مناسب اصطلاحات کے استعمال کے لیے زبان دانی اور زحمت کَشی لازم ہیں

"پیدا کردن کلمات مناسب برای اندیشه‌ها و مفاهیم نو کار آسانی نیست، این کار [نیاز به] مطالعهٔ فراوان و آشنایی صحیح با ریزه‌کاری‌ها و ویژگی‌های زبان دارد که بی رنج و زحمت میسر نمی‌گردد. حال اگر نویسنده‌ای آزاد باشد که هر وقت به کلمه‌ای نیاز داشت به جای زحمت و رنج در زبان خود آن را به آسانی از هر زبانی که خواست بگیرد و به کار بندد گذشته از اینکه کلمات و اصطلاحات تازه‌ای در زبان به وجود نخواهد آمد چه بسا که کلمات موجود هم کم کم از دایرهٔ استعمال خارج می‌شوند و جای خود را به کلمات بیگانه می‌دهند و بدین سان قدرت تولید زبان به تدریج کاهش می‌یابد.”

یادداشت‌هایی دربارهٔ زبان فارسی از نظر رابطهٔ آن با زبان عربی
دکتر محمد محمدی
۱۳۵۳هش/۱۹۷۴ء

"نئے افکار اور مفاہیم کے لیے مناسب الفاظ ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں ہے، یہ کام زبان کی باریک بینیوں اور خصوصیتوں کے گہرے مطالعے اور صحیح آشنائی کا متقاضی ہے جو مشقت و زحمت کے بغیر میسر نہیں ہوتی۔ اب اگر کوئی مصنف آزاد ہو کہ اُسے جب بھی کسی لفظ کی حاجت ہو وہ اپنی زبان میں زحمت کَشی کی بجائے اُس لفظ کو جس زبان سے بھی چاہے آسانی سے لے لے اور استعمال کر لے تو نہ صرف یہ کہ کوئی جدید الفاظ و اصطلاحات زبان میں اختراع نہیں ہوں گی بلکہ ممکن ہے کہ موجود الفاظ بھی آہستہ آہستہ دائرۂ استعمال سے خارج ہو کر بیگانہ الفاظ کو اپنی جگہ سونپ دیں گے اور اِس طرح زبان کی قدرتِ تولید تدریجاً کم ہوتی جائے گی۔”


اردو میں فارسی اصطلاحوں کے استعمال پر اعتراض کا جواب

اردو محفل کے ایک دوست عارف کریم صاحب نے چند ماہ قبل مجھے مخاطب کر کے ایک دوستانہ اعتراض کا اظہار کیا تھا:

اگر فارسی پر مبنی اصطلاحات ہی اردو میں استعمال کرنا مقصود ہے تو بہتر ہے بندہ فارسی سیکھ لے بجائے اردو سیکھنے کے:)

ایک لسانیاتی طالبِ عالم اور فارسی زبان کے ایک غیور عاشق ہونے کی حیثیت سے میں اس اعتراض کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ لیکن جواب سے قبل میں اولاً انگریزی زبان میں موجود لاطینی و یونانی الاصل الفاظ کی کُل فیصد بیان کرنے والا ایک ترجمہ شدہ مستند اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ بعد میں اِسے اپنے جوابِ اعتراض میں دلیل کے طور پر عرض کر سکوں:

سوال: کُل انگریزی الفاظ کی کتنی فیصد مقدار لاطینی الاصل ہے؟ نیز، دیگر زبانوں سے ماخوذ انگریزی الفاظ کی فیصد کیا ہے؟
جواب: کسی انگریزی لغت میں موجود مدخلات کا تقریباً ۸۰ فیصد حصہ دیگر زبانوں، اساساً لاطینی، سے ماخوذ ہے۔ کُل انگریزی الفاظ کی ۶۰ فیصد سے زائد کی اصل یونانی یا لاطینی ہے۔ علوم اور فن آوری سے مربوط ذخیرۂ الفاظ میں یہ تعداد ۹۰ فیصد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ انگریزی میں موجود لاطینی الفاظ کی تخمیناً ۱۰ فیصد تعداد کسی واسطے – عموماَ لاطینی الفاظ کے انتقال کا واسطہ فرانسیسی زبان رہی ہے – کے بغیر مستقیماَ انگریزی میں وارد ہوئی ہے۔ ایک مدت کے دوران تو لاطینی کے تمام الفاظ ہی امکانی طور پر انگریزی الفاظ بن گئے تھے اور اُس زمانے میں متعدد الفاظ لاطینی نمونے پر وضع کیے گئے۔ یونانی الاصل الفاظ تین مختلف ذریعوں سے انگریزی میں وارد ہوئے ہیں: ۱) لاطینی کے واسطے سے، ۲) یونانی تحریروں سے بلاواسطہ اخذ کیے گئے، یا پھر ۳) عصرِ جدید میں، خصوصاً علمی اصطلاحوں کے ذیل میں، یونانی عناصر کو نئے طریقوں سے باہم مرکّب کر کے وضع کیے گئے۔ کلاسیکی زبانوں [یعنی یونانی اور لاطینی] کا بے واسطہ اثر یورپی نشاۃِ ثانیہ کے ہمراہ شروع ہوا تھا اور اُس وقت سے تا ہنوز جاری ہے۔ حتیٰ کہ آج بھی لاطینی اور یونانی مادّے ہی علم اور فن آوری سے متعلق انگریزی الفاظ کے بنیادی منابع ہیں۔

× مدخل = entry
× فن آوری = ٹیکنالوجی
× مستقیماً = بلاواسطہ

ماخذ:
http://dictionary.reference.com/help/faq/language/t16.html

اب یہاں سے میرا جواب شروع ہوتا ہے:

اگر انگریز اپنی زبان کو اپنی کہنہ تمدنی زبانوں یونانی اور لاطینی کے الفاظ سے پُر کر لیں تو کوئی اُن کا محاکمہ نہیں کرتا، اور بے شک کرنا بھی نہیں چاہیے، لیکن اگر شومیِ قسمت سے یہاں کوئی شخص غالب اور اقبال کی محبوب ترین زبان فارسی سے کوئی نیا لفظ اردو کے لیے اخذ کر لے تو انبوہِ سہل انگاراں کی جانب سے فی الفور مقدمہ دائر ہو جاتا ہے۔ اب اسے ‘فرنگی محور دوگانہ معیار’ کے سوا کیا پکارا جائے؟
عارف کریم صاحب یقیناً مجھ سے بہتر انگریزی جانتے ہیں۔ لیکن کیا اُنہیں کبھی اس پُرلاطینی زبان انگریزی کو سمجھنے کے لیے لاطینی سیکھنے کی بھی حاجت محسوس ہوئی؟ قطعاً نہیں ہوئی ہو گی۔ اُنہیں جب بھی adumbration اور simulacrum جیسے لاطینی الاصل علمی کلمات انگریزی میں نظر آئے ہوں گے تو اُنہوں نے لاطینی زدگی کا شکوہ کرتے ہوئے لاطینی دستوری کتابوں کی جانب رجوع کرنے کی بجائے کسی انگریزی لغت ہی کی ورق گردانی کی ہو گی اور بعد میں بغیر کسی شکایت کے ان جیسے الفاظ کو اپنی یادداشت کا حصہ بنا لیا ہو گا۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم اردو میں کوئی ناآشنا فارسی یا عربی لفظ اور اصطلاح اوّلین بار دیکھ کر شاکی ہونے یا فارسی و عربی آموزی کی حاجت ہونے کا غیرمنصفانہ ادّعا کرنے کی بجائے اگر جامع لغت ناموں کی جانب مراجعت کر لیں تو ہمیں بھی زیادہ مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔
نیز، اگر انگریزی زبان کے پُرلاطینی کُل ذخیرۂ الفاظ اور اُس کے تاریخی سابقے کو مدِ نظر رکھا جائے، تو یہ طنز آمیز سخن اس لحاظ سے نادرست اور دوگانہ معیار کا مورد ٹھہرتا ہے کیونکہ بعینہ یہی چیز صدیوں سے انگریز لاطینی کے ضمن میں کرتے آئے ہیں، اور ابھی بھی انگریزی اصطلاحیں لاطینی اور یونانی نمونے ہی پر وضع ہوتی ہیں، لیکن میں نے آج تک، بالخصوص کسی اردو گو کی زبان سے، ایسا اعتراض انگریزوں کے طرزِ عمل کی نسبت نہیں سنا۔ وہ کریں تو آفرین، ہم کریں تو نفرین!
یہ ذہن میں رکھیے کہ کسی بھی زبان کی علمی و ادبی شکل کو شعوری طور پر محنت کر کے ہی سیکھا جاتا ہے۔ اس کا اکتساب خود بخود ہی نہیں ہو جاتا۔ چونکہ علمی اصطلاحوں یا علمی کلمات و اسلوب کی ضرورت صرف متخصصین کو پیش آتی ہے، اس لیے یہ ہماری روزمرہ عام زبان کا حصہ نہیں ہوتے۔ اور ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ علمی زبان بھی ویسی ہی ہو جو ہم کھانے پینے کے معاملات اور احوال پرسی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہر زبان کے گفتاری اور تحریری اسالیب باہمی طور پر بہت متفاوت ہوتے ہیں۔ تحریر میں ہمیں متنوع اور گوناگوں تجریدی مضامین پر قلم اٹھانا ہوتا ہے، اسی لیے اسلوب اور الفاظ بھی اسی کے مناسبِ حال منتخب کرنے پڑتے ہیں۔ علمی و ادبی زبان ‘تم کیسے ہو’ یا ‘تم سو جاؤ’ کی نوعیت کی نہیں ہو سکتی۔ اگر ہم اپنی زبان کو پیش رفتہ زبانوں کی طرح ترقی و تکامل کی مسیر پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا اور اپنی ضررناک سہل انگاری کو ترک کرنا لازم ہے۔


اردو اصطلاحات پر ایک اعتراض کا جواب

جب میں نے اردو محفل پر ‘حرارت پیما’ اور ‘مقیاس الحرارت’ جیسی اردو اصطلاحوں پر اعتراض ہوتے دیکھا تو وہاں یہ لکھا تھا:

اگر انگریزی کی علمی زبان میں کسی کو ‘ہیومن اسٹڈی’ کی جگہ پر یونانی الاصل ترکیب ‘اینتھروپولوجی’ کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں ہے تو اُسے اردو زبان میں ‘تھرمامیٹر’ کی جگہ پر ‘مقیاس الحرارت’ یا ‘حرارت پیما’ کے استعمال پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ہر زبان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تاریخی اور ثقافتی طور پر اجنبی زبانوں سے الفاظ مستعار لینے کی بجائے اپنے لسانی و تمدنی سرمائے سے نئے خیالات کے لیے الفاظ وضع کرتی رہے۔ انگریزی سمیت دنیا کی ہر طاقت ور اور علمی ذریعہ ہونے کی مدّعی زبان اسی پر عمل پیرا ہے۔ لہٰذا، اگر اردو بھی علمی زبان بننے کے لیے اسی طرزِ عمل کو اپنائے تو یہ کوئی خارق العادت بات نہیں ہے، اور ہمارا اس پر نکتہ چینی کرنا صرف اس بات کا غمّاز ہو گا کہ ہم اردو کو ایک قابلِ عزت علمی زبان کی حیثیت سے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔
اردو کی علمی اصطلاحات سے یہ خوف و گریز بے بنیاد اور غیر علمی ہے۔ اگر کوئی اصطلاح ہمیں ‘مشکل’ لگتی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ اصطلاحیں ہمارے استعمال میں نہیں ہیں یا نہیں رہی ہیں۔ اگر ایک بار وہ نافذ اور مستعمل ہو جائیں تو وہ چاہے ابتدا میں کتنی ہی ناآشنا محسوس ہوں، انجامِ کار وہ اصطلاحیں ہمارے شعور اور ہماری انفرادی زبان کا زندہ حصہ بن جاتی ہیں۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اصطلاحیں محض الفاظ ہیں، جنہیں کوئی بھی عام ذکاوت والا شخص دو تین بار پڑھ کر آسانی سے اپنی یادداشت میں محفوظ کر سکتا ہے۔ اصطلاحیں یا الفاظ سیکھنے کا عمل، کسی دوسری زبان کے قواعدِ صرف و نحو سیکھنے کی نسبت کئی درجے آسان کام ہے۔ اس کی عام مثالیں آپ اپنے گرد و پیش دیکھ سکتے ہیں کہ بہت سے ایسے افراد جو انگریزی کا صرف معمولی علم رکھتے ہیں، انگریزی اصطلاحوں سے خوب واقف ہیں، کیونکہ کسی بھی زبان کے محض الفاظ سیکھنا کوئی دشواری کی بات نہیں ہوتی۔ جب اجنبی زبانوں کے الفاظ یا اصطلاحیں سیکھنا اتنا آسان ہے، تو پھر ہمارا اردو کی وضع شدہ اصطلاحوں سے واقفیت حاصل کرنا بھی سہل ہی ہو گا۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ ریاستِ حیدرآباد دکن کی جامعۂ عثمانیہ میں اردو زبان اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ تھی۔ اگر اُس جامعہ کی تدریسی کتابوں اور مطبوعہ کتابوں پر نگاہ ڈالی جائے تو واضح ہو گا کہ اُنہوں نے اپنی کتابوں میں تمام معروف و غیر معروف علمی کلمات کا اردو میں ترجمہ کر لیا تھا اور اردو کی ایک مہذب اور آبرومند علمی شکل کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ وہاں دہائیوں تک اسی زبان کے ذریعے تدریس کا عمل کامیابی سے جاری رہا۔ یہاں اس بات پر کوئی بحث مقصود نہیں کہ ذریعۂ تعلیم اردو ہو یا انگریزی، صرف اس بات پر توجہ دلانا مطلوب ہے کہ اردو میں علمی و فنی وضع شدہ اصطلاحیں ایک زمانے میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہوتی رہی ہیں اور مطبوعات اور علمی حلقوں میں رائج اور بر نوکِ زباں رہی ہیں۔ اس لیے خانہ زاد اصطلاحوں کو ناقابلِ استعمال کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
اگر ایران اور بلادِ عرب کے اخبارات یا وہاں شائع ہونے والی علمی کتابوں کو چشمِ عبرت کے ساتھ دیکھا جائے تو اردو زبان کی تہی دامنی اور کم مایگی کا احساس شدت سے دامن گیر ہوتا ہے۔ وہ ممالک اپنی زبانوں کو جس مرحلۂ تکامل پر نائل کر چکے ہیں، اُس کی جانب قدم اٹھانے کا ہم نے ابھی تک آغاز ہی نہیں کیا ہے۔ میں نے ایران اور عرب ممالک کی مثال صرف اس لیے دی ہے کیونکہ اردو پر بات کرتے ہوئے عموماً انہی کا حوالہ دیا جاتا ہے، ورنہ تو جنگ زدہ افغانستان میں بھی فارسی اور پشتو کی حالت بری نہیں ہے۔
اس بات سے تو کاملاً اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ اردو کی خانہ زاد علمی اصطلاحوں کو حتی الامکان سریع الفہم ہونا چاہیے (اگرچہ ہر زبان میں علمی اصطلاحیں مبتدیوں اور عام لوگوں کے لیے مشکل ہی ہوتی ہیں)، لیکن بے جا اعتراضات کر کے وضعِ اصطلاح کے لائقِ تحسین و ستائش عمل پر خطِ تنسیخ پھیرنے کی کوشش کی کسی صورت بھی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

تاریخ: ۱۰ ستمبر ۲۰۱۵ء


بالآخر زبانِ اردو کے ایک اور لفظ ‘ناظم’ نے دارِ فانی کو الوداع کہہ دیا

زمانۂ طفولیت سے لے کر چند روز قبل تک میں بلدیۂ کراچی کے سربراہ کے لیے ناظم یا ناظمِ اعلیٰ کی اصطلاحوں کو استعمال ہوتے دیکھتا آیا تھا۔ جب تک مصطفیٰ کمال صاحب اس عہدے پر فائز تھے اُنہیں ناظمِ کراچی کہہ کر پکارا جاتا تھا اور اُن سے پیشتر نعمت اللہ خان صاحب کے لیے بھی یہی اصطلاح موردِ استعمال رہی تھی۔ لیکن اس بار کے بلدیاتی انتخابات میں ایک تبدیلی نظر آئی۔ اِس بار خواہ اخبارات ہوں، طبع ہونے والے اشتہارات ہوں، یا خواہ ٹی وی پر نشر ہونے والے سیاسی برنامہ جات ہوں، ہر جگہ لفظِ ‘ناظم’ ناپدید تھا اور اُس کی بجائے فرنگی زبان کا لفظ ‘میئر’ آنکھوں سے ٹکرا رہا تھا۔ حتیٰ کہ اردو گویوں کے حق میں پوچ و لاطائل جذباتی نعرے لگانے والی کراچی کی بزرگ ترین سیاسی جماعت نے جو شہر بھر میں بڑے بڑے تشہیری اعلانات چسپاں کیے ہوئے تھے اُن پر بھی ‘میئر’ کا لفظ ہی اذیتِ چشم کا سبب بنتا رہا۔ جب اِس صورتِ حال کی ماہیت سمجھنے اور اس پر غور و فکر کرنے کے لیے اپنے کُمیتِ ذہن کو دوڑایا تو یہ حقیقتِ ناگوار منکشف ہوئی کہ دیگر بہت سے اردو الفاظ کی طرح لفظِ ‘ناظم’ بھی اب ہمارے درمیان نہیں رہا ہے اور عالمِ فانی سے عالمِ سرمدی کی جانب کوچ کر چکا ہے۔ كُلُّ من علیہا فان!
روزِ گذشتہ ہماری صحافتی زبان سے انتخابات، عدالتِ عظمیٰ، بدعنوانی وغیرہ الفاظ رختِ سفر باندھ کر رخصت ہو گئے تھے۔ آج لفظِ ‘ناظم’ نے بھی ہمیں الوداع و الفراق کہہ دیا۔ اور انجامِ کار روزِ فردا یا پس فردا اردوئے معلّیٰ نام کی شے بھی مرحوم و مغفور ہو کر تاریخ کے عجائب خانے تک محدود رہ جائے گی جہاں تماشاگروں کی پُرتحسین نگاہیں بھی اس واقعیت کو تبدیل نہ کر سکیں گی کہ اردوئے معلّیٰ محض زمانۂ ماقبل کی ایک بے جان یادگار ہے۔
تمام انگریزی پرستوں اور اردو میں فرنگی آلائشوں کی آمیزش کے حامیوں کو مبارک ہو کہ اُن کی راہ کا ایک اور سدّ فنا کا تلخ جام پی کر اُنہیں اپنی منزلِ مقصود و منتظَر سے ایک قدم مزید قریب کر گیا ہے۔ جبکہ تمام محبان و مجاہدانِ زبانِ اردوئے معلّیٰ اور لسانی قدامت پسندوں کو لشکرِ الفاظِ اردو کے ایک اور سرباز کی سرطانِ فرنگیت کی تُرک تازیوں کے ہاتھوں ہلاکت پر تعزیت و تسلیت عرض ہے۔ نیز، ‘ناظم’ سے اِس بات پر معذرت کا التماس ہے کہ ہم حِینِ حیات میں اُس کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کر سکے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون!
‘ناظم’ کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے!


اِطفائیہ

میری تجویز ہے کہ زبانِ اردو میں انگریزی اصطلاح ‘فائر ڈیپارٹمنٹ’ کی بجائے ‘اطفائیہ/itfaaiyya’ استعمال کرنا چاہیے۔ یہ لفظ عربی کے مادّے ‘ط ف ء’ سے مشتق ہے جس کے بابِ اَفعَلَ کے مصدر ‘اِطفاء’ کا مفہوم ‘بجھانا، گُل کرنا’ ہے۔ لہٰذا ‘اطفائیہ’ کا مطلب ‘آگ بجھانے والا ادارہ’ ہو گا۔

یہ لفظ ‘اطفاء’ اردو لغت کا جز ہے:
http://dsalsrv02.uchicago.edu/cgi-bin/philologic/getobject.pl?c.0:1:2946.platts
http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php?title=اطفا

اطلاعاً عرض ہے کہ یہ مادّہ قرآنی عربی میں بھی استعمال ہوا ہے:
يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔۔۔ (سورۂ توبہ، آیت ۳۲)

اسی طرح ہم ‘فائر فائٹر’ کی جگہ پر ‘اطفائی’ اور ‘فائر بریگیڈ’ کی جگہ پر ‘اطفائی دستہ’ استعمال کر سکتے ہیں۔

اردو میں ہم پہلے ہی بہت سے اداروں اور محکموں کے اسی نمونے پر مبنی نام استعمال کرتے آئے ہیں مثلاً بحریہ، فضائیہ، عدلیہ وغیرہ۔

یہ اصطلاح سب سے پہلے عثمانی سلطنت میں ترکی زبان کے لیے وضع کی گئی تھی، پھر وہاں سے یہ اصطلاح بلادِ عرب، ایران اور افغانستان تک پہنچ کر وہاں کی زبانوں میں رائج ہو گئی۔ فی زمانہ یہ اصطلاح ترکی، عرب ممالک اور افغانستان میں مستعمل ہے۔ ایران میں بھی یہی اصطلاح اولاً استعمال ہوتی تھی اور ابھی بھی مطبوعات میں نظر آتی ہے لیکن پہلوی دور میں اس کی بجائے سرکاری طور پر ‘ادارۂ/سازمانِ آتش نشانی’ (یعنی آگ بٹھانے والا ادارہ) کی اصطلاح رائج کر دی گئی تھی۔

پس نوشت: اردو شاعر میر درد نے لفظِ ‘اطفاء’ کو ایک شعر میں یوں استعمال کیا ہے:
اطفائے نارِ عشق نہ ہو آبِ اشک سے
یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے