عارف قزوینی کی تُرکی مخالف شاعری

گذشتہ صدی کے اوائل میں مشرقِ وسطی میں ملّت پرستانہ نظریات کے ظہور میں آنے کے نتیجے میں ایران میں تُرکی زبان فِشار کا نشانہ بننا شروع ہو گئی تھی، اور پہلوی دور میں تو تُرکی کی تعلیم و تدریس پر، تُرکی کتابوں کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اِس کا ایک مُحرِّک یہ بھی تھا کہ عُثمانی دور کے اواخر میں وہاں کے قوم پرست دانشمندان اتحادِ تُرکان کے نظریات کی تبلیغ کرنے لگے تھے، اور اُن کی خاص توجُّہ آذربائجان کی جانب تھی، کیونکہ بہرحال آذربائجانیان اُن کے ہم زبان اور تُرک تھے۔ اُن کی آرزو یہ تھی کہ قفقازی و ایرانی آذربائجان بالترتیب رُوسی اور ایرانی سلطنتوں سے خلاصی پا کر عظیم تر عُثمانی-تُرک سلطنت کا حصّہ بن جائیں، اور یہ خواہش بالعموم قفقازی آذربائجان کے تُرک قوم پرست بانیان و دانشمندان کی بھی تھی۔ ایران میں تُرک قوم پرستی اُس وقت تک متولّد نہیں ہوئی تھی، اِس لیے وہاں اِن تبلیغات کو اُس وقت زیادہ پذیرائی نہ مِلی۔ لیکن ردِّ عمل کے طور پر ایرانی/فارسی قوم پرستوں میں تُرکوں اور تُرکی زبان کے خلاف شدید بیزاری کے احساسات پیدا ہو گئے تھے، اور اُن کی اُس وقت سے یہ کوشش رہی ہے کہ ایرانی آذربائجان سے زبانِ تُرکی کو ‘رفع دفع’ کر دیا جائے۔ وہ تُرکی کو اُسی طرح اپنی ریاست کی سلامتی کے لیے مسئلہ سمجھتے ہیں، جس طرح ریاستِ تُرکیہ میں کُردی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اور جس طرح تُرکیہ کے مُقتدِر حلقوں میں یہ خوف ہے کہ کہیں کُردی کی تدریس کے نتیجے میں تُرکیہ کے کُردوں میں کُرد قومی احساسات کی مزید تقویت نہ ہو جائے، اُسی طرح ایرانی/فارسی قوم پرستان بھی ایرانی آذربائجانیوں کے لسانی و ثقافتی حقوق کو زیرِ پا رکھنے پر مُصِر ہیں ‘تاکہ خدانخواستہ ایران مُنقسِم نہ ہو جائے’ (حالانکہ مجموعی طور پر ایرانی آذربائجانیان میں ایران سے جدا ہو جانے کے کوئی لائقِ ذکر احساسات نہیں ہیں)۔ جائے خوشنودی ہے کہ ایران میں تُرکی مخالفوں کی کوشش تا حال ناکام رہی ہے اور ایرانی آذربائجان سے تُرکی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ انٹرنیٹی دور کی آمد کے بعد سے، اور اُس کے نتیجے میں جمہوریۂ آذربائجان و تُرکیہ کے مردُم کے ساتھ نزدیک تر ارتباطات کے نتیجے میں تُرکانِ ایران میں بھی تُرکی خواندگی اور تُرکی کے معیار میں بہتری آنے لگی ہے۔
گذشتہ صدی کے ایرانی وطن پرست و قوم پرست شاعر عارف قزوینی نے ۱۹۱۵ء سے ۱۹۱۹ء تک کا زمانہ عُثمانی سلطنت میں گُذارا تھا، وہاں وہ داعیانِ اتحادِ تُرکان کے آذربائجان کی بارے میں خیالات کے ردِّ عمل میں شدیداً تُرک و تُرکی مخالف ہو گئے تھے، اور اُنہوں نے اپنی کئی نظموں میں زبانِ تُرکی کی مذمّت میں ابیات کہی ہیں۔ مثلاً وہ ۱۸ مارچ ۱۹۲۵ء کو آذربائجان میں کہی گئی ایک غزل میں زبانِ تُرکی کے خلاف کہتے ہیں:
چه سان نسوزم و آتش به خُشک و تر نزنم
که در قلمروِ زردُشت حَرفِ چنگیز است
زبانِ سعدی و حافظ چه عیب داشت که‌اش
بدل به تُرک زبان کردی این زبان هیز است
رَها کُنَش که زبانِ مُغول و تاتار است
ز خاکِ خویش بِتازان که فتنه‌انگیز است
دُچارِ کشمکش و شرِّ فتنه‌ای زین آن
اِلَی‌الابد به تو تا این زبان گلاویز است
به دیو‌خُوی سُلیمان نظیف گوی که خوب
درست غور کن انقوره نیست تبریز است
ز اُستُخوانِ نیاکانِ پاکِ ما این خاک
عجین شده‌ست و مُقدّس‌تر از همه چیز است
(عارف قزوینی)
میں کیسے نہ جلوں اور کیوں نہ خُشک و تر کو آتش لگا دوں؟ کہ زرتُشت کی قلمرو میں چنگیز کی زبان رائج ہے۔۔۔ سعدی و حافظ کی زبان میں کیا عیب تھا کہ تم نے اُس کو دے کر تُرکی زبان لے لی؟۔۔۔ یہ زبان مُخنّث ہے!۔۔۔ اِس کو تَرک کر دو کہ یہ منگول و تاتار کی زبان ہے۔۔۔ اِس کو اپنی خاک سے دور بھگا دو کہ یہ فتنہ انگیز ہے۔
(فارسی ایرانی قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ تُرکی آذربائجان کی ‘اصلی’ و ‘حقیقی’ زبان نہیں ہے، بلکہ یہ زبان وہاں منگولوں اور تُرکوں کے حملوں کے نتیجے میں رائج ہوئی ہے۔ لہٰذا، اُن کی ‘لسانی تطہیر’ ہونی چاہیے اور اُن کو تُرکی زبان تَرک کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔۔۔ مصرعِ دوم میں اُس روایت کی جانب اشارہ ہے جس کے مطابق زرتُشت کا جائے تولُّد دیارِ آذربائجان تھا، اگرچہ بیشتر مُعاصر مُحقّقین اِس روایت کو درست نہیں مانتے، اور اُن کا کہنا ہے کہ زرتُشت احتمالاً حالیہ افغانستان میں یا مشرقی ایران میں کہیں متولّد ہوا تھا۔)
جب تک یہ [تُرکی] زبان تم سے چِمٹی ہوئی ہے، تم تا ابد اِس کے باعث نِزاع و جِدال، اور شرِّ فتنہ سے دوچار رہو گے۔۔۔۔ دیو فطرت سُلیمان نظیف سے کہو کہ خوب درستی کے ساتھ غور کرو، یہ انقرہ نہیں، بلکہ تبریز ہے۔۔۔ یہ خاک ہمارے اجدادِ پاک کے اُستُخوانوں (ہڈیوں) سے عجین ہو چکی ہے اور [یہ] ہمارے لیے ہر چیز سے زیادہ مُقدّس ہے۔
× سُلیمان نظیف = ایک عُثمانی شاعر و مُتفکِّر کا نام
× عجین ہونا = گُندھنا

اتنی طویل تحریر اِس لیے لکھی ہے کیونکہ تاریخی پس منظر بیان کیے بغیر مندرجۂ بالا ابیات کا مفہوم کُلّاً سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ نیز، اِس لیے بھی کہ میں فارسی کی مانند تُرکی سے بھی محبّت کرتا ہوں، اور میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حاشا و کلّا ایرانی آذربائجان سے تُرکی محو ہو جائے، بلکہ میں وہاں تُرکی کو ہر دم توانا دیکھنا چاہتا ہوں۔


پس نوشت: گذشتہ صدی میں عُثمانی و ایرانی قوم پرستوں میں یہ زہرآلود، تباہی برانگیز اور غیر جمہوری تفکُّر فرانس اور دیگر یورپی ممالک سے آ کر رائج ہو گیا تھا کہ کسی ریاست میں صرف ایک زبان ہونا، اور باقی دیگر زبانوں پر پابندی ہونا لازم ہے۔ اِسی لیے تُرکیہ میں کُردی اور ایران میں تُرکی (اور دیگر زبانیں) تحتِ فِشار رہی ہیں، اور اُن کو محو کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جبراً لسانی یکساں سازی کی ریاستی کوششوں کے لحاظ سے تُرکیہ کی تاریخ ایران کے مقابلے میں مزید داغ دار ہے، کیونکہ ایران میں ۱۹۷۹ء کے بعد سے تُرکی کو اِجباراً محو کرنے کی کوششیں ریاستی سطح پر ختم ہو گئی ہیں اور ایران میں اِجباری لسانی یکساں سازی کی کوششیں تُرکیہ کی طرح شدید نہیں تھیں۔

Advertisements

میں نے تُرکی کیوں سیکھی؟

دیارِ آذربائجان کے قلب شہرِ تبریز سے تعلق رکھنے والے دوست ارسلان بای، جن کی مادری زبان دیگر آذربائجانیوں اور تبریزیوں کی طرح تُرکی ہے، نے مجھ سے یہ سوال پوچھا تھا:

سوال:
حسان بئی، سن نئجه آذربایجان تۆرکجه‌سینه علاقه تاپدېن و بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین؟
من بیلمه‌دیم سن نه‌دن مین‌لرجه دیل آراسېندان آذربایجان تۆرکجه‌سینی اؤیرنمک اۆچۆن سئچدین! هانسې کتاب‌لارې اۏخوماقلا بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین
تۆرکجه‌یه بو سئوگین هارادان گلیر؟
ترجمہ:
آقائے حسان، آذربائجانی تُرکی میں تمہاری دلچسپی کس طرح پیدا ہوئی، اور اِس زبان کو تم کس طرح آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
میں سمجھ نہیں پایا کہ ہزاروں زبانوں کے درمیان تم نے سیکھنے کے لیے آذربائجانی تُرکی [ہی] کو کس وجہ سے مُنتخَب کیا! کن کتابوں کا مطالعہ کر کے تم اِس زبان کو آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
تُرکی زبان سے تمہاری یہ محبّت کس سبب سے ہے؟

جواب:
سلام علیکم!
اجازه دهید که پاسخم را به فارسی بنویسم، چون ترکی‌ام آن قدر هم خوب نیست که بتوانم جواب‌های طولانی را به راحتی به ترکی بنویسم.
من به شعر و شاعری علاقه‌ی وافری داشتم، و مذهب تشیع و کشور ایران نیز برایم جالب توجه بوده… ما پاکستانیان زبان فارسی را دوست داریم، چون مشاهده کرده‌اید که اردو خیلی به فارسی قرابت دارد. تقریبا‌ً ده سال پیش من از طریق انترنت یاد گرفتن فارسی را آغاز کردم، چون می‌خواستم که بتوانم شعر و کتب فارسی را بدون ترجمه بخوانم. در آن زمان من در بارهٔ آذربایجان و ترکان آذربایجان و زبان ترکی هیچ چیزی نمی‌دانستم… من گمان می‌کردم که در ایران هر کسی به فارسی صحبت می‌کند و زبان ترکی محدود به ترکیه است. روزی یک دوست انترنتی‌ام، که اسپانیایی بود و فارسی و ترکی هر دو را بلد بود، نشان داد که تا چه حدی ترکی کلاسیک ممزوج به فارسی بوده و شعر ترکی هم مثل شعر فارسی دارای لطافت و ظرافت و زیبایی خارق العاده بوده… به محض دیدن این، شوق زبان ترکی به شدت دامنم گرفت و تمایلی شدید به یاد گرفتن ترکی پیدا کردم… لذا شروع به یادگیری زبان ترکی هم کردم…. آن گاه من مطلع شدم که ترکی در ایران هم گویشوران زیادی دارد، و حتّیٰ ترکان ایران، برخلاف ترکان ترکیه، سنت‌های والای ملی و هزارساله‌ی خود را بهتر نگه داشته‌اند… آگاه شدم که در مقایسه با ترکی ترکیه، ترکی آذربایجان با ترکی کلاسیک هزارساله نزدیک‌تر است، و آذربایجانیان می‌توانند به راحتی آثار گرانقدر کلاسیک ترکی را بخوانند، که برای اهل ترکیه دیگر ممکن نیست، و آنها مجبورند که آثار فضولی و نسیمی وغیره را همراه با ترجمه به ترکی معاصر بخوانند. اهل ترکیه را از گذشتهٔ ادبی خود منقطع کرده‌اند، ولی این وضعیت اسف‌ناک در مورد آذربایجانیان صادق نمی‌آید. رفته رفته من عاشق آذربایجان شدم و بعد شروع کردم به دیدن آذربایجان چون وطن معنوی خودم… واقعاً دیار آذربایجان را خیلی دوست دارم و می‌خواهم که روزی بروم آنجا و خاک پاک آن دیار را ببوسم… گفته بودم که من عاشق آذربایجانم… از این رو زبان ترکی را مثل زبان مادری خود می‌پندارم و دوستش دارم. و سعی دارم که به زبان ترکی تسلط کاملی پیدا کنم.
از صدا و صوت‌های زبان ترکی خوشم می‌آید. خیلی زبان شیرینی‌ست. 🙂
ترجمہ:
السلام علیکم!
مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا جواب فارسی میں لکھوں، کیونکہ میری تُرکی اس قدر بھی خوب نہیں ہے کہ میں طویل جوابوں کو آسانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکوں۔
مجھے شعر و شاعری سے وافر دلچسپی تھی، اور مذہبِ تشیُّع اور مُلکِ ایران بھی میرے لیے جالبِ توجہ تھے۔۔۔ ہم پاکستانی فارسی سے محبّت کرتے ہیں، کیونکہ آپ مشاہدہ کر چکے ہیں کہ اردو فارسی سے بِسیار قرابت رکھتی ہے۔ تقریباً دس سال قبل میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے فارسی سیکھنے کا آغاز کیا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میں فارسی شاعری اور کتابوں کو ترجمے کے بغیر خوان (پڑھ) سکوں۔ اُس وقت میں آذربائجان، تُرکانِ آذربائجان اور زبانِ تُرکی کے بارے میں کوئی چیز بھی نہیں جانتا تھا۔ میں گمان کرتا تھا کہ ایران میں ہر شخص فارسی میں گفتگو کرتا ہے، اور زبانِ تُرکی تُرکیہ تک محدود ہے۔ ایک روز میری ایک ہسپانوی انٹرنیٹی دوست نے، جو فارسی و تُرکی ہر دو زبانوں کو جانتی تھی، نے دکھایا کہ کلاسیکی تُرکی کس حد تک فارسی کے ساتھ مخلوط رہی ہے، اور تُرکی شاعری بھی فارسی شاعری کی طرح فوق العادت لطافت و ظرافت و زیبائی کی مالک رہی ہے۔ یہ دیکھتے ہی تُرکی زبان سیکھنے کا شوق شدّت سے دامن گیر ہو گیا اور مجھ میں تُرکی سیکھنے کے شدید تمایُلات پیدا ہو گئے۔ لہٰذا میں نے تُرکی زبان سیکھنا بھی شروع کر دی۔ اُس وقت میں آگاہ ہوا کہ ایران میں بھی کثیر تعداد میں تُرکی گو موجود ہیں، حتّیٰ کہ تُرکانِ ایران نے، تُرکانِ تُرکیہ کے برخلاف، اپنی ہزارسالہ عالی ملّی روایات کی بہتر مُحافظت کی ہے۔۔۔ میں آگاہ ہوا کہ تُرکیہ کی تُرکی کے مقابلے میں آذربائجان کی تُرکی ہزارسالہ کلاسیکی تُرکی سے نزدیک تر ہے، اور آذربائجانیان آسانی کے ساتھ گراں قدر کلاسیکی تُرکی آثار کو خوان سکتے ہیں، جو اہلِ‌ تُرکیہ کے لیے مزید ممکن نہیں ہیں اور وہ فضولی و نسیمی وغیرہ کے آثار کو مُعاصر تُرکی میں ترجمے کے ساتھ خواننے (پڑھنے) پر مجبور ہیں۔ اہلِ تُرکیہ کو اُن کے ادبی ماضی سے منقطع کر دیا گیا ہے، لیکن یہ افسوس ناک صورتِ حال آذربائجانیوں کے بارے میں صادق نہیں آتی۔ آہستہ آہستہ میں آذربائجان کا عاشق ہو گیا اور میں آذربائجان کو خود کے روحانی وطن کے طور پر دیکھنے لگا۔ واقعاً میں دیارِ آذربائجان سے بِسیار محبّت کرتا ہوں اور خواہش مند ہوں کہ ایک روز وہاں جاؤں اور اُس دیار کی خاکِ پاک کو بوسہ دوں۔۔۔ میں آپ سے کہہ چکا تھا میں عاشقِ آذربائجان ہوں۔۔۔ اِس لیے میں زبانِ تُرکی کو اپنی مادری زبان کے مثل تصوُّر کرتا ہوں اور اُس سے محبّت کرتا ہوں۔ اور میری کوشش ہے کہ میں تُرکی زبان پر کامل تسلُّط پیدا کر سکوں۔
مجھے زبانِ تُرکی کی صدائیں اور اصوات پسند ہیں۔ یہ ایک بِسیار شیریں زبان ہے۔ 🙂

(یاد دہانی: آقائے ارسلان کی یہ خوش گُمانی ہے، جس کے لیے بہر حال میں مُتَشکِّر ہوں، کہ میں آذربائجانی تُرکوں سے بہتر تُرکی جانتا ہوں، حالانکہ میں تُرکی زیادہ خوب نہیں جانتا، اِس کا ثبوت یہی ہے کہ میں جواب کو تُرکی میں نہ لکھ سکا۔
اُن کا ایسا گُمان رکھنے کی شاید وجہ یہ ہے کہ اُن سے مراسلت کرتے ہوئے میں معیاری کتابی تُرکی میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے کتابوں کی مدد سے معیاری ادبی زبان ہی کس قدر سیکھی ہے۔ جبکہ اہلِ آذربائجانِ ایران ہنوز مکتبوں میں تُرکی کی بطورِ مضمون بھی تدریس حاصل نہیں کر پاتے، جس کے باعث اُن میں سے اکثر افراد تُرکی لکھنے میں مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، اور گُفتاری زبانچوں میں یا فارسی میں مراسلت و مکاتبت وغیرہ کرتے ہیں۔ وہ تُرکی کی بجائے فارسی زیادہ بہتر طریقے سے لکھ سکتے ہیں، کیونکہ اُن کی تعلیم و تدریس فارسی ہی میں ہوئی ہوتی ہے۔ آرزو کرتا ہوں کہ ایران میں تُرکی گویوں کو مکاتب میں اپنی مادری زبان بخوبی سیکھنے اور اُس میں تعلیم یاب ہونے کا حق حاصل ہو جائے، تاکہ تُرکیہ اور جمہوریۂ آذربائجان کے مردُم کی طرح وہ بھی روانی و خوبی و فراوانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکیں!)


آذربائجانی تُرکوں کی فارسی کی جانب رغبت – فریدون بیگ کؤچرلی

قفقازی آذربائجانی ادیب فریدون بیگ کؤچرلی اپنی کتاب ‘آذربایجان ادبیاتې’ (ادبیاتِ آذربائجان)، جو اُن کی وفات کے بعد ۱۹۲۵ء میں استانبول سے شائع ہوئی تھی، کی جلدِ اول میں لکھتے ہیں:

"کئچمیش‌ده شوکت و قوت صاحبی اۏلان ایران دولتی مدتِ متمادیه ایله تمامی آذربایجان ولایتینه صاحب‌لیک و حکم‌ران‌لېق ائدیب‌دیر. آذربایجان تۆرک‌لری بو دولتِ عظیمه‌نین تحتِ حکومتینده خیلی زمان زندگان‌لېق ائدیب‌دیر. بو جهته ایرانېن نفوذ و تأثیری آذربایجان تۆرک‌لرینه حددن زیاده اۏلوب‌دور. بو تأثیرات ظاهری، یعنی هیئت و قیافت‌ده، طرزِ لباس و خوراک‌ده و سایر اوضاعی و احوال‌ده و امرِ معاش‌ده گؤرسندیڲی کیمی، باطنی و معنوی صورت‌ده دخی اۏلوب‌دور که، اۏن‌لار اخلاق و اطواردا، آیین و آداب‌دا، لسان و ادبیات‌دا مشاهده اۏلونان اثرلردیر. معلوم اۏلا که، آذربایجان تۆرک‌لری هر دیل‌دن زیاده خۏش‌لادېغې، میل و رغبت گؤستردیڲی فارس دیلی اۏلوب‌دور. "لفظ – لفظِ عرب است، فارسی – شکر است، ترکی – هنر است” – دئدیک‌ده بیزیم تۆرک‌لر عرب لسانېنې تعریف ائدیب و تۆرک دیلینده سؤیله‌مڲی هنر بیلیب، هر ایکی دیل‌دن زیاده میل و هوس گؤستردیک‌لری ‘شکر’ اۏلوب‌دور که، فارس دیلیندن عبارت‌دیر. بو دیلین زیاده شیرین و خۏش شیوه‌لی اۏلماغېنا بیر کسین شبهه‌سی یۏخ‌دور. اۏنا بناءً بیزیم مکتب‌لرده بو آخر وقت‌لارا کیمی تعلیم و تدریس فارس دیلینده اۏلوب، اوشاق‌لارېمېزېن اۏخودوغو فارس کتاب‌لارې اۏلوب‌دور. نوشته‌جات و مرسولاتېمېز دخی بو دیل‌ده جاری اۏلوب، تۆرک دیلینه آرتېق میل و رغبت گؤرسه‌نیل‌مه‌ییب‌دیر. آذربایجانېن ایرانا متعلق حصه‌لرینده ایندی دخی تعلیم و تدریس و کتابت فارس دیلینده ایشله‌نیر. زافقازیادا آنا دیلی آنجاق آز وقت‌دان بری‌دیر که، آذربایجان تۆرک‌لری‌نین دقّتی‌نی جلب ائدیب، اؤزۆ اۆچۆن بیر نوع حرمت و اهمیت کسب ائتمڲه باشلایېب‌دېر.”

ترجمہ:
"گذشتہ زمانوں میں شوکت و قوت کی مالک دولتِ ایران نے مُدّتِ مدید تک تمام ولایتِ آذربائجان پر مِلکیت و حکمرانی کی ہے۔ آذربائجانی تُرکوں نے اِس دولتِ عظیمہ کی حکومت کے تحت کئی زمانوں تک زندگانی کی ہے۔ اِس وجہ سے آذربائجانی تُرکوں پر ایران کا نفوذ و اثر حد سے زیادہ ہوا ہے۔ یہ تأثیرات جس طرح ظاہری صورت میں یعنی ہیئت و قیافہ میں، طرزِ لباس و خوراک میں اور دیگر اوضاع و احوال میں اور امرِ معاش میں نظر آتی ہیں، اُسی طرح باطنی و معنوی صورت میں بھی ہوئی ہیں، جن کا مشاہدہ اخلاق و اطوار میں، رُسوم و آداب میں، لسان و ادبیات میں ہوتا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ جو زبان آذربائجانی تُرکوں کو ہر زبان سے زیادہ پسند آئی ہے اور جس کی جانب اُنہوں نے سب سے زیادہ مَیل و رغبت دکھائی ہے وہ زبانِ فارسی ہے۔ "لفظ – لفظِ عرب است، فارسی – شَکَر است، تُرکی – هنر است” کہتے ہوئے ہمارے تُرکوں نے عربی زبان کی تعریف کی ہے اور تُرکی زبان میں بات کرنے کو ہُنر جانا ہے، لیکن اِن دونوں زبانوں سے زیادہ مَیل و رغبت اُنہوں نے ‘شَکَر’، یعنی فارسی کی جانب دِکھائی ہے۔ اِس زبان کے بِسیار شیرین و خوش طرز ہونے کے بارے میں کسی شخص کو کوئی شُبہہ نہیں ہے۔ لہذا ہمارے مکاتب میں اِن آخر وقتوں تک تعلیم و تدریس فارسی زبان میں ہوتی رہی اور ہمارے اطفال فارسی کتابیں خوانتے (پڑھتے) رہے ہیں۔ ہمارے نوِشتہ جات اور مراسلات بھی اِس زبان میں جاری ہوتے رہے ہیں، اور تُرکی زبان کی جانب زیادہ مَیل و رغبت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ آذربائجان کے جو حصّے ایران میں ہیں، اُن میں ہنوز تعلیم و تدریس و کتابت فارسی زبان میں انجام پاتی ہے۔ قفقاز [یعنی قفقازی آذربائجان] میں مادری زبان نے محض چند زمانے قبل ہی آذربائجانی تُرکوں کی توجُّہ کو جلب کر کے اپنے لیے ایک طرح کا احترام و اہمیت کسب کرنا شروع کیا ہے۔”

لاطینی رسم الخط میں:
"Keçmişdə şövkət və qüvvət sahibi olan İran dövləti müddəti-mütəmadiyyə ilə təmami Azərbaycan vilayətinə sahiblik və hökmranlıq edibdir. Azərbaycan türkləri bu dövləti-əzimənin təhti-hökumətində xeyli zaman zindəganlıq edibdir. Bu cəhətə İranın nüfuz və tə’siri Azərbaycan türklərinə həddən ziyadə olubdur. Bu tə’sirat zahiri, yə’ni hey’ət və qiyafətdə, tərzi-libas və xörəkdə və sair övza’i və əhvalda və əmri-məaşda görsəndiyi kimi, batini və mə’nəvi surətdə dəxi olubdur ki, onlar əxlaq və ətvarda, ayin və adabda, lisan və ədabiyyatda müşahidə olunan əsərlərdir. Mə’lum ola ki, Azərbaycan türkləri hər dildən ziyadə xoşladığı, meyl və rəğbət göstərdiyi fars dili olubdur. "Ləfz – ləfzi-ərəbəst, farsi – şəkərəst, türki – hünərəst” – dedikdə bizim türklər ərəb lisanınını tə’rif edib və türk dilində söyləməyi hünər bilib, hər iki dildən ziyadə meyl və həvəs göstərdikləri "şəkər” olubdur ki, fars dilindən ibarətdir. Bu dilin ziyadə şirin və xoş şivəli olmağına bir kəsin şübhəsi yoxdur. Ona binaən bizim məktəblərdə bu axır vaxtlara kimi tə’lim və tədris fars dilində olub, uşaqlarımızın oxuduğu fars kitabları olubdur. Nəviştəcat və mərsulatımız dəxi bu dildə cari olub, türk dilinə artıq meyl və rəğbət görsənilməyibdir. Azərbaycanın İrana mütəəlliq hissələrində indi dəxi tə’lim və tədris və kitabət fars dilində işlənir. Zaqafqaziyada ana dili ancaq az vaxtdan bəridir ki, Azərbaycan türklərinin diqqətini cəlb edib, özü üçün bir növ hörmət və əhəmiyyət kəsb etməyə başlayıbdır.