عبدالرحمٰن جامی کی سِتائش میں ایک نظم – اُزبک شاعر ذاکرجان حبیبی

(جامی حقی‌ده قۉشیق)
سلام ای مُحترم، علّامهٔ اهلِ بشر، جامی،
اولوغ اُستاذ و یعنی صاحبِ فضل و هُنر، جامی.
کتاب و داستان بیر قنچه نظم و نثر ایله یازدینگ،
سُخن میدانی‌ده جَولان قیلیب تاپدینگ ظفر، جامی.
«بهارستان» و «هفت اورنگ» بیله دیوانِ اشعارینگ
رِسالینگ موسیقی‌ده اېنگ شرَف‌لی مُعتبر، جامی.
آلورلر بهره اۉز اخلاصی‌گه لایق جهان اهلی،
محبّت بیرله قیلسه هر کتابینگ‌گه نظر، جامی.
یاقیم‌لی سۉزلرینگ حکمت‌لی، راحت‌بخش و جان‌پرور،
اۉقیل‌گه‌ی بزم و صُحبت‌لرده سېن‌دن کۉپ اثر، جامی.
نه خوش علم اَوجی‌نینگ روشن قویاشی پرتَو‌افشان‌سن،
نوایی خِذمتینگ‌ده توردیلر باغلب کمر، جامی.
عدالت اۉلکه‌سی‌ده کیم حقیقت نوری‌نی تۉسگه‌ی
تیلیم عاجز، حبیبی، سۉزنی قیلدیم مُختصر، جامی.
(ذاکرجان حبیبی)
۱۹۶۴ء

(جامی کے بارے میں نغمہ)
السّلام اے مُحترم، علّامۂ اہلِ بشر، جامی!۔۔۔ اے عالی اُستاد، یعنی صاحبِ فضل و ہُنر، جامی!
اے جامی! آپ نے نظم و نثر کے ساتھ کئی کتابیں اور داستانیں لِکھیں۔۔۔ آپ نے میدانِ سُخن میں جَولاں کر کے فتح پا لی۔
اے جامی! «بہارستان» و «ہفت اورنگ» کے ہمراہ آپ کا دیوانِ اشعار، اور موسیقی کے بارے میں آپ کا رسالہ باشرَف ترین اور مُعتبر ترین ہے۔
اے جامی! لائق اہلِ جہاں محبّت کے ساتھ آپ کی جس بھی کتاب پر نظر کریں، اپنے اِخلاص کے بقَدر بہرہ حاصل کرتے ہیں۔
اے جامی! آپ کے دل پذیر سُخن پُرحکمت، راحت بخش اور جاں پروَر ہیں۔۔۔ بزم اور صُحبتوں میں آپ کی تألیفات کی بِسیار خوانِش و قرائت ہو گی۔
اے جامی! آپ اَوجِ علم کے کس قدر روشن و پرتَو افشاں خورشید ہیں۔۔۔ امیر علی‌شیر نوائی کمر باندھ کر آپ کی خِدمت میں اِیستادہ ہوئے۔
مُلکِ عدالت میں کون نورِ حقیقت کو مسدود کرے گا؟۔۔۔ اے حبیبی! میری زبان عاجز ہے۔۔۔ اے جامی! میں نے سُخن کو مُختصَر کر دیا۔

(Jomiy Haqida Qo’shiq)
Salom ey Muhtaram, allomai ahli bashar, Jomiy,
Ulug’ ustozu ya’ni sohibi fazlu hunar, Jomiy.
Kitobu doston bir qancha nazmu nasr ila yozding,
Suxan maydonida javlon qilib topding zafar, Jomiy.
«Bahoriston»u, «Haft Avrang» bila devoni ash’oring
Risoling musiqida eng sharafli mo’tabar, Jomiy.
Olurlar bahra o’z ixlosiga loyiq jahon ahli,
Muhabbat birla qilsa har kitobingga nazar, Jomiy.
Yoqimli so’zlaring hikmatli, rohatbaxshu jonparvar,
O’qilgay bazmu suhbatlarda sendan ko’p asar, Jomiy.
Naxush ilm avjining ravshan quyoshi partavafshonsan,
Navoiy xizmatingda turdilar bog’lab kamar, Jomiy.
Adolat o’lkasida kim haqiqat nurini to’sgay,
Tilim ojiz, Habibiy, so’zni qildim muxtasar, Jomiy.
(Zokirjon Habibiy)
1964

Advertisements

ڈیڑھ سو سال قبل ماوراءالنہر و تُرکستان کی لسانی صورتِ حال

"تاجِکان فارسی کا ایک زبانچہ بولتے ہیں، جو اطراف کے تُرکی زبانچوں سے بِسیار زیادہ مُتاثر ہے، اور جس نے کئی تُرکی الفاظ قبول کر لیے ہیں۔ مع ہٰذا، اِس زبانچے میں ایسے کئی آریائی الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں جو جدید فارسی میں استعمال نہیں ہوتے، اور یہ چیز اِن خِطّوں میں اِس [تاجک] نسل کے طویل دوام کا ایک ثبوت ہے۔ اُزبکوں کی قلیل تعداد [ہی] ‘تاجِک’ بولتی ہے، لیکن بیشتر تاجِکان تُرکی بولتے ہیں، جو اُزبکوں کی زبان ہے۔ تُرکی کا جو زبانچہ یہاں بولا جاتا ہے وہ چند یورپی عالِموں میں جَغَتائی کے نام سے معروف ہے، اگرچہ وسطی ایشیا میں اب چند افراد ہی یہ نام جانتے ہیں۔ اگر کسی مقامی شخص سے پوچھا جائے کہ وہ کون سی زبان بولتا ہے تو وہ جواب میں یا تو یہ کہے گا کہ "میں تُرکی بولتا ہوں”، یا پھر کہے گا "اُزبک زبان”۔ میرا ماننا ہے کہ اِس زبانچے کو جَغَتائی کا نام فارْسوں نے دیا تھا کیونکہ ایشیا کے اِس خِطّے کے اُزبک قبائل فارسی تاریخ نویسوں میں ‘مردُمِ جَغَتائی’ کے نام سے جانے جاتے تھے، اور یہ چنگیز خان کے پِسر کا نام تھا جس کو یہ خِطّہ سونپا گیا تھا۔ چونکہ بیشتر تاجِکان، بجُز اُن ضِلعوں میں جہاں صرف وہ ہی مُقیم ہیں، تُرکی بولتے ہیں، لہٰذا اِس زبان کے ساتھ وسطی ایشیا میں کہیں بھی جایا جا سکتا ہے۔ لیکن در عینِ حال، ‘تاجِک’ نزاکت و ثقافت کی زبان ہے، جس میں بیشتر تحریریں اور تمام سرکاری و رسمی دستاویزات لِکھی جاتی ہیں۔”

(تُرکستان: رُوسی تُرکستان، خوقند، بُخارا اور قولجہ میں سفر کی یادداشتیں، جلدِ اوّل، صفحہ ۱۰۹، یُوجین شُوئلر، ۱۸۷۶ء)

مُترْجِم: حسّان خان

× ‘تاجِک’ سے ماوراءالنہری فارسی مُراد ہے، جبکہ ‘جدید فارسی’ مُصنِّف نے جدید ایرانی فارسی کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔

× کتاب کا انگریزی نام:
Turkistan: Notes of a Journey in Russian Turkistan, Khokand, Bukhara, and Kuldja – Eugene Schuyler


فارسی فقط ایرانی شیعوں کی زبان نہیں ہے

جب میں نے اردو محفل پر ایک جگہ دیکھا کہ فارسی زبان کو فقط ایرانی شیعوں سے مخصوص کیا جا رہا ہے تو جواب میں یہ لکھا تھا:

زبانِ فارسی کا تعلق صرف ایران سے نہیں ہے، بلکہ افغانستان اور تاجکستان کی بھی یہ سرکاری زبان ہے۔ خود ایران میں بھی صرف فارسی بولنے والی نہیں بستے، بلکہ وہ بھی ایک کثیر اللسانی ملک ہے اور وہاں ترکی، کردی، عربی، مازندرانی، گیلکی، لُری، بلوچی وغیرہ درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں ترکی زبان بولنے والوں کی تعداد ہی تیس فیصد کے نزدیک ہے۔
فارسی زبان کو ایرانی شیعوں تک محدود کرنا بھی سخت ناانصافی ہے۔ ایران میں صفویوں کے – جو در حقیقت خود ترک تھے – اقتدار پر آنے سے قبل پورے فارسی گو اور فارسی زدہ خطے میں صرف ناصر خسرو اور فردوسی ہی ایسے دو بزرگ فارسی شعرا گذرے ہیں جو شیعہ تھے – ناصر خسرو بھی اثناعشری نہیں بلکہ فاطمی اسماعیلی تھے۔ اِن کے علاوہ حافظ، سعدی، رومی، امیر خسرو، جامی وغیرہ سمیت سارے فارسی گو شعراء اہلِ سنت و جماعت تھے۔ فارسی زبان اپنی ادبی شکل کی ابتداء کے لیے جن ماوراءالنہری سامانی امیروں کی مرہونِ منت ہے وہ بھی راسخ الاعتقاد سنی مسلمان تھے اور فارسی کو اطراف و اکناف میں پھیلانے اور رائج کرنے والے غزنوی، مغل، تیموری، سلجوق، تغلق، غوری، خوارزمی، آصف شاہی، عثمانی، شیبانی، منغیت وغیرہ شاہی سلسلے سب کے سب حنفی اہلِ سنت مذہب کے حامل تھے۔ ماوراءالنہر ایک ہزار سال تک فارسی زبان و ادب کا مرکز رہا ہے اور وہاں کے تاجک اور ازبک صدیوں سے اس زبان کو اپنی حیات کا جز بنائے ہوئے ہیں لیکن یہی ماوراءالنہر کا فارسی خطہ ساتھ ہی ایک ہزار سال تک حنفی سنی مذہب کا بھی مرکز اور درس گاہ رہا ہے جس کی وجہ سے مرزا غالب نے بھی ایک رباعی میں کہا تھا: ‘شیعی کیونکر ہو ماوراءالنہری’۔۔۔
اگر ایرانیوں کی زبان ہونے کی وجہ سے فارسی صرف ایرانی شیعوں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے تو پھر افغانستان اور تاجکستان کے مردم فارسی گو کیوں ہیں اور حامد کرزئی اور اشرف غنی فارسی میں تقریریں کیوں کرتے ہیں؟ میں خود ایک غیر ایرانی پاکستانی سنی ہوں، لیکن میں فارسی زبان و ادب و تمدن کا عاشقِ والہ و صادق ہوں اور اِسے اپنے اسلاف کی جاودانی میراث سمجھتا ہوں۔
نیز، دنیا بھر کے تمام شیعوں کو فارسی زبان سے لاینفک طور پر منسلک کرنا بھی قطعاً نادرست ہے۔ آذربائجان اور اناطولیہ کے شیعہ ترکی گو ہیں، حالانکہ ترکی عثمانی خلافت کی سرکاری و درباری زبان تھی؛ اور عراق، بحرین اور لُبنان کے سب شیعہ عربی بولتے ہیں، اور یہ تو واضح ہی ہے کہ عربی زبان اموی اور عباسی خلافتوں کی سرکاری زبان تھی۔ پاکستان میں بھی شیعہ فارسی نہیں بلکہ اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو سمیت دوسری کئی زبانیں بولتے ہیں اور عالموں اور محققوں کو چھوڑ کر پاکستانی شیعہ آبادی فارسی سے نابلد ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ فارسی ایرانیوں کی زبان ضرور ہے، لیکن یہ صرف اُن ہی کی زبان نہیں ہے بلکہ دو اور (سنی اکثریت) ملک ایسے ہیں جو فارسی کو اپنی زبان مانتے ہیں۔