اگر تم مجھ کو ایک بوسہ دو۔۔۔

انگلستانی شاعر رابرٹ ہیرک کی ایک مُختصر انگریزی نظم کا منظوم تُرکی ترجمہ:
منه بیر بوسه وئرسن
بسیم‌دیر. بلکه ده سن
بوندان کاسېب دۆشرسن؟!
قۏرخما، نازلې نیگارېم،
چۏخ تئز زنگین‌له‌شرسن:
من حاضېرام کی گۆن‌ده
بیری‌نین عوضینده
سنه، ائی نازلې یارېم،
مین بیر بوسه قایتارېم!
(هاملئت عیساخان‌لې)
اگر تم مجھ کو ایک بوسہ دو تو میرے لیے کافی ہے۔۔۔ شاید اِس سے تم نادار ہو جاؤ گی!۔۔۔ [لیکن] ڈرو مت، اے میری نگارِ نازنیں، تم بِسیار جَلد ثروت مند ہو جاؤ گی۔۔۔ [کیونکہ] میں آمادہ ہوں کہ ہر روز ایک [بوسے] کے عوض میں، تم کو، اے میری یارِ نازنیں، ایک ہزار ایک بوسے واپَس کروں!

(Sənə, Dianeme)
Mənə bir busə versən
Bəsimdir. Bəlkə də sən
Bundan kasıb düşərsən?!
Qorxma, nazlı nigarım,
Çox tez zənginləşərsən:
Mən hazıram ki gündə
Birinin əvəzində
Sənə, ey nazlı yarım,
Min bir busə qaytarım!
(Hamlet İsaxanlı)

× مندرجۂ بالا نظم سات ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔

Advertisements

عیدِ میلادِ مسیح کا مُقدّس وقت – ولیم شیکسپیئر (ہیملٹ سے مُقتَبس)

ولیم شیکسپیئر کے نُمائش نامے «ہیملٹ» کے منظرِ اوّل میں قلعے کے نگہبانوں کو شب کے وقت وفات کردہ پادشاہ کا شبَح (بھوت) نظر آ تا ہے، جو مُرغے کے بانگ زن ہونے پر غائب ہو جاتا ہے۔ اُس موقع پر ‘مارسیلس’ نامی مُحافظ یہ کلمات کہہ کر عیدِ میلادِ مسیح کے موسم کو یاد کرتا ہے:

(منظوم تُرکی ترجمہ)
"خۏروز بانلایاندا غئیب اۏلدو کؤلگه.
دئییرلر کی، هر ایل قېش‌دان آز اوول،
میلاد بایرامېندا گئجه صۆبحه‌دک
بانلایېر دورمادان اۏ سحر قوشو.
اۏندا گزه بیلمیر هئچ یئرده روح‌لار،
اۏندا گئجه کئچیر آسوده، راحات،
یئره زییان وورمور سه‌ییاره‌لر ده،
سئحر ده، جادو دا دۆشۆر کسردن.
واخت بئله مۆقددس، بئله خۏش اۏلور!”
(مُتَرجِم: صابر مُصطفیٰ)

مُرغے کے بانگ زن ہونے پر وہ سایہ غائب ہو گیا۔
کہتے ہیں کہ ہر سال سرما سے ذرا قبل،
عیدِ میلادِ مسیح کے موقع پر شب کو صُبح تک
وہ مُرغِ سحَر بِلا اِنقطاع بانگ مارتا رہتا ہے۔
اُس وقت کسی بھی جگہ رُوحیں نہیں گھوم پِھر سکتیں،
اُس وقت شب آسودگی و راحت کے ساتھ گُذرتی ہے،
[منحوس] سیّارے بھی زمین کو زِیاں نہیں پہنچاتے،
سِحر و جادو کی بھی حِدّت و قُوّت و تیزی ختم ہو جاتی ہے۔
وقت اِس طرح مُقدّس، اور اِس طرح خوب [و مُبارک] ہو جاتا ہے!

Xoruz banlayanda qeyb oldu kölgə.
Deyirlər ki, hər il qışdan az əvvəl,
Milad bayramında gecə sübhədək
Banlayır durmadan o səhər quşu.
Onda gəzə bilmir heç yerdə ruhlar,
Onda gecə keçir asudə, rahat,
Yerə ziyan vurmur səyyarələr də,
Sehr də, cadu da düşür kəsərdan.
Vaxt belə müqəddəs, belə xoş olur!

× مندرجۂ بالا ابیات گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہیں۔

انگریزی متن:
It faded on the crowing of the cock.
Some say that ever ‘gainst that season comes
Wherein our Saviour’s birth is celebrated,
The bird of dawning singeth all night long.
And then, they say, no spirit dare stir abroad.
The nights are wholesome. Then no planets strike,
No fairy takes, nor witch hath power to charm,
So hallowed and so gracious is that time.


فردوسی اور شیکسپیئر کے درمیان ایک شاعرانہ مضمون کا اشتراک

شاہنامہ میں فردوسی لکھتے ہیں کہ فریدون نے اپنے نوادے (پوتے) منوچہر کی ایسے ناز کے ساتھ پرورش کی تھی کہ وہ یہ بھی نہیں روا رکھتا تھا کہ منوچہر پر سے باد و ہوا گذرے اور اُس کے نازک بدن کو آزار پہنچائے:
"چنان پروریدش که باد و هوا
بر او برگذشتن ندیدی روا"
[فریدون] نے [منوچہر] کی ایسے پرورش کی وہ اُس پر سے باد و ہوا کے گذرنے کو بھی روا نہیں رکھتا تھا۔

ولیم شیکسپیئر نے بھی ‘ہیملٹ’ میں ایک جا ایسا ہی مضمون بیان کیا ہے۔ ہیملٹ اپنے وفات کردہ پدر کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
"So loving to my mother
That he might not beteem the winds of heaven
Visit her face too roughly.”
"او آنقدر با مادرم مهربان بود
که حتی حاضر نبود اجازه دهد که نسیم‌های آسمانی
به تندی صورتش را بنوازند.
(مترجم: بهزاد جزایری)
"اُسے میری مادر کے ساتھ اِس قدر محبت تھی
کہ وہ حتیٰ یہ اجازت نہیں دیتا تھا کہ آسمانی ہوائیں
تُندی کے ساتھ اُس کے چہرے پر سے گذریں۔”