حافظ شیرازی کی ستائش میں آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ کے اقوال

(لقب)
شاعر – محمد شمس‌الدین، به من بگو: چرا ملت بزرگ و نامی تو ترا حافظ لقب داده‌است؟
حافظ – پرسشت را پاس می‌دارم و بدان پاسخ می‌گویم: مرا حافظ نامیدند، زیرا قرآن مقدس را از بر داشتم، و چنان پرهیزکارانه آیین پیمبر را پیروی کردم که غم‌های جهان و زشتی‌های روزانهٔ آن در من و آنانکه چون من روح و معنی کلام پیمبر را دریافته‌اند اثر نکرد.
(لقب)
شاعر: محمد شمس الدین، مجھ سے کہو: تمہاری بزرگ و نامور ملّت نے کس لیے تمہیں حافظ لقب دیا ہے؟
حافظ: میں تمہارے سوال کا احترام کرتا ہوں اور اُس کا جواب دے رہا ہوں: مجھے اُنہوں نے حافظ کا نام دیا کیونکہ میرے سینے میں قرآنِ مقدّس محفوظ تھا اور میں نے طریقِ پیمبر کی اِس طرح پرہیزکارانہ پیروی کی کہ دنیا کے غموں اور اُس کی روزانہ کی بدصورتیوں نے مجھ میں، اور اُن افراد میں کہ جو میری طرح کلامِ پیمبر کی روح و معنی کو فہم کر چکے ہیں، اثر نہ کیا۔

معروف آلمانی شاعر ‘گوتِه’ اپنے دفترِ خاطرات میں حافظ شیرازی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"دارم دیوانه می‌شوم. اگر برای تسکین هیجان خود دست به غزل‌سرایی نزنم، نفوذ عجیب این شخصیت خارق‌العاده را که ناگهان پا در زندگانی من نهاده تحمل نمی‌توانم کرد.”
"میں دیوانہ ہوتا جا رہا ہوں۔ اگر میں اپنے ہیجان کی تسکین کے لیے غزل سرائی کا اِقدام نہ کروں، تو ناگہانی طور پر میری زندگی میں قدم رکھنے والی اِس خارقِ عادت شخصیت [یعنی حافظ شیرازی] کے تعجب انگیز نفوذ کو میں تحمّل نہیں کر پاؤں گا۔”

"اگر هم دنیا به سر آید، آرزو دارم که تنها، ای حافظ آسمانی، با تو و در کنار تو باشم و چون برادر توأم در شادی و غمت شرکت کنم. همراه تو باده نوشم و چون تو عشق ورزم، زیرا این افتخار زندگی من و مایهٔ حیات من است.”
"اے حافظِ ملکوتی! خواہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے، میری آرزو ہے کہ میں صرف تمہارے ساتھ اور تمہارے پہلو میں رہوں اور تمہارے برادرِ توأم کی طرح تمہاری شادی و غم میں شرکت کروں۔ تمہارے ہمراہ بادہ نوش کروں اور تمہاری طرح عشق کروں، کیونکہ یہ میری زندگی کا افتخار اور میری حیات کی اساس ہے۔
× توأم = دوقلو، جڑواں

معروف آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ ایک جا حافظ شیرازی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"ناگهان با عطر آسمانی شرق و نسیم روح‌پرور ابدیت که از دشت‌ها و بیابان‌های ایران می‌وزید آشنا شدم و مرد خارق‌العاده‌ای را شناختم که شخصیت عجیبش مرا سراپا مجذوب خویش کرد.”
"میں ناگہاں مشرق کے آسمانی عطر اور ابدیت کی نسیمِ روح پروَر سے، جو ایران کے دشتوں اور بیابانوں سے آ رہی تھی، آشنا ہوا اور ایک فوق العادت شخص [حافظ شیرازی] سے واقف ہوا کہ جس کی حیرت انگیز شخصیت نے مجھ کو سراپا اپنا مجذوب کر لیا۔”

معروف آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ ایک جا اپنے شعری مجموعے ‘دیوان’ کے بارے میں لکھتے ہیں:
"به ساختن جام جمی مشغولم که با آن علیٰ رغم زاهدان ریایی دنیای ابدیت را عیان خواهم دید و ره بدان بهشت جاودان که خاص شاعران غزل‌سراست خواهم بُرد تا در آنجا در کنار حافظ شیراز مسکن گزینم.”
"میں ایک [ایسا] جامِ جم بنانے میں مشغول ہوں کہ جس کے ذریعے میں، زاہدانِ ریائی کی خواہش کے برخلاف، دنیائے ابدیت کو عیاں دیکھوں گا، اور اُس بہشتِ جاوداں کی جانب راہ پیدا کروں گا جو شاعرانِ غزل سرا سے مخصوص ہے، تاکہ وہاں حافظِ شیرازی کے پہلو میں مسکن اختیار کر سکوں۔”

"ای حافظ! درین سفرِ دور و دراز، در کوره‌راهِ پُرنیشب و فراز، همه جا نغمه‌هایِ آسمانی تو رفیقِ راه و تسلّی‌بخشِ دلِ ماست؛ مگر نه راه‌نمایِ ما هر شام‌گاهان با صدایی دل‌کش بیتی چند از غزل‌هایِ شورانگیزِ تو می‌خواند تا اخترانِ آسمان را بیدار کند و ره‌زنانِ کوه و دشت را بترساند؟”
"اے حافظ! اِس دور و دراز سفر میں، [اور اِس] پُرنشیب و فراز و پُرپیچ و خم راہ میں ہر جا تمہارے آسمانی نغمے ہمارے رفیقِ راہ ہیں اور ہمارے دل کو تسلّی بخشتے ہیں؛ آیا کیا ہمارا راہنما ہر شام کے وقت دلکش صدا کے ساتھ تمہاری ہیجان انگیز غزلوں سے چند ابیات کی قرائت نہیں کرتا تاکہ آسمان کے ستاروں کو بیدار کرے اور کوہ و دشت کے رہزنوں کو خوف زدہ کرے؟”

"ای حافظ مقدس! آرزو دارم که همه جا، در سفر و حضر، در گرمابه و میخانه با تو باشم، و در آن هنگام که دلدار نقاب از رخ برمی‌کشد و با عطر گیسوان پرشکنش مشام جان را معطر می‌کند تنها به تو اندیشم تا در وصف جمال دل‌فریبش از سخنت الهام گیرم و ازین وصف حوریان بهشت را به رشک افکنم!”
"اے حافظِ مقدّس! میری آرزو ہے کہ ہر جگہ، سفر و حضَر میں، [یا] حمّام و میخانہ میں، مَیں تمہارے ساتھ رہوں، اور جس وقت کہ دلدار چہرے سے نقاب اُتارے گا اور اپنے پُرشِکن گیسوؤں کے عطر سے مشامِ جاں کو معطّر کرے گا، میں فقط تمہارے بارے میں سوچوں تاکہ اُس کے جمالِ دل فریب کی توصیف میں تمہارے سُخن سے اِلہام لوں اور اِس توصیف سے حوریانِ بہشت کو رشک میں ڈال دوں!”

"ای حافظ، همچنانکه جرقّه‌ای برای آتش زدن و سوختن شهر امپراتوران کافی‌ست، از گفتهٔ شورانگیز تو چنان آتشی بر دلم نشسته که سراپای این شاعر آلمانی را در تب و تاب افکنده‌است.”
"اے حافظ! جس طرح کہ شہنشاہوں کے شہر کو آتش لگانے اور جلانے کے لیے ایک شرارہ کافی ہے، [اُسی طرح] تمہارے ہیجان انگیز سُخنوں سے میرے دل میں اِس طرح ایک آتش بیٹھ گئی ہے کہ اُس نے اِس آلمانی شاعر کے کُل سراپا کو تب و تاب و سوز و گُداز میں ڈال دیا ہے۔”

"ای حافظ، سخن تو همچون ابدیت بزرگ است، زیرا آن را آغاز و انجامی نیست. کلام تو چون گبند آسمان تنها به خود وابسته است و میان نیمهٔ غزل تو با مطلع و مقطعش فرقی نمی‌توان گذاشت، چه همهٔ آن در حد جمال و کمال است.”
"اے حافظ! تمہارا سُخن عظیم ابدیت کی مانند ہے، کیونکہ اُس کا کوئی آغاز و انجام نہیں ہے۔ تمہارا کلام گُبندِ آسمان کی طرح فقط اپنے آپ کا تابع ہے، اور تمہاری غزل کے نصف اور اُس کے مطلع و مقطع کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ [غزل] تمام کی تمام ہی جمال و کمال کی انتہا میں ہے۔”

"حافظا، دلم می‌خواهد از شیوهٔ غزل‌سرایی تو تقلید کنم. چون تو قافیه پردازم و غزل خویش را به ریزه‌کاری‌های گفتهٔ تو بیارایم. نخست به معنی اندیشم و آن‌گاه بدان لباس الفاظ زیبا پوشم. هیچ کلامی را دو بار در قافیه نیاورم مگر آنکه با ظاهری یکسان معنایی جدا داشته باشد. دلم می‌خواهد همهٔ این دستورها را به کار بندم تا شعری چون تو، ای شاعر شاعران جهان، سروده باشم!”
"اے حافظ! میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری طرزِ غزل سرائی کی تقلید کروں۔ تمہاری طرح قافیہ پردازی کروں اور اپنی غزل کو تمہارے سُخن کی ریزہ کاریوں و باریکیوں سے آراستہ کروں۔ اوّلاً معنی کے لیے تفکُّر کروں اور پھر اُس کو الفاظِ زیبا کا لباس پہناؤں۔ کسی بھی لفظ کو دو بار قافیے میں نہ لاؤں، اِلّا یہ کہ وہ ظاہری لحاظ سے یکساں ہونے کے باوجود ایک جدا معنی رکھتا ہو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اِن تمام قواعد کو بروئے کار لاؤں تاکہ، اے شاعرِ شاعرانِ جہاں، میں تمہاری جیسی کوئی شاعری کر سکوں!”

کتاب: دیوانِ غربی-شرقی
نویسنده: یوهان ولفگانگ فون گوته/Johann Wolfgang von Goethe
سالِ اشاعتِ اول: ۱۸۱۹ء
مترجم: شجاع‌الدین شفا
سالِ اشاعتِ اولِ ترجمه: ۱۹۴۹ء

Advertisements

محمود بن حسین بن محمد کاشغری کے بقول تُرکی سیکھنے کا ایک دینی سبب

قرنِ یازدہُمِ عیسوی کے ادیب محمود بن حُسین بن محمد کاشغری نے ۴۶۶ ہجری میں عربی زبان میں ‘دیوان لغات الترک’ کے نام سے ایک پُرحجم کتاب لکھی تھی، جو بنیادی طور پر اُس زمانے کی تُرکی (جس کو اب قاراخانی تُرکی کے نام سے جانا جاتا ہے) کی فرہنگ تھی اور اِس کتاب کو لکھنے سے اُن کا مقصود بغداد کے عبّاسی خُلَفاء اور عربی خواں مسلم علمی حلقوں کو تُرکی زبان و لہجوں و محاورات و اشعار و ثقافت و رسومات سے آگاہ کرنا تھا۔ یہ کتاب پس از اسلام دور میں کسی تُرک کی جانب سے لکھی جانے والی اوّلین کتاب ہے۔ علاوہ بریں، پس اسلامی دور میں تُرکی زبان کے گُفتاری و نیم ادبی نمونے سب سے قبل اِسی کتاب میں ثبت ہوئے ہیں، لہٰذا ماہرینِ تُرک شناسی و زبان شناسی کے لیے یہ کتاب ایک معدنِ زر سے کم نہیں ہے، اور دیر زمانے سے یہ کتاب اُن کی تحقیقوں کا محور ہے۔ یہ کتاب اُس دور سے تعلق رکھتی ہے کہ جب حالیہ اُزبکستان، تُرکمنستان، آذربائجان اور تُرکیہ میں ہنوز تُرک قبائل کے جوق در جوق کُوچ اور کِشوَر کُشائی کا آغاز نہ ہوا تھا۔

بہر حال، محمود کاشغری اپنی کتاب کے پیش گُفتار میں حمد و ثنا و صلوات اور تُرکوں کی سِتائش کے بعد لکھتے ہیں:

"ولقد سمعت عن ثقة من أئمة بخارا وإمام آخر من اهل نیسابور کلاهما رویا باسناد لهما عن رسول الله صلی الله عليه وسلم أنه لما ذکر أشراط الساعة وفتن آخر الزمان وخروج الترك الغُزّيّة فقال «تعلموا لسان الترك فأنَّ لهم ملكا طوالا» فالرواية برفع الطاء. فلئن صحَّ هذا الحديث والعهدة عليهما فيكون تعلمه واجباً ولئن لم يصح فالعقل يقتضيه.”

"سوگند یاد می‌کنم که من از یکی از امامان ثقه‌ی بخارا و نیز از یکی از امامان اهل نیشابور شنیدم، و هر دو با سلسله‌ی سند روایت کنند که پیامبر ما چون نشانه‌های رستاخیز و فتنه‌های آخرالزمان و نیز خروج ترکان اوغوز را بیان داشت، چنین فرمود: «زبان ترکی را بیاموزید، زیرا که آنان را فرمانروایی دراز آهنگ در پیش است».
اگر این حدیث صحیح باشد – بر عهده‌ی آن راویان – پس آموختن زبان ترکی کاری بس واجب است و اگر هم درست نباشد، خرد اقتضاء می‌کند که [مردم] فراگیرند.”
(فارسی ترجمہ: حُسین محمدزاده صدیق)

"یقیناً میں نے بُخارا کے ایک ثقہ امام سے، اور اہلِ نیشابور کے ایک امام سے سنا ہے، اور دونوں سلسلۂ سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیه وسلم جب قیامت کی نشانیوں، آخرِ زماں کے فتنوں اور اوغوز تُرکوں کے خروج کو بیان کر رہے تھے تو اُنہوں نے یہ فرمایا: "تُرکوں کی زبان سیکھو، کیونکہ اُن کی فرماں روائی طویل ہو گی۔”
اگر یہ حدیث صحیح ہو – اور اِس کا ذمّہ اُن راویوں پر ہے – تو پس زبانِ تُرکی کو سیکھنا ایک کارِ واجب ہے، اور اگر درست نہ ہو تب بھی عقل تقاضا کرتی ہے کہ مردُم اِس کو سیکھیں۔”

(یاد دہانی: اِس مُراسلے کو ارسال کرنے کا مقصد اِس حدیث کی صحت و سقم پر یا اِس اقتباس کی دینی اَبعاد پر بحث کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس کو صرف اِس لیے ارسال کیا گیا ہے کیونکہ کتاب کے مطالعے کے دوران مجھ کو یہ سطور جالبِ توجُّہ محسوس ہوئیں، اور میرے دل میں آیا کہ اِن کو دیگروں کی نظروں میں بھی لانا چاہیے۔ اِسی بہانے محمود کاشغری اور اُن کی بِسیار اہم کتاب کا مختصر تعارف بھی ہو جائے گا۔)


"مجھے سب سے زیادہ مستفید و مسحور فارسی شاعری نے کیا ہے” – عُثمانی شاعر رضا توفیق

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف نے ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں ایک جا عُثمانی شاعر رضا توفیق (وفات: ۱۹۴۹ء) کا یہ قول نقل کیا ہے:

"شرق و غربېن بیر قاچ مُهِم لسانېنې بیلیریم. فرانسېز، اینگیلیز، ایسپانیۏل، عرب، عجم، تۆرک لسان‌لارېنېن انافسِ آثارېنې اصل‌لارېندان، دیگر لسان‌لارېن‌کی‌نی ترجمه‌لریندن اۏقودوم. بنی ان زیاده مستفید و مسحور ائدن عجم اشعارې‌دېر. بونداکی حالتی دیگر لسان‌لارېن هیچ بیرینده بولمادېم. انسانیتِ قدیمه حکمتی یونانا، شعری ایرانا وئرمیش ایدی. عصرلار اشعارِ عجمی هیچ بیر زمان اسکیته‌مه‌یه‌جک‌دیر. اگر بن هجه وزنینده موفّقیت گؤسته‌ره‌بیلیرسم، بونو عجمین فیض و آهنگینه مدیونوم.”

ترجمہ:
"میں شرق و غرب کی کئی ایک اہم زبانوں کو جانتا ہوں۔ فرانسیسی، انگلیسی، ہسپانوی، عربی، فارسی، تُرکی زبانوں کے نفیس ترین آثار کا اصل زبانوں میں، جبکہ دیگر زبانوں کی تألیفات کا اُن کے ترجموں کے توسُّط سے مطالعہ کر چکا ہوں۔ مجھے سب سے زیادہ مستفید و مسحور فارسی شاعری نے کیا ہے۔ اُس میں جو کیفیت ہے وہ میں نے کسی بھی دیگر زبان میں نہ پائی۔ انسانیتِ قدیمہ نے حکمت یونان کو، جب کہ شاعری ایران کو دی تھی۔ زمانوں کی گردش فارسی شاعری کو کسی بھی وقت قدیم و فرسودہ نہیں کر سکے گی۔ اگر میں ہِجائی وزن [کی شاعری] میں کامیابی دکھا پایا ہوں تو اِس کے لیے میں عجم (فارسی) کے فیض و آہنگ کا مدیون ہوں۔”

× عُثمانی سلطنت میں ایران کو ‘عجم’ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

لاطینی رسم الخط میں:
Şark ve garbın bir kaç mühim lisanını bilirim. Fransız, İngiliz, İspanyol, Arap, Acem, Türk lisanlarının enâfis-i âsârını asıllarından, diğer lisanlarınkini tercümelerinden okudum. Beni en ziyade müstefîd ve meshûr eden Acem eş’ârıdır. Bundaki hâleti diğer lisanların hiç birinde bulmadım. İnsâniyet-i kadîme hikmeti Yunan’a, şiiri İran’a vermiş idi. Asırlar eş’âr-ı Acem’i hiç bir zaman eskitemeyecektir. Eğer ben hece vezninde muvaffakiyet gösterebilirsem, bunu Acem’in feyz ve âhengine medyûnum.


ہماری مملکت میں زبانِ فارسی کا شیوع – عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں لکھتے ہیں:

"ایران لسان و اشعارې‌نېن مملکتیمیزده شیوعونا ایکینجی سبب ده مدرسه‌لر، تکه‌لر و بالخاصّه مولوی خانقاه‌لارې‌دېر. جلال‌الدینِ رومی حضرت‌لری‌نین مثنوی‌سی بو خصوص‌ده بیرینجی‌لیڲی احراز ائدر، مع مافیه مثنویِ شریف تکایا و خواص آراسېندا قالېپ فریدالدین عطارین پندنامه‌سییله سعدی‌نین گلستان و بۏستانې و حافظېن دیوانې داها زیاده شایع اۏلدو. چۆنکۆ بونلارېن لسانې داها دۆزگۆن و ظریف‌دیر. مثنویِ مولانایې، تکه‌لر، پندنامه ایله گلستان و بۏستانې و اشعارِ حافظې ان زیاده مدرسه‌لر و مکتب‌لر نشر و تعمیم ائتدی. بو کتاب‌لارېن هپسینه متعدد و مفصل شرح‌لر یازېلمېشدېر و بو خصوص‌ده اۏ قدر تبذیرِ اقدام ائدیلمیشدیر که مثلا شارح قونوی همّتییله ابیاتِ حافظ‌دان استنباط ائدیلن معانیِ متصوّفانه‌نین بیر چۏغو و بلکه هپسی شاعرِ شیرازی‌نین خیالیندن بیله گئچمه‌میشدیر دئنیلسه و بیر ده یمین ائدیلسه کیمسه کاذب و حانث اۏلماز. لسانِ فارسی دینیمیزده، حسّیمیزده، فکر و خیالیمیزده بو صورت‌له عصر‌لارجا یاشادې و یاشاتدې. باشقا بیر مقتدا، آرزو ائتسه‌یدیک بیله بولامازدېق. مقدّراتِ تاریخیه‌میز بیزه بونو تکلیف و امر ائتمیشدی.”

ترجمہ:
"ایرانی زبان اور اشعار کے ہمارے مملکت میں شیوع کا دوسرا سبب مدرَسے، خانقاہیں، اور خصوصاً مولوی خانقاہیں ہیں۔ حضرتِ جلال الدینِ رُومی کی مثنوی اِس باب میں مقامِ اوّل پر فائز ہے، مع ہذٰا، مثنویِ شریف خانقاہوں اور خواص کے درمیان رہی، جبکہ فریدالدین عطّار کا پندنامہ، سعدی کی گلستان و بوستان، اور حافظ کا دیوان مزید زیادہ رائج ہوا۔ چونکہ اِن کی زبان زیادہ صاف و ظریف ہے۔ مثنویِ مولانا کو خانقاہوں نے، جبکہ پندنامہ و گلستان و بوستان و اشعارِ حافظ کو سب سے زیادہ مدرَسوں و مکتبوں نے پھیلایا اور عام کیا۔ اِن تمام کتابوں پر متعدِّد و مفصَّل شرحیں لکھی گئی ہیں، اور اِس باب میں اِس قدر اِسرافِ اقدام کیا گیا ہے کہ مثلاً اگر کہا جائے اور قسم کھائی جائے کہ شارح قونوی کی کوششوں سے جو ابیاتِ حافظ کے معانیِ مُتصوّفانہ استنباط ہوئے ہیں، اُن میں سے کئی بلکہ تمام معانی [خود] شاعرِ شیرازی کے خیال سے بھی نہیں گُذرے ہیں تو کوئی شخص کاذب و قسم شِکن نہیں کہلایا جائے گا۔ زبانِ فارسی نے ہمارے دین میں، ہماری حِسّ میں، اور ہمارے فکر و خیال میں اِس طرح سے عصروں تک زندگی کی، اور زندگی کو جاری رکھا۔ اگر ہم کسی اور پیشوا و مُقتدا کی آرزو کرتے تو بھی نہ پا پاتے۔ ہمارے مُقدّراتِ تاریخیہ نے ہم کو یہی پیش اور امر کیا تھا۔”

× صاحبانِ تحقیق کا کہنا ہے کہ ‘پندنامہ’ فریدالدین عطّار کی تألیف نہیں ہے، بلکہ کسی اور ‘عطّار’ تخلُّص والے شاعر کی ہے۔

لاطینی رسم الخط میں:
İran lisan ve eş’ârının memleketimizde şüyuûna ikinci sebep de medreseler, tekkeler ve bilhassa Mevlevî hankâhlarıdır. Celâleddin-i Rûmî hazretlerinin Mesnevî’si bu hususta birinciliği ihraz eder, mâmâfih Mesnevî-i Şerîf tekâyâ ve havâs arasında kalıp Ferîdüddin Attar’ın Pend-nâme’siyle Sâdî’nin Gülistan ve Bostan’ı ve Hafız’ın Divanı daha ziyade şâyî oldu. Çünkü bunların lisanı daha düzgün ve zariftir. Mesnevî-i Mevlânâ’yı, tekkeler, Pend-nâme ile Gülistan ve Bostan’ı ve eş’âr-ı Hâfız’ı en ziyade medreseler ve mektepler neşir ve ta’mîm etti. Bu kitapların hepsine müteaddit ve mufassal şerhler yazılmıştır ve bu hususta o kadar tebzîr-i ikdâm edilmiştir ki mesela şârih Konevî himmetiyle ebyât-ı Hâfız’dan istinbat edilen meâni-i mutasavvıfânenin bir çoğu ve belki hepsi şâir-i Şîrâzî’nin hayâlinden bile geçmemiştir denilse ve bir de yemin edilse kimse kâzib ve hânis olmaz. Lisân-ı Fârisî dînimizde, hissimizde, fikir ve hayalimizde bu sûretle asırlarca yaşadı ve yaşattı. Başka bir muktedâ, arzu etseydik bile bulamazdık. Mukadderât-ı târihiyemiz, bize bunu teklif ve emretmişti.


عارف قزوینی کی تُرکی مخالف شاعری

گذشتہ صدی کے اوائل میں مشرقِ وسطی میں ملّت پرستانہ نظریات کے ظہور میں آنے کے نتیجے میں ایران میں تُرکی زبان فِشار کا نشانہ بننا شروع ہو گئی تھی، اور پہلوی دور میں تو تُرکی کی تعلیم و تدریس پر، تُرکی کتابوں کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اِس کا ایک مُحرِّک یہ بھی تھا کہ عُثمانی دور کے اواخر میں وہاں کے قوم پرست دانشمندان اتحادِ تُرکان کے نظریات کی تبلیغ کرنے لگے تھے، اور اُن کی خاص توجُّہ آذربائجان کی جانب تھی، کیونکہ بہرحال آذربائجانیان اُن کے ہم زبان اور تُرک تھے۔ اُن کی آرزو یہ تھی کہ قفقازی و ایرانی آذربائجان بالترتیب رُوسی اور ایرانی سلطنتوں سے خلاصی پا کر عظیم تر عُثمانی-تُرک سلطنت کا حصّہ بن جائیں، اور یہ خواہش بالعموم قفقازی آذربائجان کے تُرک قوم پرست بانیان و دانشمندان کی بھی تھی۔ ایران میں تُرک قوم پرستی اُس وقت تک متولّد نہیں ہوئی تھی، اِس لیے وہاں اِن تبلیغات کو اُس وقت زیادہ پذیرائی نہ مِلی۔ لیکن ردِّ عمل کے طور پر ایرانی/فارسی قوم پرستوں میں تُرکوں اور تُرکی زبان کے خلاف شدید بیزاری کے احساسات پیدا ہو گئے تھے، اور اُن کی اُس وقت سے یہ کوشش رہی ہے کہ ایرانی آذربائجان سے زبانِ تُرکی کو ‘رفع دفع’ کر دیا جائے۔ وہ تُرکی کو اُسی طرح اپنی ریاست کی سلامتی کے لیے مسئلہ سمجھتے ہیں، جس طرح ریاستِ تُرکیہ میں کُردی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اور جس طرح تُرکیہ کے مُقتدِر حلقوں میں یہ خوف ہے کہ کہیں کُردی کی تدریس کے نتیجے میں تُرکیہ کے کُردوں میں کُرد قومی احساسات کی مزید تقویت نہ ہو جائے، اُسی طرح ایرانی/فارسی قوم پرستان بھی ایرانی آذربائجانیوں کے لسانی و ثقافتی حقوق کو زیرِ پا رکھنے پر مُصِر ہیں ‘تاکہ خدانخواستہ ایران مُنقسِم نہ ہو جائے’ (حالانکہ مجموعی طور پر ایرانی آذربائجانیان میں ایران سے جدا ہو جانے کے کوئی لائقِ ذکر احساسات نہیں ہیں)۔ جائے خوشنودی ہے کہ ایران میں تُرکی مخالفوں کی کوشش تا حال ناکام رہی ہے اور ایرانی آذربائجان سے تُرکی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ انٹرنیٹی دور کی آمد کے بعد سے، اور اُس کے نتیجے میں جمہوریۂ آذربائجان و تُرکیہ کے مردُم کے ساتھ نزدیک تر ارتباطات کے نتیجے میں تُرکانِ ایران میں بھی تُرکی خواندگی اور تُرکی کے معیار میں بہتری آنے لگی ہے۔
گذشتہ صدی کے ایرانی وطن پرست و قوم پرست شاعر عارف قزوینی نے ۱۹۱۵ء سے ۱۹۱۹ء تک کا زمانہ عُثمانی سلطنت میں گُذارا تھا، وہاں وہ داعیانِ اتحادِ تُرکان کے آذربائجان کی بارے میں خیالات کے ردِّ عمل میں شدیداً تُرک و تُرکی مخالف ہو گئے تھے، اور اُنہوں نے اپنی کئی نظموں میں زبانِ تُرکی کی مذمّت میں ابیات کہی ہیں۔ مثلاً وہ ۱۸ مارچ ۱۹۲۵ء کو آذربائجان میں کہی گئی ایک غزل میں زبانِ تُرکی کے خلاف کہتے ہیں:
چه سان نسوزم و آتش به خُشک و تر نزنم
که در قلمروِ زردُشت حَرفِ چنگیز است
زبانِ سعدی و حافظ چه عیب داشت که‌اش
بدل به تُرک زبان کردی این زبان هیز است
رَها کُنَش که زبانِ مُغول و تاتار است
ز خاکِ خویش بِتازان که فتنه‌انگیز است
دُچارِ کشمکش و شرِّ فتنه‌ای زین آن
اِلَی‌الابد به تو تا این زبان گلاویز است
به دیو‌خُوی سُلیمان نظیف گوی که خوب
درست غور کن انقوره نیست تبریز است
ز اُستُخوانِ نیاکانِ پاکِ ما این خاک
عجین شده‌ست و مُقدّس‌تر از همه چیز است
(عارف قزوینی)
میں کیسے نہ جلوں اور کیوں نہ خُشک و تر کو آتش لگا دوں؟ کہ زرتُشت کی قلمرو میں چنگیز کی زبان رائج ہے۔۔۔ سعدی و حافظ کی زبان میں کیا عیب تھا کہ تم نے اُس کو دے کر تُرکی زبان لے لی؟۔۔۔ یہ زبان مُخنّث ہے!۔۔۔ اِس کو تَرک کر دو کہ یہ منگول و تاتار کی زبان ہے۔۔۔ اِس کو اپنی خاک سے دور بھگا دو کہ یہ فتنہ انگیز ہے۔
(فارسی ایرانی قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ تُرکی آذربائجان کی ‘اصلی’ و ‘حقیقی’ زبان نہیں ہے، بلکہ یہ زبان وہاں منگولوں اور تُرکوں کے حملوں کے نتیجے میں رائج ہوئی ہے۔ لہٰذا، اُن کی ‘لسانی تطہیر’ ہونی چاہیے اور اُن کو تُرکی زبان تَرک کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔۔۔ مصرعِ دوم میں اُس روایت کی جانب اشارہ ہے جس کے مطابق زرتُشت کا جائے تولُّد دیارِ آذربائجان تھا، اگرچہ بیشتر مُعاصر مُحقّقین اِس روایت کو درست نہیں مانتے، اور اُن کا کہنا ہے کہ زرتُشت احتمالاً حالیہ افغانستان میں یا مشرقی ایران میں کہیں متولّد ہوا تھا۔)
جب تک یہ [تُرکی] زبان تم سے چِمٹی ہوئی ہے، تم تا ابد اِس کے باعث نِزاع و جِدال، اور شرِّ فتنہ سے دوچار رہو گے۔۔۔۔ دیو فطرت سُلیمان نظیف سے کہو کہ خوب درستی کے ساتھ غور کرو، یہ انقرہ نہیں، بلکہ تبریز ہے۔۔۔ یہ خاک ہمارے اجدادِ پاک کے اُستُخوانوں (ہڈیوں) سے عجین ہو چکی ہے اور [یہ] ہمارے لیے ہر چیز سے زیادہ مُقدّس ہے۔
× سُلیمان نظیف = ایک عُثمانی شاعر و مُتفکِّر کا نام
× عجین ہونا = گُندھنا

اتنی طویل تحریر اِس لیے لکھی ہے کیونکہ تاریخی پس منظر بیان کیے بغیر مندرجۂ بالا ابیات کا مفہوم کُلّاً سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ نیز، اِس لیے بھی کہ میں فارسی کی مانند تُرکی سے بھی محبّت کرتا ہوں، اور میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حاشا و کلّا ایرانی آذربائجان سے تُرکی محو ہو جائے، بلکہ میں وہاں تُرکی کو ہر دم توانا دیکھنا چاہتا ہوں۔


پس نوشت: گذشتہ صدی میں عُثمانی و ایرانی قوم پرستوں میں یہ زہرآلود، تباہی برانگیز اور غیر جمہوری تفکُّر فرانس اور دیگر یورپی ممالک سے آ کر رائج ہو گیا تھا کہ کسی ریاست میں صرف ایک زبان ہونا، اور باقی دیگر زبانوں پر پابندی ہونا لازم ہے۔ اِسی لیے تُرکیہ میں کُردی اور ایران میں تُرکی (اور دیگر زبانیں) تحتِ فِشار رہی ہیں، اور اُن کو محو کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جبراً لسانی یکساں سازی کی ریاستی کوششوں کے لحاظ سے تُرکیہ کی تاریخ ایران کے مقابلے میں مزید داغ دار ہے، کیونکہ ایران میں ۱۹۷۹ء کے بعد سے تُرکی کو اِجباراً محو کرنے کی کوششیں ریاستی سطح پر ختم ہو گئی ہیں اور ایران میں اِجباری لسانی یکساں سازی کی کوششیں تُرکیہ کی طرح شدید نہیں تھیں۔


جواں سالہ پِسر کی وفات پر مرثیہ – فردوسی طوسی

مرا سال بِگْذشت بر شست و پنج
نه نیکو بُوَد گر بِیازم به گنج
مگر بهره برگیرم از پندِ خویش
براندیشم از مرگِ فرزندِ خویش
مرا بود نوبت بِرفت آن جوان
ز دردش منم چون تنی بی‌روان
شِتابم همی تا مگر یابمش
چو یابم به پیغاره بِشْتابمش
که نوبت مرا بود بی کامِ من
چرا رفتی و بُردی آرامِ من
ز بدها تو بودی مرا دست‌گیر
چرا چاره جُستی ز همراهِ پیر
مگر هم‌رهانِ جوان یافتی
که از پیشِ من تیز بِشْتافتی
جوان را چو شد سال بر سی و هفت
نه بر آرزو یافت گیتی، بِرفت
همی بود همواره با من دُرُشت
برآشُفت و یک‌باره بِنْمود پُشت
بِرفت و غم و رنجش ایدر بِمانْد
دل و دیدهٔ من به خون درنِشانْد
کُنون او سویِ روشنایی رسید
پدر را همی جای خواهد گُزید
بر آمد چُنین روزگاری دراز
کزان هم‌رهان کس نگشتند باز
همانا مرا چشم دارد همی
ز دیر آمدن خشم دارد همی
وُرا سال سی بُد، مرا شست و هفت
نپُرسید ازین پیر و تنها بِرفت
وی اندر شِتاب و من اندر دِرنگ
ز کردارها تا چه آید به چنگ
روانِ تو دارنده روشن کُناد
خِرد پیشِ جانِ تو جوشن کُناد
همی خواهم از دادگر کردگار
ز روزی‌دِهِ آشکار و نِهان
که یکسر بِبخشد گناهِ وُرا
درخشان کند تیره‌گاهِ وُرا
(فردوسی طوسی)

ترجمہ:
میری عمر پینسٹھ سال سے زیادہ ہو گئی ہے۔۔۔ اب مناسب نہیں ہے کہ میں خزانے (یعنی دنیاوی چیزوں) کی جانب دست بڑھاؤں۔۔۔ مجھے اپنی نصیحت سے بہرہ اُٹھانا چاہیے اور اپنے فرزند کی موت کے بارے میں تفکُّر کرنا چاہیے۔۔۔ باری میری تھی، لیکن چلا وہ جوان گیا۔۔۔ اُس کے درد سے میں تنِ بے جاں کی طرح [ہو گیا] ہوں۔۔۔۔ میں جلدی کر رہا ہوں تاکہ شاید اُس کو پا سکوں، اور جب پا جاؤں تو فوراً اُس کو سرزنش کروں۔۔۔ کہ باری تو میری تھی، میری خواہش کے بغیر تم کیسے چلے گئے اور میرا آرام لے گئے؟۔۔۔ بدیوں اور اِبتلاؤں میں تم میرے دست گیر و مُعاون تھے، تم نے اِس پِیر (بوڑھے) کی ہمراہی سے کیوں دوری اختیار کی؟۔۔۔ کہیں تمہیں جوان رُفَقاء تو نہیں مل گئے تھے؟ کہ یوں تیزی سے میرے حضور سے چلے گئے؟۔۔۔ جب جوان پینتیس سال کا ہوا تو اُس نے جہان کو اپنی آرزو کے موافق نہ پایا، اور [تَرک کر کے] چلا گیا۔۔۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ تُند خُو و دُرُشت تھا۔۔۔ یکایک اُس نے غضب ناک ہو کر مجھ کو پُشت دکھا دی۔۔۔ وہ چلا گیا اور یہاں غم و رنج رہ گیا۔۔۔ اور اُس نے میرے دل و دیدہ کو خُون میں آغُشتہ کر دیا۔۔۔ اب وہ نُور تک پہنچ گیا ہے۔۔۔ [جہاں] وہ اپنے پدر کے لیے مسکن مُنتخَب کرے گا۔۔۔ اتنا طویل زمانہ گُذر گیا، لیکن اُن ہمراہوں میں سے کوئی واپَس نہ آیا۔۔ یقیناً وہ وہاں میرا مُنتظِر ہے۔۔۔ اور میرے دیر سے آنے پر خشمگین ہے۔۔۔ وہ تیس (سینتیس) سال کا تھا، جبکہ میں پینسٹھ سال کا ہوں۔۔۔ اُس نے اِس پِیر کو نہیں پوچھا، اور تنہا چلا گیا۔۔۔ وہ تیزی میں [ہے]، اور میں دیری میں [ہوں]۔۔۔ [اب دیکھتے ہیں کہ ہمیں اپنے] افعال کا کیا نتیجہ مِلتا ہے۔۔۔ خدا تعالیٰ تمہاری روح کو روشن کرے!۔۔۔ اور عقل کو تمہاری جان کے لیے سِپر بنائے! میں خدائے عادل، اور آشکارا و نِہاں روزی دینے والی ذات سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ اُس کے تمام گُناہوں کو مُعاف کر دے!۔۔۔ اور اُس کے تاریک مقام (قبر) کو درخشاں کرے!

× فردوسی طوسی نے یہ مرثیہ اپنے جواں سالہ پِسر کی وفات پر کہا تھا، اور یہ مرثیہ شاہنامہ میں داستانِ خسرو پرویز کے ضِمن میں مشمول ہے۔ میں نے اِس مرثیے کا وہ متن مُنتَخب کیا ہے جو جلال خالقی مُطلق کی جانب سے تصحیح شدہ شاہنامہ میں ثبت ہے۔


میں نے تُرکی کیوں سیکھی؟

دیارِ آذربائجان کے قلب شہرِ تبریز سے تعلق رکھنے والے دوست ارسلان بای، جن کی مادری زبان دیگر آذربائجانیوں اور تبریزیوں کی طرح تُرکی ہے، نے مجھ سے یہ سوال پوچھا تھا:

سوال:
حسان بئی، سن نئجه آذربایجان تۆرکجه‌سینه علاقه تاپدېن و بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین؟
من بیلمه‌دیم سن نه‌دن مین‌لرجه دیل آراسېندان آذربایجان تۆرکجه‌سینی اؤیرنمک اۆچۆن سئچدین! هانسې کتاب‌لارې اۏخوماقلا بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین
تۆرکجه‌یه بو سئوگین هارادان گلیر؟
ترجمہ:
آقائے حسان، آذربائجانی تُرکی میں تمہاری دلچسپی کس طرح پیدا ہوئی، اور اِس زبان کو تم کس طرح آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
میں سمجھ نہیں پایا کہ ہزاروں زبانوں کے درمیان تم نے سیکھنے کے لیے آذربائجانی تُرکی [ہی] کو کس وجہ سے مُنتخَب کیا! کن کتابوں کا مطالعہ کر کے تم اِس زبان کو آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
تُرکی زبان سے تمہاری یہ محبّت کس سبب سے ہے؟

جواب:
سلام علیکم!
اجازه دهید که پاسخم را به فارسی بنویسم، چون ترکی‌ام آن قدر هم خوب نیست که بتوانم جواب‌های طولانی را به راحتی به ترکی بنویسم.
من به شعر و شاعری علاقه‌ی وافری داشتم، و مذهب تشیع و کشور ایران نیز برایم جالب توجه بوده… ما پاکستانیان زبان فارسی را دوست داریم، چون مشاهده کرده‌اید که اردو خیلی به فارسی قرابت دارد. تقریبا‌ً ده سال پیش من از طریق انترنت یاد گرفتن فارسی را آغاز کردم، چون می‌خواستم که بتوانم شعر و کتب فارسی را بدون ترجمه بخوانم. در آن زمان من در بارهٔ آذربایجان و ترکان آذربایجان و زبان ترکی هیچ چیزی نمی‌دانستم… من گمان می‌کردم که در ایران هر کسی به فارسی صحبت می‌کند و زبان ترکی محدود به ترکیه است. روزی یک دوست انترنتی‌ام، که اسپانیایی بود و فارسی و ترکی هر دو را بلد بود، نشان داد که تا چه حدی ترکی کلاسیک ممزوج به فارسی بوده و شعر ترکی هم مثل شعر فارسی دارای لطافت و ظرافت و زیبایی خارق العاده بوده… به محض دیدن این، شوق زبان ترکی به شدت دامنم گرفت و تمایلی شدید به یاد گرفتن ترکی پیدا کردم… لذا شروع به یادگیری زبان ترکی هم کردم…. آن گاه من مطلع شدم که ترکی در ایران هم گویشوران زیادی دارد، و حتّیٰ ترکان ایران، برخلاف ترکان ترکیه، سنت‌های والای ملی و هزارساله‌ی خود را بهتر نگه داشته‌اند… آگاه شدم که در مقایسه با ترکی ترکیه، ترکی آذربایجان با ترکی کلاسیک هزارساله نزدیک‌تر است، و آذربایجانیان می‌توانند به راحتی آثار گرانقدر کلاسیک ترکی را بخوانند، که برای اهل ترکیه دیگر ممکن نیست، و آنها مجبورند که آثار فضولی و نسیمی وغیره را همراه با ترجمه به ترکی معاصر بخوانند. اهل ترکیه را از گذشتهٔ ادبی خود منقطع کرده‌اند، ولی این وضعیت اسف‌ناک در مورد آذربایجانیان صادق نمی‌آید. رفته رفته من عاشق آذربایجان شدم و بعد شروع کردم به دیدن آذربایجان چون وطن معنوی خودم… واقعاً دیار آذربایجان را خیلی دوست دارم و می‌خواهم که روزی بروم آنجا و خاک پاک آن دیار را ببوسم… گفته بودم که من عاشق آذربایجانم… از این رو زبان ترکی را مثل زبان مادری خود می‌پندارم و دوستش دارم. و سعی دارم که به زبان ترکی تسلط کاملی پیدا کنم.
از صدا و صوت‌های زبان ترکی خوشم می‌آید. خیلی زبان شیرینی‌ست. 🙂
ترجمہ:
السلام علیکم!
مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا جواب فارسی میں لکھوں، کیونکہ میری تُرکی اس قدر بھی خوب نہیں ہے کہ میں طویل جوابوں کو آسانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکوں۔
مجھے شعر و شاعری سے وافر دلچسپی تھی، اور مذہبِ تشیُّع اور مُلکِ ایران بھی میرے لیے جالبِ توجہ تھے۔۔۔ ہم پاکستانی فارسی سے محبّت کرتے ہیں، کیونکہ آپ مشاہدہ کر چکے ہیں کہ اردو فارسی سے بِسیار قرابت رکھتی ہے۔ تقریباً دس سال قبل میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے فارسی سیکھنے کا آغاز کیا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میں فارسی شاعری اور کتابوں کو ترجمے کے بغیر خوان (پڑھ) سکوں۔ اُس وقت میں آذربائجان، تُرکانِ آذربائجان اور زبانِ تُرکی کے بارے میں کوئی چیز بھی نہیں جانتا تھا۔ میں گمان کرتا تھا کہ ایران میں ہر شخص فارسی میں گفتگو کرتا ہے، اور زبانِ تُرکی تُرکیہ تک محدود ہے۔ ایک روز میری ایک ہسپانوی انٹرنیٹی دوست نے، جو فارسی و تُرکی ہر دو زبانوں کو جانتی تھی، نے دکھایا کہ کلاسیکی تُرکی کس حد تک فارسی کے ساتھ مخلوط رہی ہے، اور تُرکی شاعری بھی فارسی شاعری کی طرح فوق العادت لطافت و ظرافت و زیبائی کی مالک رہی ہے۔ یہ دیکھتے ہی تُرکی زبان سیکھنے کا شوق شدّت سے دامن گیر ہو گیا اور مجھ میں تُرکی سیکھنے کے شدید تمایُلات پیدا ہو گئے۔ لہٰذا میں نے تُرکی زبان سیکھنا بھی شروع کر دی۔ اُس وقت میں آگاہ ہوا کہ ایران میں بھی کثیر تعداد میں تُرکی گو موجود ہیں، حتّیٰ کہ تُرکانِ ایران نے، تُرکانِ تُرکیہ کے برخلاف، اپنی ہزارسالہ عالی ملّی روایات کی بہتر مُحافظت کی ہے۔۔۔ میں آگاہ ہوا کہ تُرکیہ کی تُرکی کے مقابلے میں آذربائجان کی تُرکی ہزارسالہ کلاسیکی تُرکی سے نزدیک تر ہے، اور آذربائجانیان آسانی کے ساتھ گراں قدر کلاسیکی تُرکی آثار کو خوان سکتے ہیں، جو اہلِ‌ تُرکیہ کے لیے مزید ممکن نہیں ہیں اور وہ فضولی و نسیمی وغیرہ کے آثار کو مُعاصر تُرکی میں ترجمے کے ساتھ خواننے (پڑھنے) پر مجبور ہیں۔ اہلِ تُرکیہ کو اُن کے ادبی ماضی سے منقطع کر دیا گیا ہے، لیکن یہ افسوس ناک صورتِ حال آذربائجانیوں کے بارے میں صادق نہیں آتی۔ آہستہ آہستہ میں آذربائجان کا عاشق ہو گیا اور میں آذربائجان کو خود کے روحانی وطن کے طور پر دیکھنے لگا۔ واقعاً میں دیارِ آذربائجان سے بِسیار محبّت کرتا ہوں اور خواہش مند ہوں کہ ایک روز وہاں جاؤں اور اُس دیار کی خاکِ پاک کو بوسہ دوں۔۔۔ میں آپ سے کہہ چکا تھا میں عاشقِ آذربائجان ہوں۔۔۔ اِس لیے میں زبانِ تُرکی کو اپنی مادری زبان کے مثل تصوُّر کرتا ہوں اور اُس سے محبّت کرتا ہوں۔ اور میری کوشش ہے کہ میں تُرکی زبان پر کامل تسلُّط پیدا کر سکوں۔
مجھے زبانِ تُرکی کی صدائیں اور اصوات پسند ہیں۔ یہ ایک بِسیار شیریں زبان ہے۔ 🙂

(یاد دہانی: آقائے ارسلان کی یہ خوش گُمانی ہے، جس کے لیے بہر حال میں مُتَشکِّر ہوں، کہ میں آذربائجانی تُرکوں سے بہتر تُرکی جانتا ہوں، حالانکہ میں تُرکی زیادہ خوب نہیں جانتا، اِس کا ثبوت یہی ہے کہ میں جواب کو تُرکی میں نہ لکھ سکا۔
اُن کا ایسا گُمان رکھنے کی شاید وجہ یہ ہے کہ اُن سے مراسلت کرتے ہوئے میں معیاری کتابی تُرکی میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے کتابوں کی مدد سے معیاری ادبی زبان ہی کس قدر سیکھی ہے۔ جبکہ اہلِ آذربائجانِ ایران ہنوز مکتبوں میں تُرکی کی بطورِ مضمون بھی تدریس حاصل نہیں کر پاتے، جس کے باعث اُن میں سے اکثر افراد تُرکی لکھنے میں مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، اور گُفتاری زبانچوں میں یا فارسی میں مراسلت و مکاتبت وغیرہ کرتے ہیں۔ وہ تُرکی کی بجائے فارسی زیادہ بہتر طریقے سے لکھ سکتے ہیں، کیونکہ اُن کی تعلیم و تدریس فارسی ہی میں ہوئی ہوتی ہے۔ آرزو کرتا ہوں کہ ایران میں تُرکی گویوں کو مکاتب میں اپنی مادری زبان بخوبی سیکھنے اور اُس میں تعلیم یاب ہونے کا حق حاصل ہو جائے، تاکہ تُرکیہ اور جمہوریۂ آذربائجان کے مردُم کی طرح وہ بھی روانی و خوبی و فراوانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکیں!)