الحمد لواهب المکارم – محمد فضولی بغدادی (فارسی حمد و دعا + ترجمہ)

محمد فضولی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی ‘لیلیٰ و مجنون’ کہنہ تُرکی ادبیات کی معروف ترین مثنوی ہے۔ جالبِ توجہ چیز یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی اُس تُرکی مثنوی کا کا آغاز فارسی حمد و دعا سے کیا ہے، اور تُرکی زبان میں حمد وہ اگلے باب میں لے کر آئے ہیں۔ زبانِ فارسی اور حضرتِ فضولی بغدادی کے تمام محبّوں کی خدمت میں وہ فارسی حمد ترجمے کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔

بو حضرتِ عزّت‌دن حمد ایله استمدادِ مطالب‌دیر و آثارِ شُکر ایله استدعایِ سترِ معایب‌دیر

الحَمدُ لِواهِبِ المکارِم
والشُّکرُ لِصاحِبِ المراحِم
وهُوَ الاَزَلیُّ فی البِدایه
وهُوَ الاَبَدیُّ فی النِهایه
قد شاعَ بِصُنعِهِ بیانُه
ما اعظمَ فی البقاءِ شأنُه
سبحان الله زهی خداوند
بی‌شِبه و شریک و مثل و مانند
مشّاطهٔ نوعَروسِ عالَم
گوهرکَشِ سِلکِ نسلِ آدم
صرّافِ جواهرِ حقایق
کشّافِ غوامضِ دقایق
پیداکُنِ هر نهان که باشد
پنهان‌کُنِ هر عیان که باشد
معمارِ بنایِ آفرینش
سیراب‌کُنِ ریاضِ بینش
یا رب مددی که دردمندم
آشفته و زار و مُستمندم
از فیضِ هنر خبر ندارم
جز بی‌هنری هنر ندارم
شُغلِ عجبی گرفته‌ام پیش
پیش و پسِ او تمام تشویش
سنگی‌ست به راهم اوفتاده
بحری‌ست مرا هراس داده
توفیقِ تواَم اگر نباشد
ور لطفِ تو ره‌بر نباشد
مشکل که در این گریوهٔ تنگ
لعلی بِدر آرم از دلِ سنگ
مشکل که مراد رخ نماید
زین بحر دُری به دستم آید
آن کن که دلم فروغ گیرد
لوحم رقمِ صفا پذیرد
آیینهٔ خاطرم شود پاک
روشن گردد چراغِ ادراک
قُفلِ درِ آرزو بِتابم
هر چیز طلب کنم بِیابم
بخشد به ریاضِ دولتم آب
ابرِ کرمِ رسول و اصحاب
(محمد فضولی بغدادی)

ترجمہ:
یہ حضرتِ خدائے بزرگوار سے حمد کے ساتھ حاجات کی مدد خواہی، اور شُکر کے ساتھ معائب کی سترپوشی کی استدعا ہے

تمام ستائشیں مکارم اور کرم عطا کرنے والی ذاتِ خدا کے لیے، اور تمام شُکر رحمتوں اور مہربانیوں کے مالک کے لیے ہیں۔ وہ ذات ابتداء کے لحاظ سے ازلی اور انتہا کے لحاظ سے ابدی ہے۔ اُس کی خالقیت و آفریدگاری سے اُس کا بیان جہان میں فراگیر ہوا ہے۔ بقا کے اعتبار سے اُس کی شان کتنی اعلٰی ہے! سبحان اللہ! زہے خداوند! جو بے شبیہ و بے شریک و بے مثل و مانند ہے۔ وہ عَروسِ عالَم کا آرائش گر ہے۔ وہ نسلِ آدم کے سِلک (دھاگے) میں گوہر پرونے والا ہے۔ وہ جواہرِ حقائق کا صرّاف ہے۔ وہ باریک نُکتوں کا کشّاف ہے۔ وہ ہر نہاں چیز کو ظاہر کرنے والا ہے۔ وہ ہر عیاں چیز کو پنہاں کرنے والا ہے۔ وہ عمارتِ آفرینش کا معمار ہے۔ وہ ریاضِ بینش و بصارت کا سیراب کُن ہے۔ یا رب ذرا مدد کرو کہ میں دردمند، آشفتہ، زار، اور ملول و پریشان ہوں۔ مجھے فیضِ ہنر کی خبر نہیں ہے۔ بجز بے ہنری میرے پاس کوئی ہنر نہیں ہے۔ میں نے ایک عجیب کار شروع کیا ہے، جس کے پیش و پس میں تشویش ہی تشویش ہے۔ یہ ایک سنگ ہے جو میری راہ میں پڑا ہوا ہے۔ یہ ایک بحر ہے جس نے مجھے خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ اگر تمہاری توفیق مجھے نصیب نہ ہو، اور اگر تمہارا لطف میرا راہبر نہ ہو، تو مشکل ہے کہ میں اِس کوہِ تنگ میں سنگ کے دل سے کوئی لعل برآمد کر سکوں۔ اور مشکل ہے کہ میری مراد مجھے اپنا رُخ دکھائے، اور اِس بحر سے کوئی دُر میرے دست میں آ جائے۔ کچھ ایسا کرو کہ میرا دل تابندگی پا جائے، میری لوح پر پاکیزگی درج ہو جائے، میرا آئینۂ قلب و ذہن پاک ہو جائے، اور میرا چراغِ ادراک روشن ہو جائے۔ اور [جب] میں درِ آرزو کا قُفل گھماؤں تو جو بھی چیز طلب کرو‌‌ں اُسے حاصل کر لوں۔ اور میرے باغِ بخت پر رسول (ص) اور اصحاب (رض) کا ابرِ کرم آب برسائے۔
× فراگیر = ہر جگہ پھیلا ہوا

استدعایِ سترِ معایب‌

ایک نسخے میں ‘استدعایِ سترِ معایب’ کی بجائے ‘استتارِ معایب’ نظر آیا ہے جس کا ترجمہ ‘معائب کا اِخفاء’ ہے۔


ایران میں صائب تبریزی کی دوبارہ مقبولیت کا ایک سبب شبلی نعمانی تھے

ایران کے مجلُۂ وحید میں ۱۹۶۷-۸ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں تاجکستانی ادبیات شناس عبدالغنی میرزایف لکھتے ہیں:

"آثار شاعر بزرگ سدهٔ یازدهم ایران میرزا محمد علی بن میرزا عبدالرحیم متخلص به صائب، اگر خطا نکنم، از اوایل سدهٔ بیستم میلادی و اگر روشن‌تر به مسئله نزدیک شویم، از تاریخ نشر ‘شعرالعجم’ تألیف علامه شبلی نعمانی به این طرف اهمیت فوق‌العاده تازه‌ای پیدا کرد. دانش‌مند شهیر هند در این اثر خود، بر خلاف فکر غلط و بی‌اساس مؤلف تذکرهٔ ‘آتش‌کده’ میرزا محمد علی صائب را آخرین شاعر بزرگ ایران اعلام نمود. پس از این همان نوعی که معلوم است، دقت اصحاب تحقیق بیش از پیش به طرف آثار گران‌بهای این شاعر نامی روانه گردید.”

"ایران کے گیارہویں صدی ہجری کے شاعرِ بزرگ میرزا محمد علی بن میرزا عبدالرحیم متخلص بہ صائب کی تألیفات نے، اگر خطا نہ کروں تو، بیسویں صدی عیسوی اور اگر واضح تر و درست تر کہا جائے تو علامہ شبلی نعمانی کی تألیف ‘شعرالعجم’ کی نشر کے بعد سے یہاں ایک تازہ و خارقِ عادت اہمیت پیدا کی تھی۔ ہند کے مشہور دانشمند نے اپنی اِس تصنیف میں، تذکرۂ ‘آتشکده’ کے مؤلف کی غلط و بے اساس رائے کے برخلاف میرزا محمد علی صائب کو ایران کا آخری بزرگ شاعر اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں، جیسا کہ معلوم ہے، اصحابِ تحقیق کی نظر و توجہ قبل سے کہیں زیادہ اِن شاعرِ نامور کی گراں بہا تألیفات کی جانب مُنعَطِف ہو گئی تھی۔”

عبدالغنی میرزایف، یک مدرک تاریخی جدید راجع به صائب، مجلهٔ وحید، شمارهٔ اول – سال پنجم، ۱۹۶۷-۸ء

ویسے، صائب کی مقبولیت صرف ایران میں کم ہوئی تھی، اور وہ بھی صفوی دور کے بعد کی ‘بازگشتِ ادبی’ کی ادبی تحریک کے زمانے میں۔ ورنہ تُرکستان، دیارِ آلِ عثمان اور برِ صغیر میں صائب ہمیشہ ہی بے حد مقبول و معروف رہے تھے۔ اگرچہ، اِس زمانے میں صائب کی ایران میں جو مقبولیت ہے، اُسے دیکھتے ہوئے مشکل ہی سے یقین آتا ہے کہ ایک زمانے میں صائب تبریزی اور اُن کے سبکِ شعری کو یوں نظروں سے گرا دیا گیا تھا۔ صائب کے مقام میں اِس تنزّل کے لیے عموماً تذکرۂ ‘آتشکدہ’ کے مؤلف لطف علی بیگ آذر بیگدلی کو ذمّہ دار مانا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی اِس پُرنفوذ تألیف میں صائب تبریزی کی شاعری پر نکتہ چینی کی تھی۔ تیجتاً، قاجاری دور میں صائب حاشیے پر چلے گئے تھے اور کسی قاجاری شاعر نے اُن کے اسلوب کی پیروی کرنا یا اُن کے دیوان پر زیادہ توجہ دینا پسند نہ کیا۔ حالانکہ یہی صائب تبریزی صفوی دربار کے ملک الشعراء تھے۔
اور اب حال یہ ہے کہ ایران و آذربائجان کے اکثر ادبیات دوست افراد صائب کو اپنا ایک بہترین شاعر مانتے ہیں۔

آذر بیگدلی ہی تحریکِ بازگشتِ ادبی کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے۔


فردوسی اور شیکسپیئر کے درمیان ایک شاعرانہ مضمون کا اشتراک

شاہنامہ میں فردوسی لکھتے ہیں کہ فریدون نے اپنے نوادے (پوتے) منوچہر کی ایسے ناز کے ساتھ پرورش کی تھی کہ وہ یہ بھی نہیں روا رکھتا تھا کہ منوچہر پر سے باد و ہوا گذرے اور اُس کے نازک بدن کو آزار پہنچائے:
"چنان پروریدش که باد و هوا
بر او برگذشتن ندیدی روا"
[فریدون] نے [منوچہر] کی ایسے پرورش کی وہ اُس پر سے باد و ہوا کے گذرنے کو بھی روا نہیں رکھتا تھا۔

ولیم شیکسپیئر نے بھی ‘ہیملٹ’ میں ایک جا ایسا ہی مضمون بیان کیا ہے۔ ہیملٹ اپنے وفات کردہ پدر کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
"So loving to my mother
That he might not beteem the winds of heaven
Visit her face too roughly.”
"او آنقدر با مادرم مهربان بود
که حتی حاضر نبود اجازه دهد که نسیم‌های آسمانی
به تندی صورتش را بنوازند.
(مترجم: بهزاد جزایری)
"اُسے میری مادر کے ساتھ اِس قدر محبت تھی
کہ وہ حتیٰ یہ اجازت نہیں دیتا تھا کہ آسمانی ہوائیں
تُندی کے ساتھ اُس کے چہرے پر سے گذریں۔”


باز آشفته‌ام از کاکُلِ عنبربویی – خلیفۂ عثمانی سلطان سلیمان قانونی ‘مُحِبّی’

باز آشفته‌ام از کاکُلِ عنبربویی
بسته شد جان و دلم در گِرهِ ابرویی
از که پُرسم خبرش یا ز که جویم چه کنم
دلِ آواره که گم ساخته‌ام در کویی
آه از این دل که شد آشفتهٔ زلفِ سیه‌ای
داد از این دیده که آموخته شد با رُویی
او به صد لطف درونِ دلِ من جِلوه‌کُنان
منِ دیوانه نظر می‌کنم از هر سویی
خَلق گویند دلِ زارِ مُحِبّی که رُبود
راست گویم که فسون‌هایِ لبِ دل‌جویی
(سلطان سلیمان قانونی ‘مُحِبّی’)

ترجمہ:
میں دوبارہ کسی کاکُلِ عنبر بُو کے باعث آشفتہ ہوں؛ میری جان و دل ایک ابرو کی گِرہ میں بندھ گئے ہیں۔
جو دلِ آوارہ میں نے کسی کوچے میں گُم کر دیا ہے، اُس کی خبر کس سے پوچھوں؟ یا کس سے تلاش کروں؟ کیا کروں؟
آہ یہ دل جو کسی زلفِ سیاہ کا آشفتہ ہو گیا ہے!؛ فریاد اِس چشم سے جو کسی چہرے کی خُو گرفتہ ہو گئی ہے!
وہ بصد لُطف میرے دل کے اندر جلوہ کُناں ہیں؛ [جبکہ] میں دیوانہ ہر جانب سے نگاہ کر رہا ہوں۔
خَلق کہتی ہے کہ ‘مُحِبّی’ کا دلِ زار کس نے چُرایا ہے؟ راست کہتا ہوں کہ ایک لبِ دل جُو کے افسُونوں نے۔

مأخذ: تذکرۂ گلشنِ شعراء، احدی بغدادی (تُرکی)


شاہ اسماعیل صفوی کا اپنی مادری زبان تُرکی میں نوشتہ ایک مکتوب

Şah İsmail Musa Doğurt türkcə məktubتاریخِ نوشتگی: ۷ ربیع الاول ۹۱۸ھ/۲۳ مئی ۱۵۱۲ء
زمانہ: دورِ صفویہ
جائے حفاظت: توپ قاپی سرائے عجائب خانہ محفوظیات، شمارہ ۵۴۶۰
خطِّ کتابت: شکستہ نستعلیق

شاہ اسماعیل صفوی نے ۱۵۱۲ء میں اپنے ایک امیر احمد آقا قارامانلی کو ایک تُرکی مکتوب کے ساتھ تُورغُوت قبیلے سے تعلق رکھنے والے موسیٰ بیگ کی جانب بھیج کر اناطولیہ میں قزلباشی تبلیغ کے لیے ایک کوشش کی تھی۔ یہ مکتوب تُرکی میں میں لکھا گیا تھا اور سلطان سلیم عثمانی کے تخت نشیں ہونے کے محض ایک ماہ بعد اِرسال کیا گیا تھا۔ اِس وثیقے (دستاویز) سے دیارِ آلِ عثمان، خصوصاً اناطولیہ میں قزلباشی مریدوں کے ایک وسیع شَبَکے (نیٹ ورک) کی موجودگی کا اِثبات ہوتا ہے۔ سَنَد میں شاہِ‌ قزلباش نے امارتِ آلِ قارامان سے تعلق رکھنے والے بزرگ ترین تُرکمن قبیلے بنی تورغوت کے رئیس کے سفیرِ قزلباش احمد آقا قارامانلی کے ساتھ ارتباط برقرار کرنے، اُس کے فرمانوں کی بجا آوری کرنے، نیز خطّے میں کی جانے والی اپنی سرگرمیوں کی تفصیلی اطلاع دینے کا تقاضا کیا ہے۔
اِس سَنَد کے بارے میں اولین معلومات شہاب الدین تکینداغ نے دی تھیں: "۷ ربیع الاول ۹۱۸ھ (ستمبر ۱۵۱۲ء) کی تاریخ رکھنے والے اور امیرِ اعظمِ اکرم موسیٰ دورغورت اوغلو کی طرف افتخار الاعاظم والاعیان احمد آقا قارامانلی کے بھیجے جانے کی اطلاع دینے والے شاہ اسماعیل صفوی کے اِس فرمان میں ‘الحکم للہ ابوالمظفر اسماعیل بہادر سؤزوموز’ کی عبارت پر مشتمل طُغرے کے زیر میں دوازدہ اماموں کے ناموں والی مُہر موجود ہے۔”
فاروق سُومر کی دی گئی معلومات کے مطابق "بنی تورغوت نے قبیلۂ قارامان کی سرزمین کے عثمانیوں کے دست میں چلے جانے کے بعد بھی سیاسی قوّت کے طور پر اپنی موجودگی کو مزید کچھ عرصے جاری رکھا تھا۔” "دولتِ صفویہ کی تأسیس اور نشو و نما سے تعلق رکھنے والے ایک مأخذ میں، کہ جس کے مؤلف کا نام معلوم نہیں ہے، ۹۰۶ھ (۱۵۰۰ء-۱۵۰۱ء) میں ارزنجان میں صفوی شیخ اسماعیل کے حضور میں آنے والوں کے درمیان قارامانی مریدوں کی موجودگی کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔ اسماعیل نے شاہ ہونے کے بعد ۹۱۸ھ (۱۵۱۲) میں آلِ تورغوت کے موسیٰ بیگ کو بھیجے گئے اپنے ایک تُرکی مکتوب میں احمد آقا قارامانی کی خواہش کے مطابق اِقدام کرنے اور اُس کے ساتھ ہم خیالی و اتحاد کرنے کے علاوہ وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی اطلاع دینے کے لیے فرمان تحریر کیا تھا۔ شاہ اسماعیل کی موت کے پانچ سال بعد (۹۳۵ھ/۱۵۲۸-۲۹ء) شاہ طہماسب کے امیروں کے درمیان حسن سلطان تورغوت اوغلو کا نام مِلتا ہے۔ حسن سلطان نے طہماسب کے سفرِ خُراسان کے دوران اُس کی مصاحبت اختیار کی تھی۔ حسن سلطان کے علاوہ اُسی خاندان سے تعلق رکھنے والے قاسم علی بیگ بھی مذکورہ حُکمران کی خدمت میں موجود تھے۔ شہزادہ بایزید عثمانی کے ایک امیر پیر حُسین بیگ شاہزادے کے ہمراہ ایران گئے تھے اور وہیں رُک گئے تھے۔ صفوی خدمت میں اِن امیروں کے سوا کسی دیگر تورغوت بیگ کا نام نہیں مِلتا۔”
طوفان گوندوز نے [اپنی کتاب میں] شاہ اسماعیل کے موسیٰ تورغوت اوغلو کی طرف ۱۵۱۲ء میں بھیجے گئے اِس نامے کے ذریعے قارامان علاقے میں اپنے مُریدوں کی رہنمائی کرنے کی شاہ کی خواہش کو واضح کیا ہے۔ اِس مکتوب کے دو سال بعد دونوں تُرک سلطنتیں [صفوی و عثمانی] چالدران کے میدان میں بالمقابل آ گئیں۔

اصلی تحریر:
ابوالمظفر [اسماعیل بهادر] سوزومیز
امیر اعظم اکرم موسی دورغوت اغلی عنایت و شفقتمزه امیدوار اولندن صونکره شیله بیلسون کیم افتخار الاعاظم و الاعیان احمد اقا قرامانلو اول طرفه کوندردوک و اول یرنک اختیارلکنی کندونه شفقت ایتسونک کرک کیم مشارالیه سوزوندن و مصلحتندن چخمسون و متابعت و یاردم او انکا قیلسون کیم انشاالله تعالی هرنه کیم ایتمک مرادی و استکی اولسه حاصل دور. کوندن کونه هر ایش واقع بولسه احمد اقا اتفاقی ایله درکاه معلامزه بیلدورسونلر کیم هر نوع بویرغمز اولسه عمل ایتسون کونکلیمزه خوش دوتوب مرحمتمزه امیدوار السون. تحریراً ربیع الاول سنه ۹۱۸.

جدید املاء میں تحریر:
ابوالمظفّر اسماعیل باهادور سؤزوموز
امیرِ اعظمِ اکرم موسی دوُرغوت اوْغلو عنایت و شفقتیمیزه امیدوار اوْلاندان صوْنرا شؤیله بیلسون کیم إفتخار الاعاظم و الاعیان احمد آقا قارامانلو اوْل طرفه گؤندردوک و اوْل یئرین اختیارلیغینی کندینه (بیله‌سینه) شفقت ائتسون. گره‌ک کیم مُشارإلیه سؤزوندن و مصلحتیندن چخماسون و متابعت و یاردیم اوْ آنگا (اونا) قیلسون کیم انشاالله تعالی هرنه کیم ائتمک مرادی و ایسته‌گی اوْلسا حاصل‌دور. گوندن گونه هر ایش واقع بوُلسا احمد آقا اتفاقی ایله درگاهٔ معلّامیزا بیلدورسونلر کیم هر نوع بویروغوموز اوْلسا عمل ائتسون؛ کونلوموزه (کؤنلوموزو) خوْش دوتوب مرحمتیمیزه اومیدوار اوْلسون. تحریراً ربیع الاوّل سنه ۹۱۸.

لاطینی رسم الخط میں تحریر:
«[1] [Əl-hükmü Billâh] Əbu’l-Müzəffər [İsmâ’il Bahadur] SÖZÜMİZ (Tuğra):
[2] Əmir-i ə’zəm-i əkrəm Mûsâ Durğut oğlı ‘inâyət və şəfqətimizə
[3] ümîdvâr olandan son͡gra şöylə bilsün kim iftixârü’l-ə’âzim
[4] və’l-ə’yân Əhməd Âqa Qaramanlu ol tərəfə göndərdük və ol yerin͡g ixtiyârligini kəndünə şəfqət etsün͡g.
[5] Gərək kim müşârüniləyh sözündən və məsləhətindən çıxmasun və mütâbə’ət və yardım o an͡ga (ona) qılsun kim inşâallâh
[6] tə’âlâ hər nə kim etmək murâdı və istəgi olsa hâsildür. Gündən-günə hər iş vâqe’ bulsa
[7] Əhməd Âqa ittifâqı ilə dərgâh-ı mu’əllâmıza bildürsünlər kim, hər nəv’ buyruğumuz olsa ‘əməl etsün; kön͡glümüzü xoş dutup, mərhəmətimizə ümîdvâr olsun. Təhrîrən [fî] 7 Rəbî’u’l-əvvəl sənə 918»

اردو ترجمہ:
ابوالمظفر [اسماعیل بہادر] ہمارا فرمان (طُغرا)
[الحکم باللہ]
امیرِ اعظمِ اکرم موسیٰ دورغوت اوغلو ہماری عنایت و شفت کا امیدوار ہونے کے بعد یہ جان لے کہ ہم نے افتخار الاعاظم والاعیان احمد آقا قارامنلی کو اُس طرف بھیجا ہے اور وہ جو فیصلہ منتخَب کرے اُس کی بجا آوری ہونی چاہیے۔ لازم ہے کہ ہر چیز میں مُشارٌ اِلَیہ کے حُکم و صوابدید کی متابعت اور مدد کی جائے تاکہ ان شاء اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی اُس کی مراد و آرزو ہو، وہ حاصل ہو جائے۔ روزانہ کے جو بھی واقعات ہوں، احمد آقا کی ہمکاری و اتفاق کے ساتھ اُن سے ہماری درگاہِ مُعلّیٰ کو مطّلع کیا جائے، تاکہ ہمارا جو بھی فرمان ہو اُس پر عمل ہو جائے؛ اور پس ہمارا دل شاد ہو جائے اور وہ ہماری مہربانی کے امیدوار ہو جائیں۔ تحریراً [فی] ربیع الاول سنہ ۹۱۸.

تُرکی مضمون کا مأخذ
اردو مترجم: حسّان خان


یا من بدا جمالک فی کل ما بدا – عبدالرحمٰن جامی

یا مَنْ بَدا جَمالُكَ فِي كُلِّ ما بَدا
بادا هزار جانِ مقدّس تو را فدا
می‌نالم از جداییِ تو دم به دم چو نَی
وین طُرفه‌تر که از تو نَیَم یک نَفَس جدا
عشق است و بس که در دو جهان جلوه می‌کند
گاه از لباسِ شاه و گه از کِسوتِ گدا
یک صوت بر دو گونه همی‌آیدت به گوش
گاهی ندا همی‌نِهیش نام و گه صدا
برخیز ساقیا ز کرم جُرعه‌ای بِریز
بر عاشقانِ غم‌زده زان جامِ غم‌زُدا
زان جامِ خاص کز خودی‌ام چون دهد خلاص
در دیدهٔ شُهود نمانَد به جز خدا
جامی رهِ هُدیٰ به خدا غیرِ عشق نیست
گفتیم والسّلامُ علیٰ تابِعِ الهُدیٰ
(عبدالرحمٰن جامی)

ترجمہ:
اے وہ کہ تمہارا جمال ہر اُس چیز میں ظاہر ہے جو وجود میں آئی ہے؛ ہزار جانِ گرامی تم پر فدا ہوں!
میں تمہاری جدائی کے باعث مسلسل نَے کی طرح نالہ و زاری کرتا رہتا ہوں؛ اور عجیب تر بات یہ ہے کہ میں تم سے ایک لحظے کے لیے بھی جدا نہیں ہوں۔ ×
[یہ] عشق ہے اور بس، جو دو جہاں میں جلوہ کرتا ہے؛ کبھی شاہ کے لباس [کے وسیلے] سے اور کبھی گدا کے جامے [کے وسیلے] سے۔۔۔
ایک [ہی] آواز دو طرزوں پر تمہارے گوش میں آتی ہے؛ گاہے تم اُس کا نام ندا رکھتے ہو اور گاہے صدا۔ ×
اُٹھو، اے ساقی، [اور] از راہِ کرم غم زدہ عاشقوں کی جانب اُس غم مٹانے والے جام سے ایک جُرعہ اُنڈیلو۔ ×
اُس جامِ خاص سے کہ جب وہ مجھے اپنی خودی و انانیت سے نجات دے دے تو دیدۂ شُہود میں بجز خدا کچھ نہ رہے۔
اے جامی! خدا کی قسم، عشق کے سوا کوئی راہِ ہدایت نہیں ہے؛ ہم نے کہہ دیا، پس ہدایت و راہِ راست کے پیرَو پر سلام ہو!

× نَے = بانسری × گوش = کان × جُرعہ = گھونٹ
× یہ غزل عبدالرحمٰن جامی کے دیوانِ اول ‘فاتحۃ الشباب’ کی اولین غزل ہے۔


دلم ز هجرِ خُراسان ازان هراسان است – عبدالرحمٰن جامی (فارسی + اردو ترجمہ)

دلم ز هجرِ خُراسان ازان هراسان است
که بحرِ فقر و مُحیطِ فنا خُراسان است
نخُست گوهر از آن بحر شاهِ بسطامی‌ست
که قُطبِ زنده‌دلان و خداشناسان است
بِکَش لباسِ رعونت که شیخِ خرقانی
سِتاده خِرقه به کف بهرِ بی‌لباسان است
بگو سپاسِ مِهین عارفی که در مهنه‌ست
که عشق در پیِ آزارِ ناسپاسان است
به گوشِ جان بِشِنو نکته‌های پیرِ هرات
که مشکلاتِ طریق از بیانش آسان است
چو کأسِ خویش شکستی بیا که ساقیِ جام
نهاده باده به دستِ شکسته‌کأسان است
گداییِ درشان پیشه کرده‌ای جامی
به جز تو کیست گدایی که پادشاسان است
(عبدالرحمٰن جامی)

ترجمہ:
میرا دل خُراسان کے ہجر سے اِس لیے خوف زدہ ہے کیونکہ فقر کا بحر اور فنا کا اوقیانوس خُراسان ہے۔
اُس بحرِ کے گوہرِ اولیں شاہِ بسطامی (بایزید بسطامی) ہیں، جو زندہ دلوں اور خدا شناسوں کے قُطب ہیں۔
لباسِ رعونت و تکبّر کو اتار دو کہ شیخِ خرقانی (ابوالحسن خرقانی) بے لباسوں کے لیے [اپنے] دست میں خرقہ اٹھائے کھڑے ہیں۔
اُن عارفِ بریں کو سپاس کہو جو مہنہ میں ہیں (ابوسعید ابوالخیر)، کہ عشق ناشُکروں کے آزار کے در پَے ہے۔
پیرِ ہرات (خواجہ عبداللہ انصاری) کے نکتوں کو بہ گوشِ جاں سنو، کہ طریقت کی مشکلات اُن کے بیان کے ذریعے آسان ہیں۔
اگر تم نے اپنا کاسہ توڑ دیا تو آؤ کہ ساقیِ جام (شیخ احمد جامی) نے شکستہ کاسہ افراد کے دست میں بادہ رکھا ہے۔
اے جامی! تم نے اُن کے در کی گدائی کو پیشہ بنایا ہے؛ تمہارے بجز ایسا گدا کون ہے جو پادشاہ کی مانند ہے؟

× بَسْطام، خَرَقان اور تُربتِ جام ایران کا حصہ ہیں، مَہنہ ترکمنستان میں ہے، جبکہ ہِرات افغانستان میں واقع ہے۔