روزِ عرسِ بیدل

روزِ عرسِ بیدل:
روز چهارم ماه صفر یکی از روزهای‌ برجستهٔ تاریخ ادبیات افغانستان به شمار می‌آید و به نام "روز عرس بیدل” معروف است. این روز در غالب کشور‌های آسیای میانه که با ادبیات دری انس و الفت دارند و ادبیات مشترکشان به شمار می‌آید با مراسم خاصی تجلیل می‌شود. در تاجکستان و ازبکستان و سایر بلاد ماوراءالنهر علاقهٔ زیادی به حضرت بیدل ابراز می‌شود و در این روز از او یادبود می‌کنند و آن را "روز عرس میرزا” می‌نامند. در نیم‌قارهٔ هند و پاکستان نیز ارادت مخصوصی به وی ورزیده می‌شود و صدرالدین عینی در کتاب خود به نام "میرزا عبدالقادر بیدل” می‌نویسد که در ایام باستان در شاه‌جهان‌آباد "دهلی امروز” در این روز نخست کلیات بیدل را که به خط خودش ترتیب شده بود برآورده به خانهٔ وی در آنجا که مرقد او پنداشته می‌شود در میان می‌گذاشتند و از آثار او برمی‌خواندند، بر آن بحث می‌کردند. در افغانستان نیز همواره یک محبت و عشق مفرطی به بیدل و آثارش موجود بوده‌است. نظم و نثر بیدل خوانده می‌شود، اشعارش به حیث شاهد قول ذکر می‌شود، به تصوف و روحانیت وی مردم معتقدند، اهل دل و اهل عرفان به وی ارادت‌ها می‌ورزند، نام او را به تکریم می‌برند، غالباً حضرت بیدل و حضرت میرزا می‌گویند، در مکتب‌ها و مدارس آثار او تدریس می‌شود، شعر و نثر او مورد بحث و فحص قرار می‌گیرد و بالآخره روز عرس وی در محافل مختلف و مجامع با ذکر بیدل و قرائت آثارش برگزار می‌شود و این از سال‌ها در این مملکت که منبع و مهد زبان و ادبیات دری است معمول است.

کتاب: تاریخِ ادبیاتِ افغانستان
مصنف: محمد حیدر ژوبل
سالِ اشاعت: ۱۹۵۷ء

روزِ عرسِ بیدل:
ماہِ صفر کے روزِ چہارم کا شمار ادبیاتِ افغانستان کی تاریخ کے ایک ممتاز دن کے طور پر ہوتا ہے اور یہ دن ‘روزِ عرسِ بیدل’ کے نام سے معروف ہے۔ ادبیاتِ فارسی سے اُنس و الفت رکھنے اور اسے اپنا مشترک ادب شمار کرنے والے اکثر وسطی ایشیائی ملکوں میں یہ روز خاص مراسم کے ساتھ تجلیل کیا جاتا ہے۔ تاجکستان، ازبکستان اور دیگر بلادِ ماوراءالنہر میں حضرتِ بیدل سے بہت زیادہ دل بستگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس روز اُن کی یاد منائی جاتی ہے اور اسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کا نام دیا جاتا ہے۔ برِ صغیرِ ہند و پاکستان میں بھی اُن سے خاص ارادت کا اظہار ہوتا ہے اور صدرالدین عینی اپنی ‘میرزا عبدالقادرِ بیدل’ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قدیم ایام میں شاہ جہاں آباد، یعنی دہلیِ امروز، میں اِس روز اولاً کلیاتِ بیدل کے اُس نسخے کو، کہ جو اُن کے اپنے خط سے مرتب ہوا تھا، لا کر اُن کے گھر میں اُس جگہ کہ جہاں اُن کی مرقد ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، بیچ میں رکھا کرتے تھے اور اُن کی تالیفات میں سے قرائت اور اُس پر بحث کیا کرتے تھے۔ افغانستان میں بھی بیدل اور اُن کی تالیفات سے ایک از حد زیاد عشق و محبت موجود رہا ہے۔ بیدل کی نظم و نثر پڑھی جاتی ہے، اُن کے اشعار شاہدِ قول کی حیثیت سے ذکر ہوتے ہیں، لوگ اُن کے تصوف و روحانیت کے معتقد ہیں، اہلِ دل و اہلِ عرفان اُن کے ارادت مند ہیں، اُن کا نام تکریم سے لیتے ہیں، زیادہ تر اُنہیں حضرتِ بیدل اور حضرتِ میرزا کہہ کر یاد کرتے ہیں، مکاتب و مدارس میں اُن کی تالیفات کی تدریس ہوتی ہے، اُن کی شاعری و نثر بحث و فحص کا مورد بنتی ہے اور بالآخر اُن کا روزِ عرس مختلف محفلوں اور مجمعوں میں بیدل کے ذکر اور اُن کی تالیفات کی قرائت کے ساتھ منعقد ہوتا ہے اور یہ سالوں سے اس مملکت میں کہ جو زبانِ و ادبیاتِ فارسی کا منبع اور گہوارہ ہے، معمول ہے۔

===========

"در زمانِ پیشتره، خصوصا‌ً در هندوستان، در خانهٔ خود دفن کرده شدنِ دانشمندانِ کلان عادت بود. بنا بر این در صحنِ خانهٔ خود مدفون شدنِ این فیلسوفِ بزرگ جای تعجب نیست.
کلیاتِ آثارِ این سخنورِ دانش‌گستر، که با دست‌خطِ خود ترتیب داده بود، در خانهٔ خودش محفوظ بود. هر سال در روزِ وفاتش، که این روز را ‘روزِ عرسِ میرزا’ می‌نامیدند، شاعران و دانشمندانِ شاه‌جهان‌آباد به سرِ قبرش غن می‌شدند، آن کلیات را برآورده در میانهٔ مجلس گذاشته می‌خواندند و محاکمه می‌کردند و به این واسطه، آن ‘دلِ در پیکرِ سخن حرکت‌کننده را’ یادآوری می‌نمودند.”

کتاب: میرزا عبدالقادرِ بیدل
نویسندہ: صدرالدین عینی
سالِ اشاعت: ۱۹۵۴ء

"گذشتہ زمانے میں، خصوصاً ہندوستان میں، عظیم دانشمندوں کو اپنے گھر میں دفن کرنے کا رواج تھا۔ لہٰذا اِن بزرگ فلسفی کا اپنے گھر کے صحن میں مدفون ہونا تعجب کی بات نہیں ہے۔
اِن سخنورِ دانش گُستر کی کلیاتِ آثار، کہ جسے اُنہوں نے اپنے خط سے مرتّب کیا تھا، اُن کے اپنے گھر میں محفوظ تھی۔ ہر سال اُن کی وفات کے روز، کہ جسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کہا جاتا تھا، شاہ جہاں آباد کے شاعر اور دانشمند اُن کی قبر کے کنارے جمع ہوتے تھے، اُس کلیات کو باہر لا کر اور مجلس کے درمیان رکھ کر پڑھتے تھے اور بحث و گفت و شنید کرتے تھے اور اس ذریعے سے اُس ‘پیکرِ سخن میں حرکت کرنے والے دل’ کو یاد کیا کرتے تھے۔”

× ‘غُن/ғун’ ماوراءالنہری فارسی کا علاقائی لفظ ہے۔
× دانش گُستر = دانش پھیلانے والا

Advertisements

تاشقند میں مولانا جامی کا چھ سو سالہ جشن

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ۲۸ نومبر ۲۰۱۴ء کو مشرق زمین کے معروف و خوش کلام شاعر و مصنف مولانا نورالدین عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک ادبی و ثقافتی محفل منعقد ہوئی۔ جمہوریۂ ازبکستان کے بین الاقوامی ثقافتی مرکز کے اساسی ایوان میں برپا ہونے والی اس محفل میں اہلِ علم و ادب، شاعروں، نویسندوں، استادوں اور طالب علموں، اور ازبکستان میں مقیم تاجکستانی سفارت کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس باشکوہ مجلس کے شرکاء نے تمدنِ انسانی کے خزینے میں اضافہ کرنے والے اور یادگار کے طور پر نیک نام چھوڑنے والے اس زبردست ادیب و عالم کی شائستہ خدمات کو بہت اہم بتلایا۔ عالمی ثقافت کی غنی سازی میں اور (اُن کے تربیتی و اخلاقی شاہکار ‘بہارستان’ کے حوالے سے) تربیتی مقاصد کی تشکیل میں اس نابغۂ سخن کے کردار کی بہت بلند درجے میں قدر دانی کی گئی۔ انسانِ کامل کے وصف میں اور مختلف طبقوں کے انسانوں کی منفعت کی خاطر تحریر شدہ مولانا عبدالرحمٰن جامی کی جملہ تالیفات، اور اسی طرح اعلیٰ دنیاوی اقدار – مثلاً انسان پروری، وطن دوستی، صادقانہ رفاقت، اور مختلف قوموں کے مابین ہم سازی و ہم بستگی – کی برقراری میں اس سخنور کے نقشِ شایاں کی شرح و تفسیر کی گئی۔ معاشرے کے مقدس ترین فرد ‘زنِ مادر’ کی فضیلت کے حامی ان شاعر کے آثارِ منظوم مندرجہ ذیل مصرعوں کے ہمراہ موردِ ستائش قرار پائے:
سر ز مادر مکش که تاجِ شرف
گردی از راهِ مادران باشد
خاک شو زیرِ پای او که بهشت
در قدمگاهِ مادران باشد
مکاتب کے بچوں نے مولانا عبدالرحمٰن جامی کی گوناگوں نوعی اور مضامین سے پُر تصنیفات اور اُن کی گراں قدر تالیفات میں سے چند حصوں کی قرائت کی۔ ازبکستان کی معروف و ممتاز فارسی گو گلوکاراؤں منیرہ محمد اور گل چہرہ بقا نے اپنے دلنشین سرودوں سے محفل کو خاص شکوہ و رنگ بخشا۔
اسی طرح، مولانا عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے رواں سال ازبکستان میں ‘رسالۂ عروض’ اور ‘عبدالرحمٰن جامی‌نینگ ایجاد عالمی’ نامی کتابیں فارسی اور ازبکی زبانوں میں نشر ہوئیں، جن میں شاعروں، مصنفوں اور دیگر اہلِ علم و ثقافت کے مقالات جمع کیے گئے ہیں۔
ازبکستان میں تاجکستان کے سفیر مظفر حُسین نے دو برادر اقوام تاجکوں اور ازبکوں کے درمیان روایتی اور دوستانہ روابط کی برقراری میں اس گوہرشناس ادیب کے عالی کردار کی بھی بڑی قدر دانی کی۔ تاجکستان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے مولانا عبدالرحمٰن جامی کی قدردانی پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے خصوصی طور پر تاجکستان کے صدر کی طرف سے ۲۰۱۴ء کے سالِ عبدالرحمٰن جامی کے طور پر اعلان کیے جانے کا تذکرہ کیا اور ساتھ ہی ملک میں اور ملک سے باہر اس سلسلے میں برپا کی جانے والی مختلف محافل اور کوششوں کا تاکیداً ذکر کیا۔ انہوں نے اس طرح کی مشترک علمی و ادبی محفلوں کو زمانے کے تقاضوں کا جوابدہ نام دیا۔ ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ یہ ثقافتی نشستیں دو ہم جوار ملکوں کے لوگوں کو نزدیک کرتی ہیں اور ساتھ ہی دوجانبہ دوستانہ تعلقات کی استواری و ترویج کے راستے میں پُل کے طور پر خدمات انجام دیتی ہیں۔

(منبع: تاجک اخبار ‘خاور’)
خبر کی تاریخ: ۲ دسمبر ۲۰۱۴ء


نوائی اور جامی کے مابین دوستی اور ہمکاری

نوائی کی جامی کے ساتھ دوستی و رفاقت انسانوں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ نوائی جامی سے ستائیس سال چھوٹے تھے اور اُنہوں نے جامی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ ان استاد اور شاگرد نے مل کر ہرات میں جو ادبی مکتب تشکیل دیا تھا، وہاں ان دو ملّتوں [یعنی تاجک اور ازبک ملّتوں] سے تعلق رکھنے والے لوگ تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔
عبدالرحمٰن جامی کی ترغیب و تشویق ہی سے نوائی نے اپنی عظیم تالیفات کو ترکی-ازبکی زبان میں انشا کیا تھا۔ نوائی کی تخلیقی کامیابیوں پر جامی بہت شاد و مسرور ہوئے تھے، اور اُنہوں نے اپنی داستان ‘خردنامۂ اسکندری’ کے انجام میں اس بارے میں کمالِ احترام کے ساتھ یہ کہا تھا:
سخن را، که از رونق افتاده بود
به کنجِ هوان رخت بنهاده بود
تو دادی دگرباره این آبروی
کشیده به میدانِ این گفتگوی
صفایاب از نورِ رای تو شد
نوایی ز لطفِ نوای تو شد
علی شیر نوائی اپنی ہر نئی انشا کردہ تالیف کو اپنے استاد جامی کی نظروں سے گذارتے تھے اور اُن کے سود بخش مشوروں کی مدد سے اپنی تالیفات کی تکمیل کرتے تھے۔ اسی طرح نوائی بھی جامی کی تصنیفات کے مسودوں کا مطالعہ کرتے تھے اور بعض اوقات وہ اپنے استادِ قدرداں کے سامنے اُن تصنیفات کے بارے میں اپنے خیالات اور افکار کا اظہار کرتے تھے۔ اُن دونوں کے درمیان باہمی مناسبت نہ صرف بطور استاد و شاگرد خوب تھی، بلکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے نزدیکی اور باوفا دوست بھی تھے۔ نوائی اُن اولین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے استاد کی نگارشات کا ترکی-ازبکی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ مثلاً، [جامی کی کتابوں] ‘نفحات الانس’ اور ‘شواہد النبوۃ’ کے [ترکی] تراجم اُن کے قلم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ترجمہ کرتے وقت نوائی نے جامی کی فصیح زبان اور لطف آمیز کلام کا بخوبی خیال رکھا ہے۔
علی شیر نوائی نے عبدالرحمٰن جامی کی وفات کے بعد ۱۴۹۳ء-۱۴۹۴ء کے درمیان ‘خمسۃ المتحیرین’ کی انشا کی جسے اُنہوں نے اپنے استادِ بزرگوار کی خاطرات کے نام معنون کیا۔
‘خمسۃ المتحیرین’ ازبکی زبان میں لکھی گئی ہے اور یہ کتاب دیباچے، مقدمے، تین مقالوں، تین فصلوں اور خاتمے پر مشتمل ہے۔ اس تصنیف کے اساسی موضوعوں میں عبدالرحمٰن جامی کی زندگی اور جامی و نوائی کے درمیان روابط کا بیان، وفاتِ جامی پر مرثیہ، جامی کے بارے میں نوائی کی یادداشتیں، دونوں کے درمیان باہمی مراسلتیں اور اسی طرح کی دیگر چیزیں شامل ہیں۔
نوائی نے ‘خمسۃ المتحیرین’ کے مقدمے میں جامی کی خاکساری، دانشمندی، صحبت آرائی اور دیگر خصالِ حمیدہ کے بارے میں یہ لکھا ہے: "جو لوگ اُن جناب [جامی] کے آوازۂ کمالات کو سن کر اور دور و دراز راہوں کو طے کر کے، اُن کی صحبتِ مبارک میں آتے تھے، وہ لوگ اُن کی نہایت عاجزی و فروتنی کے باعث اُن کو اُن کے اصحاب کے درمیان مطلقاً نہیں پہچان پاتے تھے؛ نشست و برخاست، گفت و شنود، اور خوراک و پوشاک میں اُن جناب اور دیگر تمام ہم نشینوں کے درمیان کوئی تفاوت نہیں تھا۔ جب تک کوئی شخص ظاہری و معنوی علوم کا کوئی مسئلہ درمیان میں نہیں لاتا تھا، اُن لوگوں کے لیے کھرے اور کھوٹے کے درمیان تشخیص کرنے کا طریقہ نامعلوم رہتا تھا۔ لیکن کسی مسئلے بر بات چھڑنے کے بعد، اُن کی مہارت اور تمام علوم سے آگاہی اس مرتبے پر ہوتی، کہ وہ ہرگز کوئی کتاب دیکھنے کی حاجت محسوس نہیں کرتے تھے۔”
علی شیر نوائی کئی سالوں تک حسین بایقرا کے دربار میں وزیر رہے تھے۔ اس پوری مدت میں اُنہوں نے عوام کے لیے بہت نیک کام کیے۔ نوائی اپنے ہر ریاستی کام میں جامی سے صلاح و مشورہ کرتے تھے۔ بالآخر، حاسدوں کی سازشوں اور شاہ کے بے خردانہ کاموں کے باعث نوائی دل برداشتہ ہو گئے اور انہوں نے دربار کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن، جس وقت اُنہوں نے جامی سے مشورہ کیا تو جامی نے اس فیصلے پر رضایت ظاہر نہیں کی کیونکہ وہ آسائشِ خلق اور آبادیِ ملک کے لیے ایسے خردمند اور نیک اندیش وزیروں کی موجودگی کو لازمی سمجھتے تھے۔ نوائی لکھتے ہیں: "یہ فقیر جن دنوں بادشاہ کی مصاحبت و ملازمت میں تھا، میں اُن جناب سے (یعنی جامی سے) اُس کام سے اپنی خلاصی کے کے لیے مدد کی التماس کیا کرتا تھا، لیکن وہ جناب ہر طرح کی باتوں سے مجھے تسلی دے کر مطمئن کر لیتے تھے۔”
جامی کوئی سیاسی شخصیت نہیں تھے، لیکن وہ ملک و رعیت کی اوضاع کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ اکثر موقعوں پر جامی اور نوائی کے سیاسی خیالات ایک ہی ہوتے تھے۔ وہ دونوں اپنی تصنیفات میں صلح و آسائش کی تلقین کرتے تھے اور صلح و صلاح کو زندگی میں عملی شکل دینے کے لیے وہ ہر راہ اور واسطے سے سعی و کوشش فرماتے تھے۔ مثلاً، ایک بار حسین بایقرا نے کُندوز پر قبضے کے لیے افغانستان پر لشکر کشی کر دی۔ یقیناً اس جنگ میں عامۂ محنت کش کے خانہ خراب اور مملکت کے ویران ہونے کا اندیشہ تھا، لہٰذا جامی اور نوائی نے شاہ کے اس کام کی مخالفت کی۔ اس بارے میں نوائی یہ لکھتے ہیں: "بادشاہ کا کندوز کی طرف لشکر کشی کرنا اُن جناب (جامی‌) اور کسی بھی شخص کی پسند کے موافق نہ تھا۔ اُن جناب نے فقیر (نوائی) سے کہہ دیا تھا کہ جب تک تم سے ہو سکے، بادشاہ کو اس سفر سے باز رکھو، اور اگر یہ ممکن نہ ہو اور یہ سفر مقرر ہو جائے تو مجھے لازمی لکھ کر بھیجنا۔”
‘خمسۃ المتحیرین’ میں ۲۸ سے زیادہ مکاتیب شامل ہیں جن میں سے ۱۵ جامی کے جبکہ بقیہ ۱۳ نوائی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مکتوبوں کے اندر وہ رباعیاں، قطعے اور اشعار بھی لائے گئے ہیں جو ایک دوسرے کے جواب میں کہے گئے تھے۔ یہ مکاتیب ان دو اشخاصِ بزرگ اور مردانِ خردمند کی دوستی و رفاقت کا برجستہ نمونہ ہیں۔ مذکورہ تصنیف تربیتی نقطۂ نظر سے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
پس، تاجک اور ازبک ملّتوں کے ان دو فرزندانِ برومند کی دوستی و ہمکاری نے ان دو ملّتوں کے درمیان روابط کو مستحکم کرنے میں بہت ہی موزوں حصہ ڈالا ہے۔ اور آج بھی ان دو ملّتوں کے درمیان دوستی و ہمکاری مسلسل وسعت پا کر مستحکم تر ہوتی جا رہی ہے۔

(وزارتِ معارفِ تاجکستان کی شائع کردہ نصابی کتاب ‘ادبیاتِ تاجک: کتابِ درسی برائے صنفِ نہم’ سے اقتباس اور ترجمہ)

"مولانا جامی کے پیروؤں کے درمیان اُن کے شاگردِ باوفا علی شیر نوائی خاص مقام کے حامل تھے اور اُن کا شمار تالیفاتِ جامی کے اولین ترجمانوں میں ہوتا تھا۔
جامی اور نوائی کا باہمی تعلق پیر و مرید، استاد و شاگرد اور دو برادروں کے مابین رہنے والی دوستی اور صمیمیت کا ایک برجستہ نمونہ تھا جو ہر قسم کی غرَض سے پاک تھا۔ جامی نے اپنی مثنوی ‘لیلیٰ و مجنون’ میں اپنے شاگرد نوائی کی دوستی و رفاقت کو اس طرح قلمبند کیا ہے:
خاصہ، کہ بہ باغِ آشنائی
بر شاخِ وفا بوَد نوائی
خود علی شیر نوائی نے بھی اپنے استادِ بزرگوار اور برادرِ جانی عبدالرحمٰن جامی کی وفات پر ایک ایسا جاں سوز مرثیہ لکھا تھا جس کی مولانا حسین واعظ کاشفی کی زبان سے قرائت نے سب کو گریہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ مرثیۂ مذکور، بلاشبہہ، ادبیاتِ فارسی میں شاعری کے بہترین نمونوں میں سے ایک ہے۔
نیز، نوائی نے اپنے استاد اور دوستِ بزرگوار کی پاک روح کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی لکھا تھا:
تو برفتی و دلِ خلقِ جہان زار بماند
تا قیامت بہ فراقِ تو گرفتار بماند
مولانا عبدالرحمٰن جامی اور امیر علی شیر نوائی کی صادقانہ دوستی، کہ جس کا احساس ان دو مذکورہ بالا مصرعوں میں بخوبی ہو جاتا ہے، تاجک اور ازبک ملّتوں کی دوستی کا برجستہ اور عبرت آموز نمونہ ہے۔”

(صدرِ تاجکستان امام علی رحمان)
۴ اکتوبر، ۲۰۱۴ء


شرحِ احوالِ امیر نظام الدین علی شیر نوائی

نظام الدین علی شیر نوائی کلاسیکی ازبک ادبیات کے اساس گزار ہیں جو اپنی ممتاز تالیفات کے ہمراہ ازبکوں اور ترک نژادوں کے ادب کی تاریخ میں بہت شائستہ مقام رکھتے ہیں۔
وہ ۱۴۴۱ء میں شہرِ ہرات میں متولد ہوئے تھے۔ اُن کے والد غیاث الدین کیچکینہ بہادر تیموری دربار کے عملداروں میں سے تھے تاہم وہ لکھنا پڑھا نہیں جانتے تھے۔ لیکن ناخواندہ ہونے کے باوجود، اُنہوں نے اپنے فرزند کی تعلیم و تحصیل میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا، اور اس سلسلے میں بہت کوششیں کیں۔ نوائی نے اپنی ابتدائی اور وسطی تعلیم ہرات میں حاصل کی، جس کے بعد وہ مشہد چلے گئے۔ وہاں انہوں نے ابوالقاسم بابر میرزا کے دربار سے وابستہ ہونے کے علاوہ اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ خاص طور پر، وہ فارسی کے بزرگ ادیبوں نظامی گنجوی، امیر خسرو دہلوی، کمال خجندی اور حافظ شیرازی کی تخلیقات کے مطالعے میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے۔ نوائی نے اُن سے کلامِ موزوں کا سحر، سخنوری کا ہنر، اور تمثال آفرینی کے طرز و اصول سیکھے، اور اُن کی پیروی میں اپنے اولین اشعار انشا کرنے شروع کیے۔ اس کے علاوہ، نوائی اس شہر میں عالموں اور شاعروں کی صحبت میں بھی اشتراک کرتے تھے اور اُن سے درسِ زندگی حاصل کرتے تھے۔ اسی جگہ نوائی نے اپنے اولین دیوان کو مرتّب کیا تھا۔ ۱۴۶۶ء میں علی شیر نوائی ہرات واپس آ گئے۔ تاہم وہاں کی سیاسی و اجتماعی حیات کے نامساعد ہونے اور ابوسعید میرزا کی جنگوں اور خوں ریزیوں کے سبب نوائی اُسی سال ہرات کو ترک کر کے سمرقند کی جانب عازمِ سفر ہو گئے۔ سمرقند میں علی شیر نوائی دوبارہ تحصیلِ علم و ادب میں مشغول ہو گئے اور وہاں انہوں نے اپنے زمانے کے ایک مشہور عالم خواجہ فضل اللہ ابو لیث سے علمِ فقہ حاصل کیا۔
۱۴۶۹ء میں جس وقت حسین بایقرا – جو نوائی کا ہم مکتب اور رضاعی برادر تھا – ہرات آ کر مسندِ پادشاہی پر بیٹھا تو اُس نے نوائی کو اپنے دربار میں دعوت دی۔ علی شیر نوائی کو حسین بایقرا کے دربار میں مُہرداری کا عہدہ عطا ہوا۔ اسی زمانے میں نوائی کی جامی کے ساتھ دوستی کا آغاز ہوا اور وہ جامی کے مرید بن گئے۔
علی شیر نوائی انسان دوست اور رعیت پرور شخص تھے۔ وہ ریاستی امور کے اجرا کے دوران بیچاری عوام کو فائدہ پہنچایا کرتے تھے اور اُن کے خیرخواہ رہتے تھے۔ مثلاً سال ۱۴۷۰ء میں عملداروں اور حاکموں کے ظلم و استثمار اور حد سے زیادہ خراج کی وصولی سے لوگوں کی اقتصادی زندگی نہایت دشوار ہو جانے کے باعث عوام نے ظالموں کی اس بیدادگری کے خلاف شورش برپا کر دی تھی۔ صرف علی شیر نوائی کی عاقلانہ تدبیروں کی وجہ سے اس شورش کو ختم کیا گیا۔ نوائی نے سلطان حسین بایقرا کو مشورہ دیا کہ سب سے پہلے ظالموں کو سزا دی جائے اور پھر عوام سے لیے جانے والے خراج میں کچھ حد تک کمی کی جائے۔ اس قضیے کے بعد لوگوں کے درمیان نوائی کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو گیا اور وہ اُن کی پہلے سے بھی زیادہ حرمت کرنے لگے۔
علی شیر نوائی ۱۴۷۲ء میں مرتبۂ وزارت پر فائز ہوئے۔ دقیقاً اسی زمانے میں سیاسی و اجتماعی وضع بہت حد تک آسودہ ہو گئی جس کے نتیجے میں تمدنی و ادبی زندگی میں بہت پیش رفت واقع ہوئی۔ لیکن نوائی کے بہت سے کام شاہ اور سلطنتی عملداروں کے خشم و غضب کا باعث بنے اور وہ نوائی کو رنج و آزار پہنچانے کے در پے ہو گئے۔ شاہ کے سامنے حکّام اور وزراء [نوائی کی نسبت] ہر طرح کی بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ انہی وجوہات کی بنا پر نوائی سال ۱۴۷۶ء میں منصبِ وزارت سے دست کَش ہو گئے۔ بعدازاں، اُنہوں نے گیارہ سال کی مدت ریاستی امور کو ایک طرف رکھ کر علمی و ادبی تالیفات کی تخلیق میں مشغول رہ کر گذاری۔ اسی دور میں اُنہوں نے اپنے ‘خمسہ’ نامی پانچ مثنویوں کے مجموعے کو تکمیل تک پہنچایا۔ ان گیارہ سالوں بعد حسین بایقرا نے اُنہیں پھر استرآباد کا حاکم متعین کیا، لیکن استرآباد میں نوائی فقط ایک سال مقیم رہے اور ۱۴۸۸ء میں واپس ہرات آ گئے۔ اس کے بعد وہ اپنی عمر کے اختتام تک پھر کبھی سلطنتی امور میں مشغول نہیں ہوئے اور اپنے وقت کو اُنہوں نے صرف تصنیفی کاموں میں صرف کیا۔
علی شیر نوائی کا انتقال جنوری ۱۵۰۱ء میں شہرِ ہرات میں ہوا۔ ‘حبیب السیر’ کے مؤلف خواندمیر نے بزرگ شاعر نوائی کی وفات پر ہرات کے لوگوں کے غم و اندوہ اور احساسات کو سوز و گداز کے ساتھ بیان کرنے کے بعد ابیاتِ ذیل سے اُن کا خلاصہ نکالا ہے:
چرا خون نبارید چشمِ سپهر؟
چرا گشت روشن دگر ماه و مهر؟
چرا سلکِ ایام درهم نشد؟
چرا ماه و سال از جهان کم نشد؟
نوائی کے جسد کو ہرات کے اُسی گنبد میں سپردِ خاک کیا گیا جسے اُنہوں نے خود تعمیر کرایا تھا۔

(وزارتِ معارفِ تاجکستان کی شائع کردہ نصابی کتاب ‘ادبیاتِ تاجک: کتابِ درسی برائے صنفِ نہم’ سے اقتباس اور ترجمہ)


امیر علی شیر نوائی: تُرکوں کے چَوسر

مغربی یورپ اور امریکی برِ اعظموں کے اکثر لوگوں کے نزدیک لفظ ‘ترک’ کا مطلب صرف ترکی کا باشندہ ہے۔ بہت کم لوگ ہی یہ ادراک کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے نو کروڑ ترکوں – یعنی کوئی ترک زبان اور بولی بولنے والے لوگوں – کی ساٹھ فیصد تعداد جمہوریۂ ترکی سے باہر مقیم ہے۔
مثال کے طور پر سوویت اتحاد کے ترکوں – یعنی ازبکوں، تاتاروں، قزاقوں، آذریوں، ترکمنوں، قرغیزوں، باشقُردوں، قراقالپاقوں، قُومُوقوں، یاقُوتوں، اویغروں اور قراچائیوں – کی تعداد کم و بیش ترکی کے ترکوں ہی کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ چین، ایران، افغانستان، بلغاریہ، قبرص، عراق، شام، یونان، یوگوسلاویہ، رومانیہ اور منگولیہ میں بھی قابلِ ذکر ترک اقلیتیں موجود ہیں۔ ترک نام کا یہ مجموعی گروہ مختلف قسم کے لوگوں کا مجموعہ ہے جو کثیر الانواع جسمانی ہیئتوں، معاشرتی ڈھانچوں، زندگی کی طرزوں، سیاسی ہمدردیوں اور ثقافتی وابستگیوں کے حامل ہیں۔
مع ہٰذا، ان باہمی فًرقوں کو دو عواملِ اتحاد کم کرتے ہیں: اسلام – پچانوے فیصد ترک مسلمان ہیں – اور ترک ماضی کی تقریباً نامعلوم عظمتوں پر فخر۔ انہی عظمتوں کی ایک عمدہ مثال پندرہویں صدی کے معزز مصنف میر علی شیر نوائی ہیں، جنہیں اسلام کے انگریز مؤرخ اور مستشرق برنارڈ لوئس نے ‘ترکوں کے چوسر’ کا لقب دیا ہے۔
نوائی کے تخلص سے مشہورِ عالم میر علی شیر نے ترک ادبیات کی بنیاد نہیں رکھی تھی۔ در حقیقت، ترک ادبیات کی تاریخ تو نوائی سے بھی کم سے کم سات سو سال پہلے تک جاتی ہے۔ لیکن نوائی نے وہ کام کیا جو چوسر نے ایک صدی قبل انگلستان میں کیا تھا، یعنی اُنہوں نے ترک گفتاری بولی میں اولین ممتاز ادیب بن کر ایک نئے قومی ادب کا انقلاب برپا کیا تھا۔
نوائی کے باصلاحیت ہاتھوں میں ترکی زبان کو، جسے اُس وقت کے اہلِ قلم روایتی طور پر گنوار اور ادنیٰ سمجھتے تھے، اعلیٰ ترین درجے کی نظم و نثر کے دل پذیر ذریعے کے طور پر پہچان ملی۔ اگرچہ اُس وقت کے عربی اور فارسی سے وابستہ ادبی حلقے اس بات کا دعویٰ کرتے تھے کہ وحشی ترکی زبان لطیف خیالات اور ارفع جذبات کو فصاحت، لطافت اور قوت کے ساتھ بیان کرنے پر قادر نہیں ہے، لیکن نوائی نے اپنے بے نظیر فن کی بدولت، اُنہیں غلط ثابت کر دکھایا۔
میر علی شیر نوائی ۱۴۴۱ء میں ہرات میں پیدا ہوئے تھے جو اب شمال مغربی افغانستان میں واقع ہے۔ اُس زمانے میں شہرِ ہرات خراسان کے حاکم اور عظیم تیمور لنگ کے چوتھے اور سب سے قابل بیٹے شاہزادہ شاہ رخ کا دارالحکومت اور قیام گاہ تھا۔ اگرچہ تیمور لنگ کا دارالحکومت آمو دریا کے شمال میں واقع شہر سمرقند تھا، لیکن یہ خراسان کا شہر ہرات تھا کہ جسے شاہ رخ کے ۱۳۹۷ء سے لے کر ۱۴۴۷ء تک جاری رہنے والے تابندہ و درخشاں دورِ حکومت میں مشرقی اسلامی دنیا کے والاترین علمی و ثقافتی مرکز بننے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ ہرات کے حریف شہروں میں دوسرے درجے پر سمرقند تھا جو ۱۴۰۹ء سے ۱۴۴۶ء تک شاہ رخ کے بیٹے، اور مشہور ریاضی دان اور ستارہ شناس، الوغ بیگ کی حاکمیت میں تھا۔
پندرہویں صدی کے پہلے نصف کے پورے عرصے کے دوران شہرِ ہرات کی غالب ثقافت فارسی/ایرانی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ شاہ رخ خود ترک تھا، نیز حکمران طبقے کے ارکان کی اکثریت اور ہرات کے عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی ترک تھی۔ لیکن اوائلی فارسی/ایرانی تمدن کے چکاچوند کر دینے والے کارنامے سب کے سامنے اظہر من الشمس تھے، اور اس کے وقار اور مسلّمہ درخشندگی پر وسطی ایشیائی ترک فریفتہ تھے۔ ترک الاصل ادباء فارسی زبان میں لکھنے کو ترجیح دیتے تھے، جسے مسلم مشرق میں ثقافت اور علم کی زبان کے طور پر سراہا جاتا تھا۔ جبکہ ترک نسل کے مصور کلاسیکی فارسی/ایرانی نمونوں کی تقلید کرتے تھے۔ اس سے قبل، خود فارسی/ایرانی تمدن کو بھی عرب، اسلام کی جلا بخش توانائی کے ذریعے، ناقابلِ تنسیخ طور پر بدل چکے تھے۔
یہ تھا وہ ماحول جس میں نوائی نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔ اُنہوں نے مشہد (موجودہ شمال مشرقی ایران کا شہر)، ہرات اور سمرقند میں تعلیم حاصل کی تھی، بعد ازاں وہ ۱۴۶۹ء میں ہرات واپس آ گئے تھے جہاں اُن کا پرانا ہم مکتب اور تیمور کا پر پوتا حسین بایقرا خراسان کا سلطان بن چکا تھا۔ نوائی کی اس زمانے سے پہلے کی ادبی کوششوں کے بارے میں کوئی معلومات دسترس میں نہیں ہے۔ البتہ اگلی تین دہائیوں میں وہ اسلامی ادبیات کی تاریخ میں اپنے لیے حقیقی معنوں میں ایک زمانہ ساز ادیب کا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، اور انہوں نے ان دہائیوں میں ہرات کو وہ رتبہ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کے بارے میں فرانسیسی مستشرق رینے گروسیت کے الفاظ یہ ہیں کہ اُس وقت کا ہرات ‘تیموری نشاۃِ ثانیہ کے نام سے درست طور پر یاد کی جانے والی تحریک کا فلورنس تھا۔’ [اس قول کا پس منظر یہ ہے یورپی تہذیبی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز فلورنس سے ہوا تھا۔]
۱۴۶۹ء سے لے کر ۱۵۰۱ء میں اپنی وفات تک، در حقیقت، ایک نہیں بلکہ چار مختلف میر علی شیر نوائی گذرے ہیں، جن میں سے ہر ایک نوائی کی اسلامی تاریخ میں اپنی خاص اہمیت ہے۔ نوائی اپنی پہلی حیثیت میں سلطان حسین بایقرا کے معتمد و مشیر اور عوامی منتظم تھے۔ عمومی طور پر اگرچہ نوائی نے اپنے فن و ہنر کے لیے خود کو شدت سے وقف کر رکھا تھا، لیکن وہ دوسرے دنیاوی امور سے قطعاً بے علاقہ نہیں تھے۔ وہ سیاست اور قوانین سازی کے امور میں بہ طورِ کامل مشغول تھے، اور وہ اس سیاسی دنیا میں بڑی حد تک سلطان حسین سے اپنی قریبی، مگر بعض اوقات اتار چڑھاؤ رکھنے والی، دوستی کے نتیجے میں داخل ہوئے تھے۔ باوجودیکہ کچھ یورپی مصنفوں نے ادعا کیا ہے کہ نوائی سلطنت کے وزیر تھے، حقیقت یہ ہے کہ نوائی ہرات کے تیموری دربار سے کبھی وزیر یا وزیرِ اعظم کی حیثیت سے وابستہ نہیں رہے، گو وہ اس سے کم درجے کے سرکاری عہدوں پر ضرور فائز رہے تھے۔ تاہم گاہ گاہ اُن کی عمل داری تقریباً ایک وزیر ہی کے برابر ہوتی تھی: کم از کم ایک موقع پر ایسا ضرور تھا جب انہوں نے ۱۴۷۹ء میں سلطان حسین کی غیر موجودگی میں ہرات پر حاکمیت کی تھی۔ یہ دنیاوی و سیاسی امور یقیناً نوائی کے تحریر کے لیے وقف وقت میں شدید تخفیف کا باعث بنتے ہوں گے، لیکن یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے سلطان اور سلطنت کے مفادِ عامہ کی جانب ذمہ داری کا حقیقی جذبہ محسوس کرتے تھے۔
نوائی اپنی دوسری حیثیت میں ایک معمار تھے۔ کہا جاتا ہے کہ صرف خراسان ہی میں وہ ۳۷۰ کے قریب مسجدوں، مکتبوں، کتب خانوں، شفا خانوں، کاروان سرایوں، اور دیگر علمی، مذہبی اور رفاہی اداروں کی بنیاد، مرمت اور عطا و بخشش کا باعث بنے تھے۔ شاید ان تمام کارِ خیر کے لیے اُنہوں نے اپنے معقول ذاتی وسائل کے علاوہ دربار میں موجود اپنے اثر و رسوخ کا بھی استعمال کیا ہو گا۔ ہرات میں واقع خالصیہ مدرسہ اور نیشاپور (شمال مشرقی ایران) میں واقع تیرہویں صدی کے عارف شاعر فریدالدین عطار کا مقبرہ وہ چند مشہور عمارتیں ہیں جن کی تعمیر میں اُن کا ہاتھ تھا۔
البتہ ہم تمدن میں پائدار شراکتوں کے لیے سب سے زیادہ نوائی کی آخری دو حیثیتوں کے مرہونِ منت ہیں۔ اور وہ دو حیثیتیں ہیں: نوائی بطور علم، فن اور ادب کے سرپرست و مروِّج؛ اور نوائی بطور ادیب و مصنف۔
چونکہ نوائی خود ایک موسیقی داں، نغمہ ساز، خطاط، مصور، مجمسہ ساز اور بہت ہی زیادہ ہر فن مولا اور ہمہ گیر ادیب تھے، لہٰذا وہ فنی اظہار کی تمام تخلیقی صورتوں سے وابستہ تھے۔ وہ تیموری ثقافت کے کئی مثالی نابغوں کے دوست اور فیاض سرپرست تھے، جن کی فہرست میں مشہور فارسی شاعر جامی کا – کہ جن کی مدح و تمجید میں نوائی نے خمسۃ المتحیّرین لکھی تھی -، فارسی مؤرخوں میرخواند اور اُن کے پوتے خواندمیر کا، کتابوں کی تذہیب کے لیے مصوری اور نگارگری کرنے والے بہزاد اور شاہ مظفر کا، اور قل محمد، شیخ نائی اور حسین عودی جیسے موسیقاروں کا نام لیا جا سکتا ہے۔
لیکن ان سب چیزوں سے بڑھ کر، نوائی کو آج اس لیے یاد کیا اور موردِ احترام مانا جاتا ہے کیونکہ اُنہوں نے حیرت انگیز انداز سے ترکی ادب کو ایک کامیاب شکل عطا کی تھی اور اسے خوب فروغ دیا تھا۔ ۱۴۰۰ء سے قبل بھی غیر سنجیدہ اور لوک ادب کے لیے ترکی لہجوں کا استعمال عام تھا، لیکن پندرہویں صدری عیسوی کے پہلے نصف میں وسطی ایشیائی ادیبوں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے پہلی بار ادبیاتِ عالیہ و لطیفہ کے لیے ترکی زبان کے استعمال کی جانب لڑکھڑاتے قدم اٹھائے تھے۔ اس نئے ادب کی بنیاد رکھنے والوں کو، جن میں سکّاکی، لطفی، یقینی اور گدائی جیسے شعراء شامل تھے، ایک خاص اور دشوار مسئلہ درپیش تھا۔ وہ اپنی شاعری کو فارسی-عربی شعر گوئی کے قبول کردہ قواعد اور معیارات کے مطابق لکھنا چاہتے تھے، لیکن اُن کے پاس خام مال کے طور پر جو ترکی زبان موجود تھی وہ ان قواعد و معیارات کے لیے کچھ زیادہ موزوں نہیں تھی۔ بہرحال، اُن لوگوں نے ترکی کے مکمل ذخیرۂ الفاظ اور مختلف دستوری ترکیبوں کے ماہرانہ استعمال سے اور عربی اور فارسی سے بے شمار الفاظ اور عبارات اخذ کر کے وسطی ایشیا اور خراسان کی ترکی بولی سے ایک نئی ادبی زبان کی تخلیق کی تھی جسے ‘چغتائی ترکی’ یا صرف ‘چغتائی’ کے نام سے جانا گیا۔
چغتائی زبان میں تحریر شدہ کچھ ابتدائی تصنیفات، مثلاً لطفی کی شاعری، یقیناً دائمی خوبیوں کی حامل ہیں۔ لیکن مختلف علاقائی پس منظر کی وجہ سے ان ابتدائی چغتائی مصنفوں کی اور حتیٰ کہ ایک ہی شہر میں رہنے والے مختلف مصنفوں کی زبانیں بھی باہم متفاوت اور بے ثبات ہوتی تھیں۔ نوائی نے یہ منظرنامہ پوری طرح بدل دیا۔ تین دہائیوں پر محیط اُن کی تیس کے قریب چغتائی تصنیفات کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا کہ اس نئی ادبی زبان کا معیار مقرر ہو گیا اور اسے ثبات و استحکام مل گیا۔ اور یہ صرف اور صرف نوائی کی شاعری کی بے مثال خوبیوں کی بدولت تھا کہ ترکی زبان اپنے آپ کو ادبی اظہار کے قابلِ قدر ذریعے کے طور پر منوانے میں کامیاب ہو سکی۔
نوائی کے معروف ترین اشعار اُن کے چار دیوانوں – غرائب الصغر، نوادر الشباب، بدائع الوسط اور فوائد الکبر ۔ میں موجود ہیں۔ اُنہوں نے چغتائی زبان میں شاعری سے متعلق کچھ فنی رسالوں کی تصنیف کرنا بھی اپنا فرض سمجھا تاکہ دوسرے ترکی گو شعراء کو ان سے مدد مل سکے۔ مثال کے طور اُنہوں نے میزان الاوزان کے نام سے شعری اوزان پر ایک مفصل رسالہ لکھا۔ اس کے علاوہ مجالس النفائس نامی ایک ضخیم تذکرہ بھی مرتب کیا، جس میں ۴۵۰ چھوٹے بڑے ہم عصر شاعروں کے سوانحی خاکے درج ہیں۔ یہ مؤخرالذکر کتاب تیموری ثقافت کے کسی بھی مؤرخ کے لیے سونے کی کان سے کم نہیں ہے۔
البتہ، نوائی کی شاید سب سے زیادہ دل سے لکھی گئی اور جذبات کی حامل تحریر اُن کی سب سے آخری تصنیف محاکمۃ اللغتین تھی جو اُن کی وفات سے تیرہ ماہ قبل دسمبر ۱۴۹۹ء میں مکمل ہوئی تھی۔ اس تصنیف میں نوائی نے طویل مضمون کی شکل میں ترکی زبان کی زوردار وکالت کی ہے۔ دوسرے ترک الاصل مصنفوں کو فارسی کے بجائے چغتائی میں لکھنے کی ترغیب دینے کی امید میں انہوں نے اس نگارش میں اپنے زاویۂ نظر کے حوالے سے فارسی پر ترکی کی فطری برتریوں کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے پسندیدہ ترین موضوعِ گفتگو پر حتمی فیصلے کی نیت سے لکھی گئی نوائی کی محاکمۃ اللغتین ایک ایسی تصنیف کی بہت ہی کامل مثال ہے جو کسی مصنف کی آخری کتاب کے ساتھ ہی اُس کے آخری وصیت نامے کے مثل بھی ہو۔
اس تصنیف کی ابتداء میں نوائی یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ اس دنیا میں زبانوں کی چار بنیادی انواع – یعنی عربی، فارسی، ترکی اور ہندی – ہیں اور ان میں سے ہر ایک اصل نوع کی ‘بہت ساری فروع ہیں۔’ چونکہ وہ ایک صادق الاعتقاد مسلمان تھے، اس لیے اپنے دینی عقیدے کے بموجب وہ دیگر زبانوں پر عربی کی مطلق برتری پر کوئی سوال نہیں اٹھاتے اور اس ضمن میں کہتے ہیں کہ "ان [تمام زبانوں] کے درمیان عربی آئینِ فصاحت کے لحاظ سے ممتاز اور تزئینِ بلاغت کے لحاظ سے معجزہ طراز ہے اور اس باب میں کسی اہلِ تکلم و صدق و تسلیم کو کسی قسم کا مجالِ دعویٰ نہیں ہے؛ کیونکہ کلامِ معجز نظامِ مَلِکِ علّام – جلّ و علا – اس زبان میں نازل اور احادیثِ سعادت انجامِ رسول – علیہ الصلواۃ والسلام – اس لفظ میں وارد ہوئی ہیں، اور اولیائے کبار و مشائخِ عالی مقدار – قدس اللہ اسرارہم – نے جو حقائق و معارف بیان کے ہیں اور جن معانیِ زیبا کو لباسِ تقریر پہنایا ہے، وہ جملہ اسی عبارتِ فرخندہ و الفاظ و اشاراتِ خجستہ صورت میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔” البتہ وہ اپنے نقطۂ نظر کے تحت مختصراً ہندی کو ‘شکستہ قلم کی خراش’ جیسی سنائی دینے والی اور اُس کے رسمِ خط کو ‘کوے کے قدموں کے نشان جیسا’ کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں۔ عربی اور ہندی کے بارے میں رائے دینے کے بعد، ہرات اور پورے مسلم وسطی ایشیا میں بولی جانے والی دو زبانیں ترکی اور فارسی داوری کے لیے باقی رہ جاتی ہیں۔
محاکمۃ اللغتین میں نوائی نے مکرراً فارسی الفاظ کے بر خلاف ترکی الفاظ کی ثروتمندی، واضحیت اور اشتقاق پذیری پر زور دیا ہے۔ مثلاً وہ ہمیں آگاہ کرتے ہیں کہ ترکوں کی زبان میں عورت کے چہرے پر موجود زیبائی کے نشان کے لیے ایک خاص لفظ موجود ہے، لیکن فارسی زبان میں ایسا کوئی متبادل لفظ ناپید ہے۔ نوائی کے مطابق، کئی ترکی الفاظ کے تین، چار یا اس سے بھی زیادہ معانی ہیں جبکہ فارسی میں اس طرح کے لچک دار الفاظ کا فقدان ہے۔ ترکی زبان کی مختلف چیزوں کے مابین دقیق امتیاز کرنے کی قابلیت کو بیان کرنے کے لیے وہ ایسے نو ترکی الفاظ کی فہرست پیش کرتے ہیں جو بطخوں کی مختلف انواع کی شناخت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن فارسی کے بارے میں وہ ادعا کرتے ہیں کہ اس میں ان تمام انواع کے لیے ایک ہی لفظ موجود ہے۔ کتاب کا ایک کے بعد ایک صفحہ اسی طرح کے استدلالوں سے پُر ہے۔
نوائی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ فارسی کے مقابلے میں ترکی میں اچھا لکھنا زیادہ مشکل ہے۔ محاکمۃ اللغتین کے مندرجہ ذیل اقتباس میں اپنے ہم عصر نوجواں ترکی گو شاعروں کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے اور اُن شاعروں کے فنّی شش و پنج کی ہمدردانہ تفہیم ظاہر کرتے ہوئے نوائی لکھتے ہیں:
"بے شک، اس زبان میں موجود عجیب اور نادر معانی کا استعمال مبتدیوں کے لیے آغاز میں آسان کام نہیں ہے۔ اس طرح کی دشواریوں کے مقابل مبتدی شعراء [ترکی سے] منہ موڑ لیتے ہیں اور ایک آسان تر راہ [یعنی فارسی] کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں، اور جب ایسا چند بار ہو جاتا ہے تو وہ اس حال کے خو گرفتہ ہو جاتے ہیں، اور پھر اُن کے لیے اس عادت کو ترک کر کے مشکل تر راستے پر آنا بہ سہولت امکان پذیر نہیں رہتا۔ بعدازاں، جب دوسرے مبتدی اپنے متقدموں کے طرزِ عمل اور تالیفات کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس راہ سے منحرف ہونا مناسب نہیں سمجھتے۔ نتیجتاً وہ بھی اپنی نظمیں فارسی میں لکھتے ہیں۔
مبتدیوں کے لیے یہ بات فطری ہے کہ جو کچھ انہوں نے لکھا اور کہا ہے وہ اُسے اہلِ فن اور اساتذہ کو دکھانا پسند کرتے ہیں، اور جملہ صاحبانِ قلم کی یہی عادت ہے۔ لیکن چونکہ اس فن کے اساتذہ فارسی گو ہیں اور وہ کلامِ ترکی سے بہرہ مند نہیں ہیں، لہٰذا جوانانِ ترک بھی فارسی کی طرف ملتفت ہو کر اسی میں سخن سرائی کرنے لگتے اور اسی خیل کا حصہ بن جاتے ہیں۔”
لیکن وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود ترک الاصل شاعروں کو ترکی میں لکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شاید مبتدی مصنفوں کی حوصلہ افزائی کی غرض سے، کتاب میں نوائی حکایت کرتے ہیں کہ کیسے اُنہوں نے اپنے ایامِ جوانی میں ترکی کی ناقابلِ توصیف شان و شوکت کو دریافت کیا تھا:
"بدقسمتی سے یہ بات حقیقت ہے کہ شاعری کے ذریعے کے طور پر فارسی کے مقابلے میں ترکی کی فوقیت، عُمق اور وسعت کی جانب ہر کوئی متوجہ نہیں ہوا ہے۔۔۔ یہ خاکسار اوائلِ شباب میں تھا جب میرے صندوقِ جواہرات جیسے دہن سے کچھ گوہر ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ یہ گوہر، ہنوز سلکِ نظم میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن اس غوّاص طبع کی سعی سے دریائے ضمیر سے وہ گوہر ساحلِ دہن تک پہنچنے لگے جو سلکِ نظم میں پروئے جانے کے قابل تھے۔
چونکہ میں عاداتِ مذکورہ سے خود کو بری کرنا نہیں جانتا تھا اس لیے میں بھی اُسی طرح فارسی میں سخن سرائی کرتا رہا۔ لیکن جس وقت میں نے سنِ تعقل و شعور میں قدم رکھا تو حق سبحانہ وتعالیٰ نے مجھے غرابت الطبع، دقت نظری اور مشکل پسندی کی خصلتیں ودیعت کیں۔ [لہٰذا] مجھے ترکی الفاظ میں غور و فکر کرنا لازم نظر آیا۔ [اس کے نتیجے میں] میری آنکھوں کے سامنے ایک عالم ظاہر ہوا جو اٹھارہ ہزار عالموں سے بزرگ تر تھا، اور جس کے سپہر کی زیب و زینت فلک کی نو کرسیوں سے برتر تھی، اور جس کے مخزنِ رفعت و فضل کے جواہرات کواکب سے رخشاں تر تھے۔ میں اس عالم کے گلزار میں، جس کے گُل اخترانِ سپہر سے درخشندہ تر تھے، گلگشت کے لیے داخل ہوا۔ اس باغ کے حریم کی اطراف قدموں کی گذرگاہ سے محفوظ، جبکہ اس کی نادر اجناس اغیار کی دسترس سے مامون تھیں۔”
میر علی شیر نوائی کا انتقال ۳ جنوری ۱۵۰۱ء کو ہوا۔ سلطان حسین بایقرا نے جنازے میں شرکت کی اور بعد ازاں اپنے عمر بھر کے دوست کے لیے تین دن سوگ منایا۔ شہر میں ایک بہت بڑی عزائی تقریب منعقد کی گئی تاکہ ہرات کے تمام باشندے اپنے فوت شدہ ملک الشعراء کو اجتماعی طور پر خراجِ تحسین پیش کر سکیں۔
تقریباً اس کے فوراً بعد ہی دوسرے مصنفوں نے بھی ادبی ترکی کا معیار اپنا لیا۔ مغل سلطنت کے بانی اور تیمور و چنگیز دونوں کے خلف ظہیرالدین بابر (۱۴۸۳-۱۵۳۰ء) نے اپنی مشہورِ زمانہ سوانحِ عمری چغتائی زبان میں لکھی تھی۔ دوسری جانب مغربی سمت میں واقع عثمانی سلطنت میں عثمانی ترکی میں لکھنے والے مصنفوں نے نوائی کی تالیفات کا عرق ریزی کے ساتھ مطالعہ کیا اور اُن کی نظموں کو بطور نمونہ پیشِ نظر رکھ کر اپنی شاعری کہی۔ ہرات کے اس بلبل نے اگرچہ ترکی کے ایک مختلف لہجے میں اپنی تصنیفات تحریر فرمائی تھیں، لیکن اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ اُن کی تالیفات ہی عثمانی شاعری کے ارتقاء و تکامل کا محرّک بنیں۔ نوائی نے آذربائجانی شاعر فضولی بغدادی (متوفی ۱۵۵۴ء) پر بھی بہت گہرا اثر ڈالا تھا، جو کہ صدیوں سے پوری ترکی گو دنیا کا محبوب ترین شاعر رہا ہے۔ عظیم عثمانی اور آذری شعراء کے منصۂ شہود پر آنے سے ترکی زبان کا اسلام کی تیسری کلاسیکی زبان ہونے کا درجہ راسخ ہو گیا۔
وسطی ایشیا ہی کی بات کی جائے تو وہاں چغتائی زبان و ادب کے بے ہمتا استاد کے طور پر نوائی کی شہرت مسلّم رہی، اور مرورِ زمانہ کے ساتھ اُن کی قدر و منزلت ہی میں اضافہ ہوا۔ نوائی کی وفات کے چار سو سال بعد تک چغتائی زبان وولگا سے لے کر چینی ترکستان کے مسلمان ترکوں کی ادبی زبان کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی۔ اس پورے دورانیے میں چغتائی کی قدامت پسندی کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ چغتائی زبان کا کوئی ادیب نوائی سے بڑھ کر باوقار ہونے اور اثر و رسوخ رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکا تھا، نیز تمام ادباء ہی نوائی کے اسلوب اور ذخیرۂ الفاظ کی نقل کرنے پر مائل رہتے تھے۔ لیکن انجامِ کار، چغتائی زبان کی افادیت کم ہو گئی، اور اس نے اپنی دختر زبانوں – یعنی وسطی ایشیا کی جدید ترک زبانوں مثلاً ازبکی، قزاقی، قرغیزی اور مشرقی ترکی (جسے جدید اویغری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) – کے لیے راستہ صاف کر دیا اور خود کنارہ کش ہو گئی۔ چغتائی کی جگہ پر اُس کی دختروں کا تخت نشیں ہونا ایسا ہی ہے جیسے یورپ میں پچھلی صدیوں میں لاطینی کے مقام پر اُس کی دختر زبانیں فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور پرتگالی وغیرہ متمکّن ہو گئی تھیں۔
البتہ نوائی کی کہانی اس صدی کے اوائل میں ہونے والی چغتائی کی وفات پر ہرگز ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ اب تو اُن کی کہانی کا ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے،  اور اس کی وجہ وہ غیر معمولی تعظیم ہے جو سوویت اتحاد، افغانستان اور چین کے مسلمان ازبک اس شاعر کی کرتے ہیں۔ اگر نوائی بالعموم تمام ترکوں کے چوسر ہیں، تو وہ ترکوں کے اس مخصوص گروہ کے لیے چوسر، دانتے، سیروانتیس اور شیکسپئر سب ہی کچھ ہیں۔
چین اور سوویت اتحاد کے مسلم اویغروں کی زبان مشرقی ترکی کے ہمراہ ازبکی ہی وہ جدید زبان ہے جو کلاسیکی چغتائی سے سب سے زیادہ قرابت رکھتی ہے۔ ازبک لوگوں نے نوائی کو اپنے قومی شاعر کے طور پر منتخب کر لیا ہے، اور سوویت اتحاد میں چغتائی کو عموماً ‘قدیم ازبکی’ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ۱۹۶۶ء میں جب نوائی کی پیدائش کی ۵۲۵ویں برسی تھی تو اُس موقع پر ازبکستان میں سرکاری سطح پر اور دل کی گہرائیوں سے اس شاعر کا جشن منایا گیا تھا۔ اسی ازبکستان ہی میں اسلامی تمدن کے یہ پانچ تاریخی مراکز موجود ہیں: تاشقند، سمرقند، بخارا، خوقند اور خیوہ۔ شاعر کی تجلیل اور اُن کے جملہ آثار تک دسترس آسان بنانے کی غرض سے اُن کی تمام تصنیفات پندرجہ جلدوں میں ازبک دارالحکومت تاشقند میں شائع ہوئی تھیں۔ اُن کی انفرادی کتابیں اور رسالوں کی کئی اشاعتیں اور منتخب تحریروں کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں اور اس پورے زمانے میں نوائی کی زندگی پر مبنی کئی ناول اور تمثیلیں اور اُن سے تعلق رکھنے والی بے شمار تحقیقاتی اور سوانحی کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں۔
لیکن ان سب کے باوجود ہمیں یہ بالکل نہیں بھولنا چاہیے کہ نوائی صرف ازبکوں ہی کی اختصاصی ملکیت نہیں ہے، بلکہ جہاں کہیں بھی مسلمان ترک پائے جاتے ہیں – خواہ وہ ترکی کا استانبول ہو، خواہ ایران کا تبریز ہو، خواہ تاتارستان کا قازان ہو، خواہ وسطی ایشیا کا تاشقند ہو یا خواہ چینی ترکستان کا اورومچی ہو؛ اور خواہ یہ شہر ایک دوسرے سے کتنے ہی دور یا مختلف کیوں نہ ہوں – وہاں نوائی کی وفات کے تقریباً پانچ سو سال بعد بھی اُن کی شاعری سے اُسی طرح لطف اٹھایا جاتا ہے۔ اپنے پیشروؤں دانتے اور چوسر کی طرح، نوائی نے بھی تنِ تنہا ہی ایک زبان کو قابلِ احترام بنایا اور اسے دنیا کے اہم ادبوں کی صف میں لا کر کھڑا کیا تھا۔ ہمارے لیے ایسا کوئی بھی آئندہ زمانہ تصور کرنا ناممکن ہے جب نوائی کی تالیفات کا مطالعہ ختم ہو جائے گا، اور یہ بات جتنی دانتے اور چوسر کے حق میں درست ہے، اُسی طرح نوائی پر بھی کاملاً صادق ٹھہرتی ہے۔

(نویسندہ: بیری ہابرمین)

یہ مضمون سعودی آرامکو ورلڈ مجلّے کے جنوری/فروری ۱۹۸۵ء کے شمارے میں چھپا تھا جس کا میں نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اگر ترجمے میں کوئی خامی نظر آئے یا کوئی اور تجویز ہو تو ضرور گوش گزار کیجیے گا۔ اصل انگریزی مضمون یہاں سے پڑھا جا سکتا ہے۔