کیا «تُرک» کوئی «نسل» ہے؟ جواب: قطعاً نہیں!

ہم میں ایک کبیر غلط فہمی یہ ہے کہ ہم «تُرک» کو ایک نسل و نژاد سمجھتے ہیں اور «تُرکوں» اور «تُرکی» کو بیسویں صدی میں وجود میں آنے والی ریاست «تُرکیہ» تک محدود سمجھتے ہیں۔ اور جب «تُرک» کا لفظ سنائی دیتا ہے تو ہمارے ذہن میں اناطولیہ اور مغربی تُرکیہ کے افراد کی شکل و صورت والے تُرکان آتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت بالکل مُختلف ہے۔ تُرکیہ کے بیشتر تُرکان مُترّک ہیں، اور یونانیوں، البانویوں، بوسنیائیوں، بلغاریوں، سلاووں، ارمنیوں، گُرجیوں، چرکَسوں، لازوں، کُردوں، شامیوں وغیرہ کی مسلمان و تُرک شدہ اولاد ہیں، جن سے اسلامی تُرک فتوحات کے زمانے میں وسطی ایشیائی تُرک مہاجرین مُختلِط ہوتے رہے۔ ویسے ہی جیسے دیارِ شام کے بیشتر مسلمان عرب بھی قدیم یونانیوں، سریانیوں، فینیقیوں، کنعانیوں اور بلقانی مہاجروں وغیرہ کی مسلمان و عرب شدہ اولاد ہیں۔ «تُرک» کوئی نسل نہیں ہے۔ عراق کے تُرکی گو تُرکان بالکل عراقی عربوں اور عراقی کُردوں جیسے نظر آتے ہیں، اور عراقی عربوں جیسی ہی طرزِ بود و باش اور طرزِ ملبوسات رکھتے ہیں۔ حالانکہ اُن کی زبان بالکل تُرکیہ کے مردُم جیسی ہے اور وہ بھی اناطولیائی تُرکوں کی مانند عُثمانی شہری رہ چکے ہیں۔ ‘«تُرکوں» کے درمیان تاریخی طور پر مشترک چیز تُرکی زبان، اور تُرک ہونے کا احساس ہے، نسل یا اجداد نہیں۔ ویسے بھی «نسل» نامی کسی شَے کا، خصوصاً کسی «خالص نسل» یا «برتر و عالی نسل» کا کوئی حقیقی اور معروضی وجود نہیں ہے۔ ہر شخص ہی مختلف قوموں اور مختلف طرح کے افراد کی طویل آمیزش کا نتیجہ ہے۔
تُرک کوئی یکساں تاریخی تجربات رکھنے والی واحد لسانی «مِلّت» بھی نہیں رہے ہیں، ورنہ آذربائجان اور تُرکیہ کے مردُم یکساں زبان رکھنے کے باوجود تین مختلف مُلکوں اور مِلّتوں میں مُنقسِم نہ ہوتے اور صفوی و عُثمانی سلطنتیں بنا کر صدیوں تک مُتحارِب حالت میں نہ رہتے۔ ہر خِطّے کے تُرکان اپنے مخصوص تاریخی تجربات کے مالک ہیں۔ فی زمانِنا، تُرکیہ اور مشرقی تُرکستان کے تُرکان اُسی طرح مُعاشرتی و ثقافتی لحاظ سے باہمی طور پر مختلف ہیں، جس طرح مراکش اور عراق کے عرب۔
اسلام سے قبل کے اصل قدیم تُرکان حالیہ منگولستان اور مشرقی تُرکستان کے اطراف کے مناطق کے تھے، اور اُن کی شکل و صورت منگولوں جیسی تھی۔ کلاسیکی فارسی و عربی ادبیات اور تاریخی کتابوں میں تُرکوں کو ہمیشہ چینیوں اور منگولوں جیسی ہیئتِ ظاہری والا دِکھایا گیا ہے۔ مثلاً قبل از اسلام دور کے تُرک خاقان «کول‌تیگین» کے چہرے کا مجسمہ دیکھیے:
تصویرِ اول
تصویرِ دوم
تصویرِ سوم
تصویرِ چہارم
اِس تُرک خاقان کی سلطنت حالیہ منگولستان میں تھی۔ آج کا کون سا اناطولیائی «تُرک» اِس جیسا نظر آتا ہے؟ قِرغِزوں، قزاقوں اور اُویغوروں نے قدیم تُرکوں کی شکل و صورت کو کافی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ باقی دیگر تُرکان جہاں جہاں جوق در جوق ہجرت کرتے رہے، مقامی آبادی میں ازدواجی پیوند قائم کر کے نسلی طور پر ضم ہوتے رہے۔ لہٰذا ایران کے حالیہ تُرکان (جو کثیر تعداد میں ہجرت کرنے والے تُرکوں اور مقامی ایرانیوں کے اختلاط کے نتیجے میں وجود میں آئے) ایرانیوں جیسے، پاکستان کے تُرک الاصل افراد پاکستانیوں جیسے، دیارِ عرب کے تُرکان عربوں جیسے، ماوراءالنہر کے تُرکانِ اُزبک تاجِکوں جیسے، اور اناطولیہ (دیارِ رُوم) کے تُرکان اناطولیائی، مشرقِ وسطائی اور بلقانی مردُم اور قوموں جیسے نظر آتے ہیں۔ جب عثمانی خلافت کے دست سے بلقانی اور قفقازی خِطّے نکل رہے تھے تو وہاں سے تقریباً ستر لاکھ سے زیادہ مسلمان عثمانی رعیت «دارِ کُفر» کو چھوڑ کر باقی ماندہ «دارِ اسلام» یعنی اناطولیہ اور بلادِ شام کی جانب ہجرت کر گئی تھی۔ آج کے تُرکیہ کی تقریباً ایک تہائی سے زیادہ آبادی اِن مہاجروں کی تُرک شدہ اولاد ہے۔ اِس لیے وہاں کے اکثر مردُم کا جسمانی قیافہ و خد و خال دیگر دیاروں کے تُرکوں سے مختلف ہے۔ تُرکیہ میں بیشتر کُردوں کے بجز دیگر تمام مسلمان اقوام اناطولیائی تُرکی زبان و ثقافت و شناخت اپنا کر «تُرک» ہو چکی ہیں۔
بدقسمتی سے اِس زمانے میں کثرتِ آبادی اور کثرتِ قوّت و وقار کی وجہ سے «تُرک» اور «تُرکیّت» کا معیار تُرکیہ بن گیا ہے۔ اِس لیے ہمارے ذہنوں میں وہاں کے مردُم ہی تُرک کے طور پر بیٹھ گئے ہیں۔ اِس غلط فہمی کو ختم اور دُور کرنا میری نظر میں ضروری ہے۔


اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی کی ترویج میں مولانا رُومی کا کردار

شادی آیدېن (از تُرکیہ) اپنے مقالے ‘فارسچا دیوان صاحیبی عۏثمان‌لې سولطان‌لارې و دیوان‌لارېنېن نۆسخالارې‘ (صاحبِ دیوانِ فارسی عُثمانی سلاطین اور اُن کے دیوانوں کے نُسخے) میں لکھتے ہیں:

"اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی زبان و شاعری اور ایرانی ثقافت کے رواج کے دوام میں مولانا رومی کی فکر اور اُن کی تالیفات کا اثر بِسیار زیادہ ہے۔ مولانا کی شاعری، مولوی طریقت اور مولوی خانقاہیں اِن سرزمینوں میں فارسی زبان کے رواج اور اناطولیہ سے بیرون کے مِنطقوں میں بھی اِس کی اشاعت کا وسیلہ بنیں۔ چونکہ مولانا کی مثنوی اور غزلیات فارسی میں کہی گئی تھیں، لہٰذا زبانِ فارسی مولوی درویشوں کے لیے ایک مُقدّس زبان بن گئی تھی۔ تیرہویں صدی میں فارسی شاعروں، وزیروں، مُنشیوں اور حکومتی کارندوں سے مخصوص زبان تھی، لیکن مولوی خانقاہوں کے ذریعے یہ زبان عوامی طبقوں میں بھی داخل ہو گئی۔ جس طرح سُلطان کے قصْروں میں شاہنامہ خواں پائے جاتے تھے، اُسی طرح درویش کی مجلسوں میں بھی مولانا کی شاعری خوانْنے والے مثنوی خواں پائے جاتے تھے۔”

× مولوی = مولانا رُومی کے سلسلۂ طریقت سے منسوب

دانش نامۂ ایرانیکا کے مقالے ‘بوسنیا و ہرزگووینا‘ میں ایک جا حامد الگر لکھتے ہیں:

"دیگر عُثمانی سرزمینوں کی طرح بوسنیا و ہرزگووینا میں بھی صوفیانِ مولویہ مثنویِ معنوی کی ہمیشہ اُس کی اصلی زبان میں قرائت کرتے تھے؛ اُنہوں نے نہ صرف فارسی کو ایک نیم عباداتی زبان بنا دیا تھا، بلکہ تعلیم یافتہ اشرافیہ کے درمیان اِس کے عام رواج میں بھی بسیار زیاد کردار ادا کیا تھا۔”