلے گئے اور میرا آرام لے گئے؟۔۔۔ بدیوں اور اِبتلاؤں میں تم میرے دست گیر و مُعاون تھے، تم نے اِس پِیر (بوڑھے) کی ہمراہی سے کیوں دوری اختیار کی؟۔۔۔ کہیں تمہیں جوان رُفَقاء تو نہیں مل گئے تھے؟ کہ یوں تیزی سے میرے حضور سے چلے گئے؟۔۔۔ جب جوان پینتیس سال کا ہوا تو اُس نے جہان کو اپنی آرزو کے موافق نہ پایا، اور [تَرک کر کے] چلا گیا۔۔۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ تُند خُو و دُرُشت تھا۔۔۔ یکایک اُس نے غضب ناک ہو کر مجھ کو پُشت دکھا دی۔۔۔ وہ چلا گیا اور یہاں غم و رنج رہ گیا۔۔۔ اور اُس نے میرے دل و دیدہ کو خُون میں آغُشتہ کر دیا۔۔۔ اب وہ نُور تک پہنچ گیا ہے۔۔۔ [جہاں] وہ اپنے پدر کے لیے مسکن مُنتخَب کرے گا۔۔۔ اتنا طویل زمانہ گُذر گیا، لیکن اُن ہمراہوں میں سے کوئی واپَس نہ آیا۔۔ یقیناً وہ وہاں میرا مُنتظِر ہے۔۔۔ اور میرے دیر سے آنے پر خشمگین ہے۔۔۔ وہ تیس (سینتیس) سال کا تھا، جبکہ میں پینسٹھ سال کا ہوں۔۔۔ اُس نے اِس پِیر کو نہیں پوچھا، اور تنہا چلا گیا۔۔۔ وہ تیزی میں [ہے]، اور میں دیری میں [ہوں]۔۔۔ [اب دیکھتے ہیں کہ ہمیں اپنے] افعال کا کیا نتیجہ مِلتا ہے۔۔۔ خدا تعالیٰ تمہاری روح کو روشن کرے!۔۔۔ اور عقل کو تمہاری جان کے لیے سِپر بنائے! میں خدائے عادل، اور آشکارا و نِہاں روزی دینے والی ذات سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ اُس کے تمام گُناہوں کو مُعاف کر دے!۔۔۔ اور اُس کے تاریک مقام (قبر) کو درخشاں کرے!

× فردوسی طوسی نے یہ مرثیہ اپنے جواں سالہ پِسر کی وفات پر کہا تھا، اور یہ مرثیہ شاہنامہ میں داستانِ خسرو پرویز کے ضِمن میں مشمول ہے۔ میں نے اِس مرثیے کا وہ متن مُنتَخب کیا ہے جو جلال خالقی مُطلق کی جانب سے تصحیح شدہ شاہنامہ میں ثبت ہے۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s