آن کس که حُسن داد تُرا و وفا نداد – سلطان سلیم خان اول عثمانی

آن کس که حُسن داد تُرا و وفا نداد
اندوه و درد داد مرا و دوا نداد
بدروز گر شدم چه شکایت کنم ز بخت
روزِ خوشی مرا چه کنم چون خدا نداد
شب‌ها ز هجر مُردم و بادِ سحرگهی
یک‌ره به دیده مُژدهٔ آن خاکِ پا نداد
تا قصدِ صد هزار دلِ مُبتلا نکرد
یک دل‌ربا شکست به زُلفِ دوتا نداد
آن کس که داد این همه خوبی به گُل‌رُخان
بُویِ وفا و مِهر ندانم چرا نداد
جان و دلش به وصلِ دل‌آرام کَی رسد
شخصی که بوسه بر دمِ تیغِ بلا نداد
بر هر دِلی که غیرتِ عشقِ سلیم تافت
پیغام سویِ دوست به بادِ صبا نداد
(سلطان سلیم خان اول)

جس ذات نے تم کو حُسن دیا، اور وفا نہ دی۔۔۔ اُس نے مجھ کو غم و درد دیا، اور دوا نہ دی۔
اگرچہ میں بدبخت و بدحال ہو گیا، میں بخت کے باعث کیا شکایت کروں؟۔۔۔ میں کیا کروں جب خدا نے مجھ کو کوئی روزِ خوش و خوب نہ دیا۔
میں شبوں کو ہجر سے مر گیا [لیکن] بادِ سحَرگاہی نے ایک بار [بھی میری] چشم کو اُس خاکِ پا کی خوش خبری نہ دی۔
جب تک اُس نے صد ہزار دلِ مُبتلا کا قصد نہ کیا، کسی دل رُبا نے [اپنی] زُلفِ خمیدہ کو شِکن نہ دی۔ (یعنی دلربا صد ہزار دلِ مُبتلا کو ہتھیانے اور چُرانے کے لیے ہی اپنی زُلف کو شِکن دیتے ہیں۔)
جس ذات نے گُل رُخوں کو اِتنی زیادہ خوبی دی ہے، میں نہیں جانتا کہ اُس نے [اُن کو] بُوئے وفا و محبّت کیوں نہ دی۔ (بُوئے وفا و محبّت سے «وفا و محبّت کی ذرا سی فِطرت» مُراد ہے۔)
جس شخص نے تیغِ بلا کی دھار پر بوسہ نہ دیا، اُس کی جان و دل [اپنے محبوبِ] دل آرام کے وصل تک کب پہنچے گا؟
جس بھی دل پر ‘سلیم’ کے عشق کے رشک نے آتش لگائی، اُس نے دوست کی جانب پیغام بادِ صبا کو نہ دیا۔ (یعنی ‘سلیم’ کے حاسدوں نے اُس کا پیغام بادِ صبا کے ذریعے دوست تک نہ پہنچایا۔)

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s