وصلین منه حیات وئریر، فرقتین ممات – محمد فضولی بغدادی (ترکی + عربی نعت مع ترجمہ)

وصلین منه حیات وئریر، فرقتین ممات
سُبحانَ خالِقِی خَلَقَ المَوْتَ والحَیات
(آپ کا وصل مجھے زندگی بخشتا ہے جبکہ آپ کی فرقت موت؛ پاک ہے وہ میرا خالق جس نے موت اور حیات کو خلق کیا۔)

هجرانینه تحمّل ائدن وصلینی بولور
طوبیٰ لِمَن یُساعِدُهُ الصّبرُ والثبات
(آپ کے ہجر کو تحمل کرنے والا بالآخر آپ کے وصل سے بہرہ مند ہوتا ہے؛ وہ شخص کیا ہی خوش قسمت ہے جس کی اس سلسلے میں صبر و استقامت مدد کرتے ہیں۔)

مهرین‌دیر اقتنایِ مقاصد وسیله‌سی
ماشاءَ مَنْ اَرادَ، بِهِ الفَوْزُ والنَّجات!
(آپ کی محبت حصولِ مقاصد کا وسیلہ ہے؛ (انسان) جو کچھ چاہے، اور جس چیز کا ارادہ کرے اُس میں کامیابی و نجات آپ کی محبت کے ذریعے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔)

تؤکموش ریاضِ طبعیمه بارانِ شوقینی
مَنْ اَنزَلَ المِیاهَ وَاَحْیٰی بِهِ النّبات
(جو ذات پانی برسا کر پودوں کو زندہ کرتی ہے، اُسی نے میرے باغِ فطرت میں آپ کے اشتیاق کی بارش برسائی ہے۔)

حق آفرینشه سبب ائتدی وجودینی
اَوجَبْتَ بِالظُّهورِ ظُهُورَ المُکَوَّنات
(حق تعالیٰ نے آپ کے وجود کو آفرینش کا سبب بنایا، اور آپ اپنے ظہور سے کُل ہستی کے ظہور کا باعث بنے۔)

ایزد سریرِ حُسنه سَنی قیلدی پادشاه
اعلیٰ کَمالَ ذاتِكَ فی اَحْسَنِ الصِّفات
(خدا نے تختِ حسن پر آپ کو بادشاہ کیا اور آپ کی ذات کے کمال کو صفاتِ اعلیٰ سے رفعت بخشی۔)

قیلدین ادایِ نعت، فضولی تمام قیل
کَمِّلهُ بالسّلامِ وتَمِّمْهُ بالصّلاة
(اے فضولی! تم نے نعت کی ادائیگی کی، اب اسے تمام کرو؛ اس نعت کو اب سلام کے ساتھ مکمل کر لو اور اس کا صلوات کے ساتھ اختتام کرو۔)

(محمد فضولی بغدادی)

× اس نعت کے ہر شعر کا پہلا مصرع ترکی میں ہے، جبکہ دوسرا مصرع عربی میں۔ ایسے دولسانی کلام کے لیے فارسی میں ملمّع کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ترکی مصرعوں کا ترجمہ میں نے خود براہِ راست کیا ہے، جبکہ عربی مصرعوں کا اردو ترجمہ ترکی ترجمے سے کیا گیا ہے۔

۲۰۰۵ء میں جمہوریۂ آذربائجان کے دارالحکومت باکو سے شائع ہونے والے دیوانِ ترکیِ فضولی میں یہ نعتیہ غزل لاطینی خط میں یوں درج ہے:
Vəslin mənə həyat verir, firqətin məmat
Sübhanə xaliqi xələqəl movtə vəl-həyat
Hicranına təhəmmül edən vəslini bulur
Tuba limən yusaidühüs-səbrü vəs-səbat
Mehrindir iqtinai-məqasid vəsiləsi
Ma şaə mən əradə, bihil-fovzu vən-nəcat
Tökmüş riyazi-təb’imə barani-şövqini
Mən ənzələl-miyahə və əhya bihin-nəbat
Həq afərinişə səbəb etdi vücudini
Əvcəbtə biz-zühuri zühurəl-mükəvvənat
İyzəd səriri-hüsnə səni qıldı padişah
Ə’la kəmalə zatikə fi əhsənis-sifat
Qıldın ədayi-nə’t, Füzuli, təmam qıl
Kəmmilhu bis-səlami və təmmimhu bis-səlat


مکتب نه دئمکدیر؟​ – علی آقا واحد (مع اردو ترجمہ)

مکتب نه دئمکدیر؟​

مکتب دئمک انسانلار اوچون خانهٔ عبرت
مکتبدیر ائدن نوعِ بشر روحونو راحت​
مکتبدیر ایشیقلاندیران آفاقی سراسر
مکتبله فقط پاره‌لنیر پردهٔ ظلمت​
مکتب اگر اولمازسا بو دنیا اوزرینده
محو ائله‌یر انسانلاری بالمرّه جهالت​
شان و شرف انسانلارا مکبتله‌دیر آنجاق
مکتب‌سیز اولان کیمسه‌ده ظن ائتمه لیاقت!​
جاهل‌لری مکتبدیر ائدن مردِ خردمند
وحشی‌لری مکتبدیر ائدن واقفِ حکمت​
مکتبله بیلر خلق نه‌دیر خلقتِ عالم
مکتبدیر اولان کاشفِ اسرارِ طبیعت​
مکتبدیر ائدن ظلمدن انسانلاری آزاد
مکتبله اولور مقصده نائل بشریت​
انسان، بلی، مکتبله اولور هر ایشه دارا
مکتبله تاپار خلقِ جهان راهِ حقیقت​
مکتبله فقط گؤستریر اولادِ زمانه
تاریخده، هم علمده، صنعتده مهارت​

(علی آقا واحد)​

=========
(لاطینی خط میں نظم)

Məktəb nə deməkdir?

Məktəb demək insanlar üçün xaneyi-ibrət,
Məktəbdir edən növi-başər ruhunu rahət.
Məktəbdir işıqlandıran afaqı sərasər,
Məktəblə fəqət parələnir pərdeyi-zülmət.
Məktəb əgər olmazsa bu dünya üzərində,
Məhv eyləyər insanları bilmərrə cəhalət.
Şənü şərəf insanlara məktəblədir ancaq,
Məktəbsiz olan kimsədə zənn etmə ləyaqət!
Cahilləri məktəbdir edən mərdi-xirədmənd,
Vəhşiləri məktəbdir edən vaqifi-hikmət.
Məktəblə bilər xalq nədir xilqəti-aləm,
Məktəbdir olan kaşifi-əsrari-təbiət.
Məktəbdir edən zülmdən insanları azad,
Məktəbla olur məqsədə nail başəriyyət.
İnsan, bəli, məktəblə olur hər işə dara,
Məktəblə tapar xəlqi-cahan rahi-həqiqət.
Məktəblə fəqət göstərir övladi-zəmanə
Tarixda, həm elmdə, sənətdə məharət.

(Əliağa Vahid)

=========
(اردو ترجمہ)

مکتب کا کیا مطلب ہے؟​

مکتب (درس گاہ) کا مطلب ہے انسانوں کے لیے خانۂ عبرت۔۔۔ مکتب ہی وہ چیز ہے جو نوعِ بشر کی روح کو راحت بخشتی ہے۔​
مکتب ہی وہ (جگہ) ہے جو تمام آفاق کو منور کرتی ہے۔۔ پردۂ ظلمت مکتب کے توسط ہی سے پارہ پارہ ہوتا ہے۔​
اگر اس دنیا میں مکتب نہ ہوں تو جہالت انسانوں کو تماماً محو کر ڈالے۔​
انسانوں کو شان و شرف صرف مکتب ہی سے حاصل ہے۔۔۔ جو شخص بے مکتب (ناخواندہ/جاہل) ہے اُس میں لیاقت ہونے کا ظن مت رکھو۔​
جاہلوں کو مکتب ہی مردِ خردمند بناتا ہے۔۔ وحشیوں کو مکتب ہی واقفِ حکمت کرتا ہے۔۔۔​
مکتب سے انسان جانتا ہے کہ خلقتِ عالم کیا ہے۔۔ مکتب ہی اسرارِ طبیعت سے پردہ اٹھانے والی جگہ ہے۔​
مکتب انسانوں کو ظلم سے آزاد کرتا ہے۔۔۔ مکتب کے توسط سے بشریت اپنے مقصدِ غایت تک پہنچ پاتی ہے۔​
ہاں، انسان مکتب ہی سے ہر چیز کا مالک بنتا ہے۔۔۔ مکتب ہی سے خلقِ جہاں راہِ حقیقت پاتی ہے۔​
فقط مکتب کے توسط ہی سے ابنائے زمانہ تاریخ، علم اور صنعت میں مہارت دکھاتے ہیں۔​

(علی آقا واحد)​

* شاعر کے نام کے جز ‘آقا’ کو ایران اور جمہوریۂ آذربائجان میں آغا پڑھا جاتا ہے۔