"میں نے عربی، تُرکی و فارسی میں شاعری کی” – محمد فضولی بغدادی

امیرِ شعرِ تُرکی «محمدِ فُضولی بغدادی» اپنے دیوانِ فارسی کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

"گاهی به اشعار عربی پرداختم و فصحای عرب را به فنون تازی فی‌الجمله محظوظ ساختم. و آن بر من آسان نمود، زیرا زبان مباحثهٔ علمی من بود. و گاهی در میدان ترکی سمند طبیعت دواندم و ظریفان ترک را به لطافت گفتار ترکی تمتّعی رسانیدم. آن نیز چندان تشویشم نداد. چون به سلیقهٔ اصلی من موافق افتاد. و گاهی به رشتهٔ عبارت فارسی گهر کشیدم و از آن شاخسار، میوهٔ کام دل چیدم.”

ترجمہ:
"گاہے میں عربی شعر گوئی میں مشغول ہوا، اور خُلاصۂ کلام یہ کہ میں نے فُصَحائے عرب کو مُختلف فنونِ عربی سے محظوظ کیا۔ اور یہ میرے لیے آسان رہا، کیونکہ [عربی] میرے علمی مباحث کی زبان تھی۔ اور گاہے میں نے میدانِ تُرکی میں اسپِ طبیعت دوڑایا اور ظریفانِ تُرک کو گُفتارِ تُرکی کی لطافت سے مُتَمتّع کیا۔ اُس نے بھی مجھ کو زیادہ پریشانی نہ دی۔ چونکہ [تُرکی شاعری] میرے ذوقِ اصلی کے موافق واقع ہوئی۔ اور گاہے میں نے رِشتۂ عبارتِ فارسی میں گُوہر پِروئے اور اُس شاخسار سے میوۂ مُرادِ دل چُنا۔”

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s