حافظ شیرازی کی ستائش میں آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ کے اقوال

(لقب)
شاعر – محمد شمس‌الدین، به من بگو: چرا ملت بزرگ و نامی تو ترا حافظ لقب داده‌است؟
حافظ – پرسشت را پاس می‌دارم و بدان پاسخ می‌گویم: مرا حافظ نامیدند، زیرا قرآن مقدس را از بر داشتم، و چنان پرهیزکارانه آیین پیمبر را پیروی کردم که غم‌های جهان و زشتی‌های روزانهٔ آن در من و آنانکه چون من روح و معنی کلام پیمبر را دریافته‌اند اثر نکرد.
(لقب)
شاعر: محمد شمس الدین، مجھ سے کہو: تمہاری بزرگ و نامور ملّت نے کس لیے تمہیں حافظ لقب دیا ہے؟
حافظ: میں تمہارے سوال کا احترام کرتا ہوں اور اُس کا جواب دے رہا ہوں: مجھے اُنہوں نے حافظ کا نام دیا کیونکہ میرے سینے میں قرآنِ مقدّس محفوظ تھا اور میں نے طریقِ پیمبر کی اِس طرح پرہیزکارانہ پیروی کی کہ دنیا کے غموں اور اُس کی روزانہ کی بدصورتیوں نے مجھ میں، اور اُن افراد میں کہ جو میری طرح کلامِ پیمبر کی روح و معنی کو فہم کر چکے ہیں، اثر نہ کیا۔

معروف آلمانی شاعر ‘گوتِه’ اپنے دفترِ خاطرات میں حافظ شیرازی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"دارم دیوانه می‌شوم. اگر برای تسکین هیجان خود دست به غزل‌سرایی نزنم، نفوذ عجیب این شخصیت خارق‌العاده را که ناگهان پا در زندگانی من نهاده تحمل نمی‌توانم کرد.”
"میں دیوانہ ہوتا جا رہا ہوں۔ اگر میں اپنے ہیجان کی تسکین کے لیے غزل سرائی کا اِقدام نہ کروں، تو ناگہانی طور پر میری زندگی میں قدم رکھنے والی اِس خارقِ عادت شخصیت [یعنی حافظ شیرازی] کے تعجب انگیز نفوذ کو میں تحمّل نہیں کر پاؤں گا۔”

"اگر هم دنیا به سر آید، آرزو دارم که تنها، ای حافظ آسمانی، با تو و در کنار تو باشم و چون برادر توأم در شادی و غمت شرکت کنم. همراه تو باده نوشم و چون تو عشق ورزم، زیرا این افتخار زندگی من و مایهٔ حیات من است.”
"اے حافظِ ملکوتی! خواہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے، میری آرزو ہے کہ میں صرف تمہارے ساتھ اور تمہارے پہلو میں رہوں اور تمہارے برادرِ توأم کی طرح تمہاری شادی و غم میں شرکت کروں۔ تمہارے ہمراہ بادہ نوش کروں اور تمہاری طرح عشق کروں، کیونکہ یہ میری زندگی کا افتخار اور میری حیات کی اساس ہے۔
× توأم = دوقلو، جڑواں

معروف آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ ایک جا حافظ شیرازی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"ناگهان با عطر آسمانی شرق و نسیم روح‌پرور ابدیت که از دشت‌ها و بیابان‌های ایران می‌وزید آشنا شدم و مرد خارق‌العاده‌ای را شناختم که شخصیت عجیبش مرا سراپا مجذوب خویش کرد.”
"میں ناگہاں مشرق کے آسمانی عطر اور ابدیت کی نسیمِ روح پروَر سے، جو ایران کے دشتوں اور بیابانوں سے آ رہی تھی، آشنا ہوا اور ایک فوق العادت شخص [حافظ شیرازی] سے واقف ہوا کہ جس کی حیرت انگیز شخصیت نے مجھ کو سراپا اپنا مجذوب کر لیا۔”

معروف آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ ایک جا اپنے شعری مجموعے ‘دیوان’ کے بارے میں لکھتے ہیں:
"به ساختن جام جمی مشغولم که با آن علیٰ رغم زاهدان ریایی دنیای ابدیت را عیان خواهم دید و ره بدان بهشت جاودان که خاص شاعران غزل‌سراست خواهم بُرد تا در آنجا در کنار حافظ شیراز مسکن گزینم.”
"میں ایک [ایسا] جامِ جم بنانے میں مشغول ہوں کہ جس کے ذریعے میں، زاہدانِ ریائی کی خواہش کے برخلاف، دنیائے ابدیت کو عیاں دیکھوں گا، اور اُس بہشتِ جاوداں کی جانب راہ پیدا کروں گا جو شاعرانِ غزل سرا سے مخصوص ہے، تاکہ وہاں حافظِ شیرازی کے پہلو میں مسکن اختیار کر سکوں۔”

"ای حافظ! درین سفرِ دور و دراز، در کوره‌راهِ پُرنیشب و فراز، همه جا نغمه‌هایِ آسمانی تو رفیقِ راه و تسلّی‌بخشِ دلِ ماست؛ مگر نه راه‌نمایِ ما هر شام‌گاهان با صدایی دل‌کش بیتی چند از غزل‌هایِ شورانگیزِ تو می‌خواند تا اخترانِ آسمان را بیدار کند و ره‌زنانِ کوه و دشت را بترساند؟”
"اے حافظ! اِس دور و دراز سفر میں، [اور اِس] پُرنشیب و فراز و پُرپیچ و خم راہ میں ہر جا تمہارے آسمانی نغمے ہمارے رفیقِ راہ ہیں اور ہمارے دل کو تسلّی بخشتے ہیں؛ آیا کیا ہمارا راہنما ہر شام کے وقت دلکش صدا کے ساتھ تمہاری ہیجان انگیز غزلوں سے چند ابیات کی قرائت نہیں کرتا تاکہ آسمان کے ستاروں کو بیدار کرے اور کوہ و دشت کے رہزنوں کو خوف زدہ کرے؟”

"ای حافظ مقدس! آرزو دارم که همه جا، در سفر و حضر، در گرمابه و میخانه با تو باشم، و در آن هنگام که دلدار نقاب از رخ برمی‌کشد و با عطر گیسوان پرشکنش مشام جان را معطر می‌کند تنها به تو اندیشم تا در وصف جمال دل‌فریبش از سخنت الهام گیرم و ازین وصف حوریان بهشت را به رشک افکنم!”
"اے حافظِ مقدّس! میری آرزو ہے کہ ہر جگہ، سفر و حضَر میں، [یا] حمّام و میخانہ میں، مَیں تمہارے ساتھ رہوں، اور جس وقت کہ دلدار چہرے سے نقاب اُتارے گا اور اپنے پُرشِکن گیسوؤں کے عطر سے مشامِ جاں کو معطّر کرے گا، میں فقط تمہارے بارے میں سوچوں تاکہ اُس کے جمالِ دل فریب کی توصیف میں تمہارے سُخن سے اِلہام لوں اور اِس توصیف سے حوریانِ بہشت کو رشک میں ڈال دوں!”

"ای حافظ، همچنانکه جرقّه‌ای برای آتش زدن و سوختن شهر امپراتوران کافی‌ست، از گفتهٔ شورانگیز تو چنان آتشی بر دلم نشسته که سراپای این شاعر آلمانی را در تب و تاب افکنده‌است.”
"اے حافظ! جس طرح کہ شہنشاہوں کے شہر کو آتش لگانے اور جلانے کے لیے ایک شرارہ کافی ہے، [اُسی طرح] تمہارے ہیجان انگیز سُخنوں سے میرے دل میں اِس طرح ایک آتش بیٹھ گئی ہے کہ اُس نے اِس آلمانی شاعر کے کُل سراپا کو تب و تاب و سوز و گُداز میں ڈال دیا ہے۔”

"ای حافظ، سخن تو همچون ابدیت بزرگ است، زیرا آن را آغاز و انجامی نیست. کلام تو چون گبند آسمان تنها به خود وابسته است و میان نیمهٔ غزل تو با مطلع و مقطعش فرقی نمی‌توان گذاشت، چه همهٔ آن در حد جمال و کمال است.”
"اے حافظ! تمہارا سُخن عظیم ابدیت کی مانند ہے، کیونکہ اُس کا کوئی آغاز و انجام نہیں ہے۔ تمہارا کلام گُبندِ آسمان کی طرح فقط اپنے آپ کا تابع ہے، اور تمہاری غزل کے نصف اور اُس کے مطلع و مقطع کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ [غزل] تمام کی تمام ہی جمال و کمال کی انتہا میں ہے۔”

"حافظا، دلم می‌خواهد از شیوهٔ غزل‌سرایی تو تقلید کنم. چون تو قافیه پردازم و غزل خویش را به ریزه‌کاری‌های گفتهٔ تو بیارایم. نخست به معنی اندیشم و آن‌گاه بدان لباس الفاظ زیبا پوشم. هیچ کلامی را دو بار در قافیه نیاورم مگر آنکه با ظاهری یکسان معنایی جدا داشته باشد. دلم می‌خواهد همهٔ این دستورها را به کار بندم تا شعری چون تو، ای شاعر شاعران جهان، سروده باشم!”
"اے حافظ! میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری طرزِ غزل سرائی کی تقلید کروں۔ تمہاری طرح قافیہ پردازی کروں اور اپنی غزل کو تمہارے سُخن کی ریزہ کاریوں و باریکیوں سے آراستہ کروں۔ اوّلاً معنی کے لیے تفکُّر کروں اور پھر اُس کو الفاظِ زیبا کا لباس پہناؤں۔ کسی بھی لفظ کو دو بار قافیے میں نہ لاؤں، اِلّا یہ کہ وہ ظاہری لحاظ سے یکساں ہونے کے باوجود ایک جدا معنی رکھتا ہو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اِن تمام قواعد کو بروئے کار لاؤں تاکہ، اے شاعرِ شاعرانِ جہاں، میں تمہاری جیسی کوئی شاعری کر سکوں!”

کتاب: دیوانِ غربی-شرقی
نویسنده: یوهان ولفگانگ فون گوته/Johann Wolfgang von Goethe
سالِ اشاعتِ اول: ۱۸۱۹ء
مترجم: شجاع‌الدین شفا
سالِ اشاعتِ اولِ ترجمه: ۱۹۴۹ء

Advertisements