تُرکی و فارسی زبانوں کی باہم درآمیختگی

اُستاد دُکتُر قدیر گُلکاریان اپنے مقالے «تاریخِ تکامُلِ ادبیاتِ تُرکیِ آذربایجان و تُرکیه در همگَنی با ادبیاتِ فارسی در قرنِ شانزدهُم و اوایلِ قرنِ هفدهُمِ میلادی» میں ایک جا تُرکی و فارسی زبانو‌ں کے درمیان باہمی قُربت کے بارے میں بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"چه بخواهیم، چه نخواهیم، این دو زبان چنان به هم در آمیخته و با هم به صورت موازی مسیر تکاملی خود را می‌پیمایند که انکار آن و حرکت علیه این همگَنی، نوعی دشمنی با واقعیت و در عین حال فریب دادن خود با پندارهای متعصبانه است.”

"خواہ ہم چاہیں، خواہ نہ چاہیں، یہ دو زبانیں (تُرکی و فارسی) اِس طرح باہم درآمیختہ ہو گئی ہیں اور اِس طرح باہم مُتوازی طور پر اپنی راہِ ارتقا طے کر رہی ہیں کہ اِس کا انکار اور اِس ہم نوعیت کے خلاف حرَکت، ایک طرح سے حقیقت کے ساتھ دُشمنی، اور ساتھ ہی خود کو مُتعصّبانہ گُمانوں کے ساتھ فریب دینا ہے۔”

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s