خواننا

مجھے اردو زبان میں «ڑ» اور «ڑھ» کی آوازیں سخت ناپسند ہیں۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ایسے الفاظ کا استعمال کم سے کم کروں جن میں یہ آوازیں پائی جاتی ہوں، اِس لیے لِکھتے وقت مَیں ہمیشہ اِن آوازوں والے الفاظ کا فارسی-عربی مُتبادِل استعمال کرتا ہوں۔ مثلاً میں لفظِ «کڑوا» ہرگز استعمال نہیں کرتا، بلکہ ہمیشہ اُس کی بجائے «تلخ» استعمال کرتا ہوں۔ میری زبان فارسی کا لفظ «تلخ» اپنے تلخ معنی کے باوجود شیریں صدا رکھتا ہے، جبکہ «کڑوا» میرے گوش (کان) کو کریہہ الصّوت معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا میرے ذخیرۂ الفاظ میں «کڑوا» اور اِس جیسے دیگر الفاظ کے لیے کوئی جا نہیں ہے۔ اگر میں کہوں کہ مجھے زبانِ اردو کے اِس گروہِ الفاظ سے نفرت محسوس ہوتی ہے تو نادرست نہ ہو گا۔
اسماء و صفات کی جگہ پر تو فارسی متبادلات کا استعمال آسانی سے کیا جا سکتا ہے، لیکن افعال ایسی چیز ہیں کہ کئی بار مجبوراً اور ناچار «ڑ» والے افعال کو استعمال کرنا پڑتا ہے، مثلاً مجھے اِس جملے ہی میں اردو فعل «پڑنا» کا استعمال کرنا پڑا، جس میں ‘ڑ’ کی آواز ہے۔ مُتأسفانہ، اِس فعل کا کوئی متبادل مجھے معلوم نہیں ہے، لہٰذا اِس فعل کو استعمال کر لیتا ہوں تاکہ جو معنی اِس فعل میں موجود ہے اُس کی قُربانی نہ دینی پڑے۔ معنی بہر حال لفظ سے مُقدّم و اَولیٰ ہے۔
ایک ایسا ہی کثیر الاستعمال فعل «پڑھنا» ہے، جس سے مجھے اکثر سر و کار رہتا ہے۔ میں اردو کو رد کر کے فارسی کو اپنی واحد قلبی زبان کے طور پر اپنا لینے کے بعد بھی کئی زمانے تک اِس فعل کو استعمال کرتا رہا ہوں، کیونکہ کتابیں «پڑھنا» میرا مشغلہ، بلکہ جُنون رہا ہے، اِس لیے اِس فعل کو استعمال کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ ایک روز ذہن میں آیا کہ فارسی کے مصدر «خوانْدن» (تلفظ: خانْدن) کی مدد سے «پڑھنا» کا متبادل مصدر «خوانْنا» (تلفظ: خانْنا) جعل کیا جا سکتا ہے۔ کیوں نہ اِس کو استعمال کرنا شروع کیا جائے۔ لہٰذا میں نے اپنی تحریروں میں اِس مصدر کو اور اِس کی مُختلف تصریفی حالتوں کو کام میں لانا شروع کر دیا۔ اور میری کوشش ہے کہ اِسی کو استعمال کرنے کا اِلتِزام جاری رکھوں۔ میں باخبر ہوں کہ مردُم میری پَیروی میں اِس کو استعمال کرنا شروع نہیں کریں گے، لیکن کم از کم اِس طرح مَیں تو «پڑھنا» کے «ڑ» سے راہِ فرار حاصل کر سکتا اور اِس مصدر سے ناپسندیدگی کا اِظہار کر سکتا ہوں۔ یہ اردو کی اُن آوازوں کے خلاف میرا ایک احتجاج اور اِظہارِ بے زاری ہے جو مجھے اور میرے کانوں کو ناپسندیدہ لگتی ہیں۔ (یہ ناپسندیدگی مجھے «ٹ»، «ٹھ»، «ڈ»، «ڈھ» آوازوں سے بھی ہے، لیکن «ڑ» اور «ڑھ» سب سے زیادہ کریہہ لگتی ہیں۔)
فارسی مصدروں کی مدد سے اردو مصادر جعل کرنا کوئی تازہ چیز نہیں ہے۔ اردو میں لرزنا، تراشنا، خراشنا وغیرہ جیسے جعلی مصادر استعمال ہوتے آئے ہیں۔ «خواندن» بھی اردو گویوں کے لیے اجنبی نہیں ہے، اور اُن کی لسانی و ادبی یادداشت کا حصّہ ہے۔ ہر شخص قُرآن خوانی، خواندگی، نعت خواں وغیرہ الفاظ استعمال کرتا ہے۔

ذیل میں مَیں بطورِ مثال ایسے چند جُملے لِکھ رہا ہوں، جن میں «خوانْنا» کی مُختلف تصریفی حالتوں کا استعمال کیا گیا ہے:
میں نے کتاب خوانی۔
وہ تمام شب کتاب خوانتا رہا۔
میں عربی کتابوں کو ترجمے کے بغیر خواننا چاہتا ہوں۔
کیا یہ تم یہ کتاب خوان چُکے ہو؟
اُس نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے تک اِس کتاب کو خوان کر ختم کر لے گا۔
یہ کتاب بے حد خوب ہے۔ اِس کو ضرور خوانیے گا۔
درسی کتابیں خوان خوان کر سر میں درد ہو گیا۔
و علیٰ ہٰذِہِ القیاس۔

میں اِس چیز سے واقف ہوں کہ بعض افراد کو میری اِس شخصی رائے سے کامِلاً اِختلاف ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اُن کو یہ آوازیں (جو میری نظر میں بدصورت و دُرُشت ہیں) بدصدا نہیں معلوم ہوتی ہوں گی (کیونکہ بہر حال میں بھی یہ قبول کرتا ہوں کہ پسندیدگی و ناپسندیدگی ایک حد تک شخصی و نفْسی چیز ہے)۔ اُن سے بحث کرنے یا اُن کو اپنی رائے کی جانب راغب کرنے کے لیے مَیں نے یہ تحریر نہیں لِکھی ہے، بلکہ یہ تحریر صرف اِس لیے لِکھی ہے کہ اگر میرے تارنِگار (بلاگ) پر کوئی قاری آئے، اور اُس کو «خواننا» کا معنی سمجھ نہ آ رہا ہو یا میرے «خواننا» استعمال کرنے کا سبب سمجھ نہ آ رہا ہو تو وہ اِس تحریر کے ذریعے سے سمجھ سکے۔
مُستقبل میں ایسے چند مزید مصادر جعل کرنے کا اِرادہ ہے۔ ویسے بھی میں اِس پر یقین رکھتا ہوں کہ اُردو جس قدر فارسی کے نزدیک آتی جائے، بہتر ہے۔

Advertisements

فارسی اور اردو کی باہمی قرابت کا ایک فائدہ

فارسی اور اردو کی باہمی قرابت و نزدیکی کا ایک فائدہ یہ ہے اگر فارسی سے نابلَد اردو داں شخص کے پیش میں کوئی فارسی بیت اردو ترجمے کے ساتھ رکھ دی جائے تو وہ فارسی سے بخوبی واقفیت نہ رکھنے کے باوجود فارسی بیت کی شیریں زبانی اور عالی معنائیت سے بطورِ وافر محظوظ و لذّت اندوز ہو جاتا ہے اور کئی ساعتوں تک اُس شاعری کے سِحر میں مُبتلا رہتا ہے۔ بہ علاوہ، ترجمہ و مفہوم معلوم ہو جانے کے بعد وہ فارسی بیت اُس اردو داں شخص کو اپنی ہی زبان جیسی مانوس لگنے لگتی ہے، اور بہ آسانی یاد بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ اب ذرا تصوُّر کیجیے کہ اگر فارسی شاعری میں دلچسپی رکھنے والا اردو داں فرد زبانِ فارسی کو بھی کماحقُّہُ جان لے تو عظیم فارسی شاعری سے اُس کی لذّت گیری میں کس حد تک اضافہ ہو جائے گا اور شعرِ فارسی سے حِظ یابی کا عالَم اُس کے لیے کیا سے کیا ہو جائے گا؟ یقیناً ویسا شخص بھی پس امام بخش ناسخ کی مانند مُسلسل یہی کہتا رہے گا کہ:
مست ناسخ مجھے رکھتا ہے کلامِ حافظ
میرے ساغر میں بجز بادۂ شیراز نہیں

فارسی زبان و ادبیات زندہ باد!


زبانِ من فارسی‌ست

دِیروز میں نے تاجکستانی فیس بُکی گروہ ‘زبانِ پارسی‘ پر یہ چند فارسی سطریں لکھی تھیں:

درست است که اردو زبانِ مادریِ من است، ولی کسی از من نپرسیده بود که من کدام زبانی را می‌خواهم داشته باشم. این فقط از تصادفِ تولّد بود که زبانم شد اردو. اگر در اختیارِ من بود، حتماً ترجیح می‌دادم که هنگامِ تولّدم زبانِ فارسی را برای خود انتخاب کنم، چون زبانِ روحیهٔ من غیر از زبانِ فارسی نیست، و وابستگی و پیوستگی که به زبانِ فارسی احساس می‌کنم، به هیچ زبانِ دیگر هرگز احساس نمی‌کنم.
حالا من زبانِ فارسی را به اختیارِ کاملِ خود به طورِ زبانِ خود منتخَب کرده‌ام، و اکنون خود را ‘فارسی‌زبان’ می‌پندارم، نه ‘اردوزبان’. و آرزو دارم که به‌زودی فارسی را تا آن حدّی فرا بگیرم که هرچه که بخواهم در نوشته‌های خود به رشتهٔ تحریر بکشم، قادر باشم که برای نوشتنِ آن از زبانِ فارسیِ فاخر استفاده کنم.

فارسی را پاس می‌داریم زیرا گفته‌اند
قدرِ زر زرگر شناسد، قدرِ گوهر گوهری

ترجمہ:
درست ہے کہ اردو میری مادری زبان ہے، لیکن کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا تھا کہ میں کون سی زبان رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ فقط حادثۂ ولادت کے سبب تھا کہ میری زبان اردو ہو گئی۔ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں حتماً ترجیح دیتا کہ اپنے تولّد کے وقت زبانِ فارسی کو خود کے لیے انتخاب کروں، کیونکہ میری روح کی زبان صرف فارسی ہے، اور جو وابستگی و پیوستگی میں زبانِ فارسی سے محسوس کرتا ہوں، وہ کسی بھی دیگر زبان سے ہرگز محسوس نہیں کرتا۔
حالا میں نے زبانِ فارسی کو اپنے کامل اختیار کے ساتھ زبانِ خود کے طور پر منتخَب کر لیا ہے، اور اب میں خود کو ‘فارسی زبان’ تصور کرتا ہوں، نہ کہ ‘اردو زبان’۔ اور میری آرزو ہے کہ بہ زُودی فارسی کو اِس حد تک سیکھ لوں کہ اپنے نوشتہ جات کے اندر جو کچھ بھی رشتۂ تحریر میں کشیدہ کرنا چاہوں، اُس کو لکھنے کے لیے زبانِ فارسیِ فاخر کا استعمال کر سکوں۔

ہم زبانِ فارسی کی پاس داری و احترام کرتے ہیں کیونکہ یہ بات زباں زد ہے کہ زر کی قدر زرگر اور گوہر کی قدر گوہری ہی پہچانتا ہے۔

× دِیروز = گذشتہ روز
× فارسی‌زبان = وہ شخص جس کی زبان فارسی ہو
× اردوزبان = وہ شخص جس کی زبان اردو ہو


فارسی کو اردو پر ترجیح دینے کا سبب

میں شخصاً فارسی کو اردو پر اب اس لیے ترجیح دیتا ہوں کیونکہ فارسی زبان اُن دو، اور میری نظر میں قے آور اور ثقافتی لحاظ سے بیگانہ، چیزوں سے پاک ہے جن سے غالب و اقبال وغیرہم کی عجمی روح کی حامل زبانِ اردوئے معلّیٰ بھی پاک تھی لیکن جنہوں نے موجودہ دور میں میری اردو زبان پر یورش کر کے اِسے نہایت بدنما و بدریخت بنا دیا ہے۔ اور وہ دو چیزیں ہیں: فرنگیت اور بھارتیت۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے اب عصرِ حاضر کی ‘اردو’ کتابیں، مطبوعات اور اخبارات پڑھنا عموماً ترک کر دیے ہیں، کیونکہ جس زبان سے میں ثقافتی و احساساتی وابستگی محسوس نہ کر سکوں، اور جس کی پست شکل کو دیکھ کر ہی قے آتی ہو، اُسے پڑھ پانے اور محظوظ ہونے سے میں قاصر ہوں۔ میرے لیے زبانِ اردو وہی ہے جو ۱۹۷۰ء کے عشرے تک کتابوں میں نظر آیا کرتی تھی، اور اُسی زمانۂ گذشتہ کی اردو زبان کو میں ‘اپنی’ زبان مانتا ہوں۔ فی زمانہ جو ‘اردو’ کے نام سے رطب و یابس منتشر ہو رہا ہے، اُسے میں ‘اپنی’ زبان نہیں مانتا اور نہ اُس سے کوئی وابستگی محسوس کرتا ہوں۔
میں اردو کے عالی ترین شاعروں اور ادیبوں کی طرح فارسیت کا عاشقِ والہ ہوں۔ جب مجھے معاصر اردو تحریروں میں فارسیت کی بجائے فرنگیت نظر آ رہی ہو تو میرے پاس اس کے بجز کوئی چارہ نہیں بچتا کہ میں کاملاً فارسی کی جانب رخ موڑ لوں کہ پھر فارسی ہی میرے شخصی مزاج اور ثقافتی نقطۂ نظر سے نزدیک رہ جاتی ہے۔
اردو سے زیادہ تو اب مجھے انگریزی زبان میں پڑھنے میں مزہ آتا ہے، کیونکہ انگریزی کتابوں میں تا حال انگریزی زبان اپنی کامل تمدنی و ثقافتی شان و شوکت اور زیبائی کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے اور یہ چیز مجھے بہت لطف دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب اردو مطبوعات میں ایک ایسی پُرآلائش، فرومایہ اور عامیانہ زبان نظروں سے ٹکراتی ہے جسے کم از کم میں تو قطعاً کتابوں کے درخور اور عالی ثقافت کا ذریعہ نہیں مان سکتا۔
یہ وہ چند وجوہات ہیں جن کے باعث میں معاصر اردو سے احساساتی طور پر منقطع ہو کر فارسی زبان کو لسانی و ثقافتی لحاظ سے حبل المتین اور عروۃ الوثقیٰ مانتے ہوئے اِس کے دامن میں اپنے تمام احساسات اور آرزوؤں کے ساتھ پناہ گزیں ہو گیا ہوں۔ لیکن میری کہنہ زبانِ اردوئے معلّیٰ سے محبت بدستور جاری ہے، اور میں فارسی کی مدد سے اپنی مادری زبان کو دوبارہ اورنگِ علو پر متمکن اور بلند مقام پر نائل دیکھنا چاہتا ہوں، لہٰذا بقدرِ توانائی، اور خواہ منفعت ہو یا نہ ہو، فارسی زبان کی ترویج کی معیت میں اپنی اردو زبان کی تطہیر کرنے کی بھی انفرادی کوشش کرتا رہتا ہوں۔
فارسی زندہ باد! فارسی کی ثقافتی دختر اردوئے معلّیٰ زندہ باد!


اردو میں فارسی اصطلاحوں کے استعمال پر اعتراض کا جواب

اردو محفل کے ایک دوست عارف کریم صاحب نے چند ماہ قبل مجھے مخاطب کر کے ایک دوستانہ اعتراض کا اظہار کیا تھا:

اگر فارسی پر مبنی اصطلاحات ہی اردو میں استعمال کرنا مقصود ہے تو بہتر ہے بندہ فارسی سیکھ لے بجائے اردو سیکھنے کے:)

ایک لسانیاتی طالبِ عالم اور فارسی زبان کے ایک غیور عاشق ہونے کی حیثیت سے میں اس اعتراض کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ لیکن جواب سے قبل میں اولاً انگریزی زبان میں موجود لاطینی و یونانی الاصل الفاظ کی کُل فیصد بیان کرنے والا ایک ترجمہ شدہ مستند اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ بعد میں اِسے اپنے جوابِ اعتراض میں دلیل کے طور پر عرض کر سکوں:

سوال: کُل انگریزی الفاظ کی کتنی فیصد مقدار لاطینی الاصل ہے؟ نیز، دیگر زبانوں سے ماخوذ انگریزی الفاظ کی فیصد کیا ہے؟
جواب: کسی انگریزی لغت میں موجود مدخلات کا تقریباً ۸۰ فیصد حصہ دیگر زبانوں، اساساً لاطینی، سے ماخوذ ہے۔ کُل انگریزی الفاظ کی ۶۰ فیصد سے زائد کی اصل یونانی یا لاطینی ہے۔ علوم اور فن آوری سے مربوط ذخیرۂ الفاظ میں یہ تعداد ۹۰ فیصد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ انگریزی میں موجود لاطینی الفاظ کی تخمیناً ۱۰ فیصد تعداد کسی واسطے – عموماَ لاطینی الفاظ کے انتقال کا واسطہ فرانسیسی زبان رہی ہے – کے بغیر مستقیماَ انگریزی میں وارد ہوئی ہے۔ ایک مدت کے دوران تو لاطینی کے تمام الفاظ ہی امکانی طور پر انگریزی الفاظ بن گئے تھے اور اُس زمانے میں متعدد الفاظ لاطینی نمونے پر وضع کیے گئے۔ یونانی الاصل الفاظ تین مختلف ذریعوں سے انگریزی میں وارد ہوئے ہیں: ۱) لاطینی کے واسطے سے، ۲) یونانی تحریروں سے بلاواسطہ اخذ کیے گئے، یا پھر ۳) عصرِ جدید میں، خصوصاً علمی اصطلاحوں کے ذیل میں، یونانی عناصر کو نئے طریقوں سے باہم مرکّب کر کے وضع کیے گئے۔ کلاسیکی زبانوں [یعنی یونانی اور لاطینی] کا بے واسطہ اثر یورپی نشاۃِ ثانیہ کے ہمراہ شروع ہوا تھا اور اُس وقت سے تا ہنوز جاری ہے۔ حتیٰ کہ آج بھی لاطینی اور یونانی مادّے ہی علم اور فن آوری سے متعلق انگریزی الفاظ کے بنیادی منابع ہیں۔

× مدخل = entry
× فن آوری = ٹیکنالوجی
× مستقیماً = بلاواسطہ

ماخذ:
http://dictionary.reference.com/help/faq/language/t16.html

اب یہاں سے میرا جواب شروع ہوتا ہے:

اگر انگریز اپنی زبان کو اپنی کہنہ تمدنی زبانوں یونانی اور لاطینی کے الفاظ سے پُر کر لیں تو کوئی اُن کا محاکمہ نہیں کرتا، اور بے شک کرنا بھی نہیں چاہیے، لیکن اگر شومیِ قسمت سے یہاں کوئی شخص غالب اور اقبال کی محبوب ترین زبان فارسی سے کوئی نیا لفظ اردو کے لیے اخذ کر لے تو انبوہِ سہل انگاراں کی جانب سے فی الفور مقدمہ دائر ہو جاتا ہے۔ اب اسے ‘فرنگی محور دوگانہ معیار’ کے سوا کیا پکارا جائے؟
عارف کریم صاحب یقیناً مجھ سے بہتر انگریزی جانتے ہیں۔ لیکن کیا اُنہیں کبھی اس پُرلاطینی زبان انگریزی کو سمجھنے کے لیے لاطینی سیکھنے کی بھی حاجت محسوس ہوئی؟ قطعاً نہیں ہوئی ہو گی۔ اُنہیں جب بھی adumbration اور simulacrum جیسے لاطینی الاصل علمی کلمات انگریزی میں نظر آئے ہوں گے تو اُنہوں نے لاطینی زدگی کا شکوہ کرتے ہوئے لاطینی دستوری کتابوں کی جانب رجوع کرنے کی بجائے کسی انگریزی لغت ہی کی ورق گردانی کی ہو گی اور بعد میں بغیر کسی شکایت کے ان جیسے الفاظ کو اپنی یادداشت کا حصہ بنا لیا ہو گا۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم اردو میں کوئی ناآشنا فارسی یا عربی لفظ اور اصطلاح اوّلین بار دیکھ کر شاکی ہونے یا فارسی و عربی آموزی کی حاجت ہونے کا غیرمنصفانہ ادّعا کرنے کی بجائے اگر جامع لغت ناموں کی جانب مراجعت کر لیں تو ہمیں بھی زیادہ مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔
نیز، اگر انگریزی زبان کے پُرلاطینی کُل ذخیرۂ الفاظ اور اُس کے تاریخی سابقے کو مدِ نظر رکھا جائے، تو یہ طنز آمیز سخن اس لحاظ سے نادرست اور دوگانہ معیار کا مورد ٹھہرتا ہے کیونکہ بعینہ یہی چیز صدیوں سے انگریز لاطینی کے ضمن میں کرتے آئے ہیں، اور ابھی بھی انگریزی اصطلاحیں لاطینی اور یونانی نمونے ہی پر وضع ہوتی ہیں، لیکن میں نے آج تک، بالخصوص کسی اردو گو کی زبان سے، ایسا اعتراض انگریزوں کے طرزِ عمل کی نسبت نہیں سنا۔ وہ کریں تو آفرین، ہم کریں تو نفرین!
یہ ذہن میں رکھیے کہ کسی بھی زبان کی علمی و ادبی شکل کو شعوری طور پر محنت کر کے ہی سیکھا جاتا ہے۔ اس کا اکتساب خود بخود ہی نہیں ہو جاتا۔ چونکہ علمی اصطلاحوں یا علمی کلمات و اسلوب کی ضرورت صرف متخصصین کو پیش آتی ہے، اس لیے یہ ہماری روزمرہ عام زبان کا حصہ نہیں ہوتے۔ اور ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ علمی زبان بھی ویسی ہی ہو جو ہم کھانے پینے کے معاملات اور احوال پرسی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہر زبان کے گفتاری اور تحریری اسالیب باہمی طور پر بہت متفاوت ہوتے ہیں۔ تحریر میں ہمیں متنوع اور گوناگوں تجریدی مضامین پر قلم اٹھانا ہوتا ہے، اسی لیے اسلوب اور الفاظ بھی اسی کے مناسبِ حال منتخب کرنے پڑتے ہیں۔ علمی و ادبی زبان ‘تم کیسے ہو’ یا ‘تم سو جاؤ’ کی نوعیت کی نہیں ہو سکتی۔ اگر ہم اپنی زبان کو پیش رفتہ زبانوں کی طرح ترقی و تکامل کی مسیر پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا اور اپنی ضررناک سہل انگاری کو ترک کرنا لازم ہے۔


میں فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال کیوں کرتا ہوں؟

جب اردو محفل پر ایک محترم دوست نے یہ رائے دی کہ مجھے ‘پس ازاں’ کی بجائے اردو میں رائج تر ترکیب ‘بعد ازاں’ کا استعمال کرنا چاہیے تو میں نے جواب میں یہ لکھا تھا:

برادرِ بزرگ و گرامیِ من!
خیالات کی ایک رَو آج مسلسل میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی جسے اب میں آپ کی خدمت میں بصد نیاز عرض کر رہا ہوں۔ جب انگریزی، ہندی، مراٹھی، اور معلوم نہیں کن کن زبانوں کے الفاظ کی زبانِ اردوئے معلٌیٰ پر یلغار جاری ہے اور اس زبانِ عالی وقار کا جمال روز بہ روز کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے تو در ایں حال میرے فارسی الفاظ و ترکیبات کے اردو میں مجاہدانہ استعمال کو مستحسن بات ماننی چاہیے کہ میرا اس سے قصد صرف اپنی زبان کو دوبارہ اورنگِ علو پر متمکن کرنا ہے۔ ہمارے مستند اور کوثر و تسنیم سے شستہ زبان میں تحریر و تصنیف کرنے والے اردو نویس ادبی اسلاف نے تاریخ کے کسی دور میں بھی فارسی (اور عربی) الفاظ پر در بند نہیں رکھا اور نہ اُنہیں اردو سے جدا ہی مانا اور جس فارسی لفظ کو مناسب سمجھا اور جس وقت بھی مناسب سمجھا اُسے اپنی تحریر کی زیب و زینت بنایا۔ مثلاً غالب اور اقبال نے (خدا ان دونوں اور ان جیسے تمام فارسی دوست مرحومین پر رحمت نازل کرے) متعدد ایسے فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال کیا ہے جو اُن سے قبل کسی نے استعمال نہیں کیے تھے۔ بعد میں وہی نفیس الفاظ ہماری معیاری زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ اور آج ہم اپنی جس زبان پر ناز کرتے ہیں وہ انہیں جیسے ذی شعور و ذی شان ادباء کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور انہیں کی ساختہ ادبی زبان کو آج مثالی تصور کیا جاتا ہے۔
میرے لیے اردو صرف ابلاغ کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ یہ میری شناخت کا ایک جزء اور میرے اسلاف کی مجروح میراث بھی ہے، جسے میں التیام دے کر اپنی آیندہ نسلوں کے سپرد کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنی زبان کی زشتی سے قے، اس کی زبوں حالی پر افسوس، اور اس کی کم مایگی پر آہِ حسرت کرنے کی بجائے زبانِ اردوئے معلٌیٰ کی ملکیت اور اس سے وابستگی پر فخر کر سکیں۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اردو میری انفرادی و ملی شناخت کا بھی جزء ہے لہٰذا ایسی شخصی زبان کی ساخت بھی ہمیشہ میرے پیش نظر رہتی ہے جس میں میری انفرادی و ملی شناخت بخوبی منعکس ہو سکے۔ چونکہ فارسی ہمارے ادبی اسلاف، از جملہ خسرو، بیدل، فیضی، واقف، آرزو، غالب، ذوق، ناسخ، اقبال، شاہ ولی اللہ، انیس، دبیر، ولی، حالی، مولانا محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی وغیرہم کی ادبی و تمدنی و قلبی زبان رہی ہے، اور چونکہ میں خود اس زبانِ شیریں اور اس کے کہنہ ادب کو عزیز از جان رکھتا ہوں، اس لیے میں نے ایک لحظہ بھی فارسی الفاظ و تراکیب کی نسبت بیگانگی کا احساس نہیں کیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب سے لکھنا شروع کیا ہے میں نے فارسی الفاظ سے ہرگز امتناع نہیں کیا اور میں اسی اصول پر عمل پیرا رہا ہوں کہ فارسی زبان کے ہر لفظ کا استعمال اردو میں جائز بلکہ بعض اوقات نیکوتر ہے۔ اردو کے عہدِ طلائی کے ادباء و شعراء کا یہی شیوہ تھا اور میں اُن کے وارث اور شاگرد کے طور پر اسی روش پر کاربند رہتا آیا ہوں۔
میں اگر آج ‘پس ازاں‘ جیسی کوئی ترکیب استعمال کرتا ہوں تو اس امید کے ہمراہ کرتا ہوں کہ ایامِ آتیہ میں یہ معیاری ادبی زبان کا حصہ بن کر اردو کی پُرمایگی و زیبائی کا سبب بنے گی۔
با کمالِ محبت و خلوص و احترام!
والسلام مع الاکرام!


اردو اصطلاحات پر ایک اعتراض کا جواب

جب میں نے اردو محفل پر ‘حرارت پیما’ اور ‘مقیاس الحرارت’ جیسی اردو اصطلاحوں پر اعتراض ہوتے دیکھا تو وہاں یہ لکھا تھا:

اگر انگریزی کی علمی زبان میں کسی کو ‘ہیومن اسٹڈی’ کی جگہ پر یونانی الاصل ترکیب ‘اینتھروپولوجی’ کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں ہے تو اُسے اردو زبان میں ‘تھرمامیٹر’ کی جگہ پر ‘مقیاس الحرارت’ یا ‘حرارت پیما’ کے استعمال پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ہر زبان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تاریخی اور ثقافتی طور پر اجنبی زبانوں سے الفاظ مستعار لینے کی بجائے اپنے لسانی و تمدنی سرمائے سے نئے خیالات کے لیے الفاظ وضع کرتی رہے۔ انگریزی سمیت دنیا کی ہر طاقت ور اور علمی ذریعہ ہونے کی مدّعی زبان اسی پر عمل پیرا ہے۔ لہٰذا، اگر اردو بھی علمی زبان بننے کے لیے اسی طرزِ عمل کو اپنائے تو یہ کوئی خارق العادت بات نہیں ہے، اور ہمارا اس پر نکتہ چینی کرنا صرف اس بات کا غمّاز ہو گا کہ ہم اردو کو ایک قابلِ عزت علمی زبان کی حیثیت سے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔
اردو کی علمی اصطلاحات سے یہ خوف و گریز بے بنیاد اور غیر علمی ہے۔ اگر کوئی اصطلاح ہمیں ‘مشکل’ لگتی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ اصطلاحیں ہمارے استعمال میں نہیں ہیں یا نہیں رہی ہیں۔ اگر ایک بار وہ نافذ اور مستعمل ہو جائیں تو وہ چاہے ابتدا میں کتنی ہی ناآشنا محسوس ہوں، انجامِ کار وہ اصطلاحیں ہمارے شعور اور ہماری انفرادی زبان کا زندہ حصہ بن جاتی ہیں۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اصطلاحیں محض الفاظ ہیں، جنہیں کوئی بھی عام ذکاوت والا شخص دو تین بار پڑھ کر آسانی سے اپنی یادداشت میں محفوظ کر سکتا ہے۔ اصطلاحیں یا الفاظ سیکھنے کا عمل، کسی دوسری زبان کے قواعدِ صرف و نحو سیکھنے کی نسبت کئی درجے آسان کام ہے۔ اس کی عام مثالیں آپ اپنے گرد و پیش دیکھ سکتے ہیں کہ بہت سے ایسے افراد جو انگریزی کا صرف معمولی علم رکھتے ہیں، انگریزی اصطلاحوں سے خوب واقف ہیں، کیونکہ کسی بھی زبان کے محض الفاظ سیکھنا کوئی دشواری کی بات نہیں ہوتی۔ جب اجنبی زبانوں کے الفاظ یا اصطلاحیں سیکھنا اتنا آسان ہے، تو پھر ہمارا اردو کی وضع شدہ اصطلاحوں سے واقفیت حاصل کرنا بھی سہل ہی ہو گا۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ ریاستِ حیدرآباد دکن کی جامعۂ عثمانیہ میں اردو زبان اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ تھی۔ اگر اُس جامعہ کی تدریسی کتابوں اور مطبوعہ کتابوں پر نگاہ ڈالی جائے تو واضح ہو گا کہ اُنہوں نے اپنی کتابوں میں تمام معروف و غیر معروف علمی کلمات کا اردو میں ترجمہ کر لیا تھا اور اردو کی ایک مہذب اور آبرومند علمی شکل کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ وہاں دہائیوں تک اسی زبان کے ذریعے تدریس کا عمل کامیابی سے جاری رہا۔ یہاں اس بات پر کوئی بحث مقصود نہیں کہ ذریعۂ تعلیم اردو ہو یا انگریزی، صرف اس بات پر توجہ دلانا مطلوب ہے کہ اردو میں علمی و فنی وضع شدہ اصطلاحیں ایک زمانے میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہوتی رہی ہیں اور مطبوعات اور علمی حلقوں میں رائج اور بر نوکِ زباں رہی ہیں۔ اس لیے خانہ زاد اصطلاحوں کو ناقابلِ استعمال کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
اگر ایران اور بلادِ عرب کے اخبارات یا وہاں شائع ہونے والی علمی کتابوں کو چشمِ عبرت کے ساتھ دیکھا جائے تو اردو زبان کی تہی دامنی اور کم مایگی کا احساس شدت سے دامن گیر ہوتا ہے۔ وہ ممالک اپنی زبانوں کو جس مرحلۂ تکامل پر نائل کر چکے ہیں، اُس کی جانب قدم اٹھانے کا ہم نے ابھی تک آغاز ہی نہیں کیا ہے۔ میں نے ایران اور عرب ممالک کی مثال صرف اس لیے دی ہے کیونکہ اردو پر بات کرتے ہوئے عموماً انہی کا حوالہ دیا جاتا ہے، ورنہ تو جنگ زدہ افغانستان میں بھی فارسی اور پشتو کی حالت بری نہیں ہے۔
اس بات سے تو کاملاً اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ اردو کی خانہ زاد علمی اصطلاحوں کو حتی الامکان سریع الفہم ہونا چاہیے (اگرچہ ہر زبان میں علمی اصطلاحیں مبتدیوں اور عام لوگوں کے لیے مشکل ہی ہوتی ہیں)، لیکن بے جا اعتراضات کر کے وضعِ اصطلاح کے لائقِ تحسین و ستائش عمل پر خطِ تنسیخ پھیرنے کی کوشش کی کسی صورت بھی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

تاریخ: ۱۰ ستمبر ۲۰۱۵ء