اگر تاجِ جهان‌داری میسّر می‌شود ما را – شهزاده بایزید بن سلطان سلیمان قانونی

خلیفۂ عُثمانی سلطان سُلیمان قانونی کے پِسر شہزادہ بایزید متخلّص بہ ‘شاہی’ کی ایک فارسی غزل:

اگر تاجِ جهان‌داری میسّر می‌شود ما را
به تیغِ قهرَمانی برگُشایم مُلکِ دنیا را
اگر یاری دِهد بختم به آیینِ سلیمانی
چو اِنس و جن به فرمان آورم از قاف عنقا را
سرِ طهماسب را از تن به ضربِ تیغ بردارم
به زیرِ حُکمِ خویش آرم سمرقند و بخارا را
مُحبِّ چار یار و آل و اصحابِ محمّد شو
بِیا ای رافضی بر جانِ خود کن آن تبرّا را
به راهِ شرعِ روشن شو مشو گم‌ره به نادانی
بُرون آر از دماغِ خُشک این بیهوده سودا را
من از بهرِ جهان‌گیری چرا بیهوده اندیشم
که خود از دل رِضا دادم قضایِ حق تعالیٰ را
اُمیدم هست ای شاهی مُعینم گر مُعین باشد
به شمشیرِ جهان‌گیری گُشایم مُلکِ دنیا را
(شه‌زاده بایزید ‘شاهی’)

اگر ہمیں تاجِ جہاں داری مُیسّر ہو گا تو میں [اپنی] پہلوانی تیغ سے مُلکِ دُنیا فتح کر لوں گا۔
اگر میری قسمت یاوری کرے تو میں سُلیمانی طریقے سے اِنس و جِن کی طرح عنقا کو [بھی] کوہِ قاف سے زیرِ فرمان لے آؤں گا۔
تہماسب صفوی کے سر کو بہ ضربِ تیغ تن سے جدا کر دوں گا اور سمرقند و بخارا کو اپنے زیرِ حُکم لے آؤں گا۔
حضرتِ محمد (ص) کے چار یار اور اُن کی آل و اصحاب کے محب بنو۔۔۔ اے رافضی! آؤ اور وہ تبرّا خود کی جان پر کرو۔
شریعتِ مُبین کی راہ پر آ جاؤ، نادانی کے باعث گُمراہ مت ہوؤ۔۔۔ اپنے دماغِ خُشک سے اِس بے فائدہ و ناحق جُنون کو بیرون کر دو۔
میں جہاں گیری کے لیے کس لیے عبَث فِکر کروں؟ کہ میں خود دل سے قضائے حق تعالیٰ پر رِضامند ہوا ہوں۔
اے ‘شاہی’! مجھے اُمید ہے کہ اگر خدائے مُعین میری یاوری کرے تو میں شمشیرِ جہاں گیری سے مُلکِ دُنیا کو فتح کر لوں گا۔

به شمشیرِ جهان‌گیری گُشایم مُلکِ دنیا را

شہزادہ بایزید کے فارسی دیوانچے کے ترتیب دہندہ ‘مصطفیٰ چیچک‌لر’ کے مطابق ایک نسخے میں مندرجۂ بالا مصرعے میں «…گُشایم مُلکِ دنیا را» کی بجائے «…گُشایم رُویِ غبرا را» ہے، یعنی: ۔۔۔میں رُوئے زمین کو فتح کر لوں گا۔

Advertisements

یخشی کۉرماق/نغز دیدن

اُزبکی میں «یخْشی کۉرماق» (خوب دیکھنا‌) پسند کرنے، دوست رکھنے، محبت کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ ماوراءالنہری فارسی کے جو گُفتاری زبانچے اُزبکی سے بِسیار زیاد مُتاثر ہیں، اُن میں بھی «نغْز دیدن» (خوب دیکھنا) اِسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اُن زبانچوں میں «میں تم سے محبت کرتا ہوں/میں تم کو پسند کرتا ہوں» کے لیے «من تُویه نغْز می‌بینم» (میں تم کو خوب دیکھتا ہوں) کہا جائے گا جو اُزبکی کے «مېن سېنی یخْشی کۉره‌من» کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ہے۔ ادبی ماوراءالنہری فارسی میں اِس عِبارت کا استعمال نادر ہے۔
ماوراءالنہر میں شُمالی تاجکستان اور اُزبکستان کے فارسی زبانچے سب سے زیادہ اُزبکی و تُرکی سے مُتاثر ہیں۔ سمرقند و بُخارا و خُجند و وادیِ فرغانہ کے گُفتاری زبانچے اِسی زُمرے میں آتے ہیں۔

پس نوِشت:
جس طرح «نغْز دیدن» محبّت کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اُسی طرح اِس کی ضِد و نقیض «بد دیدن» نفرت کرنے کے معنی میں بروئے کار لائی جاتی ہے۔ دونوں کے استعمال کی ایک ادبی مثال دیکھیے:
"گُل‌چهر بهرام را بد می‌بیند. امّا به بهروز مَیل و رغبت و محبّت دارد. بهروز هم گُل‌چهر را نغْز می‌بیند. ولی عشقش را اظهار نمی‌کند.”
ترجمہ: گُل‌چہر بہرام سے نفرت کرتی ہے۔ لیکن بہروز کی جانب مَیل و رغبت و محبّت رکھتی ہے۔ بہروز بھی گُل‌چہر سے محبّت کرتا ہے۔ لیکن اپنے عشق کا اظہار نہیں کرتا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مُحاورہ اُزبَکی الاصل نہ ہو بلکہ تاجیکی الاصل ہو اور ماوراءالنہری فارسی سے اُزبَکی میں گیا ہو۔ لیکن اُزبکی میں اِس کا استعمال زیادہ ہے اور ادبی اُزبَکی میں بھی «یخْشی کۉرماق» کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ یا یہ امکان بھی ہے کہ ہر دو زبان میں یہ محاورہ بہ یک وقت استعمال ہونا شروع ہوا ہو۔ گُذشتہ صدیوں میں ماوراءالنہری شہروں کے بیشتر مردُم دوزبانی تھے، اِس لیے یہ دونوں زبانیں مُتَقابلاً ایک دوسرے پر اثر ڈالتی رہی ہیں۔


مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان

۱۹۱۲ء میں طباعت کا آغاز کرنے والے وسطی ایشیا کے اولین فارسی نشریے ‘بخارائے شریف’ نے اپنے شمارۂ پانزدہم میں فارسی کو ‘مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان’ کہہ کر یاد کیا تھا:
"۔۔۔۔امارتِ بخارا دارای سه میلیون نفوس است، تا اکنون اهالیِ ترکستان و ماوراءالنهر یک روزنامه به زبانِ ملی و اسلامیِ خود نداشتند. حالا از غیرت و همتِ ملت‌پسندانهٔ چند نفر معارف‌پرور و ترقی‌خواهانِ بخارای شریف این رونامهٔ مسمّیٰ به ‘بخارای شریف’ به زبانِ فارسی، که زبانِ رسمیِ بخارا هست، تأسیس شده و از عدم به وجود آمده و به طبع و نشرِ آن اقدام نموده شد. حالا برای ۹-۱۰ میلیون نفوسِ اسلامیهٔ ترکستان و ماوراءالنهر همین یک روزنامه است و فقط.”
ترجمہ: "۔۔۔۔۔امارت بخارا کی آبادی تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، [لیکن] تا حال مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کا اپنی ملی و اسلامی زبان میں کوئی روزنامہ نہیں تھا۔ اب شہرِ بخارائے شریف کے چند معارف پرور و ترقی خواہ نفور کی ملت پسندانہ غیرت اور کوشش سے یہ ‘بخارائے شریف’ نامی روزنامہ فارسی زبان میں، کہ بخارا کی رسمی زبان ہے، تأسیس ہوا ہے اور عدم سے وجود میں آیا ہے اور اِس کے طبع و نشر کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حالا ترکستان و ماوراءالنہر کے ۹۰-۱۰۰ لاکھ نفوسِ اسلامیہ کے برائے یہی ایک روزنامہ ہے اور بس۔”
ماخذ

سلام بر تو، ای زبانِ من!
سلام بر تو، ای شهرِ بخارای شریف!


بخارا میں شیعہ سنی نزاع کے بعد صدرالدین عینی کے منظوم تأثرات

۱۳۲۸ ہجری میں شہرِ بخارا کے شیعوں اور اہلِ سنت کے درمیان فرقہ ورانہ نزاع اور مناقشہ برپا ہو گیا تھا جس کے خاموش اور مہار ( = کنٹرول) ہو جانے کے بعد بابائے ادبیاتِ تاجک استاد صدرالدین عینی نے اِس فاجعے پر ایک تأثراتی نظم لکھی تھی جس کے چند اشعار اُنہوں نے اپنی کتاب ‘تاریخِ انقلابِ فکری در بخارا’ (۱۹۱۸ء) میں شامل کیے ہیں۔ اِسی کتاب کو ماخذ بناتے ہوئے اُنہی اشعار کے مفاہیم کو اپنی فہم کے بقدر اردو میں منتقل کرنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں۔

انقلابِ دهر و دورِ چرخِ و کارِ روزگار
درسِ عبرت می‌دهد با هر که باشد هوشیار
گر به نعمت، گر به محنت، گر به عزت، گر به ظلم
امتحان‌گاه است ما را صحنهٔ لیل و نهار
گر به کف شد دولتِ گیتی، نمی‌باید غرور
گر به سر شد محنتِ عالم، بباید اصطبار
شکر می‌باید، که از حدِ شمار افزون بوَد
نعمتِ حق را، که افزون است از حدِ شمار
ناسپاسی سر زند، استغفر الله العظیم
انتقامِ ایزدی را بُرد باید انتظار
وآن گه از آن شعله در یک دم نه تر ماند، نه خشک
وآن گه از آن باد در عالم نه گل ماند، نه خار
چون وزید امروز بادِ بی‌نیازیِ خدا
در بخارا بُرد از پیر و جوان صبر و قرار
فتنه‌ای افتاد، زایل گشت از تن‌ها شکیب
وقعه‌ای سر زد، که بیرون کرد از جان‌ها دِمار
فتنهٔ شیعی و سنی، که از این رو تا به حال
عالمِ اسلام چندین بار گشته تار و مار
خانمان‌ها زین الم این دفعه هم تاراج یافت
گل‌عذاران زین ستم این بار هم غلطیده خوار
رفت جانِ یک جهان بی‌چاره بر چنگِ اجل
ماند جسمِ یک گروه افتاده بر خنجر دوچار
کام‌ها شد از سمومِ محنت و غم تلخ و شور
دیده‌ها شد از هجومِ خونِ حسرت تنگ و تار
یأس حاصل شد چنان از زندگانی خلق را
هر که بر خود دید حالِ نزع و وقتِ احتضار
یا کریم از محضِ لطفِ عام و فضلِ شاملت
عفو کن نقصان و تقصیراتِ ما را درگذار
یا غفور، از ما نیاید پیشه، الّا معصیت
یا غنی، از ما نباشد تحفه، الّا افتقار
تا به کَی باشیم در کنجِ جهالت مستقیم؟
تا به کَی باشیم در فکرِ ذلالت استوار؟
تا به چندین ریختن خونِ برادر جای آب؟
تا کجا‌ها کوفتن بر فرقِ مادر جای مار؟
خودکُشی بهرِ چه؟ از بیگانگان آریم شرم
دوست‌آزاری چرا؟ از دشمنان داریم عار
خونِ مؤمن ریختن بر مؤمنین کَی شد روا؟
مالِ مسلم تاختن بر مسلمین کَی شد شعار؟
مسلم از مسلم سلامت باشد، این قولِ رسول
گفته‌است: "المؤمنونَ اِخوةٌ” – پروردگار
(صدرالدین عینی)

ترجمہ:
انقلابِ دہر و دورِ چرخ و کارِ روزگار ہر اُس شخص کو درسِ عبرت دیتے ہیں جو ہوشیار ہے۔
اگر نعمت کے ساتھ ہو، اگر رنج کے ساتھ ہو، اگر عزت کے ساتھ ہو، یا اگر ظلم کے ساتھ ہو، یہ لیل و نہار کا میدان ہمارے لیے امتحان گاہ ہے۔
اگر کف میں دولتِ گیتی آ جائے تو غرور نہیں کرنا چاہیے؛ اور اگر رنجِ عالَم کا آغاز ہو جائے، تو صبر کرنا چاہیے۔
حدِ شمار سے افزوں نعمتِ حق کا شکر (بھی) حدِ شمار سے زیادہ ہونا چاہیے۔
اگر ناشکری شروع ہو جائے، استغفر اللہ العظیم، تو پس انتقامِ ایزدی کا منتظر رہنا چاہیے۔
اور پھر اُس وقت اُس شعلے سے ایک ہی لمحے میں نہ تر باقی رہتا ہے، نہ خشک؛ اور اُس وقت اُس باد سے عالم میں نہ گل باقی رہتا ہے نہ خار۔
آج جب خدا کی بے نیازی کی باد حرکت میں آئی تو بخارا میں وہ پیر و جواں سے صبر و قرار لے گئی۔
ایک فتنہ گرا، جس سے جسموں سے صبر زائل ہو گیا؛ ایک واقعہ سرزد ہوا، جس نے جانوں کو ہلاک کر دیا۔
شیعہ و سنی کا فتنہ کہ جس کے باعث تا حال عالمِ اسلام کئی بار تار و مار ہوا ہے۔
اِس الم سے اِس دفعہ بھی خانماں تاراج ہو گئے؛ اِس ستم سے اِس بار بھی گل عذاراں خوار حالت میں غلطیدہ ہو گئے۔
ایک عالَم کی جاں بے چارگی کے ساتھ موت کے چنگل میں چلی گئی؛ ایک گروہ کا جسم خنجر سے دوچار ہو کر بے اختیار غلطاں ہو گیا۔
سمومِ رنج و غم سے تالو تلخ و شور ہو گئے؛ ہجومِ خونِ حسرت سے دیدے تنگ و تار ہو گئے۔
مردم کو زندگانی سے ایسی مایوسی ہو گئی کہ ہر کسی کو خود پر حالتِ نزع اور وقتِ احتضار نظر آنے لگا۔
یا کریم! محض اپنے لطفِ عام و فضلِ شامل سے ہماری کوتاہی کو عفو کر اور ہماری تقصیروں سے درگذر فرما۔
یا غفور! ہمارا پیشہ بجز معصیت کچھ نہیں ہے؛ یا غنی! ہمارا تحفہ بجز تہی دستی کچھ نہیں ہے۔
ہم کب تک گوشۂ جہالت میں قائم رہیں گے؟ ہم کب تک فکرِ ذلالت میں استوار رہیں گے؟
تا چند آب کی بجائے خونِ برادر بہتا رہے گا؟ تاکجا سانپ کی بجائے فرقِ مادر پر ضرب لگائی جاتی رہے گی؟
خودکُشی کس لیے؟ ہمیں بیگانوں سے شرم آتی ہے؛ دوست آزاری کیوں؟ ہمیں دشمنوں سے عار محسوس ہوتی ہے۔
مؤمنوں پر مؤمن کا خون بہانا کب روا ہو گیا؟ مسلم کے مال کو غارت کرنا مسلموں کا کب سے شعار ہو گیا؟
"مسلم، مسلم سے سلامت ہے”، یہ قول رسول ہے؛ جبکہ پروردگار نے "المؤمنونَ اِخوةٌ” کہا ہے۔