سلطان عبدالحمید ثانی عُثمانی کی طرف سے فارسی کو «شیریں ترین زبان» کہا جانا

سلطنتِ عُثمانیہ میں سفیرِ ایران «مُحسن خان مُعِین المُلک» ذی الحجّہ ۱۲۹۳ھ (۱۸۷۶-۷۷ء) میں وزارت اُمورِ خارجہ کو لکھتے ہیں:

"عید قربان به ملاقات سلطان رفتم، و از بسته شدن روزنامهٔ اختر اظهار تکدُّر فرموده، گفتند: حیف است در اسلامبول به زبان فارسی که اساس زبان ترکی است و اعذب السِنه است روزنامه‌ای نباشد. و خیلی اظهار تمایُل به انتشار روزنامهٔ فارسی نمودند.”

ترجمہ:
"بہ روزِ عیدِ قُرباں میں سُلطان [عبدالحمید ثانی] سے مُلاقات کو گیا، اور اُنہوں نے روزنامۂ اختر کے بند ہونے پر اظہارِ رنج فرماتے ہوئے کہا: حیف ہے اگر اسلامبول (استانبول) میں زبانِ فارسی میں – کہ جو زبانِ تُرکی کی اساس اور شیریں ترین زبان ہے – کوئی روزنامہ نہ ہو۔ اور اُنہوں نے فارسی روزنامے کے نشر کی جانب فراواں رغبت ظاہر کی۔”

مأخذ: یادبودهایِ سفارتِ استانبول، سید احمد خان ملِک ساسانی، ۱۹۶۶ء

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s