الیندن روزگاروڭ آه و فریاد – بورسالې هجری

الیندن روزگاروڭ آه و فریاد
که یادې بیلیش ائیله‌ر بیلیشی یاد
قول اۏلدې تۏغرولوق‌لا قامتۆڭه
باش اوروپ آیاغوڭا سرْوِ آزاد
یاقوپ کُلّی وجودوم نارِ عشقوڭ
تنۆم خاکسترې‌نې قېلدې برباد
گرفتاروڭ‌دورور دل خۏش‌دل اۏل سن
چۆ شاد اۏلور توتولسا مُرغ صیّاد
فراق و حسرت ایله هِجری اؤلسۆن
بنۆم روحوم صفاییله سن اۏل شاد
(بورسالې هِجری)

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیل

[گردشِ] زمانہ کے باعث آہ و فریاد! کہ وہ اجنبی کو آشنا اور آشنا کو اجنبی کر دیتی ہے۔
سرْوِ آزاد تمہارے پاؤں پر سر مار کر بہ راستی [و بہ صِدق] تمہاری قامت کا غُلام ہو گیا۔
تمہارے عشق کی آتش نے میرے کُل وُجود کو جلا کر میرے تن کی خاکِستر کو ہوا میں اُڑا دیا۔ (خاکِستَر = راکھ)
دل تمہارا گِرِفتار ہے، تم خوش دل ہو جاؤ۔۔۔ کیونکہ اگر پرندہ پکڑا جائے تو صیّاد شادمان ہو جاتا ہے۔
‘ہِجری’ فراق و حسرت کے ساتھ مر جائے! [کوئی مسئلہ نہیں]۔۔۔۔ اے میری رُوح! تم نِشاط و راحت کے ساتھ شاد ہو جاؤ! [اہم تر چیز یہ ہے۔] (یعنی شاعر معشوق کو اپنی رُوح پُکارتے یہ کہہ رہا ہے کہ میں زندہ رہوں یا فراق و حسرت کے ساتھ مر جاؤں، مجھے کوئی فِکر نہیں، لیکن تم شاداں و باراحت رہو! میرے نزدیک تمہارا شاد ہو جانا اہم تر ہے۔)

elinden rûzgâruñ âh u feryâd
ki yâdı biliş eyler bilişi yâd
kul oldı togrulukla kâmetüñe
baş urup ayaguña serv-i âzâd
yakup küllî vücûdum nâr-ı ‘ışkuñ
tenüm hâkisterini kıldı berbâd
giriftâruñ-durur dil hoş-dil ol sen
çü şâd olur tutulsa murg sayyâd
firâk u hasret ile hicrî ölsün
benüm rûhum safâyile sen ol şâd
(Bursalı Hicrî)

× «ڭ» گافِ غُنّہ، یعنی «نگ» کی آواز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
× «بورسالې» کا معنی یہ ہے کہ شاعر کا تعلق شہرِ «بورسا» سے تھا۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s