فارسی اور اردو کی باہمی قرابت کا ایک فائدہ

فارسی اور اردو کی باہمی قرابت و نزدیکی کا ایک فائدہ یہ ہے اگر فارسی سے نابلَد اردو داں شخص کے پیش میں کوئی فارسی بیت اردو ترجمے کے ساتھ رکھ دی جائے تو وہ فارسی سے بخوبی واقفیت نہ رکھنے کے باوجود فارسی بیت کی شیریں زبانی اور عالی معنائیت سے بطورِ وافر محظوظ و لذّت اندوز ہو جاتا ہے اور کئی ساعتوں تک اُس شاعری کے سِحر میں مُبتلا رہتا ہے۔ بہ علاوہ، ترجمہ و مفہوم معلوم ہو جانے کے بعد وہ فارسی بیت اُس اردو داں شخص کو اپنی ہی زبان جیسی مانوس لگنے لگتی ہے، اور بہ آسانی یاد بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ اب ذرا تصوُّر کیجیے کہ اگر فارسی شاعری میں دلچسپی رکھنے والا اردو داں فرد زبانِ فارسی کو بھی کماحقُّہُ جان لے تو عظیم فارسی شاعری سے اُس کی لذّت گیری میں کس حد تک اضافہ ہو جائے گا اور شعرِ فارسی سے حِظ یابی کا عالَم اُس کے لیے کیا سے کیا ہو جائے گا؟ یقیناً ویسا شخص بھی پس امام بخش ناسخ کی مانند مُسلسل یہی کہتا رہے گا کہ:
مست ناسخ مجھے رکھتا ہے کلامِ حافظ
میرے ساغر میں بجز بادۂ شیراز نہیں

فارسی زبان و ادبیات زندہ باد!

Advertisements

تاریخِ وفاتِ مرزا قتیل – امام بخش ناسخ

(تاریخِ وفاتِ مرزا قتیل)
شاعرِ مُعجِزبیان مرزا قتیل
رفت ازین عالَم سویِ باغِ بهشت
کِلکِ ناسخ سالِ تاریخِ وفات
سعدیِ شیرازیِ ثانی نوشت
(امام بخش ناسخ)
× سعدیِ شیرازیِ ثانی = ۱۲۳۳ھ

ترجمہ:
شاعرِ مُعجِز بیاں میرزا قتیل اِس عالَم سے باغِ بہشت کی جانب روانہ ہو گئے؛ ناسخ کے قلم نے [اُن کا] سالِ تاریخِ وفات ‘سعدیِ شیرازیِ ثانی’ لکھا۔