من مستِ مُدامم چه کنم زُهد و ریا را – بوسنیائی شاعر قولۏوی‌زاده اسعد

من مستِ مُدامم چه کنم زُهد و ریا را
من رندِ جهانم چه کنم ذوق و صفا را
عُشّاقِ زمان عاشقِ گیسویِ سیه‌فام
من عاشقم اندوه و غم و جور و جفا را
بیزارم از آن مجلسِ یاران که وفا نیست
در مجلسِ ایشان نه مُرُوّت نه مُدارا
یار آن که تو را خونِ جگر را کند احسان
هم بهرِ تو جان را دِهد ای شوخِ دل‌آرا
اسعد بِخوریم آن مَیِ پیمانهٔ جمشید
تا عِشوه کند مُغ‌بچهٔ دینِ نصارا
(قولۏوی‌زاده اسعد)

ترجمہ:
میں ہمیشہ شراب سے مست رہتا ہوں، میں زُہد و ریا کا کیا کروں؟۔۔۔ میں رِندِ جہاں ہوں، میں ذوق و نشاط و صفا و پاکیزگی کا کروں؟
عُشّاقِ زمانہ گیسوئے سیاہ فام کے عاشق ہیں۔۔۔ [جبکہ] میں غم و اندوہ اور جور و جفا کا عاشق ہوں۔
میں اُس مجلسِ یاراں سے بیزار ہوں کہ جس میں وفا نہیں ہے۔۔۔ اُن کی مجلس میں نہ مُرُوّت ہے، اور نہ لُطف و مُدارات۔
اے یار! جو شخص تم کو خونِ جگر عطیہ و ہدیہ کرتا ہے، وہ تمہاری خاطر جان بھی دے دے گا، اے شوخِ دل آرا!
اے ‘اسعد’! [آؤ] ہم پیمانۂ جمشید کی اُس شراب کو نوش کریں، تاکہ دینِ نصارا کا پیروکار مُغبَچہ ناز و عِشوہ کرے۔

× مُغبَچہ = قدیم شراب خانوں میں شراب پلانے پر مامور لڑکا

× شاعر کا تعلق بوسنیا کے پایتخت سرائے بوسنا (سرائیوو) سے تھا، اور یہ فارسی غزل سرائے بوسنا سے نکلنے والے تُرکی جریدے ‘وطن’ میں رُومی تقویم کے مطابق ۹ کانونِ ثانی (جنوری)، ۱۸۸۵ء کو شائع ہوئی تھی۔

Advertisements

"زبانِ فارسی سیکھو” – بوسنیائی شاعر سربرنیچا نائبی افندی کی نصیحت

عُثمانی دور میں بوسنیا کے پائتخت سرائے بوسنا (سرائیوو) سے نکلنے والے تُرکی جریدے ‘وطن’ میں رُومی تقویم کے مطابق ۱۶ کانونِ اول (دسمبر)، ۱۸۸۷ء کو اِک مقامی شاعر «سْرَبْرَنیچا نائبی افندی» کی ایک بیس بَیتی تُرکی مثنوی «نصیحت‌نامه» شائع ہوئی تھی جس میں اُنہوں نے علم کی اہمیت میں، اور طلَبۂ علوم کو نصیحتیں کرنے کے لیے چند ابیات حَیطهٔ تحریر کے سُپُرد کی تھیں۔ اُس مثنوی میں ایک جا اُنہوں نے طلَبہ کو زبانِ شیرینِ فارسی سیکھنے پر بھی راغب کرنے کی کوشش کی ہے:
"هُنردیر فنِّ شعری ایله تحصیل
اۏنونلا زیبِ نفْسین ائیله تکمیل
زبانِ فارسی‌ده وار ظرافت
اۏنو تحصیلینه بذْل ائیله همّت
اۏنونلا نظم اۏلونموش چۏق لطائف
اۏنو بیلن اۏلور صاحب‌معارف”
(سْرَبْرَنیچا نائبی افندی)
فنِّ شاعری کے ساتھ تحصیلِ [علم] ہُنر ہے۔۔۔ اُس کے ذریعے اپنے نفْس و شخصیت کی آرائش کی تکمیل کرو۔۔۔ زبانِ فارسی میں [بِسیار] ظرافتیں وَ نزاکتیں ہیں۔۔۔ اُس کو سیکھنے کے لیے کوششیں صَرف کرو۔۔۔ اُس [زبان] کے ذریعے بِسیار لطائف منظوم ہوئے ہیں۔۔۔ اُس [زبان] کو جاننے والا شخص صاحبِ معارف ہو جاتا ہے۔

Hünerdir fenn-i şi’rî ile tahsîl
Onunla zîb[-i] nefsin eyle tekmîl
Zebân-ı Fâriside var zerâfet
Onu tahsîline bezl eyle himmet
Onunla nazm olunmuş çok letâif
Onu bilen olur sâhib-ma’arif
(Srebreniça Nâibi Efendi)

× شاعر کا تعلق دیارِ بوسنیا کے شہر ‘سْرَبْرَنیچا/سْرَبْرَنیتْسا’ سے تھا، جیسا کہ اُن کے لقب ‘سْرَبْرَنیچا نائبی’ (نائبِ سْرَبْرَنیچا) سے معلوم ہوتا ہے، اور یہ وہی شہر ہے جو بوسنیائی جنگ کے دوران بوسنیائی مسلمانوں کے اجتماعی قتلِ عام کی وجہ سے کُل دُنیا میں مشہور ہے۔


اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی کی ترویج میں مولانا رُومی کا کردار

شادی آیدېن (از تُرکیہ) اپنے مقالے ‘فارسچا دیوان صاحیبی عۏثمان‌لې سولطان‌لارې و دیوان‌لارېنېن نۆسخالارې‘ (صاحبِ دیوانِ فارسی عُثمانی سلاطین اور اُن کے دیوانوں کے نُسخے) میں لکھتے ہیں:

"اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی زبان و شاعری اور ایرانی ثقافت کے رواج کے دوام میں مولانا رومی کی فکر اور اُن کی تالیفات کا اثر بِسیار زیادہ ہے۔ مولانا کی شاعری، مولوی طریقت اور مولوی خانقاہیں اِن سرزمینوں میں فارسی زبان کے رواج اور اناطولیہ سے بیرون کے مِنطقوں میں بھی اِس کی اشاعت کا وسیلہ بنیں۔ چونکہ مولانا کی مثنوی اور غزلیات فارسی میں کہی گئی تھیں، لہٰذا زبانِ فارسی مولوی درویشوں کے لیے ایک مُقدّس زبان بن گئی تھی۔ تیرہویں صدی میں فارسی شاعروں، وزیروں، مُنشیوں اور حکومتی کارندوں سے مخصوص زبان تھی، لیکن مولوی خانقاہوں کے ذریعے یہ زبان عوامی طبقوں میں بھی داخل ہو گئی۔ جس طرح سُلطان کے قصْروں میں شاہنامہ خواں پائے جاتے تھے، اُسی طرح درویش کی مجلسوں میں بھی مولانا کی شاعری خوانْنے والے مثنوی خواں پائے جاتے تھے۔”

× مولوی = مولانا رُومی کے سلسلۂ طریقت سے منسوب

دانش نامۂ ایرانیکا کے مقالے ‘بوسنیا و ہرزگووینا‘ میں ایک جا حامد الگر لکھتے ہیں:

"دیگر عُثمانی سرزمینوں کی طرح بوسنیا و ہرزگووینا میں بھی صوفیانِ مولویہ مثنویِ معنوی کی ہمیشہ اُس کی اصلی زبان میں قرائت کرتے تھے؛ اُنہوں نے نہ صرف فارسی کو ایک نیم عباداتی زبان بنا دیا تھا، بلکہ تعلیم یافتہ اشرافیہ کے درمیان اِس کے عام رواج میں بھی بسیار زیاد کردار ادا کیا تھا۔”