"مجھے سب سے زیادہ مستفید و مسحور فارسی شاعری نے کیا ہے” – عُثمانی شاعر رضا توفیق

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف نے ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں ایک جا عُثمانی شاعر رضا توفیق (وفات: ۱۹۴۹ء) کا یہ قول نقل کیا ہے:

"شرق و غربېن بیر قاچ مُهِم لسانېنې بیلیریم. فرانسېز، اینگیلیز، ایسپانیۏل، عرب، عجم، تۆرک لسان‌لارېنېن انافسِ آثارېنې اصل‌لارېندان، دیگر لسان‌لارېن‌کی‌نی ترجمه‌لریندن اۏقودوم. بنی ان زیاده مستفید و مسحور ائدن عجم اشعارې‌دېر. بونداکی حالتی دیگر لسان‌لارېن هیچ بیرینده بولمادېم. انسانیتِ قدیمه حکمتی یونانا، شعری ایرانا وئرمیش ایدی. عصرلار اشعارِ عجمی هیچ بیر زمان اسکیته‌مه‌یه‌جک‌دیر. اگر بن هجه وزنینده موفّقیت گؤسته‌ره‌بیلیرسم، بونو عجمین فیض و آهنگینه مدیونوم.”

ترجمہ:
"میں شرق و غرب کی کئی ایک اہم زبانوں کو جانتا ہوں۔ فرانسیسی، انگلیسی، ہسپانوی، عربی، فارسی، تُرکی زبانوں کے نفیس ترین آثار کا اصل زبانوں میں، جبکہ دیگر زبانوں کی تألیفات کا اُن کے ترجموں کے توسُّط سے مطالعہ کر چکا ہوں۔ مجھے سب سے زیادہ مستفید و مسحور فارسی شاعری نے کیا ہے۔ اُس میں جو کیفیت ہے وہ میں نے کسی بھی دیگر زبان میں نہ پائی۔ انسانیتِ قدیمہ نے حکمت یونان کو، جب کہ شاعری ایران کو دی تھی۔ زمانوں کی گردش فارسی شاعری کو کسی بھی وقت قدیم و فرسودہ نہیں کر سکے گی۔ اگر میں ہِجائی وزن [کی شاعری] میں کامیابی دکھا پایا ہوں تو اِس کے لیے میں عجم (فارسی) کے فیض و آہنگ کا مدیون ہوں۔”

× عُثمانی سلطنت میں ایران کو ‘عجم’ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

لاطینی رسم الخط میں:
Şark ve garbın bir kaç mühim lisanını bilirim. Fransız, İngiliz, İspanyol, Arap, Acem, Türk lisanlarının enâfis-i âsârını asıllarından, diğer lisanlarınkini tercümelerinden okudum. Beni en ziyade müstefîd ve meshûr eden Acem eş’ârıdır. Bundaki hâleti diğer lisanların hiç birinde bulmadım. İnsâniyet-i kadîme hikmeti Yunan’a, şiiri İran’a vermiş idi. Asırlar eş’âr-ı Acem’i hiç bir zaman eskitemeyecektir. Eğer ben hece vezninde muvaffakiyet gösterebilirsem, bunu Acem’in feyz ve âhengine medyûnum.

Advertisements

ہماری مملکت میں زبانِ فارسی کا شیوع – عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں لکھتے ہیں:

"ایران لسان و اشعارې‌نېن مملکتیمیزده شیوعونا ایکینجی سبب ده مدرسه‌لر، تکه‌لر و بالخاصّه مولوی خانقاه‌لارې‌دېر. جلال‌الدینِ رومی حضرت‌لری‌نین مثنوی‌سی بو خصوص‌ده بیرینجی‌لیڲی احراز ائدر، مع مافیه مثنویِ شریف تکایا و خواص آراسېندا قالېپ فریدالدین عطارین پندنامه‌سییله سعدی‌نین گلستان و بۏستانې و حافظېن دیوانې داها زیاده شایع اۏلدو. چۆنکۆ بونلارېن لسانې داها دۆزگۆن و ظریف‌دیر. مثنویِ مولانایې، تکه‌لر، پندنامه ایله گلستان و بۏستانې و اشعارِ حافظې ان زیاده مدرسه‌لر و مکتب‌لر نشر و تعمیم ائتدی. بو کتاب‌لارېن هپسینه متعدد و مفصل شرح‌لر یازېلمېشدېر و بو خصوص‌ده اۏ قدر تبذیرِ اقدام ائدیلمیشدیر که مثلا شارح قونوی همّتییله ابیاتِ حافظ‌دان استنباط ائدیلن معانیِ متصوّفانه‌نین بیر چۏغو و بلکه هپسی شاعرِ شیرازی‌نین خیالیندن بیله گئچمه‌میشدیر دئنیلسه و بیر ده یمین ائدیلسه کیمسه کاذب و حانث اۏلماز. لسانِ فارسی دینیمیزده، حسّیمیزده، فکر و خیالیمیزده بو صورت‌له عصر‌لارجا یاشادې و یاشاتدې. باشقا بیر مقتدا، آرزو ائتسه‌یدیک بیله بولامازدېق. مقدّراتِ تاریخیه‌میز بیزه بونو تکلیف و امر ائتمیشدی.”

ترجمہ:
"ایرانی زبان اور اشعار کے ہمارے مملکت میں شیوع کا دوسرا سبب مدرَسے، خانقاہیں، اور خصوصاً مولوی خانقاہیں ہیں۔ حضرتِ جلال الدینِ رُومی کی مثنوی اِس باب میں مقامِ اوّل پر فائز ہے، مع ہذٰا، مثنویِ شریف خانقاہوں اور خواص کے درمیان رہی، جبکہ فریدالدین عطّار کا پندنامہ، سعدی کی گلستان و بوستان، اور حافظ کا دیوان مزید زیادہ رائج ہوا۔ کیونکہ اِن کی زبان زیادہ صاف و ظریف ہے۔ مثنویِ مولانا کو خانقاہوں نے، جبکہ پندنامہ و گلستان و بوستان و اشعارِ حافظ کو سب سے زیادہ مدرَسوں و مکتبوں نے پھیلایا اور عام کیا۔ اِن تمام کتابوں پر متعدِّد و مفصَّل شرحیں لکھی گئی ہیں، اور اِس باب میں اِس قدر اِسرافِ اقدام کیا گیا ہے کہ مثلاً اگر کہا جائے اور قسم کھائی جائے کہ شارح قونوی کی کوششوں سے جو ابیاتِ حافظ کے معانیِ مُتصوّفانہ استنباط ہوئے ہیں، اُن میں سے کئی بلکہ تمام معانی [خود] شاعرِ شیرازی کے خیال سے بھی نہیں گُذرے ہیں تو کوئی شخص کاذب و قسم شِکن نہیں کہلایا جائے گا۔ زبانِ فارسی نے ہمارے دین میں، ہماری حِسّ میں، اور ہمارے فکر و خیال میں اِس طرح سے عصروں تک زندگی کی، اور زندگی کو جاری رکھا۔ اگر ہم کسی اور پیشوا و مُقتدا کی آرزو کرتے تو بھی نہ پا پاتے۔ ہمارے مُقدّراتِ تاریخیہ نے ہم کو یہی پیش اور امر کیا تھا۔”

× صاحبانِ تحقیق کا کہنا ہے کہ ‘پندنامہ’ فریدالدین عطّار کی تألیف نہیں ہے، بلکہ کسی اور ‘عطّار’ تخلُّص والے شاعر کی ہے۔

لاطینی رسم الخط میں:
İran lisan ve eş’ârının memleketimizde şüyuûna ikinci sebep de medreseler, tekkeler ve bilhassa Mevlevî hankâhlarıdır. Celâleddin-i Rûmî hazretlerinin Mesnevî’si bu hususta birinciliği ihraz eder, mâmâfih Mesnevî-i Şerîf tekâyâ ve havâs arasında kalıp Ferîdüddin Attar’ın Pend-nâme’siyle Sâdî’nin Gülistan ve Bostan’ı ve Hafız’ın Divanı daha ziyade şâyî oldu. Çünkü bunların lisanı daha düzgün ve zariftir. Mesnevî-i Mevlânâ’yı, tekkeler, Pend-nâme ile Gülistan ve Bostan’ı ve eş’âr-ı Hâfız’ı en ziyade medreseler ve mektepler neşir ve ta’mîm etti. Bu kitapların hepsine müteaddit ve mufassal şerhler yazılmıştır ve bu hususta o kadar tebzîr-i ikdâm edilmiştir ki mesela şârih Konevî himmetiyle ebyât-ı Hâfız’dan istinbat edilen meâni-i mutasavvıfânenin bir çoğu ve belki hepsi şâir-i Şîrâzî’nin hayâlinden bile geçmemiştir denilse ve bir de yemin edilse kimse kâzib ve hânis olmaz. Lisân-ı Fârisî dînimizde, hissimizde, fikir ve hayalimizde bu sûretle asırlarca yaşadı ve yaşattı. Başka bir muktedâ, arzu etseydik bile bulamazdık. Mukadderât-ı târihiyemiz, bize bunu teklif ve emretmişti.


عارف قزوینی کی تُرکی مخالف شاعری

گذشتہ صدی کے اوائل میں مشرقِ وسطی میں ملّت پرستانہ نظریات کے ظہور میں آنے کے نتیجے میں ایران میں تُرکی زبان فِشار کا نشانہ بننا شروع ہو گئی تھی، اور پہلوی دور میں تو تُرکی کی تعلیم و تدریس پر، تُرکی کتابوں کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اِس کا ایک مُحرِّک یہ بھی تھا کہ عُثمانی دور کے اواخر میں وہاں کے قوم پرست دانشمندان اتحادِ تُرکان کے نظریات کی تبلیغ کرنے لگے تھے، اور اُن کی خاص توجُّہ آذربائجان کی جانب تھی، کیونکہ بہرحال آذربائجانیان اُن کے ہم زبان اور تُرک تھے۔ اُن کی آرزو یہ تھی کہ قفقازی و ایرانی آذربائجان بالترتیب رُوسی اور ایرانی سلطنتوں سے خلاصی پا کر عظیم تر عُثمانی-تُرک سلطنت کا حصّہ بن جائیں، اور یہ خواہش بالعموم قفقازی آذربائجان کے تُرک قوم پرست بانیان و دانشمندان کی بھی تھی۔ ایران میں تُرک قوم پرستی اُس وقت تک متولّد نہیں ہوئی تھی، اِس لیے وہاں اِن تبلیغات کو اُس وقت زیادہ پذیرائی نہ مِلی۔ لیکن ردِّ عمل کے طور پر ایرانی/فارسی قوم پرستوں میں تُرکوں اور تُرکی زبان کے خلاف شدید بیزاری کے احساسات پیدا ہو گئے تھے، اور اُن کی اُس وقت سے یہ کوشش رہی ہے کہ ایرانی آذربائجان سے زبانِ تُرکی کو ‘رفع دفع’ کر دیا جائے۔ وہ تُرکی کو اُسی طرح اپنی ریاست کی سلامتی کے لیے مسئلہ سمجھتے ہیں، جس طرح ریاستِ تُرکیہ میں کُردی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اور جس طرح تُرکیہ کے مُقتدِر حلقوں میں یہ خوف ہے کہ کہیں کُردی کی تدریس کے نتیجے میں تُرکیہ کے کُردوں میں کُرد قومی احساسات کی مزید تقویت نہ ہو جائے، اُسی طرح ایرانی/فارسی قوم پرستان بھی ایرانی آذربائجانیوں کے لسانی و ثقافتی حقوق کو زیرِ پا رکھنے پر مُصِر ہیں ‘تاکہ خدانخواستہ ایران مُنقسِم نہ ہو جائے’ (حالانکہ مجموعی طور پر ایرانی آذربائجانیان میں ایران سے جدا ہو جانے کے کوئی لائقِ ذکر احساسات نہیں ہیں)۔ جائے خوشنودی ہے کہ ایران میں تُرکی مخالفوں کی کوشش تا حال ناکام رہی ہے اور ایرانی آذربائجان سے تُرکی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ انٹرنیٹی دور کی آمد کے بعد سے، اور اُس کے نتیجے میں جمہوریۂ آذربائجان و تُرکیہ کے مردُم کے ساتھ نزدیک تر ارتباطات کے نتیجے میں تُرکانِ ایران میں بھی تُرکی خواندگی اور تُرکی کے معیار میں بہتری آنے لگی ہے۔
گذشتہ صدی کے ایرانی وطن پرست و قوم پرست شاعر عارف قزوینی نے ۱۹۱۵ء سے ۱۹۱۹ء تک کا زمانہ عُثمانی سلطنت میں گُذارا تھا، وہاں وہ داعیانِ اتحادِ تُرکان کے آذربائجان کی بارے میں خیالات کے ردِّ عمل میں شدیداً تُرک و تُرکی مخالف ہو گئے تھے، اور اُنہوں نے اپنی کئی نظموں میں زبانِ تُرکی کی مذمّت میں ابیات کہی ہیں۔ مثلاً وہ ۱۸ مارچ ۱۹۲۵ء کو آذربائجان میں کہی گئی ایک غزل میں زبانِ تُرکی کے خلاف کہتے ہیں:
چه سان نسوزم و آتش به خُشک و تر نزنم
که در قلمروِ زردُشت حَرفِ چنگیز است
زبانِ سعدی و حافظ چه عیب داشت که‌اش
بدل به تُرک زبان کردی این زبان هیز است
رَها کُنَش که زبانِ مُغول و تاتار است
ز خاکِ خویش بِتازان که فتنه‌انگیز است
دُچارِ کشمکش و شرِّ فتنه‌ای زین آن
اِلَی‌الابد به تو تا این زبان گلاویز است
به دیو‌خُوی سُلیمان نظیف گوی که خوب
درست غور کن انقوره نیست تبریز است
ز اُستُخوانِ نیاکانِ پاکِ ما این خاک
عجین شده‌ست و مُقدّس‌تر از همه چیز است
(عارف قزوینی)
میں کیسے نہ جلوں اور کیوں نہ خُشک و تر کو آتش لگا دوں؟ کہ زرتُشت کی قلمرو میں چنگیز کی زبان رائج ہے۔۔۔ سعدی و حافظ کی زبان میں کیا عیب تھا کہ تم نے اُس کو دے کر تُرکی زبان لے لی؟۔۔۔ یہ زبان مُخنّث ہے!۔۔۔ اِس کو تَرک کر دو کہ یہ منگول و تاتار کی زبان ہے۔۔۔ اِس کو اپنی خاک سے دور بھگا دو کہ یہ فتنہ انگیز ہے۔
(فارسی ایرانی قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ تُرکی آذربائجان کی ‘اصلی’ و ‘حقیقی’ زبان نہیں ہے، بلکہ یہ زبان وہاں منگولوں اور تُرکوں کے حملوں کے نتیجے میں رائج ہوئی ہے۔ لہٰذا، اُن کی ‘لسانی تطہیر’ ہونی چاہیے اور اُن کو تُرکی زبان تَرک کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔۔۔ مصرعِ دوم میں اُس روایت کی جانب اشارہ ہے جس کے مطابق زرتُشت کا جائے تولُّد دیارِ آذربائجان تھا، اگرچہ بیشتر مُعاصر مُحقّقین اِس روایت کو درست نہیں مانتے، اور اُن کا کہنا ہے کہ زرتُشت احتمالاً حالیہ افغانستان میں یا مشرقی ایران میں کہیں متولّد ہوا تھا۔)
جب تک یہ [تُرکی] زبان تم سے چِمٹی ہوئی ہے، تم تا ابد اِس کے باعث نِزاع و جِدال، اور شرِّ فتنہ سے دوچار رہو گے۔۔۔۔ دیو فطرت سُلیمان نظیف سے کہو کہ خوب درستی کے ساتھ غور کرو، یہ انقرہ نہیں، بلکہ تبریز ہے۔۔۔ یہ خاک ہمارے اجدادِ پاک کے اُستُخوانوں (ہڈیوں) سے عجین ہو چکی ہے اور [یہ] ہمارے لیے ہر چیز سے زیادہ مُقدّس ہے۔
× سُلیمان نظیف = ایک عُثمانی شاعر و مُتفکِّر کا نام
× عجین ہونا = گُندھنا

اتنی طویل تحریر اِس لیے لکھی ہے کیونکہ تاریخی پس منظر بیان کیے بغیر مندرجۂ بالا ابیات کا مفہوم کُلّاً سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ نیز، اِس لیے بھی کہ میں فارسی کی مانند تُرکی سے بھی محبّت کرتا ہوں، اور میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حاشا و کلّا ایرانی آذربائجان سے تُرکی محو ہو جائے، بلکہ میں وہاں تُرکی کو ہر دم توانا دیکھنا چاہتا ہوں۔


پس نوشت: گذشتہ صدی میں عُثمانی و ایرانی قوم پرستوں میں یہ زہرآلود، تباہی برانگیز اور غیر جمہوری تفکُّر فرانس اور دیگر یورپی ممالک سے آ کر رائج ہو گیا تھا کہ کسی ریاست میں صرف ایک زبان ہونا، اور باقی دیگر زبانوں پر پابندی ہونا لازم ہے۔ اِسی لیے تُرکیہ میں کُردی اور ایران میں تُرکی (اور دیگر زبانیں) تحتِ فِشار رہی ہیں، اور اُن کو محو کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جبراً لسانی یکساں سازی کی ریاستی کوششوں کے لحاظ سے تُرکیہ کی تاریخ ایران کے مقابلے میں مزید داغ دار ہے، کیونکہ ایران میں ۱۹۷۹ء کے بعد سے تُرکی کو اِجباراً محو کرنے کی کوششیں ریاستی سطح پر ختم ہو گئی ہیں اور ایران میں اِجباری لسانی یکساں سازی کی کوششیں تُرکیہ کی طرح شدید نہیں تھیں۔


میں نے تُرکی کیوں سیکھی؟

دیارِ آذربائجان کے قلب شہرِ تبریز سے تعلق رکھنے والے دوست ارسلان بای، جن کی مادری زبان دیگر آذربائجانیوں اور تبریزیوں کی طرح تُرکی ہے، نے مجھ سے یہ سوال پوچھا تھا:

سوال:
حسان بئی، سن نئجه آذربایجان تۆرکجه‌سینه علاقه تاپدېن و بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین؟
من بیلمه‌دیم سن نه‌دن مین‌لرجه دیل آراسېندان آذربایجان تۆرکجه‌سینی اؤیرنمک اۆچۆن سئچدین! هانسې کتاب‌لارې اۏخوماقلا بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین
تۆرکجه‌یه بو سئوگین هارادان گلیر؟
ترجمہ:
آقائے حسان، آذربائجانی تُرکی میں تمہاری دلچسپی کس طرح پیدا ہوئی، اور اِس زبان کو تم کس طرح آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
میں سمجھ نہیں پایا کہ ہزاروں زبانوں کے درمیان تم نے سیکھنے کے لیے آذربائجانی تُرکی [ہی] کو کس وجہ سے مُنتخَب کیا! کن کتابوں کا مطالعہ کر کے تم اِس زبان کو آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
تُرکی زبان سے تمہاری یہ محبّت کس سبب سے ہے؟

جواب:
سلام علیکم!
اجازه دهید که پاسخم را به فارسی بنویسم، چون ترکی‌ام آن قدر هم خوب نیست که بتوانم جواب‌های طولانی را به راحتی به ترکی بنویسم.
من به شعر و شاعری علاقه‌ی وافری داشتم، و مذهب تشیع و کشور ایران نیز برایم جالب توجه بوده… ما پاکستانیان زبان فارسی را دوست داریم، چون مشاهده کرده‌اید که اردو خیلی به فارسی قرابت دارد. تقریبا‌ً ده سال پیش من از طریق انترنت یاد گرفتن فارسی را آغاز کردم، چون می‌خواستم که بتوانم شعر و کتب فارسی را بدون ترجمه بخوانم. در آن زمان من در بارهٔ آذربایجان و ترکان آذربایجان و زبان ترکی هیچ چیزی نمی‌دانستم… من گمان می‌کردم که در ایران هر کسی به فارسی صحبت می‌کند و زبان ترکی محدود به ترکیه است. روزی یک دوست انترنتی‌ام، که اسپانیایی بود و فارسی و ترکی هر دو را بلد بود، نشان داد که تا چه حدی ترکی کلاسیک ممزوج به فارسی بوده و شعر ترکی هم مثل شعر فارسی دارای لطافت و ظرافت و زیبایی خارق العاده بوده… به محض دیدن این، شوق زبان ترکی به شدت دامنم گرفت و تمایلی شدید به یاد گرفتن ترکی پیدا کردم… لذا شروع به یادگیری زبان ترکی هم کردم…. آن گاه من مطلع شدم که ترکی در ایران هم گویشوران زیادی دارد، و حتّیٰ ترکان ایران، برخلاف ترکان ترکیه، سنت‌های والای ملی و هزارساله‌ی خود را بهتر نگه داشته‌اند… آگاه شدم که در مقایسه با ترکی ترکیه، ترکی آذربایجان با ترکی کلاسیک هزارساله نزدیک‌تر است، و آذربایجانیان می‌توانند به راحتی آثار گرانقدر کلاسیک ترکی را بخوانند، که برای اهل ترکیه دیگر ممکن نیست، و آنها مجبورند که آثار فضولی و نسیمی وغیره را همراه با ترجمه به ترکی معاصر بخوانند. اهل ترکیه را از گذشتهٔ ادبی خود منقطع کرده‌اند، ولی این وضعیت اسف‌ناک در مورد آذربایجانیان صادق نمی‌آید. رفته رفته من عاشق آذربایجان شدم و بعد شروع کردم به دیدن آذربایجان چون وطن معنوی خودم… واقعاً دیار آذربایجان را خیلی دوست دارم و می‌خواهم که روزی بروم آنجا و خاک پاک آن دیار را ببوسم… گفته بودم که من عاشق آذربایجانم… از این رو زبان ترکی را مثل زبان مادری خود می‌پندارم و دوستش دارم. و سعی دارم که به زبان ترکی تسلط کاملی پیدا کنم.
از صدا و صوت‌های زبان ترکی خوشم می‌آید. خیلی زبان شیرینی‌ست. 🙂
ترجمہ:
السلام علیکم!
مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا جواب فارسی میں لکھوں، کیونکہ میری تُرکی اس قدر بھی خوب نہیں ہے کہ میں طویل جوابوں کو آسانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکوں۔
مجھے شعر و شاعری سے وافر دلچسپی تھی، اور مذہبِ تشیُّع اور مُلکِ ایران بھی میرے لیے جالبِ توجہ تھے۔۔۔ ہم پاکستانی فارسی سے محبّت کرتے ہیں، کیونکہ آپ مشاہدہ کر چکے ہیں کہ اردو فارسی سے بِسیار قرابت رکھتی ہے۔ تقریباً دس سال قبل میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے فارسی سیکھنے کا آغاز کیا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میں فارسی شاعری اور کتابوں کو ترجمے کے بغیر خوان (پڑھ) سکوں۔ اُس وقت میں آذربائجان، تُرکانِ آذربائجان اور زبانِ تُرکی کے بارے میں کوئی چیز بھی نہیں جانتا تھا۔ میں گمان کرتا تھا کہ ایران میں ہر شخص فارسی میں گفتگو کرتا ہے، اور زبانِ تُرکی تُرکیہ تک محدود ہے۔ ایک روز میری ایک ہسپانوی انٹرنیٹی دوست نے، جو فارسی و تُرکی ہر دو زبانوں کو جانتی تھی، نے دکھایا کہ کلاسیکی تُرکی کس حد تک فارسی کے ساتھ مخلوط رہی ہے، اور تُرکی شاعری بھی فارسی شاعری کی طرح فوق العادت لطافت و ظرافت و زیبائی کی مالک رہی ہے۔ یہ دیکھتے ہی تُرکی زبان سیکھنے کا شوق شدّت سے دامن گیر ہو گیا اور مجھ میں تُرکی سیکھنے کے شدید تمایُلات پیدا ہو گئے۔ لہٰذا میں نے تُرکی زبان سیکھنا بھی شروع کر دی۔ اُس وقت میں آگاہ ہوا کہ ایران میں بھی کثیر تعداد میں تُرکی گو موجود ہیں، حتّیٰ کہ تُرکانِ ایران نے، تُرکانِ تُرکیہ کے برخلاف، اپنی ہزارسالہ عالی ملّی روایات کی بہتر مُحافظت کی ہے۔۔۔ میں آگاہ ہوا کہ تُرکیہ کی تُرکی کے مقابلے میں آذربائجان کی تُرکی ہزارسالہ کلاسیکی تُرکی سے نزدیک تر ہے، اور آذربائجانیان آسانی کے ساتھ گراں قدر کلاسیکی تُرکی آثار کو خوان سکتے ہیں، جو اہلِ‌ تُرکیہ کے لیے مزید ممکن نہیں ہیں اور وہ فضولی و نسیمی وغیرہ کے آثار کو مُعاصر تُرکی میں ترجمے کے ساتھ خواننے (پڑھنے) پر مجبور ہیں۔ اہلِ تُرکیہ کو اُن کے ادبی ماضی سے منقطع کر دیا گیا ہے، لیکن یہ افسوس ناک صورتِ حال آذربائجانیوں کے بارے میں صادق نہیں آتی۔ آہستہ آہستہ میں آذربائجان کا عاشق ہو گیا اور میں آذربائجان کو خود کے روحانی وطن کے طور پر دیکھنے لگا۔ واقعاً میں دیارِ آذربائجان سے بِسیار محبّت کرتا ہوں اور خواہش مند ہوں کہ ایک روز وہاں جاؤں اور اُس دیار کی خاکِ پاک کو بوسہ دوں۔۔۔ میں آپ سے کہہ چکا تھا میں عاشقِ آذربائجان ہوں۔۔۔ اِس لیے میں زبانِ تُرکی کو اپنی مادری زبان کے مثل تصوُّر کرتا ہوں اور اُس سے محبّت کرتا ہوں۔ اور میری کوشش ہے کہ میں تُرکی زبان پر کامل تسلُّط پیدا کر سکوں۔
مجھے زبانِ تُرکی کی صدائیں اور اصوات پسند ہیں۔ یہ ایک بِسیار شیریں زبان ہے۔ 🙂

(یاد دہانی: آقائے ارسلان کی یہ خوش گُمانی ہے، جس کے لیے بہر حال میں مُتَشکِّر ہوں، کہ میں آذربائجانی تُرکوں سے بہتر تُرکی جانتا ہوں، حالانکہ میں تُرکی زیادہ خوب نہیں جانتا، اِس کا ثبوت یہی ہے کہ میں جواب کو تُرکی میں نہ لکھ سکا۔
اُن کا ایسا گُمان رکھنے کی شاید وجہ یہ ہے کہ اُن سے مراسلت کرتے ہوئے میں معیاری کتابی تُرکی میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے کتابوں کی مدد سے معیاری ادبی زبان ہی کس قدر سیکھی ہے۔ جبکہ اہلِ آذربائجانِ ایران ہنوز مکتبوں میں تُرکی کی بطورِ مضمون بھی تدریس حاصل نہیں کر پاتے، جس کے باعث اُن میں سے اکثر افراد تُرکی لکھنے میں مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، اور گُفتاری زبانچوں میں یا فارسی میں مراسلت و مکاتبت وغیرہ کرتے ہیں۔ وہ تُرکی کی بجائے فارسی زیادہ بہتر طریقے سے لکھ سکتے ہیں، کیونکہ اُن کی تعلیم و تدریس فارسی ہی میں ہوئی ہوتی ہے۔ آرزو کرتا ہوں کہ ایران میں تُرکی گویوں کو مکاتب میں اپنی مادری زبان بخوبی سیکھنے اور اُس میں تعلیم یاب ہونے کا حق حاصل ہو جائے، تاکہ تُرکیہ اور جمہوریۂ آذربائجان کے مردُم کی طرح وہ بھی روانی و خوبی و فراوانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکیں!)


آذربائجانی تُرکوں کی فارسی کی جانب رغبت – فریدون بیگ کؤچرلی

قفقازی آذربائجانی ادیب فریدون بیگ کؤچرلی اپنی کتاب ‘آذربایجان ادبیاتې’ (ادبیاتِ آذربائجان)، جو اُن کی وفات کے بعد ۱۹۲۵ء میں استانبول سے شائع ہوئی تھی، کی جلدِ اول میں لکھتے ہیں:

"کئچمیش‌ده شوکت و قوت صاحبی اۏلان ایران دولتی مدتِ متمادیه ایله تمامی آذربایجان ولایتینه صاحب‌لیک و حکم‌ران‌لېق ائدیب‌دیر. آذربایجان تۆرک‌لری بو دولتِ عظیمه‌نین تحتِ حکومتینده خیلی زمان زندگان‌لېق ائدیب‌دیر. بو جهته ایرانېن نفوذ و تأثیری آذربایجان تۆرک‌لرینه حددن زیاده اۏلوب‌دور. بو تأثیرات ظاهری، یعنی هیئت و قیافت‌ده، طرزِ لباس و خوراک‌ده و سایر اوضاعی و احوال‌ده و امرِ معاش‌ده گؤرسندیڲی کیمی، باطنی و معنوی صورت‌ده دخی اۏلوب‌دور که، اۏن‌لار اخلاق و اطواردا، آیین و آداب‌دا، لسان و ادبیات‌دا مشاهده اۏلونان اثرلردیر. معلوم اۏلا که، آذربایجان تۆرک‌لری هر دیل‌دن زیاده خۏش‌لادېغې، میل و رغبت گؤستردیڲی فارس دیلی اۏلوب‌دور. "لفظ – لفظِ عرب است، فارسی – شکر است، ترکی – هنر است” – دئدیک‌ده بیزیم تۆرک‌لر عرب لسانېنې تعریف ائدیب و تۆرک دیلینده سؤیله‌مڲی هنر بیلیب، هر ایکی دیل‌دن زیاده میل و هوس گؤستردیک‌لری ‘شکر’ اۏلوب‌دور که، فارس دیلیندن عبارت‌دیر. بو دیلین زیاده شیرین و خۏش شیوه‌لی اۏلماغېنا بیر کسین شبهه‌سی یۏخ‌دور. اۏنا بناءً بیزیم مکتب‌لرده بو آخر وقت‌لارا کیمی تعلیم و تدریس فارس دیلینده اۏلوب، اوشاق‌لارېمېزېن اۏخودوغو فارس کتاب‌لارې اۏلوب‌دور. نوشته‌جات و مرسولاتېمېز دخی بو دیل‌ده جاری اۏلوب، تۆرک دیلینه آرتېق میل و رغبت گؤرسه‌نیل‌مه‌ییب‌دیر. آذربایجانېن ایرانا متعلق حصه‌لرینده ایندی دخی تعلیم و تدریس و کتابت فارس دیلینده ایشله‌نیر. زافقازیادا آنا دیلی آنجاق آز وقت‌دان بری‌دیر که، آذربایجان تۆرک‌لری‌نین دقّتی‌نی جلب ائدیب، اؤزۆ اۆچۆن بیر نوع حرمت و اهمیت کسب ائتمڲه باشلایېب‌دېر.”

ترجمہ:
"گذشتہ زمانوں میں شوکت و قوت کی مالک دولتِ ایران نے مُدّتِ مدید تک تمام ولایتِ آذربائجان پر مِلکیت و حکمرانی کی ہے۔ آذربائجانی تُرکوں نے اِس دولتِ عظیمہ کی حکومت کے تحت کئی زمانوں تک زندگانی کی ہے۔ اِس وجہ سے آذربائجانی تُرکوں پر ایران کا نفوذ و اثر حد سے زیادہ ہوا ہے۔ یہ تأثیرات جس طرح ظاہری صورت میں یعنی ہیئت و قیافہ میں، طرزِ لباس و خوراک میں اور دیگر اوضاع و احوال میں اور امرِ معاش میں نظر آتی ہیں، اُسی طرح باطنی و معنوی صورت میں بھی ہوئی ہیں، جن کا مشاہدہ اخلاق و اطوار میں، رُسوم و آداب میں، لسان و ادبیات میں ہوتا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ جو زبان آذربائجانی تُرکوں کو ہر زبان سے زیادہ پسند آئی ہے اور جس کی جانب اُنہوں نے سب سے زیادہ مَیل و رغبت دکھائی ہے وہ زبانِ فارسی ہے۔ "لفظ – لفظِ عرب است، فارسی – شَکَر است، تُرکی – هنر است” کہتے ہوئے ہمارے تُرکوں نے عربی زبان کی تعریف کی ہے اور تُرکی زبان میں بات کرنے کو ہُنر جانا ہے، لیکن اِن دونوں زبانوں سے زیادہ مَیل و رغبت اُنہوں نے ‘شَکَر’، یعنی فارسی کی جانب دِکھائی ہے۔ اِس زبان کے بِسیار شیرین و خوش طرز ہونے کے بارے میں کسی شخص کو کوئی شُبہہ نہیں ہے۔ لہذا ہمارے مکاتب میں اِن آخر وقتوں تک تعلیم و تدریس فارسی زبان میں ہوتی رہی اور ہمارے اطفال فارسی کتابیں خوانتے (پڑھتے) رہے ہیں۔ ہمارے نوِشتہ جات اور مراسلات بھی اِس زبان میں جاری ہوتے رہے ہیں، اور تُرکی زبان کی جانب زیادہ مَیل و رغبت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ آذربائجان کے جو حصّے ایران میں ہیں، اُن میں ہنوز تعلیم و تدریس و کتابت فارسی زبان میں انجام پاتی ہے۔ قفقاز [یعنی قفقازی آذربائجان] میں مادری زبان نے محض چند زمانے قبل ہی آذربائجانی تُرکوں کی توجُّہ کو جلب کر کے اپنے لیے ایک طرح کا احترام و اہمیت کسب کرنا شروع کیا ہے۔”

لاطینی رسم الخط میں:
"Keçmişdə şövkət və qüvvət sahibi olan İran dövləti müddəti-mütəmadiyyə ilə təmami Azərbaycan vilayətinə sahiblik və hökmranlıq edibdir. Azərbaycan türkləri bu dövləti-əzimənin təhti-hökumətində xeyli zaman zindəganlıq edibdir. Bu cəhətə İranın nüfuz və tə’siri Azərbaycan türklərinə həddən ziyadə olubdur. Bu tə’sirat zahiri, yə’ni hey’ət və qiyafətdə, tərzi-libas və xörəkdə və sair övza’i və əhvalda və əmri-məaşda görsəndiyi kimi, batini və mə’nəvi surətdə dəxi olubdur ki, onlar əxlaq və ətvarda, ayin və adabda, lisan və ədabiyyatda müşahidə olunan əsərlərdir. Mə’lum ola ki, Azərbaycan türkləri hər dildən ziyadə xoşladığı, meyl və rəğbət göstərdiyi fars dili olubdur. "Ləfz – ləfzi-ərəbəst, farsi – şəkərəst, türki – hünərəst” – dedikdə bizim türklər ərəb lisanınını tə’rif edib və türk dilində söyləməyi hünər bilib, hər iki dildən ziyadə meyl və həvəs göstərdikləri "şəkər” olubdur ki, fars dilindən ibarətdir. Bu dilin ziyadə şirin və xoş şivəli olmağına bir kəsin şübhəsi yoxdur. Ona binaən bizim məktəblərdə bu axır vaxtlara kimi tə’lim və tədris fars dilində olub, uşaqlarımızın oxuduğu fars kitabları olubdur. Nəviştəcat və mərsulatımız dəxi bu dildə cari olub, türk dilinə artıq meyl və rəğbət görsənilməyibdir. Azərbaycanın İrana mütəəlliq hissələrində indi dəxi tə’lim və tədris və kitabət fars dilində işlənir. Zaqafqaziyada ana dili ancaq az vaxtdan bəridir ki, Azərbaycan türklərinin diqqətini cəlb edib, özü üçün bir növ hörmət və əhəmiyyət kəsb etməyə başlayıbdır.


ایرانی تُرکی ادبیات میں مرثیوں اور نوحوں کی کثرت – بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول زادہ

بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول‌زادہ اپنے مقالے ‘ایران تۆرک‌لری: ۵’ (تُرکانِ ایران: ۵) میں، جو اوّلاً عثمانی سلطنت کے مجلّے ‘تۆرک یوردو’ (تُرک وطن) میں ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۲ء میں شائع ہوا تھا، لکھتے ہیں:

"ایران‌دا یازې‌لې تۆرک ادبیاتې باشلېجا ایکی شکل‌ده تجلّی ائتمیش‌دیر: مرثیه، مُضحِکه. آذربایجان تۆرک شاعرلری یا کؤر اۏلونجایا قدر آغلار و آغلادېرلار و یاخود بایېلېنجایا قدر گۆلر و گۆلدۆرۆرلر. ایران تۆرک‌لری‌نین دین‌دار، حتّیٰ مُتعصِّب اۏلدوق‌لارې‌نې ذکر ائتمیشیک. بو دین‌دار خلق، سنه‌نین قسمِ مُهِمی‌نی، خُصوصییله مُحرّمین ایلک گۆن‌لری‌نی نوحه و ماتم‌لر ایچه‌ری‌سینده گئچیریر. هر سنه بیر وظیفهٔ دین‌دارانه اۏلماق اۆزه‌ره شُهَدا، اولیا شرفینه و کربلا فاجعه‌سې مغدور‌لارې یادېنا غرّا مجلس‌لری قورارلار. بو مجلس‌لرین نوحه-گرلیڲی‌نی تۆرک شُعَراسې ایفا ائدرلر؛ و بونون‌چۆن دیوان‌لار دۏلوسو مرثیه یازارلار. بو مرثیه‌لری اهالی ازبرلر، اۏقور، آغلار و شاعرلرینه رحمت گؤندریر. مرثیه ادبیاتې فارس‌لاردا دا واردېر، فقط تۆرک مرثیه‌لری قدر مبذول دئڲیل‌دیر. مرثیه-نویس‌لرین ان مشهورو تبریزلی راجی‌دیر.
[راجی تبریزی کے مرثیے کے نمونے کو حذف کر دیا گیا ہے۔]
آذربایجان شُعَراسې هپ‌سی مرثیه‌-نویس‌دیرلر. مشهورلارېندان بیری ده «دل‌سوز»دور.”

ترجمہ:
"ایران میں تحریری تُرک ادبیات نے بُنیادی طور پر دو صورتوں میں تجلّی کی ہے: مرثیہ اور مُضحِکہ۔ آذربائجان کے تُرک شاعران یا تو کور (اندھے) ہو جانے کی حد تک روتے اور رُلاتے ہیں، یا پھر بے ہوش ہو جانے کی حد تک ہنستے اور ہنساتے ہیں۔ تُرکانِ ایران کے دین دار، حتیٰ مُتَعَصِّب ہونے کے بارے میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ یہ دیندار قوم، سال کے اہم حِصّے کو، خصوصاً مُحرّم کے اوّلین ایّام کو نوحوں اور ماتموں کے اندر گُذارتی ہے۔ ہر سال ایک فریضۂ دیندارانہ کے طور پر شُہداء و اولیاء کے شرَف میں اور فاجعۂ کربلا کے مظلوموں کی یاد میں پُرشُکوہ مجالس برپا کرتے ہیں۔ اِن مجالس میں نوحہ گری تُرک شاعران کرتے ہیں؛ اور اِس کے لیے دواوین بھر دینے جتنے مرثیے لکھتے ہیں۔ اِن مرثیوں کو مردُم ازبر کرتے ہیں، خوانتے (پڑھتے) ہیں، گِریہ کرتے ہیں، اور اُن کے شاعروں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ رِثائی ادبیات فارْسوں میں بھی موجود ہے، لیکن وہ تُرکی مرثیوں کی مانند فراواں نہیں ہیں۔ مرثیہ نویسوں میں سے مشہور ترین راجی تبریزی ہے۔
[راجی تبریزی کے مرثیے کے نمونے کو حذف کر دیا گیا ہے۔]
آذربائجان کے تمام شُعَراء مرثیہ نویس ہیں۔ اُن میں سے ایک مشہور شاعر ‘دل‌سوز’ بھی ہے۔”

لاطینی رسم الخط میں:
İran’da yazılı Türk edebiyyatı başlıca iki şekilde tecelli etmiştir: Mersiyye, mudhike. Azerbaycan Türk şairleri ya kör oluncaya kadar ağlar ve ağlatırlar ve yahud bayılıncaya kadar güler ve güldürürler. İran Türkleri’nin dindar, hatta muta’assıb olduklarını zikretmiştik. Bu dindar halk, senenin kısm-ı mühimini, hususiyle Muharrem’in ilk günlerini nevha ve matemler içerisinde geçirir. Her sene bir vazife-i dindarane olmak üzere şüheda, evliya şerefine ve Kerbela faci’ası mağdurları yadına garra meclisleri kurarlar. Bu meclislerin nevha-gerliğini Türk şuarası ifa ederler; ve bununçün divanlar dolusu mersiyye yazarlar. Bu mersiyyeleri ahali ezberler, okur, ağlar ve şairlerine rahmet gönderir. Mersiyye edebiyyatı Farslar’da da vardır, fakat Türk mersiyyeleri kadar mebzul değildir. Mersiyye-nüvislerin en meşhuru Tebrizli Raci’dir.
—————-
Azerbaycan şuarası hepsi mersiyye-nüvistirler. Meşhurlarından biri de "Dilsuz’dur.”


ایران میں تُرکوں اور فارْسوں کی باہم متعاون ہم زیستی – بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول زادہ

بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول‌زاده اپنے مقالے ‘ایران تۆرک‌لری: ۳’ (تُرکانِ ایران: ۳) میں، جو اوّلاً عثمانی سلطنت کے مجلّے ‘تۆرک یوردو’ (تُرک وطن) میں ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۲ء میں شائع ہوا تھا، لکھتے ہیں:

"ایران‌دا تۆرک‌لر، نه روسیادا اۏلدوغو گیبی محکوم و نه ده تۆرکیه‌ده اۏلدوغو گیبی حاکم بیر ملّت دئڲیل‌دیرلر.
ایران تۆرک‌لری، اصل ایران‌لې اۏلان فارس‌لارلا حقوق‌دا مساوی وطن‌داش حالینده بولونویۏرلار: عینې حق‌لارې، عینی امتیازلارې حائزدیرلر؛ اؤگه‌ی‌لیک چکمزلر.
بئش یۆز سنه‌دن بری ایران‌دا حکمران اۏلان پادشاه‌لار هپ تۆرک عِرقېندان گلدیلر؛ بوگۆن اجرایِ سلطنت ائدن قاچار سُلاله‌سی ده تۆرکمن قبیله‌لریندن بیر قبیله‌یه منسوب‌دور. فقط ایران حکم‌دار‌لارېنېن تۆرک اۏلماسې تۆرک‌لره خصوصی بیر امتیاز بخش ائتمه‌دیڲی گیبی، فارس ملّتینین تضییقینه ده سبب اۏلمامېش‌دېر.
حکم‌دارلارېن تۆرک‌لۆڲۆنه رغماً مملکتین لسانِ رسمی‌سی فارسی قالمېش و مراسم و تشریفات‌دا هپ فارسی عنعناتې مُحافظه اۏلونموش‌دور. ایران‌دا فارس‌لار، تۆرک‌لرین قوّت‌لی بازولارېنا، جنگاور‌لیک سجیه‌لرینه دایانمېش‌لار، تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینین معنویتینه استناد ائیله‌میشلر و بو صورت‌له تشریکِ مساعی ائده‌رک ایران حکومتِ حاضره‌سی‌نی وجودا گتیرمیش‌لردیر.
فارس‌لار تۆرک حکم‌دارلارې کندی ملیّت‌لرینه مُعارض بولمادېق‌لارېندان اۏن‌لارې ملّی ایران پادشاه‌لارې گیبی تقدیس ائتمیش‌لر؛ تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینی و فارس لسانېنې ملّی بیر لسانِ ادبی گیبی قبول ائیله‌میشلردیر. بو صورت‌له بئش یۆز سنه‌دن بری شاه‌لېق تختېندا بیر تۆرک خانې اۏتورویۏرسا دا گرک بو خان‌لار، گرک‌سه تۆرک اهالی ایران‌لې‌لاش‌مېش، یعنی فارس‌لار طرفېندان تمثیل اۏلونموش‌دور. جزئی مقدار‌دا تۆرکمن‌لردن باشقا تۆرک‌لر، یعنی آذربایجان‌لې‌لار و قاشقایی‌لر ایرانېن مذهبِ رسمی‌سی اۏلان شیعی‌لیڲه تابع‌دیرلر.
شیعی‌لیک ایران تۆرک‌لرینی اۏ قدر فارس‌لاشدېرمېش‌دېر که، شیمدی اۏن‌لار کندی‌لرینی تۆرک‌لشمیش فارس، یعنی اصلا‌ً ایران‌لې تلقّی ائدرلر!”

ترجمہ:
"ایران میں تُرکان نہ تُرکانِ رُوسیہ کی طرح ایک محکوم، اور نہ تُرکانِ تُرکیہ کی طرح ایک حاکم ملّت ہیں۔
ایران کے تُرکان اصل ایرانیوں یعنی فارْسوں کے ہم وطن ہیں اور اُن کے مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ وہ ویسے ہی حقوق اور ویسے ہی امتیازات کے مالک ہیں اور سوتیلے پن کا نشانہ نہیں بنتے۔
گذشتہ پانچ صدیوں سے ایران میں حکمرانی کرنے والے تمام پادشاہوں کا تعلق تُرک نسل و قوم سے تھا؛ موجودہ زمانے میں سلطنت کا اِجرا کرنے والا خاندانِ قاجار بھی ایک تُرکمن قبیلے سے منسوب ہے۔ لیکن ایران کے حکمرانوں کے تُرک ہونے نے نہ تُرکوں کو کوئی خصوصی امتیاز و برتری عطا کی ہے، اور نہ اِس کے باعث ملّتِ فارْس کسی محدودیت و فِشار میں مبتلا ہوئی ہے۔
حکمرانوں کے تُرک ہونے کے باوجود مملکت کی رسمی زبان فارسی رہی ہے، اور مراسم و تشریفات میں بھی تمام فارسی روایات محفوظ رکھی گئی ہیں۔ ایران میں فارْسوں نے تُرکوں کے باقوّت بازوؤں اور اُن کی جنگاور فطرت پر تکیہ کیا ہے، جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدّن و ثقافت کی معنویات پر اِستِناد کیا ہے اور اس طرح تشریکِ مساعی کرتے ہوئے وہ ایران کی موجودہ حکومت کو وجود میں لائے ہیں۔
تُرک حکمرانوں کے ملّیتِ فارْس کے مُعارِض و مُخالف نہ ہونے کے باعث فارْسوں نے اُن تُرک حکمرانوں کی ایران کے ملّی پادشاہوں کی مانند تقدیس کی ہے؛ جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدن و ثقافت اور فارسی زبان کو ایک ملّی ادبی زبان کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ اور اس طرح گذشتہ پانچ صدیوں سے اگرچہ تختِ شاہی پر کوئی تُرک خان بیٹھ رہا ہے، لیکن خواہ یہ خانان ہوں یا تُرک اہالی ہوں، دونوں ہی ایرانی شدہ ہو گئے ہیں، یعنی فارْسوں کی طرف سے نمائندے بنتے رہے ہیں۔ تُرکمَنوں کی ایک غیر اہم تعداد کے بجز دیگر تُرکان، یعنی آذربائجانیان اور قشْقائیان ایران کے رسمی مذہب شیعیت کے تابع ہیں۔
شیعیت نے ایران کے تُرکوں کو اِس قدر فارْس شُدہ کر دیا ہے کہ اب وہ خود کو تُرک شدہ فارْس، یعنی اصلاً ایرانی مانتے ہیں!”

لاطینی رسم الخط میں:
"İran’da Türkler, ne Rusya’da olduğu gibi mahkum ve ne de Türkiye’de olduğu gibi hakim bir millet değildirler.
İran Türkleri, asıl İranlı olan Farslarla hukukta müsavi vatandaş halinde bulunuyorlar: Aynı hakları, aynı imtiyazları haizdirler; ögeylik çekmezler.
Beş yüz seneden beri İran’da hükümran olan padişahlar hep Türk ırkından geldiler; bugün icra-yı saltanat eden Kaçar sülalesi de Türkmen kabilelerinden bir kabileye mensuptur. Fakat İran hükümdarlarının Türk olması Türklere hususi bir imtiyaz bahşetmediği gibi, Fars milletinin tazyikine de sebep olmamıştır.
Hükümdarların Türklüğüne rağmen memleketin lisan-ı resmisi Farisi kalmış ve merasim ve teşrifatta hep Farisi an’anatı muhafaza olunmuştur. Iran’da Farslar, Türklerin kuvvetli bazularına, cengaverlik seciyelerine dayanmışlar, Türkler de Fars medeniyetinin ma’neviyetine istinad eylemişler ve bu suretle teşrik-i mesa’i ederek İran hükümet-i hazırasını vücuda getirmişlerdir.
Farslar Türk hükümdarları kendi milliyetlerine mu’arız bulmadıklarından onları milli İran padişahları gibi takdis etmişler; Türkler de Fars medeniyetini ve Fars lisanını milli bir lisan-ı edebi gibi kabul eylemişlerdir. Bu suretle beş yüz seneden beri şahlık tahtında bir Türk hanı oturuyorsa da gerek bu hanlar, gerekse Türk ahali İranlılaşmış, yani Farslar tarafından temsil olunmuştur. Cüz’i miktarda Türkmenlerden başka Türkler, yani Azerbaycanlılar ve Kaşkayiler İran’ın mezheb-i resmisi olan şiiliğe tabi’dirler.
Şiilik İran Türklerini o kadar farslaştırmıştır ki, şimdi onlar kendilerini Türkleşmiş Fars, yani aslen İranlı telakki ederler!..”