شرلوک ہومز کی زبان سے جنابِ «حافظِ شیرازی» کی سِتائش

شرلوک ہومز کے کردار کے خالق «آرتھر کونن ڈائل» کی ایک داستان «شناخت کا قضیہ» (A Case of Identity) کے اختتام پر شرلوک ہومز اپنے دوست و مُعاوِن ڈاکٹر واٹسن سے جنابِ «حافظِ شیرازی» کی سِتائش کرتے ہوئے، اور اُن کا لاطینی شاعر «ہوراس» سے تقابُل کرتے ہوئے کہتا ہے:

"You may remember the old Persian saying, ‘There is danger for him who taketh the tiger cub, and danger also for whoso snatches a delusion from a woman.’ There is as much sense in Hafiz as in Horace, and as much knowledge of the world.”

"شاید تمہیں وہ فارسی ضرب المثَل یاد ہو گی کہ ‘جو بھی شخص چِیتے کے بچّے کو ہتھیاتا ہے، یا جو بھی شخص کسی عورت سے وہم چھینتا ہے، اُس کے لیے خطرہ ہی خطرہ ہے’۔ حافظ میں اُسی قدر حِکمت و اِدراک و معرفتِ جہان موجود ہے جس قدر ہوراس میں۔”

اگرچہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ شرلوک نے جس ضرب المثَل کو حافظ کی شاعری کے طور پر پیش کیا ہے، وہ حافظ کی کسی بیت میں نہیں ہے، اور ایسی کوئی ضرب المثَل بھی میں نے کبھی فارسی میں نہیں دیکھی۔ ظاہراً، نویسندۂ داستان نے اِس سُنی ہوئی مَثَل کو غلطی سے حافظ کا قول سمجھ لیا تھا۔

Advertisements

زبانِ تُرکی کی سِتائش – محمد بن منصور مُبارک‌شاه فخرِ مُدبِّر

قُطب‌الدین ایبَک کو اہداء کی گئی کتاب «شجرۂ انساب» یا «بحرالانساب» کے مُقدِّمے میں، جو «تاریخِ فخرالدین مُبارک‌شاه» کے نام سے مشہور ہے، میں محمد بن منصور مُبارک‌شاه فخرِ مُدبِّر زبانِ تُرکی کے بارے میں لکھتے ہیں:

"۔۔۔بعد از لغت زبان تازی هیچ سخنی و لغتی بهتر و باهیبت‌تر از زبان ترکی نیست و امروز رغبت مردمان به زبان ترکی بیش از آن است که در روزگارهای پیشین بدان سبب که بیش‌تر امیران و سپه‌سالاران ترکان‌اند و دولت به‌ایشان است و نعمت و زر و سیم در دست ایشان است و جملهٔ خلائق را بدان حاجت است و اصیلان و بزرگان و بزرگ‌زادگان در خدمت ترکان‌اند و از دولت ایشان آسوده و مستظهر و باحرمت‌اند.”

"زبانِ عربی کے بعد کوئی بھی سُخن و لُغت زبانِ تُرکی سے زیادہ بہتر و باحشمت نہیں ہے اور اِمروز زبانِ تُرکی کی جانب مردُم کی رغبت ایامِ گُذشتہ سے زیادہ ہے کیونکہ بیشتر حُکمران و سپاہ سالار تُرک ہیں اور اقتدار اُن کے پاس ہے اور نعمت و زر و سِیم اُن کے دست میں ہے اور کُل خلائق اُس کی حاجت مند ہے اور نجیبان و بُزُرگان و بُزُرگ زادگان تُرکوں کی خدمت میں ہیں اور اُن کی حُکومت و اقبال مندی سے آسودہ و مددیاب و باحُرمت ہیں۔”


ڈیڑھ سو سال قبل ماوراءالنہر و تُرکستان کی لسانی صورتِ حال

"تاجِکان فارسی کا ایک زبانچہ بولتے ہیں، جو اطراف کے تُرکی زبانچوں سے بِسیار زیادہ مُتاثر ہے، اور جس نے کئی تُرکی الفاظ قبول کر لیے ہیں۔ مع ہٰذا، اِس زبانچے میں ایسے کئی آریائی الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں جو جدید فارسی میں استعمال نہیں ہوتے، اور یہ چیز اِن خِطّوں میں اِس [تاجک] نسل کے طویل دوام کا ایک ثبوت ہے۔ اُزبکوں کی قلیل تعداد [ہی] ‘تاجِک’ بولتی ہے، لیکن بیشتر تاجِکان تُرکی بولتے ہیں، جو اُزبکوں کی زبان ہے۔ تُرکی کا جو زبانچہ یہاں بولا جاتا ہے وہ چند یورپی عالِموں میں جَغَتائی کے نام سے معروف ہے، اگرچہ وسطی ایشیا میں اب چند افراد ہی یہ نام جانتے ہیں۔ اگر کسی مقامی شخص سے پوچھا جائے کہ وہ کون سی زبان بولتا ہے تو وہ جواب میں یا تو یہ کہے گا کہ "میں تُرکی بولتا ہوں”، یا پھر کہے گا "اُزبک زبان”۔ میرا ماننا ہے کہ اِس زبانچے کو جَغَتائی کا نام فارْسوں نے دیا تھا کیونکہ ایشیا کے اِس خِطّے کے اُزبک قبائل فارسی تاریخ نویسوں میں ‘مردُمِ جَغَتائی’ کے نام سے جانے جاتے تھے، اور یہ چنگیز خان کے پِسر کا نام تھا جس کو یہ خِطّہ سونپا گیا تھا۔ چونکہ بیشتر تاجِکان، بجُز اُن ضِلعوں میں جہاں صرف وہ ہی مُقیم ہیں، تُرکی بولتے ہیں، لہٰذا اِس زبان کے ساتھ وسطی ایشیا میں کہیں بھی جایا جا سکتا ہے۔ لیکن در عینِ حال، ‘تاجِک’ نزاکت و ثقافت کی زبان ہے، جس میں بیشتر تحریریں اور تمام سرکاری و رسمی دستاویزات لِکھی جاتی ہیں۔”

(تُرکستان: رُوسی تُرکستان، خوقند، بُخارا اور قولجہ میں سفر کی یادداشتیں، جلدِ اوّل، صفحہ ۱۰۹، یُوجین شُوئلر، ۱۸۷۶ء)

مُترْجِم: حسّان خان

× ‘تاجِک’ سے ماوراءالنہری فارسی مُراد ہے، جبکہ ‘جدید فارسی’ مُصنِّف نے جدید ایرانی فارسی کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔

× کتاب کا انگریزی نام:
Turkistan: Notes of a Journey in Russian Turkistan, Khokand, Bukhara, and Kuldja – Eugene Schuyler


اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی کی ترویج میں مولانا رُومی کا کردار

شادی آیدېن (از تُرکیہ) اپنے مقالے ‘فارسچا دیوان صاحیبی عۏثمان‌لې سولطان‌لارې و دیوان‌لارېنېن نۆسخالارې‘ (صاحبِ دیوانِ فارسی عُثمانی سلاطین اور اُن کے دیوانوں کے نُسخے) میں لکھتے ہیں:

"اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی زبان و شاعری اور ایرانی ثقافت کے رواج کے دوام میں مولانا رومی کی فکر اور اُن کی تالیفات کا اثر بِسیار زیادہ ہے۔ مولانا کی شاعری، مولوی طریقت اور مولوی خانقاہیں اِن سرزمینوں میں فارسی زبان کے رواج اور اناطولیہ سے بیرون کے مِنطقوں میں بھی اِس کی اشاعت کا وسیلہ بنیں۔ چونکہ مولانا کی مثنوی اور غزلیات فارسی میں کہی گئی تھیں، لہٰذا زبانِ فارسی مولوی درویشوں کے لیے ایک مُقدّس زبان بن گئی تھی۔ تیرہویں صدی میں فارسی شاعروں، وزیروں، مُنشیوں اور حکومتی کارندوں سے مخصوص زبان تھی، لیکن مولوی خانقاہوں کے ذریعے یہ زبان عوامی طبقوں میں بھی داخل ہو گئی۔ جس طرح سُلطان کے قصْروں میں شاہنامہ خواں پائے جاتے تھے، اُسی طرح درویش کی مجلسوں میں بھی مولانا کی شاعری خوانْنے والے مثنوی خواں پائے جاتے تھے۔”

× مولوی = مولانا رُومی کے سلسلۂ طریقت سے منسوب

دانش نامۂ ایرانیکا کے مقالے ‘بوسنیا و ہرزگووینا‘ میں ایک جا حامد الگر لکھتے ہیں:

"دیگر عُثمانی سرزمینوں کی طرح بوسنیا و ہرزگووینا میں بھی صوفیانِ مولویہ مثنویِ معنوی کی ہمیشہ اُس کی اصلی زبان میں قرائت کرتے تھے؛ اُنہوں نے نہ صرف فارسی کو ایک نیم عباداتی زبان بنا دیا تھا، بلکہ تعلیم یافتہ اشرافیہ کے درمیان اِس کے عام رواج میں بھی بسیار زیاد کردار ادا کیا تھا۔”