عُثمانی سیّاح سیدی علی رئیس کی زبان سے شہرِ کابُل اور مردُمِ کابُل کی سِتائش

عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار سیدی علی رئیس ‘کاتبی’ اپنے تُرکی سفرنامے «مِرآت الممالک» (سالِ تألیف: ۱۵۵۷ء) میں ایک جا لکھتے ہیں:

کابُل شهری زیباست. اطرافش را کوه‌های پوشیده از برف گرفته‌است. رودخانهٔ پُرآبی در شهر جاری است. چهارباغ‌ها دارد. در هر طرف باغ‌ها بزم‌های عیش و عشرت گسترده بود و در هر گوشه دل‌بران رعنا و لولیان زیبا با ساز و آواز مجالس ذوق و صفا برپا می‌داشتند. مردم کابُل همیشه با نشاط و عشرت و شادی به‌سر می‌برند.
اۏلور مې هرگز آدم حوره مایل
وار ایکن لُولیانِ شهرِ کابل
(هرگز آدم به حوریان مایل نمی‌شود
اگر لولیان شهر کابل باشند)

(فارسی مترجم: علی گنجه‌لی)

"کابُل ایک زیبا شہر ہے۔ اُس کے اطراف کو برف سے پوشیدہ کوہوں نے گھیرا ہوا ہے۔ شہر میں ایک پُرآب دریا جاری ہے۔ کابُل میں کئی چہارباغ ہیں۔ باغوں میں ہر طرف عیش و عشرت کی بزمیں بِچھی ہوئی تھیں اور ہر گوشے میں دلبرانِ رعنا اور خُوبانِ زیبا نے ساز و آواز کے ساتھ مجالسِ ذوق و خُرّمی برپا کی ہوئیں تھی۔ مردُمِ کابُل ہمیشہ نشاط و عشرت و شادمانی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
(تُرکی بیت کا ترجمہ:) اگر خُوبانِ شہرِ کابُل موجود ہوں تو کیا انسان ہرگز حور کی جانب مائل ہو گا؟”

(اردو مترجم: حسّان خان)

× زبانِ تُرکی میں ‘کابل’ کا تلفُّظ ‘کابِل’ ہے۔


افغانستان اور زبانِ فارسی

پاکستان میں کئی افراد کا گمان یہ ہے کہ گویا افغانستان ایک مکمل طور پر پشتون ملک ہے یا یہ کہ وہاں صرف پشتو بولی جاتی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان ایک کثیر نژادی اور کثیر لسانی ملک ہے اور ملکی آئین بھی اِس چیز کو تسلیم کرتا ہے۔ افغانستان کا قانونیِ اساسی کہتا ہے:
"ملتِ افغانستان اِن نژادی گروہوں پر مشتمل ہے: پشتون، تاجیک، ہزارہ، اُزبک، ترکمن، بلوچ، پشئی، نورستانی، ایماق، عرب، قرغیز، قزلباش، گوجر، براہوی و دیگران۔”
اکثر افراد اِس سے بھی لاعلم ہیں کہ افغانستان میں نہ صرف زبانِ فارسی بولی اور سمجھی جاتی ہے، بلکہ وہ ملک میں سرکاری زبان کے طور پر بھی رائج ہے۔ افغانستان کے قانونِ اساسی کے مطابق پشتو اور فارسی دونوں ہی کُل ملک کی سرکاری زبانیں ہیں:
"پشتو، دری، ازبکی، ترکمنی، بلوچی، پشئی، نورستانی، پامیری اور ملک میں رائج دیگر زبانوں میں سے پشتو اور دری [فارسی] ریاست کی رسمی زبانیں ہیں۔
جن منطقوں میں مردُم کی اکثریت ازبکی، ترکمنی، پشئی، نورستانی، بلوچی یا پامیری میں تکلم کرتی ہے، وہاں پشتو اور دری کے علاوہ وہ زبان تیسری رسمی زبان ہے۔”

افغانستان کی سرزمین پر سرکاری و رسمی زبان کے طور پر فارسی کا استعمال غزنوی دور سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔

جہاں تک افغانستان کے مختلف نژادی گروہوں اور فارسی گویوں کے تناسب کی بات ہے، تو مجھے وارسا، لہستان (پولینڈ) میں موجود افغان سفارت خانے کی ویب گاہ پر یہ لکھا نظر آیا:
"سی آئی اے کے اطلاعات نامۂ جہان کے مطابق افغانستان میں نژادی گروہوں کا تناسب تقریباً یہ ہے:
پشتون ۴۲٪، تاجیک ۲۷٪، ہزارہ ۹٪، ازُبک ۹٪، ایماق ۴٪، ترکمن ۳٪، بلوچ ۲٪، دیگر ۴٪”

"ہِرات اور فراہ کے شہری علاقوں میں ایک بڑی تاجک آبادی موجود ہے۔ یہ حنفی سنی مسلمان قوم دری زبان بولتی ہے (جو ۵۰% سے زیادہ افغانوں میں بولی جاتی ہے) اور اِس قوم نے مرورِ زمانہ کے ساتھ تُرک ثقافتی عناصر اپنا لیے ہیں۔”
ماخذ

یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ افغانستان میں صرف تاجک ہی فارسی نہیں بولتے، بلکہ ہزاراؤں، ایماقوں، قزلباشوں اور افغان عربوں کی زبان بھی فارسی ہے۔ نیز، کابل اور ہِرات جیسے شہروں میں کئی خانوادے ایسے موجود ہیں جو نسلاً تو پشتون ہیں، لیکن اُن میں گفتاری زبان کے طور پر فارسی مستعمَل ہے۔ افغاستان کا سابق شاہی خاندان محمدزائی اِس کی سب سے خوب مثال ہے۔
بہ علاوہ، مختلف زبانیں بولنے والے افغانوں کے درمیان ارتباط کے لیے فارسی کا استعمال ہوتا ہے، لہٰذا تقریباً ہر افغان شخص فارسی سمجھ سکتا ہے۔


کاش میری مادری زبان اور میرے ملک کی قومی زبان فارسی ہوتی!

مجھے اس چیز کی شدید حسرت رہتی ہے کہ کاش میری مادری زبان اور میرے ملک پاکستان کی قومی زبان فارسی ہوتی تاکہ نہ تو میرا اور میرے ہم وطنوں کا رشتہ ہزار سالہ عظیم الشان فارسی تمدن اور اپنے اسلاف کے ثقافتی سلسلے سے منقطع ہوتا اور نہ ہم اس نفیس و حسین و جمیل زبان کے ثمرات سے محروم رہتے۔ علاوہ بریں، اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان، تاجکستان اور ایران سے ہمارا معنوی و مادی تعلق بھی مزید استوار ہوتا۔

=========

[فارسی زبان میری اصل ہے]

مولانا جلال الدین رومی کا مشہور شعر ہے:
هر کسی کو دور ماند از اصلِ خویش
باز جوید روزگارِ وصلِ خویش
یعنی ہر وہ شخص جو اپنی اصل اور سرچشمے سے دور ہو جائے، وہ دوبارہ اپنے زمانۂ وصل تک رسائی حاصل کرنے کی تلاش، اشتیاق اور تگ و دو میں رہتا ہے۔
مولویِ روم کے شعر کی روشنی میں دیکھا جائے تو اپنی اصل سے جدائی کا شدید احساس ہی میرے فارسی زبان سے والہانہ عشق کا قوی موجب ہے۔ فارسی زبان میری اصل ہے جس سے مجھے زمانے کے جبر نے جدا کر دیا ہے اور اب میں اپنی اصل سے وصل کی تمنا میں بے تاب ہوں۔


فارسی فقط ایرانی شیعوں کی زبان نہیں ہے

جب میں نے اردو محفل پر ایک جگہ دیکھا کہ فارسی زبان کو فقط ایرانی شیعوں سے مخصوص کیا جا رہا ہے تو جواب میں یہ لکھا تھا:

زبانِ فارسی کا تعلق صرف ایران سے نہیں ہے، بلکہ افغانستان اور تاجکستان کی بھی یہ سرکاری زبان ہے۔ خود ایران میں بھی صرف فارسی بولنے والی نہیں بستے، بلکہ وہ بھی ایک کثیر اللسانی ملک ہے اور وہاں ترکی، کردی، عربی، مازندرانی، گیلکی، لُری، بلوچی وغیرہ درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں ترکی زبان بولنے والوں کی تعداد ہی تیس فیصد کے نزدیک ہے۔
فارسی زبان کو ایرانی شیعوں تک محدود کرنا بھی سخت ناانصافی ہے۔ ایران میں صفویوں کے – جو در حقیقت خود ترک تھے – اقتدار پر آنے سے قبل پورے فارسی گو اور فارسی زدہ خطے میں صرف ناصر خسرو اور فردوسی ہی ایسے دو بزرگ فارسی شعرا گذرے ہیں جو شیعہ تھے – ناصر خسرو بھی اثناعشری نہیں بلکہ فاطمی اسماعیلی تھے۔ اِن کے علاوہ حافظ، سعدی، رومی، امیر خسرو، جامی وغیرہ سمیت سارے فارسی گو شعراء اہلِ سنت و جماعت تھے۔ فارسی زبان اپنی ادبی شکل کی ابتداء کے لیے جن ماوراءالنہری سامانی امیروں کی مرہونِ منت ہے وہ بھی راسخ الاعتقاد سنی مسلمان تھے اور فارسی کو اطراف و اکناف میں پھیلانے اور رائج کرنے والے غزنوی، مغل، تیموری، سلجوق، تغلق، غوری، خوارزمی، آصف شاہی، عثمانی، شیبانی، منغیت وغیرہ شاہی سلسلے سب کے سب حنفی اہلِ سنت مذہب کے حامل تھے۔ ماوراءالنہر ایک ہزار سال تک فارسی زبان و ادب کا مرکز رہا ہے اور وہاں کے تاجک اور ازبک صدیوں سے اس زبان کو اپنی حیات کا جز بنائے ہوئے ہیں لیکن یہی ماوراءالنہر کا فارسی خطہ ساتھ ہی ایک ہزار سال تک حنفی سنی مذہب کا بھی مرکز اور درس گاہ رہا ہے جس کی وجہ سے مرزا غالب نے بھی ایک رباعی میں کہا تھا: ‘شیعی کیونکر ہو ماوراءالنہری’۔۔۔
اگر ایرانیوں کی زبان ہونے کی وجہ سے فارسی صرف ایرانی شیعوں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے تو پھر افغانستان اور تاجکستان کے مردم فارسی گو کیوں ہیں اور حامد کرزئی اور اشرف غنی فارسی میں تقریریں کیوں کرتے ہیں؟ میں خود ایک غیر ایرانی پاکستانی سنی ہوں، لیکن میں فارسی زبان و ادب و تمدن کا عاشقِ والہ و صادق ہوں اور اِسے اپنے اسلاف کی جاودانی میراث سمجھتا ہوں۔
نیز، دنیا بھر کے تمام شیعوں کو فارسی زبان سے لاینفک طور پر منسلک کرنا بھی قطعاً نادرست ہے۔ آذربائجان اور اناطولیہ کے شیعہ ترکی گو ہیں، حالانکہ ترکی عثمانی خلافت کی سرکاری و درباری زبان تھی؛ اور عراق، بحرین اور لُبنان کے سب شیعہ عربی بولتے ہیں، اور یہ تو واضح ہی ہے کہ عربی زبان اموی اور عباسی خلافتوں کی سرکاری زبان تھی۔ پاکستان میں بھی شیعہ فارسی نہیں بلکہ اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو سمیت دوسری کئی زبانیں بولتے ہیں اور عالموں اور محققوں کو چھوڑ کر پاکستانی شیعہ آبادی فارسی سے نابلد ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ فارسی ایرانیوں کی زبان ضرور ہے، لیکن یہ صرف اُن ہی کی زبان نہیں ہے بلکہ دو اور (سنی اکثریت) ملک ایسے ہیں جو فارسی کو اپنی زبان مانتے ہیں۔


روزِ عرسِ بیدل

روزِ عرسِ بیدل:
روز چهارم ماه صفر یکی از روزهای‌ برجستهٔ تاریخ ادبیات افغانستان به شمار می‌آید و به نام "روز عرس بیدل” معروف است. این روز در غالب کشور‌های آسیای میانه که با ادبیات دری انس و الفت دارند و ادبیات مشترکشان به شمار می‌آید با مراسم خاصی تجلیل می‌شود. در تاجکستان و ازبکستان و سایر بلاد ماوراءالنهر علاقهٔ زیادی به حضرت بیدل ابراز می‌شود و در این روز از او یادبود می‌کنند و آن را "روز عرس میرزا” می‌نامند. در نیم‌قارهٔ هند و پاکستان نیز ارادت مخصوصی به وی ورزیده می‌شود و صدرالدین عینی در کتاب خود به نام "میرزا عبدالقادر بیدل” می‌نویسد که در ایام باستان در شاه‌جهان‌آباد "دهلی امروز” در این روز نخست کلیات بیدل را که به خط خودش ترتیب شده بود برآورده به خانهٔ وی در آنجا که مرقد او پنداشته می‌شود در میان می‌گذاشتند و از آثار او برمی‌خواندند، بر آن بحث می‌کردند. در افغانستان نیز همواره یک محبت و عشق مفرطی به بیدل و آثارش موجود بوده‌است. نظم و نثر بیدل خوانده می‌شود، اشعارش به حیث شاهد قول ذکر می‌شود، به تصوف و روحانیت وی مردم معتقدند، اهل دل و اهل عرفان به وی ارادت‌ها می‌ورزند، نام او را به تکریم می‌برند، غالباً حضرت بیدل و حضرت میرزا می‌گویند، در مکتب‌ها و مدارس آثار او تدریس می‌شود، شعر و نثر او مورد بحث و فحص قرار می‌گیرد و بالآخره روز عرس وی در محافل مختلف و مجامع با ذکر بیدل و قرائت آثارش برگزار می‌شود و این از سال‌ها در این مملکت که منبع و مهد زبان و ادبیات دری است معمول است.

کتاب: تاریخِ ادبیاتِ افغانستان
مصنف: محمد حیدر ژوبل
سالِ اشاعت: ۱۹۵۷ء

روزِ عرسِ بیدل:
ماہِ صفر کے روزِ چہارم کا شمار ادبیاتِ افغانستان کی تاریخ کے ایک ممتاز دن کے طور پر ہوتا ہے اور یہ دن ‘روزِ عرسِ بیدل’ کے نام سے معروف ہے۔ ادبیاتِ فارسی سے اُنس و الفت رکھنے اور اسے اپنا مشترک ادب شمار کرنے والے اکثر وسطی ایشیائی ملکوں میں یہ روز خاص مراسم کے ساتھ تجلیل کیا جاتا ہے۔ تاجکستان، ازبکستان اور دیگر بلادِ ماوراءالنہر میں حضرتِ بیدل سے بہت زیادہ دل بستگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس روز اُن کی یاد منائی جاتی ہے اور اسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کا نام دیا جاتا ہے۔ برِ صغیرِ ہند و پاکستان میں بھی اُن سے خاص ارادت کا اظہار ہوتا ہے اور صدرالدین عینی اپنی ‘میرزا عبدالقادرِ بیدل’ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قدیم ایام میں شاہ جہاں آباد، یعنی دہلیِ امروز، میں اِس روز اولاً کلیاتِ بیدل کے اُس نسخے کو، کہ جو اُن کے اپنے خط سے مرتب ہوا تھا، لا کر اُن کے گھر میں اُس جگہ کہ جہاں اُن کی مرقد ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، بیچ میں رکھا کرتے تھے اور اُن کی تالیفات میں سے قرائت اور اُس پر بحث کیا کرتے تھے۔ افغانستان میں بھی بیدل اور اُن کی تالیفات سے ایک از حد زیاد عشق و محبت موجود رہا ہے۔ بیدل کی نظم و نثر پڑھی جاتی ہے، اُن کے اشعار شاہدِ قول کی حیثیت سے ذکر ہوتے ہیں، لوگ اُن کے تصوف و روحانیت کے معتقد ہیں، اہلِ دل و اہلِ عرفان اُن کے ارادت مند ہیں، اُن کا نام تکریم سے لیتے ہیں، زیادہ تر اُنہیں حضرتِ بیدل اور حضرتِ میرزا کہہ کر یاد کرتے ہیں، مکاتب و مدارس میں اُن کی تالیفات کی تدریس ہوتی ہے، اُن کی شاعری و نثر بحث و فحص کا مورد بنتی ہے اور بالآخر اُن کا روزِ عرس مختلف محفلوں اور مجمعوں میں بیدل کے ذکر اور اُن کی تالیفات کی قرائت کے ساتھ منعقد ہوتا ہے اور یہ سالوں سے اس مملکت میں کہ جو زبانِ و ادبیاتِ فارسی کا منبع اور گہوارہ ہے، معمول ہے۔

===========

"در زمانِ پیشتره، خصوصا‌ً در هندوستان، در خانهٔ خود دفن کرده شدنِ دانشمندانِ کلان عادت بود. بنا بر این در صحنِ خانهٔ خود مدفون شدنِ این فیلسوفِ بزرگ جای تعجب نیست.
کلیاتِ آثارِ این سخنورِ دانش‌گستر، که با دست‌خطِ خود ترتیب داده بود، در خانهٔ خودش محفوظ بود. هر سال در روزِ وفاتش، که این روز را ‘روزِ عرسِ میرزا’ می‌نامیدند، شاعران و دانشمندانِ شاه‌جهان‌آباد به سرِ قبرش غن می‌شدند، آن کلیات را برآورده در میانهٔ مجلس گذاشته می‌خواندند و محاکمه می‌کردند و به این واسطه، آن ‘دلِ در پیکرِ سخن حرکت‌کننده را’ یادآوری می‌نمودند.”

کتاب: میرزا عبدالقادرِ بیدل
نویسندہ: صدرالدین عینی
سالِ اشاعت: ۱۹۵۴ء

"گذشتہ زمانے میں، خصوصاً ہندوستان میں، عظیم دانشمندوں کو اپنے گھر میں دفن کرنے کا رواج تھا۔ لہٰذا اِن بزرگ فلسفی کا اپنے گھر کے صحن میں مدفون ہونا تعجب کی بات نہیں ہے۔
اِن سخنورِ دانش گُستر کی کلیاتِ آثار، کہ جسے اُنہوں نے اپنے خط سے مرتّب کیا تھا، اُن کے اپنے گھر میں محفوظ تھی۔ ہر سال اُن کی وفات کے روز، کہ جسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کہا جاتا تھا، شاہ جہاں آباد کے شاعر اور دانشمند اُن کی قبر کے کنارے جمع ہوتے تھے، اُس کلیات کو باہر لا کر اور مجلس کے درمیان رکھ کر پڑھتے تھے اور بحث و گفت و شنید کرتے تھے اور اس ذریعے سے اُس ‘پیکرِ سخن میں حرکت کرنے والے دل’ کو یاد کیا کرتے تھے۔”

× ‘غُن/ғун’ ماوراءالنہری فارسی کا علاقائی لفظ ہے۔
× دانش گُستر = دانش پھیلانے والا


صدیقہ بلخی: امیر علی شیر نوائی اور اُن کے نام پر منعقد ہونے والے مؤتمر کا مشترک ہدف محبت کے بیج بونا تھا

افغانستان کی رکنِ ایوانِ بالا صدیقہ بلخی نے اخبار کے خبرنگار سے اپنی گفتگو کے دوران مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں میدانِ ادب و ثقافت کے مفکروں کے ایک جگہ جمع ہونے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کیا اور انہوں نے اس موقع کو مؤتمر میں شریک افغانستانی مفکروں کے لیے بہت قیمتی اور مفید شمار کیا۔
امیر علی شیر نوائی مؤتمر کی مہمانِ خصوصی نے اس جلسے میں شرکت کرنے والے مختلف ملکوں کے مہمانوں کے مابین احساسِ محبت کی ایجاد کو امیر علی شیر نوائی کی اصل خواہش اور تمدنی میدان کے علماء کی باہمی نشست کا منطقی نتیجہ سمجھا۔
اس طرح کے جلسوں کی اہمیت کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر اُنہوں نے جواب دیا: "زمانۂ حاضر میں خطے کے ہمسایہ اور مسلمان و ہم زبان ممالک ایک دوسرے کے تفکروں اور خیالات کے حامی ہیں۔ اگر خطے کے لوگوں کو امیر علی شیر نوائی جیسی کسی شخصیت سے اُس طرح متعارف کرایا جائے جس طرح کے تعارف کے وہ مستحق ہیں تو وہ شخصیت باہمی نزدیکی کا محور بن سکتی ہے۔”
انہوں نے اضافہ کیا: "امیر علی شیر نوائی ایک ازبک، افغانستانی یا ایرانی نہیں ہیں، بلکہ وہ اس خطے کی دیگر تاریخی شخصیات مثلاً خواجہ عبداللہ انصاری، سنائی غزنوی، اور مولانا بلخی رومی کی طرح ایک ماورائے سرحد فرد ہیں جو کسی خاص ملک سے تعلق نہیں رکھتے۔”
صدیقہ بلخی نے امیر علی شیر نوائی کی ذات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اُنہوں نے کسی مخصوص ملک یا قوم سے تعلق کو اپنی تالیفات کی فضائے فکر سے خارج کر دیا تھا اور آج اُن کی یاد میں اس مؤتمر کا انعقاد اس بات کی نشانی ہے کہ اس منطقے اور منطقے کے باہر بھی تمدنی نزدیکی کے لیے اُن کی تدبیریں کامیاب رہی ہیں۔”
افغانستان کی اس سیاسی-ثقافتی شخصیت نے کہا: "امیر علی شیر نوائی جیسے لوگ مشترکہ عوامی شخصیتیں ہیں اور یہ کسی خاص ملک کی اختصاصی ملکیت نہیں ہیں۔ ان جیسے لوگوں کے افکار و خیالات اس تمدنی علاقے کے مختلف ملکوں کے جوانوں کو متوجہ کرنے اور اُن میں باہمی نزدیکی کا جذبہ پیدا کرنے کی توانائی رکھتے ہیں۔”
اُنہوں نے کہا: "آپ دیکھیے کہ مختلف ملکوں سے جو مہمان یہاں حاضر ہوئے ہیں اور جن کے درمیان یہاں محبت کا رشتہ قائم ہوا ہے، وہ اسی نگاہ اور اثر کے ساتھ اپنے ملکوں کو لوٹیں گے اور یہ چیز نیک بختیوں کا باعث بنے گی۔”
صدیقہ بلخی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ہمیں ایرانی، افغانستانی، ازبکی، تاجکی جیسے کلمات کے استعمال کے بجائے وحدتِ زبانی کی طرح ڈالنے کی سعی اور منطقے کی مختلف اقوام اور گوناگوں زبانوں کو باہم نزدیک کرنے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۱۰ فروری ۲۰۱۵ء


محمد امین صدیقی: ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ خطے میں باہمی روابط کو گہرا کرنے کا باعث بنے گا

افغانستان کے عمومی قونصل محمد امین صدیقی نے مشہد میں ہونے والے ‘بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ اس طرح کے مؤتمرو‌ں کو منطقے کے ممالک کے مابین ثقافتی روابط میں گہرائی لانے کا سبب سمجھتے ہیں۔
علاوہ بریں، محمد امین صدیقی نے علی شیر نوائی کی تاریخی شخصیت کا شمار اس تمدنی قلمرو کے مفاخرِ علم و ادب میں کیا اور کہا کہ وہ اس پورے خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے تیموری دور کو اس ثقافتی قلمرو کے ساکنوں کے لیے مختلف پہلوؤں سے بہت گراں بہا پکارا۔
اُن کے مطابق، تیموری دور میں اس خطۂ ارض کے لوگوں کی ثقافتی میراث نے – کہ جو دینی لحاظ سے اسلام پر مبنی اور لسانی و ہنری لحاظ سے فارسی پر مبنی تھی – اپنی بقا و پائداری کی قوت کو ظاہر کیا تھا۔
صدیقی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اس ثقافتی بیداری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ اس منطقے کے ایک دیرینہ و سابقہ دار اور علم و ادب کی مالامال تاریخ کے حامل شہر ہرات میں رو نما ہوئی تھی جو اُس زمانے میں خراسانِ بزرگ کا ایک شہر تھا اور اب افغانستان کی قلمرو کا حصہ ہے۔”
اُنہوں نے اضافہ کیا: "تیموریوں کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کو ہرات کے نام سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق کی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ فن، ادب اور علم ہمیشہ اُسی جگہ کمال کو پہنچتے ہیں جہاں ایک طرف تو دانا اور ثقافت پرور سیاسی حکام بر سرِ کار ہوں اور دوسری طرف وہاں معاشرتی لحاظ سے لوگوں کے رُشد کے لیے سازگار پس منظر اور حالات وجود میں آ چکے ہوں، اور اُس عصر کے ہرات میں یہ دونوں عوامل موجود تھے۔”
مشہد میں افغانستان کے عمومی قونصل نے امیر علی شیر نوائی کو خاندانِ تیموری کا مہذب اور دانشمند وزیر پکارا اور کہا کہ وہ اپنی کثیر بُعدی شخصیت کے وسیلے سے ادبی نگارشات کی تخلیق کے میدان میں، نیز اہلِ دانش و ادب کی حمایت اور اُن کی تخلیقات کی اشاعت میں بہت فعال رہے تھے۔
صدیقی نے نوائی کے مولانا عبدالرحمٰن جامی اور اُس دور کے دیگر تمام استادانِ علم و ہنر کے ساتھ روابط کو اُس زمانے کی رفیع الشان تہذیبی اقبال مندی کی مثال سمجھا۔
اِن افغان عہدے دار نے مزید ثقافتی روابط قائم کرنے کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ” اس ثقافتی وطن کے ہم باشندوں کے درمیان ارتباط کی سطح ہرگز اُن مشترکات کے درجے پر نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہیں۔”
اُنہوں نے اظہار کیا: "ہماری ثقافتی سرگرمیوں نے اختصاصی اور جغرافیائی سرحدوں پر مبنی شکل اختیار کر لی ہے اور اب اکثر موقعوں پر ہمارے مفاخرِ علم و ادب پر صرف سرحدوں کے اندر ہی توجہ ہوتی ہے۔”
صدیقی نے ایران میں منعقد ہونے والے ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ کو ایک خوش آئند اور مبارک واقعہ جانا اور اسے منطقے کے ممالک کے درمیان روابط کی تعمیق کا بنیاد ساز کہا۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے اس طرح کے برناموں (پروگراموں) کے تسلسل کی خواہش کی اور اس بات کی امید ظاہر کی کہ اہلِ ادب و ہنر و دانش کی معیت میں ایسے ہی برنامے جلد ہی افغانستان میں بھی منعقد ہوں گے۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز آج صبح سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی میں ہوا ہے اور اس میں ایرانی عہدے داروں اور ادیبوں کے ہمراہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

مؤتمر = کانفرنس


مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں شبِ شعر کا انعقاد

مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں ہفتے کی رات کو تیموری دور کے خراسانی شاعر اور ممتاز دانشمند امیر علی شیر نوائی کی یاد میں ‘ہم صدا با آفتاب’ نامی شبِ شعر خوانی کا انعقاد ہوا۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کے ایام میں منعقد ہونے والی اس شبِ شعر خوانی میں تاجکستان، پاکستان، ہندوستان، افغانستان اور ایران کے شاعروں نے شرکت کی۔
اس یادگاری نشست میں پاکستان کے اردو گو شاعر پروفیسر افتخار حسین عارف نے حضرتِ رسول (ص) کے وصف میں کہے گئے اپنے شعر پڑھے۔
اس کے بعد، کشورِ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے شعراء ڈاکٹر سید تقی عباسی، ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری اور ڈاکٹر عزیز مہدی نے بھی اپنے اشعار کی قرائت کی۔
اس شبِ شعر میں شعر گوئی کرنے والے دوسرے شاعروں میں کشورِ تاجکستان کے منصور خواجہ اف اور رستم آی محمد اف، اور ایران میں افغانستان کے ثقافتی سفیر محمد افسر رہ بین بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ ایران کے کچھ مشہور شاعروں جیسے علی رضا قزوہ، محمد جواد شاہ مرادی تہرانی، امیر برزگر، محمد رضا سرسالاری، محسن فدائی، مہدی آخرتی اور ایمان بخشائشی نے اس یادگاری شبِ شعر میں شرکت کی اور حاضرین کے سامنے اپنے اشعار پڑھے۔
پہلے بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا انعقاد مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کی کوششوں اور دیگر چوبیس مؤسسوں کے تعاون سے ہوا ہے اور یہ سات سے نو فروری تک دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں جاری رہے گا۔
۸۴۴ ہجری میں شہرِ ہرات میں متولد ہونے والے امیر علی شیر نوائی شاعر، دانشمند اور سلطان حسین بایقرا گورکانی کے وزیر تھے۔
فارسی اور ترکی دونوں زبانوں میں اُن کے بہت سارے اشعار موجود ہیں، اسی وجہ سے اُن کو ‘ذواللسانین’ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اُن کا انتقال ۹۰۶ ہجری کو ہرات میں ہوا تھا اور وہ سلطان شاہ رخ تیموری کی بیوی گوہرشاد بیگم کی آرامگاہ کے جوار میں واقع اور اپنے ہی ہاتھوں ساختہ ‘اخلاصیہ’ میں دفنائے گئے۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء


جامی خراسان اور ماوراءالنہر کے درمیان حلقۂ وصل تھے

تاجکستان میں واقع جمہوریۂ اسلامیِ افغانستان کے سفارت خانے میں عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک محفل منعقد ہوئی جس میں ادیبوں، نقادوں، روزنامہ نگاروں اور ملکی دارالحکومت دوشنبہ میں مقیم افغانستان، تاجکستان اور ایران کے دانشوروں نے شرکت کی۔ آغاز میں قاری مرزائی نے کلامِ مجید سے چند آیات کی تلاوت کر کے فضائے محفل کو منور کیا۔
پھر افغانستان و تاجکستان کے قومی ترانوں کے احترام میں حاضرین کھڑے ہوئے اور ترانوں کو سنا۔ بعد میں تاجکستان میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے حاضرین کو خیر مقدم کہتے ہوئے اس اجتماع کو ‘محفلِ عشق و فرہنگ’ کا نام دیا اور شرکت کرنے والوں کی خدمت میں افغانستان کے صدر اشرف غنی احمد زئی کے سلام اور احترامات پیش کیے۔ اُنہوں نے کہا: "وہ (یعنی صدر) یہ باور رکھتے ہیں کہ ہم ایک مشترکہ ثقافتی و تمدنی قلمرو میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ جس طرح ہم ایک مشترک تاریخی سرنوشت رکھتے ہیں، اُسی طرح ہمیں مداوم ثقافتی سفارت کاری کی مدد سے سیاسی طور پر ایک دوسرے سے نزدیک آنے اور ایک متحد منطقہ تشکیل دینے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔”
پھر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے شرکاء کے سامنے افغانستان کے وزیرِ امورِ خارجہ جناب ضرار احمد عثمانی کا نوشتہ پیام پڑھا۔ اُس میں لکھا گیا تھا کہ "مولانا عبدالرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کی تجلیل کا مطلب دینی، ثقافتی اور تمدنی شناخت کی اور ہمزبانی و ہمدلی کی تجلیل ہے۔ میرے اعتقاد میں افغانستان اور تاجکستان کے درمیان روابط کی مشروعیت ایک واحد شناخت پر مبنی ہے، جس کی مشترک دین، زبان اور ثقافت کے شاخصوں سے تعریف کی جاتی ہے۔ مولانا عبدالرحمٰن جامی ایک ایسا بزرگ آئینہ ہیں جس میں دو ملتوں کی ہم دلی اور ہم آوازی نظر آتی ہے۔
سلطان حسین میرزا بایقرا کی مقتدرانہ رہبری اور میر علی شیر نوائی کی رفاقت میں حضرتِ جامی پندرہویں صدی عیسوی میں اپنے ‘نفحات الانس’ اور ‘ہفت اورنگ’ کی مدد سے تیموری تمدن کی اساس رکھ پائے تھے۔ تاریخ اس واقعیت کی بیان گر ہے۔ لہٰذا مولانا جامی اور ہفت اورنگ کی یہ پاسداری، عشق و ایماں اور ثقافت کی پاسداری ہے۔ یہ اُن لوگوں کی ہم دلی و ہم آوازی کی پاسداری ہے جو خرد ورزی، صلح جوئی، ہم زیستی، فراست اور اپنی نورانی ثقافتوں کے ہمراہ ایک ساتھ صمیمانہ زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ اور جن کی ثقافت پرور تحمل پذیری و رواداری کی ‘بوئے جوئے مولیاں’ مشترک تاریخ کی کیاری میں جاری رہی ہے۔”
ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے مولانا جامی کی شخصیت کے بارے میں مزید کہا: "وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو اپنے عشق کے باعث شہرۂ آفاق ہیں۔ شمس الدین محمد حافظ اگر ‘لسان الغیب’ سے متصف ہیں، بیدل ‘ابوالمعانی ‘سے متصف ہیں، تو جامی بھی ‘خاتم الشعراء’ سے ملقب ہیں۔جامی کیوں بزرگ ہے؟ میں بتاتا ہوں جامی کیوں بزرگ ہے۔ ہم اپنی تاریخی، ثقافتی و تمدنی قلمرو میں جامی جیسی کسی شخصیت کا مشکل ہی سے سراغ پا سکتے ہیں۔
جامی اجتماعی مصلح ہے، جامی دین کے میدان کا محقق ہے، جامی اسلام شناسی کے میدان میں ممتاز ہے، جامی عرفانِ نظری و عملی کے میدان میں بے گمان ایک بلند قامت شخصیت ہے، جامی ابنِ عربی کا شاگرد ہے اور اس کے ساتھ ہی ابنِ عربی کی تالیفات کی شرح میں بلاتردید اُس کو کوئی ہمتا نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں اس بات کی نشان دہ ہیں کہ جامی بزرگ ہے۔
بالخصوص چنگیز، منگول اور تیموری فتنوں کے بعد، کہ جب تیمور کی آل کشور کشائی اور آتش کشی میں مشغول تھی تو یہی جامی تھے جنہوں نے تیموری خاندان سے سلطان حسین میرزا بایقرا جیسے علم و ثقافت پرور اور بلند قامت چہرے کو اوپر ابھارا تھا۔ جامی ہرات اور سمرقند کے مابین حلقۂ وصل تھے۔ چنگیزی فتنوں کے بعد عرفان محض خانقاہی بن گیا تھا۔ جامی نے ابنِ عربی کے عرفان کا اُس کی تمام ابعاد کے ساتھ احیا کیا۔”
صدرالدین عینی کے نام پر قائم دانشگاہِ دولتیِ آموزگاری کے رئیسِ عالی عبدالجبار رحمان نے اس بات کا اظہار کیا کہ جامی کا پندرہویں صدی عیسوی کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتا ہے اور اُن کے احوال اور تالیفات کے متعلق ایران، افغانستان اور تاجکستان میں بہت ساری تحقیقات انجام پا چکی ہیں۔ جامی کے غنی اور مضامین سے پُر اشعار انسان اور اور مقامِ انسان کے بارے میں تازہ و سلیم فکروں پر مشتمل ہیں۔
جامی کے سمرقند کی جانب سفر اور وہاں اُن کی تحصیل نے اُن کی زندگی پر بڑا اثر ڈالا تھا۔ جامی کے استاد سعدالدین کاشغری نے جامی کی معرفت سے آشنا ہونے کے بعد یہ لکھا تھا کہ جامی سے دانش مندی میں بالاتر کوئی انسان بھی آمو دریا کو پار کر کے اس طرف نہیں آیا ہے۔ عبدالرحمٰن جامی نے سمرقند میں بہت سے علمائے علم و فنون سے آشنائی حاصل کی تھی اور اُن سے زمانے کے علوم سیکھے تھے۔ اسی سمرقند ہی میں وہ نقشبندی طریقت سے نزدیکی سے متعارف ہوئے تھے اور بعد میں عرفان کی جانب اُن کی توجہ بیشتر ہو گئی تھی۔
بعداً انہوں نے بزرگانِ عرفان کے بارے میں ‘نفحات الانس’ نامی کتاب لکھی تھی۔ جامی کی ایک اور خدمت علمی بحث و مناظرہ کی تشکیل اور انجام دہی تھی جس کے بعد میں سودمند نتائج نکلے۔ عبدالرحمٰن جامی کو سعدی شیرازی کے ہمراہ معلمِ اخلاق کہا جاتا ہے۔ پروفیسر عبدالجبار رحمان نے اس بات پر بھی فخر ظاہر کیا کہ سوویت دور میں اُنہیں یہ موقع میسر آیا تھا کہ ہرات میں اقامت کر سکیں اور جہانِ ادب و عرفان کے اس بزرگ مرد کے مقبرے کی زیارت سے شرف یاب ہو سکیں۔
بعد میں تاجکستان میں مقیم معروف ایرانی خبرنگار اور سخنور بانو یگانہ احمدی نے جامی کی ‘ہفت اورنگ’ سے دو کوتاہ اقتباسات خوبصورت طریقے سے حاظرین کے سامنے پیش کیے۔
تاجک دانشمند پروفیسر عبدالنبی ستارزادہ نے کہا کہ "شعراء معمولاً تین گروہوں میں گروہ بندی کیے جاتے ہیں: شاعرانِ شاعر، شاعرانِ عالم اور شاعرانِ عارف۔ اس گروہ بندی کی نظر سے مولانا جامی شاعرانِ عالم و عارف کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب بھی ہم مولانا جامی کی تالیفات کا مطالعہ کریں، تو ہمیں اُن تالیفات کا تمام جہات سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ بعض محققوں نے جامی کی میراث کو تنہا اُن کے شاعر ہونے کے حوالے سے یا پھر اُن کے عارف ہونے یا عالم ہونے کے حوالے سے سراہا ہے۔
جن لوگوں نے صرف اُن کے شعروں کے حوالے سے ان کا استاد رودکی، حافظ، سعدی، مولوی، نظامی، اور دوسرے بزرگ شاعروں سے تقابل کیا ہے، انہوں نے یہ کہا ہے کہ وہ ضعیف شاعر ہیں۔ اور جن لوگوں نے صرف اُن کی بطور ایک عارف ارزیابی کی ہے، انہوں نے کہا ہے اُن کے عارفانہ اشعار کو مولوی، سنائی یا عطار کے عارفانہ اشعار کے برابر میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بے شک یہ ارزیابی چنداں منصفانہ نہیں ہے۔ مولانا جامی کی تصنیفات پر ہر جہت سے نظر ڈالنی چاہیے۔”
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے جامی کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کے موقع پر کی گئی تقریر میں جامی شناسی پر بخوبی ایک نظر ڈالی۔ اُنہوں نے اس بات کا تحلیل و تجزیہ کیا کہ جامی شناسی تا‌ حال کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ نیز انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جامی شناسی کے رشد و ارتقاء میں تاجک جامی شناسوں خاص طور پر استادِ مرحوم اعلیٰ خان افصح زاد کا حصہ قابلِ قدر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے جامی کو ایران، افغانستان، تاجکستان اور دیگر مقامات میں ابھی تک درست طور پر نہیں پہچانا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اکادمیِ علومِ تاجکستان نے جامی کے چھ سو سالہ جشن کے موقع پر ‘آثارِ جامی’ کے نام سے چودہ جلدی کتاب نشر کے لیے آمادہ کی ہے۔ ان کتابوں میں حضرتِ جامی کے کتب و رسائل جمع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامی کے جملہ آثار کی ماہیت اُن کی انسان دوستی نے معیّن کی ہے:
ای که می‌پرسی بهترین کس کیست؟
گویم از قولِ بهترین کسان
بهترین کس کسی بوَد، که ز خلق
بیش باشد به خلق نفع‌رسان
دانشگاہِ ہرات کے استاد محمد داؤد منیر نے اپنی تقریر میں جامی کے اشعار پر محققوں کی جانب سے کی گئی داوری کے بارے میں گفتگو کی۔ موقع کی مناسبت سے انہوں نے غزلیاتِ جامی کے متعلق اپنی ہی نادر تحقیقات میں سے بھی کچھ حصے حاضرین کے سامنے پیش کیے۔
افغانستان کے ایک جامی شناس محی الدین نظامی نے اپنی تقریر کے آغاز میں افغان شاعر استاد خلیل اللہ خلیلی کے مولانا جامی کی توصیف میں کہے گئے وہ اشعار پڑھے جو اُنہوں نے مولانا جامی کے پانچ سو پچاس سالہ جشن کے موقع پر لکھے تھے۔
پیغمبرانِ معنی روشن‌گرانِ فکرند
در هر کجا تپد دل باشد جهانِ جامی
ابرار سبحه سازند، احرار تحفه آرند
خاکِ مزارِ جامی، نقدِ روانِ جامی
برخاست بادِ شوقی از جانبِ سمرقند
کز بوی مشک‌بیزش شد زنده جانِ جامی
از غزنه تا بخارا وز وخش تا هرات است
هم جلوه‌گاهِ جامی، هم آشیانِ جامی
تجلیلِ این بزرگان تعظیمِ علم و فضل است
فرخنده باد این جشن بر پیروانِ جامی​
محفل کے اختتام پر حاضرین سفارت خانۂ افغانستان کے ایوانِ ‘ہفت اورنگ’ میں افغانستان کے چیرہ دست ہنرمند جناب شجاع محمد فقیری کی نمائش کے لیے پیش کردہ نقاشیوں سے بھی بہرہ مند ہوئے۔

(منبع: تاجک اخبار ‘روزگار’)
خبر کی تاریخ: ۱۴ نومبر ۲۰۱۴ء


شرحِ احوالِ امیر نظام الدین علی شیر نوائی

نظام الدین علی شیر نوائی کلاسیکی ازبک ادبیات کے اساس گزار ہیں جو اپنی ممتاز تالیفات کے ہمراہ ازبکوں اور ترک نژادوں کے ادب کی تاریخ میں بہت شائستہ مقام رکھتے ہیں۔
وہ ۱۴۴۱ء میں شہرِ ہرات میں متولد ہوئے تھے۔ اُن کے والد غیاث الدین کیچکینہ بہادر تیموری دربار کے عملداروں میں سے تھے تاہم وہ لکھنا پڑھا نہیں جانتے تھے۔ لیکن ناخواندہ ہونے کے باوجود، اُنہوں نے اپنے فرزند کی تعلیم و تحصیل میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا، اور اس سلسلے میں بہت کوششیں کیں۔ نوائی نے اپنی ابتدائی اور وسطی تعلیم ہرات میں حاصل کی، جس کے بعد وہ مشہد چلے گئے۔ وہاں انہوں نے ابوالقاسم بابر میرزا کے دربار سے وابستہ ہونے کے علاوہ اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ خاص طور پر، وہ فارسی کے بزرگ ادیبوں نظامی گنجوی، امیر خسرو دہلوی، کمال خجندی اور حافظ شیرازی کی تخلیقات کے مطالعے میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے۔ نوائی نے اُن سے کلامِ موزوں کا سحر، سخنوری کا ہنر، اور تمثال آفرینی کے طرز و اصول سیکھے، اور اُن کی پیروی میں اپنے اولین اشعار انشا کرنے شروع کیے۔ اس کے علاوہ، نوائی اس شہر میں عالموں اور شاعروں کی صحبت میں بھی اشتراک کرتے تھے اور اُن سے درسِ زندگی حاصل کرتے تھے۔ اسی جگہ نوائی نے اپنے اولین دیوان کو مرتّب کیا تھا۔ ۱۴۶۶ء میں علی شیر نوائی ہرات واپس آ گئے۔ تاہم وہاں کی سیاسی و اجتماعی حیات کے نامساعد ہونے اور ابوسعید میرزا کی جنگوں اور خوں ریزیوں کے سبب نوائی اُسی سال ہرات کو ترک کر کے سمرقند کی جانب عازمِ سفر ہو گئے۔ سمرقند میں علی شیر نوائی دوبارہ تحصیلِ علم و ادب میں مشغول ہو گئے اور وہاں انہوں نے اپنے زمانے کے ایک مشہور عالم خواجہ فضل اللہ ابو لیث سے علمِ فقہ حاصل کیا۔
۱۴۶۹ء میں جس وقت حسین بایقرا – جو نوائی کا ہم مکتب اور رضاعی برادر تھا – ہرات آ کر مسندِ پادشاہی پر بیٹھا تو اُس نے نوائی کو اپنے دربار میں دعوت دی۔ علی شیر نوائی کو حسین بایقرا کے دربار میں مُہرداری کا عہدہ عطا ہوا۔ اسی زمانے میں نوائی کی جامی کے ساتھ دوستی کا آغاز ہوا اور وہ جامی کے مرید بن گئے۔
علی شیر نوائی انسان دوست اور رعیت پرور شخص تھے۔ وہ ریاستی امور کے اجرا کے دوران بیچاری عوام کو فائدہ پہنچایا کرتے تھے اور اُن کے خیرخواہ رہتے تھے۔ مثلاً سال ۱۴۷۰ء میں عملداروں اور حاکموں کے ظلم و استثمار اور حد سے زیادہ خراج کی وصولی سے لوگوں کی اقتصادی زندگی نہایت دشوار ہو جانے کے باعث عوام نے ظالموں کی اس بیدادگری کے خلاف شورش برپا کر دی تھی۔ صرف علی شیر نوائی کی عاقلانہ تدبیروں کی وجہ سے اس شورش کو ختم کیا گیا۔ نوائی نے سلطان حسین بایقرا کو مشورہ دیا کہ سب سے پہلے ظالموں کو سزا دی جائے اور پھر عوام سے لیے جانے والے خراج میں کچھ حد تک کمی کی جائے۔ اس قضیے کے بعد لوگوں کے درمیان نوائی کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو گیا اور وہ اُن کی پہلے سے بھی زیادہ حرمت کرنے لگے۔
علی شیر نوائی ۱۴۷۲ء میں مرتبۂ وزارت پر فائز ہوئے۔ دقیقاً اسی زمانے میں سیاسی و اجتماعی وضع بہت حد تک آسودہ ہو گئی جس کے نتیجے میں تمدنی و ادبی زندگی میں بہت پیش رفت واقع ہوئی۔ لیکن نوائی کے بہت سے کام شاہ اور سلطنتی عملداروں کے خشم و غضب کا باعث بنے اور وہ نوائی کو رنج و آزار پہنچانے کے در پے ہو گئے۔ شاہ کے سامنے حکّام اور وزراء [نوائی کی نسبت] ہر طرح کی بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ انہی وجوہات کی بنا پر نوائی سال ۱۴۷۶ء میں منصبِ وزارت سے دست کَش ہو گئے۔ بعدازاں، اُنہوں نے گیارہ سال کی مدت ریاستی امور کو ایک طرف رکھ کر علمی و ادبی تالیفات کی تخلیق میں مشغول رہ کر گذاری۔ اسی دور میں اُنہوں نے اپنے ‘خمسہ’ نامی پانچ مثنویوں کے مجموعے کو تکمیل تک پہنچایا۔ ان گیارہ سالوں بعد حسین بایقرا نے اُنہیں پھر استرآباد کا حاکم متعین کیا، لیکن استرآباد میں نوائی فقط ایک سال مقیم رہے اور ۱۴۸۸ء میں واپس ہرات آ گئے۔ اس کے بعد وہ اپنی عمر کے اختتام تک پھر کبھی سلطنتی امور میں مشغول نہیں ہوئے اور اپنے وقت کو اُنہوں نے صرف تصنیفی کاموں میں صرف کیا۔
علی شیر نوائی کا انتقال جنوری ۱۵۰۱ء میں شہرِ ہرات میں ہوا۔ ‘حبیب السیر’ کے مؤلف خواندمیر نے بزرگ شاعر نوائی کی وفات پر ہرات کے لوگوں کے غم و اندوہ اور احساسات کو سوز و گداز کے ساتھ بیان کرنے کے بعد ابیاتِ ذیل سے اُن کا خلاصہ نکالا ہے:
چرا خون نبارید چشمِ سپهر؟
چرا گشت روشن دگر ماه و مهر؟
چرا سلکِ ایام درهم نشد؟
چرا ماه و سال از جهان کم نشد؟
نوائی کے جسد کو ہرات کے اُسی گنبد میں سپردِ خاک کیا گیا جسے اُنہوں نے خود تعمیر کرایا تھا۔

(وزارتِ معارفِ تاجکستان کی شائع کردہ نصابی کتاب ‘ادبیاتِ تاجک: کتابِ درسی برائے صنفِ نہم’ سے اقتباس اور ترجمہ)