شهِ ممالکِ دردم بلا پناهِ من است – سلطان سلیم خان اول عثمانی

شهِ ممالکِ دردم بلا پناهِ من است
غمی که بی حد و پایان بُوَد سپاهِ من است
شبم ز رَوزن اگر ماهِ آسمان آید
جهَم ز جای تصوُّر کنم که ماهِ من است
به راهِ عشقِ تو جانا بسی بلا دیدم
هنوز تا ز فراقت چه‌ها به راهِ من است
دم از محبّتِ زُلفت زدم خطایی شد
ولیک عَفْوِ تو افزون‌تر از گُناهِ من است
ز دُودِ دل ورَقی نقش کرده‌ام سویت
قبول ساز که سرنامهٔ سیاهِ من است
سلیم بر سرِ کُویت به خاک یکسان شد
روا بُوَد که بِگویی که خاکِ راهِ من است
(سلطان سلیم خان اول)

میں ممالکِ درد کا شاہ ہوں، بلا میری پناہ ہے۔۔۔ جو غم بے حد و بے پایاں ہے، میری سِپاہ ہے۔
شب کے وقت میرے روشن دان [میں] سے اگر ماہِ آسمان آئے (یعنی اگر ماہِ آسمان نظر آئے) تو میں جگہ سے اُچھل پڑتا ہوں اور تصوُّر کرتا ہوں کہ میرا ماہ (یعنی میرا محبوب) ہے۔
اے جان! میں نے تمہارے عشق کی راہ میں کئی بلائیں دیکھیں۔۔۔ [اب دیکھتے ہیں کہ] تمہارے فراق کے باعث میری راہ میں ہنوز کیا کیا [بلائیں باقی] ہے؟
میں نے تمہاری زُلف کی محبّت کا دعویٰ کیا، [مجھ سے] اِک خطا ہو گئی۔۔۔ لیکن تمہاری مُعافی میرے گُناہ سے [کئی] زیادہ ہے۔
میں نے [اپنے] دل کے دُھوئیں سے ایک ورَق تمہاری جانب نقش کر [کے بھیجا] ہے۔۔۔ قبول کرو کہ وہ میرا سیاہ سرنامہ ہے۔ (سرنامہ = عُنوانِ نامہ)
‘سلیم’ تمہارے سرِ کُوچہ میں خاک کے ساتھ یکساں ہو گیا۔۔۔ روا ہے کہ تم کہو کہ "یہ میری خاکِ راہ ہے”۔

Advertisements


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s