مرزا غالب اپنے دادا کی زبان تُرکی نہیں جانتے تھے

میرزا غالب اپنی کتاب «دِرَفشِ کاویانی» میں فرہنگِ «بُرہانِ قاطع» کے مؤلّف محمد حُسین بن خلَف تبریزی پر تنقید کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں:

"…در عهد سلطنت شاه عالَم نیای من از سمرقند به هندوستان آمد. آنانکه خان خُجسته‌گُهر را دیده‌اند می‌گفتند که همه گفتار خان تُرکی بود و هندی نمی‌دانست مگر اندکی. اینک منم که حرف تهجی تُرکی نیز نمی‌دانم، تا به سُخن گفتن چه رسد. من که، پدر پدر من از مرزبان‌زادگان کِشوَر ماوراءالنهر و از نازپروَردگان سمرقند شهر باشد، تُرکی ندانم. و مولوی دکنی که مولد پدر یا نیای او به تبریز باشد و او در هند متولّد گردد زبان فارسی چگونه تواند دانست؟”

"۔۔۔شاہ عالَم کی سلطنت کے عہد میں میرے دادا سمرقند سے ہندوستان آئے۔ جو اشخاص خانِ خُجستہ نژاد کو دیکھ چکے ہیں کہتے تھے کہ خان کی کُل گُفتار تُرکی تھی اور وہ ہندی نہیں جانتے تھے اِلّا ذرا سی۔ اور اب میں ہوں کہ حَرفِ تہجّیِ تُرکی بھی نہیں جانتا، چہ جائیکہ تُرکی بول سکوں۔ میں کہ، میرے داد مُلکِ ماوراءالنہر کے سرحدبان زادوں میں سے اور شہرِ سمرقند کے ناز پروَردگاں میں سے تھے، تُرکی نہیں جانتا۔ تو پھر مولوی دکَنی، کہ جس کے پدر یا دادا کا مَولِد تبریز ہے اور خود وہ ہند میں مُتولّد ہوا ہے، زبانِ فارسی کیسے جان سکتا ہے؟”

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s