فارسی اور تُرکی کی باہمی قُربت – علی بیگ حُسین زادہ

آذربائجانی-تُرکِیَوی مُصنّف علی بیگ حُسین زادہ قفقازی آذربائجان سے شائع ہونے والے تُرکی مجلّے ‘فُیوضات’ میں سال ۱۹۰۶ء میں لکھتے ہیں:

"قومیت بحثینه گلینجه معلوم‌دور که، روسیا اهالیسی‌نین بیر قسمی تۆرک‌لردن عبارت اۏلدوغو کیمی، ایرانېن دا بۆتۆن جهتِ شمالیه‌سی بالخاصّه آذربایجان قطعه‌سی تۆرک‌دۆر.
ایرانېن ایالتِ جنوبیه‌سینه گلینجه بورادا ساکن اۏلان فارس‌لارېن عادت، اخلاق و حتیٰ لسانجا تۆرک‌لردن اۏ قدر فرق‌لری یۏخدور، حتیٰ لسانجا دییوریز، چۆنکه هر ایکی دیل مسلمان‌لاشدېغې اۆچۆن بیر-بیرلرینه اۏ قدر تقرُّب ائتمیشدیر که، جُزئی بیر همّت‌له فارس تۆرکۆن، تۆرک فارسېن لسانېنې آ‌نلایا بیلیر، چۆنکه فرق لغت‌لرده اۏلمایېب آنجاق قواعدده‌دیر. مثال اۆچۆن بیر جمله ایراد ائده‌ییم:
فارس دئییر: این جریده که اهلِ قفقاس قرائت می‌کند، به لسانِ تُرکی مُحرِّر است.
تۆرک دئییر: بو جریده که، اهلِ قفقاس قرائت ائدییۏر، لسانِ تُرکی اۆزره مُحرِّردیر.”
(علی بیگ حُسین‌زاده، فُیوضات، ۱۹۰۶ء)

ترجمہ:
"قومیت کے موضوع پر آیا جائے تو واضح ہے کہ جس طرح اہالیِ رُوس کا ایک حصّہ تُرکوں پر مشتمل ہے، اُسی طرح ایران کی کُل شمالی سَمت، خصوصاً قطعۂ آذربائجان تُرک ہے۔
جہاں تک ایران کے جنوبی صوبوں کا تعلق ہے، وہاں سُکونت رکھنے والے فارس عادات، اخلاق، اور حتیٰ زبان کے لحاظ سے تُرکوں سے زیادہ فرق نہیں رکھتے، ہم کہہ رہے ہیں حتیٰ زبان کے لحاظ سے، کیونکہ دونوں زبانیں مُشرّف بہ اسلام ہو جانے کے باعث ایک دوسرے سے اِس قدر قریب آ گئی ہیں کہ اِک ذرا سی کوشش سے فارس تُرک کی، اور تُرک فارس کی زبان فہم کر سکتا ہے، کیونکہ فرق الفاظ میں نہیں، فقط قواعد میں ہے۔ مثال کے طور پر ایک جملہ پیش کر رہا ہوں:
فارس کہتا ہے: این جریده که اهلِ قفقاس قرائت می‌کند، به لسانِ تُرکی مُحرِّر است.
تُرک کہتا ہے: بو جریده که، اهلِ قفقاس قرائت ائدییۏر، لسانِ تُرکی اۆزره مُحرِّردیر.”

"Qövmiyyət bəhsinə gəlincə məlumdur ki, Rusiya əhalisinin bir qismi türklərdən ibarət olduğu kimi, İranın da bütün cəhəti-şimaliyyəsi, bilxassə Azərbaycan qitəsi türkdür.
İranın əyaləti-cənubiyyəsina gəlincə burada sakin olan farsların adət, əxlaq və hətta lisanca türklərdən o qədər fərqləri yoxdur, hətta lisanca diyoriz, çünki hər iki dil müsəlmanlaşdığı üçün bir-birlərina o qədər təqarrüb etmişdir ki, cüzi bir himmətlə fars türkün, türk farsın lisanını anlaya bilir, çünki fərq lüğətlərdə olmayıb ancaq qəvaiddədir. Misal üçün bir cümlə irad edəyim:
Fars deyir: İn cəridə ke əhle-Qafqas qeraət mikonəd, be lesane-torki mühərrir əst.
Türk deyir: Bu cəridə ki, əhli-Qafqas qiraət ediyor, lisani-türki üzrə mühərrirdir.”​

Advertisements

ایران میں صائب تبریزی کی دوبارہ مقبولیت کا ایک سبب شبلی نعمانی تھے

ایران کے مجلُۂ وحید میں ۱۹۶۷-۸ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں تاجکستانی ادبیات شناس عبدالغنی میرزایف لکھتے ہیں:

"آثار شاعر بزرگ سدهٔ یازدهم ایران میرزا محمد علی بن میرزا عبدالرحیم متخلص به صائب، اگر خطا نکنم، از اوایل سدهٔ بیستم میلادی و اگر روشن‌تر به مسئله نزدیک شویم، از تاریخ نشر ‘شعرالعجم’ تألیف علامه شبلی نعمانی به این طرف اهمیت فوق‌العاده تازه‌ای پیدا کرد. دانش‌مند شهیر هند در این اثر خود، بر خلاف فکر غلط و بی‌اساس مؤلف تذکرهٔ ‘آتش‌کده’ میرزا محمد علی صائب را آخرین شاعر بزرگ ایران اعلام نمود. پس از این همان نوعی که معلوم است، دقت اصحاب تحقیق بیش از پیش به طرف آثار گران‌بهای این شاعر نامی روانه گردید.”

"ایران کے گیارہویں صدی ہجری کے شاعرِ بزرگ میرزا محمد علی بن میرزا عبدالرحیم متخلص بہ صائب کی تألیفات نے، اگر خطا نہ کروں تو، بیسویں صدی عیسوی اور اگر واضح تر و درست تر کہا جائے تو علامہ شبلی نعمانی کی تألیف ‘شعرالعجم’ کی نشر کے بعد سے یہاں ایک تازہ و خارقِ عادت اہمیت پیدا کی تھی۔ ہند کے مشہور دانشمند نے اپنی اِس تصنیف میں، تذکرۂ ‘آتشکده’ کے مؤلف کی غلط و بے اساس رائے کے برخلاف میرزا محمد علی صائب کو ایران کا آخری بزرگ شاعر اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں، جیسا کہ معلوم ہے، اصحابِ تحقیق کی نظر و توجہ قبل سے کہیں زیادہ اِن شاعرِ نامور کی گراں بہا تألیفات کی جانب مُنعَطِف ہو گئی تھی۔”

عبدالغنی میرزایف، یک مدرک تاریخی جدید راجع به صائب، مجلهٔ وحید، شمارهٔ اول – سال پنجم، ۱۹۶۷-۸ء

ویسے، صائب کی مقبولیت صرف ایران میں کم ہوئی تھی، اور وہ بھی صفوی دور کے بعد کی ‘بازگشتِ ادبی’ کی ادبی تحریک کے زمانے میں۔ ورنہ تُرکستان، دیارِ آلِ عثمان اور برِ صغیر میں صائب ہمیشہ ہی بے حد مقبول و معروف رہے تھے۔ اگرچہ، اِس زمانے میں صائب کی ایران میں جو مقبولیت ہے، اُسے دیکھتے ہوئے مشکل ہی سے یقین آتا ہے کہ ایک زمانے میں صائب تبریزی اور اُن کے سبکِ شعری کو یوں نظروں سے گرا دیا گیا تھا۔ صائب کے مقام میں اِس تنزّل کے لیے عموماً تذکرۂ ‘آتشکدہ’ کے مؤلف لطف علی بیگ آذر بیگدلی کو ذمّہ دار مانا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی اِس پُرنفوذ تألیف میں صائب تبریزی کی شاعری پر نکتہ چینی کی تھی۔ تیجتاً، قاجاری دور میں صائب حاشیے پر چلے گئے تھے اور کسی قاجاری شاعر نے اُن کے اسلوب کی پیروی کرنا یا اُن کے دیوان پر زیادہ توجہ دینا پسند نہ کیا۔ حالانکہ یہی صائب تبریزی صفوی دربار کے ملک الشعراء تھے۔
اور اب حال یہ ہے کہ ایران و آذربائجان کے اکثر ادبیات دوست افراد صائب کو اپنا ایک بہترین شاعر مانتے ہیں۔

آذر بیگدلی ہی تحریکِ بازگشتِ ادبی کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے۔


اقبال – علی اکبر دهخدا

اقبال

در روز اول اردیبهشت ماه/ ۱۳۳۰ در مجلس جشنی که به عنوان بزرگداشت اقبال لاهوری شاعر و اندیشه‌ور نامی پاکستان در سفارت آن کشور تشکیل شده بود، هیأت فرهنگی پاکستان رباعی زیر را به حضور دهخدا تقدیم می‌دارد:
"صد شکر که یارِ آشنا را دیدیم / سرحلقهٔ زمرهٔ وفا را دیدیم – سرمستِ تجلّیِ الاهی گشتیم / آن روز که رویِ دهخدا را دیدیم.”
و استاد نیز مرتجلاً قطعهٔ زیر را می‌سراید و عرضه می‌دارد:
زان گونه که پاکستان با نابغهٔ دوران
اقبالِ شهیرِ خویش بر شرق همی‌نازد،
زیبد وطنِ ما نیز، بر خویش همی‌بالد
واندر چمنِ معنی، چون سرو سرافرازد
زان روی که چون اقبال خواهد که سخن گوید
گنجینهٔ قلبِ خود با گفته بپردازد
از بعدِ وطن‌تاشان، کس را بجز ایرانی
شایسته نبیند تا، با وی سخن آغازد
دُرهایِ ثمینِ خود در دُرجِ دری ریزد
از پهنهٔ این میدان جولان‌گهِ خود سازد

ترجمہ:
۲۲ اپریل ۱۹۵۱ء کے روز پاکستانی سفارت خانے میں پاکستان کے مشہور شاعر اور مفکر اقبال لاہوری کی یاد میں منعقد ہونے والی مجلسِ جشن میں پاکستانی ثقافتی دستے نے دہخدا کے حضور میں یہ رباعی پڑھی:
صد شکر کہ ہم نے یارِ آشنا کو دیکھا؛ سرحلقۂ زمرۂ وفا کو دیکھا؛ ہم تجلیِ الٰہی سے سرمست ہو گئے؛ جس روز کہ ہم نے چہرۂ دہخدا کو دیکھا۔”
استاد دہخدا نے بھی فی البدیہہ مندرجۂ ذیل قطعہ کہا اور پیش کیا:
جس طرح پاکستان نابغۂ دوران یعنی اپنے مشہور و نامدار اقبال کے ساتھ مشرق زمین کے سامنے ناز کرتا ہے، اُسی طرح ہمارے وطن (ایران) کو بھی زیب دیتا ہے کہ وہ خود پر ناز کرے اور چمنِ معنی میں سرو کی طرح سر بلند کرے۔ کیونکہ جب اقبال نے سخن کہنا اور اپنے قلب کے گنجینے کو لب کشائی کر کے خالی کرنا چاہا، اُس نے اپنے ہم وطنوں کے بعد ایرانیوں کے سوا کسی کو اِس لائق نہ سمجھا کہ وہ اُن کے ساتھ سخن کا آغاز کرے۔ اُس نے اپنے قیمتی دُر فارسی کے صندوقچے میں ڈالے اور اِس میدان کی وسعت سے اپنی جولانگاہ بنائی۔

شهیر: نامی، مشهور
پرداختن: خالی کرن
وطن‌تاش = هم‌وطن [یہ ترکی لفظ ہے۔]
ثمین = گران‌بها
دُرج = جعبهٔ کوچکی که در آن جواهر و زینت‌آلات می‌گذارند. [وہ صندوقچہ جس میں جواہر و آلاتِ زینت رکھتے ہیں۔]

ماخذ:
گزینهٔ اشعار و مقالاتِ علامه دهخدا
انتخاب و شرح: دکتر حسن احمد گیوی
چاپِ اول: ۱۳۷۲هش/۱۹۹۳ء


ای ایران

ای ایران
ای مرزِ پُرگهر
ای خاکت سرچشمهٔ هنر
دور از تو اندیشهٔ بدان
پاینده مانی تو جاودان
ای دشمن ار تو سنگِ خاره‌ای، من آهنم
جانِ من فدایِ خاکِ پاکِ میهنم
مِهرِ تو چون شد پیشه‌ام
دور از تو نیست اندیشه‌ام
در راهِ تو کَی ارزشی دارد این جانِ ما
پاینده باد خاکِ ایرانِ ما

سنگِ کوهت دُرّ و گوهر است
خاکِ دشتت بهتر از زر است
مِهرت از دل کَی برون کنم
برگو بی مهرِ تو چون کنم
تا گردشِ جهان و دورِ آسمان به‌پاست
نورِ ایزدی همیشه ره‌نمایِ ماست
مِهرِ تو چون شد پیشه‌ام
دور از تو نیست اندیشه‌ام
در راهِ تو کَی ارزشی دارد این جانِ ما
پاینده باد خاکِ ایرانِ ما

ایران ای خرّم بهشتِ من
روشن از تو سرنوشتِ من
گر آتش بارد به پیکرم
جز مِهرت در دل نپرورم
از آب و خاک و مِهر تو سِرِشته شد گِلم
مِهر اگر برون رود تهی شود دلم
مِهرِ تو چون شد پیشه‌ام
دور از تو نیست اندیشه‌ام
در راهِ تو کَی ارزشی دارد این جانِ ما
پاینده باد خاکِ ایرانِ ما

شاعر: حُسین گلِ گلاب

ترجمہ:
اے ایران
اے سرزمینِ پُرگہر
اے کہ تمہاری خاک سرچشمۂ ہنر ہے
بَدوں کی فکر تم سے دور رہے!
تم ہمیشہ پایندہ رہو!
اے دشمن اگر تم سنگِ سخت ہو تو میں آہن ہوں
میری جان میرے وطن کی خاکِ پاک پر فدا ہو!
تمہاری محبت جب سے میرا پیشہ بنی ہے
میری فکر تم سے دور نہیں ہے
تمہاری راہ میں ہماری یہ جان کب کوئی قیمت رکھتی ہے؟
ہمارے ایران کی خاک پایندہ ہو!

تمہارے کوہ کا سنگ دُرّ و گوہر ہے
تمہارے دشت کی خاک زر سے بہتر ہے
میں تمہاری محبت کب دل سے بیرون کروں؟
بتاؤ کہ میں تمہاری محبت کے بغیر کیا کروں گا؟
جب تک گردشِ جہاں اور دورِ آسماں بپا ہے
نورِ ایزدی ہمیشہ ہمارا رہ نما ہے
تمہاری محبت جب سے میرا پیشہ بنی ہے
میری فکر تم سے دور نہیں ہے
تمہاری راہ میں ہماری یہ جان کب کوئی قیمت رکھتی ہے؟
ہمارے ایران کی خاک پایندہ ہو!

ایران، اے میری خرّم بہشت
تم سے میری سرنوشت روشن ہے
خواہ میرے پیکر پر آتش برسے
میں دل میں تمہاری محبت کے سوا نہیں پالوں گا
آب و خاک و تمہاری محبت سے میری گِل سِرِشتہ ہوئی ہے
اگر تمہاری محبت بیرون چلی جائے تو میرا دل تہی ہو جائے گا
تمہاری محبت جب سے میرا پیشہ بنی ہے
میری فکر تم سے دور نہیں ہے
تمہاری راہ میں ہماری یہ جان کب کوئی قیمت رکھتی ہے؟
ہمارے ایران کی خاک پایندہ ہو!


کاش میری مادری زبان اور میرے ملک کی قومی زبان فارسی ہوتی!

مجھے اس چیز کی شدید حسرت رہتی ہے کہ کاش میری مادری زبان اور میرے ملک پاکستان کی قومی زبان فارسی ہوتی تاکہ نہ تو میرا اور میرے ہم وطنوں کا رشتہ ہزار سالہ عظیم الشان فارسی تمدن اور اپنے اسلاف کے ثقافتی سلسلے سے منقطع ہوتا اور نہ ہم اس نفیس و حسین و جمیل زبان کے ثمرات سے محروم رہتے۔ علاوہ بریں، اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان، تاجکستان اور ایران سے ہمارا معنوی و مادی تعلق بھی مزید استوار ہوتا۔

=========

[فارسی زبان میری اصل ہے]

مولانا جلال الدین رومی کا مشہور شعر ہے:
هر کسی کو دور ماند از اصلِ خویش
باز جوید روزگارِ وصلِ خویش
یعنی ہر وہ شخص جو اپنی اصل اور سرچشمے سے دور ہو جائے، وہ دوبارہ اپنے زمانۂ وصل تک رسائی حاصل کرنے کی تلاش، اشتیاق اور تگ و دو میں رہتا ہے۔
مولویِ روم کے شعر کی روشنی میں دیکھا جائے تو اپنی اصل سے جدائی کا شدید احساس ہی میرے فارسی زبان سے والہانہ عشق کا قوی موجب ہے۔ فارسی زبان میری اصل ہے جس سے مجھے زمانے کے جبر نے جدا کر دیا ہے اور اب میں اپنی اصل سے وصل کی تمنا میں بے تاب ہوں۔


فارسی فقط ایرانی شیعوں کی زبان نہیں ہے

جب میں نے اردو محفل پر ایک جگہ دیکھا کہ فارسی زبان کو فقط ایرانی شیعوں سے مخصوص کیا جا رہا ہے تو جواب میں یہ لکھا تھا:

زبانِ فارسی کا تعلق صرف ایران سے نہیں ہے، بلکہ افغانستان اور تاجکستان کی بھی یہ سرکاری زبان ہے۔ خود ایران میں بھی صرف فارسی بولنے والی نہیں بستے، بلکہ وہ بھی ایک کثیر اللسانی ملک ہے اور وہاں ترکی، کردی، عربی، مازندرانی، گیلکی، لُری، بلوچی وغیرہ درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں ترکی زبان بولنے والوں کی تعداد ہی تیس فیصد کے نزدیک ہے۔
فارسی زبان کو ایرانی شیعوں تک محدود کرنا بھی سخت ناانصافی ہے۔ ایران میں صفویوں کے – جو در حقیقت خود ترک تھے – اقتدار پر آنے سے قبل پورے فارسی گو اور فارسی زدہ خطے میں صرف ناصر خسرو اور فردوسی ہی ایسے دو بزرگ فارسی شعرا گذرے ہیں جو شیعہ تھے – ناصر خسرو بھی اثناعشری نہیں بلکہ فاطمی اسماعیلی تھے۔ اِن کے علاوہ حافظ، سعدی، رومی، امیر خسرو، جامی وغیرہ سمیت سارے فارسی گو شعراء اہلِ سنت و جماعت تھے۔ فارسی زبان اپنی ادبی شکل کی ابتداء کے لیے جن ماوراءالنہری سامانی امیروں کی مرہونِ منت ہے وہ بھی راسخ الاعتقاد سنی مسلمان تھے اور فارسی کو اطراف و اکناف میں پھیلانے اور رائج کرنے والے غزنوی، مغل، تیموری، سلجوق، تغلق، غوری، خوارزمی، آصف شاہی، عثمانی، شیبانی، منغیت وغیرہ شاہی سلسلے سب کے سب حنفی اہلِ سنت مذہب کے حامل تھے۔ ماوراءالنہر ایک ہزار سال تک فارسی زبان و ادب کا مرکز رہا ہے اور وہاں کے تاجک اور ازبک صدیوں سے اس زبان کو اپنی حیات کا جز بنائے ہوئے ہیں لیکن یہی ماوراءالنہر کا فارسی خطہ ساتھ ہی ایک ہزار سال تک حنفی سنی مذہب کا بھی مرکز اور درس گاہ رہا ہے جس کی وجہ سے مرزا غالب نے بھی ایک رباعی میں کہا تھا: ‘شیعی کیونکر ہو ماوراءالنہری’۔۔۔
اگر ایرانیوں کی زبان ہونے کی وجہ سے فارسی صرف ایرانی شیعوں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے تو پھر افغانستان اور تاجکستان کے مردم فارسی گو کیوں ہیں اور حامد کرزئی اور اشرف غنی فارسی میں تقریریں کیوں کرتے ہیں؟ میں خود ایک غیر ایرانی پاکستانی سنی ہوں، لیکن میں فارسی زبان و ادب و تمدن کا عاشقِ والہ و صادق ہوں اور اِسے اپنے اسلاف کی جاودانی میراث سمجھتا ہوں۔
نیز، دنیا بھر کے تمام شیعوں کو فارسی زبان سے لاینفک طور پر منسلک کرنا بھی قطعاً نادرست ہے۔ آذربائجان اور اناطولیہ کے شیعہ ترکی گو ہیں، حالانکہ ترکی عثمانی خلافت کی سرکاری و درباری زبان تھی؛ اور عراق، بحرین اور لُبنان کے سب شیعہ عربی بولتے ہیں، اور یہ تو واضح ہی ہے کہ عربی زبان اموی اور عباسی خلافتوں کی سرکاری زبان تھی۔ پاکستان میں بھی شیعہ فارسی نہیں بلکہ اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو سمیت دوسری کئی زبانیں بولتے ہیں اور عالموں اور محققوں کو چھوڑ کر پاکستانی شیعہ آبادی فارسی سے نابلد ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ فارسی ایرانیوں کی زبان ضرور ہے، لیکن یہ صرف اُن ہی کی زبان نہیں ہے بلکہ دو اور (سنی اکثریت) ملک ایسے ہیں جو فارسی کو اپنی زبان مانتے ہیں۔


مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں شبِ شعر کا انعقاد

مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں ہفتے کی رات کو تیموری دور کے خراسانی شاعر اور ممتاز دانشمند امیر علی شیر نوائی کی یاد میں ‘ہم صدا با آفتاب’ نامی شبِ شعر خوانی کا انعقاد ہوا۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کے ایام میں منعقد ہونے والی اس شبِ شعر خوانی میں تاجکستان، پاکستان، ہندوستان، افغانستان اور ایران کے شاعروں نے شرکت کی۔
اس یادگاری نشست میں پاکستان کے اردو گو شاعر پروفیسر افتخار حسین عارف نے حضرتِ رسول (ص) کے وصف میں کہے گئے اپنے شعر پڑھے۔
اس کے بعد، کشورِ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے شعراء ڈاکٹر سید تقی عباسی، ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری اور ڈاکٹر عزیز مہدی نے بھی اپنے اشعار کی قرائت کی۔
اس شبِ شعر میں شعر گوئی کرنے والے دوسرے شاعروں میں کشورِ تاجکستان کے منصور خواجہ اف اور رستم آی محمد اف، اور ایران میں افغانستان کے ثقافتی سفیر محمد افسر رہ بین بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ ایران کے کچھ مشہور شاعروں جیسے علی رضا قزوہ، محمد جواد شاہ مرادی تہرانی، امیر برزگر، محمد رضا سرسالاری، محسن فدائی، مہدی آخرتی اور ایمان بخشائشی نے اس یادگاری شبِ شعر میں شرکت کی اور حاضرین کے سامنے اپنے اشعار پڑھے۔
پہلے بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا انعقاد مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کی کوششوں اور دیگر چوبیس مؤسسوں کے تعاون سے ہوا ہے اور یہ سات سے نو فروری تک دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں جاری رہے گا۔
۸۴۴ ہجری میں شہرِ ہرات میں متولد ہونے والے امیر علی شیر نوائی شاعر، دانشمند اور سلطان حسین بایقرا گورکانی کے وزیر تھے۔
فارسی اور ترکی دونوں زبانوں میں اُن کے بہت سارے اشعار موجود ہیں، اسی وجہ سے اُن کو ‘ذواللسانین’ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اُن کا انتقال ۹۰۶ ہجری کو ہرات میں ہوا تھا اور وہ سلطان شاہ رخ تیموری کی بیوی گوہرشاد بیگم کی آرامگاہ کے جوار میں واقع اور اپنے ہی ہاتھوں ساختہ ‘اخلاصیہ’ میں دفنائے گئے۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء