"ہر تُرک کے لیے فارسی اور ہر فارس کے لیے تُرکی جاننا لازم ہے”

ماوراءالنہری مُفکِّر و ادیب «محمود خواجه بهبودی» (وفات: ۱۹۱۹ء) تُرکستان سے جاری ہونے والے مجلّے «آینه» میں ۱۹۱۳ء میں لکھے گئے مقالے «ایککی اېمس، تۉرت تیل لازم» (دو نہیں، چار زبانیں لازم ہیں) میں ایک جا لکھتے ہیں:

"تُرکستان‌نینگ سمرقند و فرغانه ولایت‌لرینده فارسچه سۉیله‌تورگن بیر نېچه شهر و قیشلاق‌لر باردور. بُخارا حکومتی‌نینگ تیلی فارسی‌دور. فارس شاعر و اُدَباسی اثرلری قیامت‌غه‌چه لذّتی کېتمه‌یتورگن خزینهٔ معنوی‌دور که، موندان فایده‌لنماق اوچون آوروپایی‌لر میلیه‌ردلر صرف اېترلر.
بیزغه سعادت‌دور که، تورکی و فارسی‌نی تحصیل‌سیز بیلورمیز. هر تورک‌نی فارسی و هر فارس‌نی تورکی بیلماغی لازم‌دور.
فارسی بیلگن کیشی فردوسی، بېدل، سعدی، «مثنوی»دن قنده‌ی لذّت آلسا، تورکی بیلگن‌لر فضولی، نوایی، باقی، سامی، عبدالحق حامد، اکرم‌بېک، سنایی، نابی، ناجی‌لردن، ینه تالستۉی، جول ورن و عُلَمایِ زمانی اثرینی تورکی ترجمه‌سی‌دن لذّت شونده‌ی آله‌دور.”

ترجمہ:
"تُرکستان کی سمرقند و فرغانہ ولایتوں میں فارسی بولنے والے کئی ایک شہر اور قریے موجود ہیں۔ حکومتِ بُخارا کی زبان فارسی ہے۔ فارسی شاعروں اور ادیبوں کی تألیفات ایسا خزینۂ معنوی (روحانی) ہیں کہ جس کی لذت قیامت تک نہ جائے گی، اور جس سے فائدہ یاب ہونے کے لیے اہلِ یورپ اربوں خرچ کرتے ہیں۔
ہمارے لیے سعادت ہے کہ ہم تُرکی و فارسی کو تحصیلِ علم کے بغیر ہی جانتے ہیں۔ ہر تُرک کے لیے فارسی اور ہر فارس کے لیے تُرکی جاننا لازم ہے۔
فارسی جاننے والا شخص جس طرح فردوسی، بیدل، سعدی، مثنویِ معنوی سے لذّت لیتا ہے، تُرکی جاننے والے اشخاص [بھی] اُسی طرح فضولی، نوائی، باقی، سامی، عبدالحق حامد، اکرم بیگ، سنائی، نابی، ناجی وغیرہ سے، نیز تالستوی، جُول وَرْن، اور عُلمائے عصر کی تألیفات کے تُرکی ترجمے سے لذّت لیتے ہیں۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Turkistonning Samarqand va Farg’ona viloyatlarinda forscha so’ylayturgan bir necha shahar va qishloqlar bordur. Buxoro hukumatining tili forsiydur. Fors shoiru udabosi asarlari qiyomatg’acha lazzati ketmayturgan xazinai ma’naviydurki, mundan foydalanmoq uchun ovrupoyilar milyardlar sarf etarlar.
Bizg’a saodatdurki, turkiy va forsiyni tahsilsiz bilurmiz. Har turkni forsiy va har forsni turkiy bilmog’i lozimdur.
Forsiy bilgan kishi Firdavsiy, Bedil, Sa’diy, «Masnaviy»dan qanday lazzat olsa, turkiy bilganlar Fuzuliy, Navoiy, Boqiy, Somiy, Abdulhaq Homid, Akrambek, Sanoyi, Nobiy, Nojiylardan, yana Tolsto’y, Jul Vern va ulamoi zamoniy asarini turkiy tarjimasidan lazzat shunday oladur.

Advertisements

2 تبصرے on “"ہر تُرک کے لیے فارسی اور ہر فارس کے لیے تُرکی جاننا لازم ہے””

  1. eskandarj نے کہا:

    "دو نہیں، چار زبانیں لازم ہیں” – ترکی اور فارسی کے علاوہ دوسری زبانیں کیا ہیں؟ بےشک ان میں سے ایک تو عربی ہوگی. اور کیا، روسی؟ انگریزی؟

    پسند کریں


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s